1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر امام تین وتر پڑھائے اور مقتدی تیسری رکعت میں ملے

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏جون 13، 2018۔

  1. ‏جون 13، 2018 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    30
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    السلام علیکم
    اگر امام تین وتر پڑھائے اور مقتدی تیسری رکعت میں آ ملے تو کیا وہ امام کے ساتھ سلام پھیر سکتا ہے؟
    یا پھر باقی دو رکعتیں امام کے سلام پھیرنے کے بعد پڑھے گا؟
    اگر پڑھے گا تو کیا تیسری رکعت میں دوبارہ دعائے قنوت پڑھے گا؟
    برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
    جزاک اللہ
     
  2. ‏جون 14، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,520
    موصول شکریہ جات:
    2,209
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    اس مسئلہ کو سمجھنے کیلئے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ :
    جماعت میں تاخیر سے ملنے والا (مسبوق ) جماعت کے ساتھ نماز کا جو حصہ پائے گا ،وہ اس کی نماز کا پہلے والا حصہ ہوگا ، یعنی اگر تیسری رکعت میں شامل ہوا ہے تو امام کی یہ تیسری رکعت اس بعد میں شامل ہونے والے کی پہلی رکعت ہوگی ،
    چنانچہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
    (إِذَا سَمِعْتُمْ الإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى الصَّلاةِ وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ وَلا تُسْرِعُوا فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا) البخاري ( 636 ) ومسلم ( 602 )
    " جب تم اقامت سن لو تو پھر نماز كے ليے وقار اور سكون كى حالت ميں چلا كرو، اور جلد بازى اور تيز مت چلو جو نماز ملے وہ ادا كرو اور رہ جائے اسے پورا كرو "​
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 636 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 602 )
    شیخ صالح المنجد اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :
    ومعنى أتموا : أكملوا . كما في فتح الباري (2 /118) ، وهذا معناه أن ما أدركه المسبوق مع الإمام هو أول صلاته .
    کہ اس حدیث میں وارد لفظ (اتموا ) کا معنی ہے کہ (پوری کرلو ) جس کا مطلب یہ ہوا کہ بعد میں ملنے والا ،امام کے ساتھ جو حصہ پائے گا وہ اس کی نماز کا اول شمار ہوگا ،
    الصحيح من أقوال أهل العلم أن ما يدركه المسبوق مع الإمام هو أول صلاته ، وهو مذهب الشافعي رحمه الله ، انظر المجموع للنووي ( 4/420 ) ، لقول النبي .
    اہل علم كے اقوال ميں سے صحيح قول يہى ہے كہ نمازى جو ركعات امام كے ساتھ ادا كرے گا وہ اس كى ابتدائى نماز ہو گى، امام شافعى رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے.


    والله تعالى أعلم.

    الشيخ محمد صالح المنجد

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بناء پر نماز وتر کے مسبوق کو آخری رکعت میں قنوت دوبارہ پڑھنا ہوگی ،
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. شیخ قاسم
    جوابات:
    1
    مناظر:
    270
  2. اسحاق سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    492
  3. lovelyalltime
    جوابات:
    0
    مناظر:
    362
  4. lovelyalltime
    جوابات:
    57
    مناظر:
    2,788
  5. lovelyalltime
    جوابات:
    33
    مناظر:
    1,288

اس صفحے کو مشتہر کریں