1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اگر کوئی ذمے شدہ فرض ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏ستمبر 23، 2019۔

  1. ‏ستمبر 23، 2019 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    علماء سے ایک سوال ہے...
    کہ اگر کسی پر کوئی عبادت فرض ہو گئی ہو مثلا نماز، روزہ، حج، زکوۃ، وغیرہ اور وہ شخص اسے ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو کیا اس کے ورثاء اس کی طرف سے اسے ادا کریں گے؟
    یعنی جیسا کہ ایک حدیث میں ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک عورت نے اپنی فوت شدہ ماں کی طرف سے حج کرنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتی؟ اس نے کہا جی........
    اب سوال یہ ہے کہ جس طرح حج فرض تھا اور مرنے کے بعد اس کے ورثاء ادا کریں گے تو کیا نماز، روزہ وغیرہ بھی اسی طرح قرض ہے اور ورثاء یہ بھی ادا کریں گے؟
    برائے مہربانی علماء رہنمائی فرمائیں
     
  2. ‏ستمبر 25، 2019 #2
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    84
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    اگر حج، روزہ وغیرہ پر قیاس کیا جائے جیسا کہ قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہوئے قنوت وتر رکوع کے بعد پڑھتے ہیں؟؟؟
     
  3. ‏ستمبر 25، 2019 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,285
    موصول شکریہ جات:
    2,644
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے) : صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے
    صحيح مسلم: كِتَابُ الْوَصِيَّةِ (بَابُ مَا يَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِهِ)
    صحیح مسلم: کتاب: وصیت کے احکام ومسائل (باب: انسان کو اس کی وفات کے بعد جو ثواب پہنچتا ہے)
    عمل کا منقطع ہونا عام حکم ہے اس حکم میں وہی تخصیص ہے جس کا حکم وحی سے ثابت ہو، یعنی قرآن وحدیث سے
    وفات کے بعد میت کے لئے صدقہ کرنا احادیث سے ثابت ہے، اسی طرح میت کے ذمہ کو روزے ہوں ان کا ادا کرنا بھی ثابت ہے!

    باقی اصل سوال کے جواب کے لئے شیوخ کا انتظار کرتے ہیں!
     
  4. ‏ستمبر 25، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ـــــــــــــ
    میت کے چھوڑے ہوئے روزے اور نمازیں
    اسلام میں بنیادی اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک اپنے عمل کا اجرو جزاء پائے گا ،
    نیک عمل کرنے والے کو ہی اس کے نیک عمل کا اجر وثواب ملے گا ،اور برائی کرنے والے کو اپنی برائی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا ،کوئی دوسرا کسی عمل کے اثرات نتائج نہ پائے گا ،قرآن مجید میں یہ اصل مختلف الفاظ و جدا جدا سیاق میں بیان ہوئی ہے ؛
    مثلاً ایک جگہ فرمایا :( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا )سورۃ فصلت آیت 46
    جس شخص نے کوئی نیک عمل کیا تو اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو برائی کرے گا۔ اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا “

    دوسرے مقام پر فرمایا : وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى "(الانعام 164)
    یعنی : جو شخص بھی کوئی برا کام کرے گا تو اس کا بار اسی پر ہوگا، کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔

    نیکوں کو نیک بدوں کو بد ۔ «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ إِلَیٰ حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْءٌ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَیٰ» (35-فاطر:18) ’ ایک کے گناہ دوسرے پر نہیں جائیں گے ۔ کوئی قرابت دار دوسرے کے عوض پکڑا نہ جائے گا ‘
    «فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَلَا ہَضْمًا» (20-طہ:112) ’ اس دن ظلم بالکل ہی نہ ہو گا ‘ ۔ نہ کسی کے گناہ بڑھائے جائیں گے نہ کسی کی نیکی گھٹائی جائے گی ، «کُلٰ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِینَۃٌ (اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی )
    غرض ہر ایک کے اچھے ،برے اعمال اس کے اپنے ہی لیئے ہیں ،

    ہاں مگر شریعت میں اس اصول و قاعدہ سے چند اعمال مستثنیٰ ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ اعمال کی چند مخصوص صورتیں مستثنیٰ ہیں ،
    مثلاً :مالی قرض کی ادائیگی ،روزوں کی قضاء ،حج بدل ،عمرہ ،دعاء ،صدقہ جاریہ یہ عبادات دوسروں کی طرف سے یا دوسروں کیلئے ادا کرنا شریعت میں جائز و مشروع ہے ؛
    اور خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ جس طرح کسی عبادت کی مشروعیت کیلئے قرآن و سنت کی دلیل ضروری ہے اسی اس عبادت کے طریقہ ،وقت اور اس عبادت میں نیابت کے ثبوت کیلئے بھی قرآن و حدیث کی دلیل ضروری ہے ،
    اس مراسلہ میں فرض روزوں میں نیابت کے متعلق شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے ،اس کے بعددوسرے امور ان شاء اللہ بیان ہونگے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حكم قضاء الصيام عن المتوفى الذي لم يصم لعذر أو لغير عذر
    تاريخ النشر : 26-11-2011
    السؤال :
    والدي يرحمه الله ويغفر له كان من المحافظين على الصلاة ومساعدة المحتاجين من الأهل أو غيرهم ، وقد ذهب للحج وحج عن نفسه وعن والديه ، ولقد توفي وأنا صغيرة ، ولكن المصيبة الكبرى أن والدتي فاجأتنا بيوم من الأيام بقولها أنها لم تر والدي يصوم في رمضان منذ بداية زواجهما إلى وفاته (تقريبا 11 أو 12 سنة ) ، ولا تدري عن صيامه قبل زواجهما ، وقالت والدتي إنه كان دائما يقول إن الصيام يصعب عليه بسبب عمله كسائق شاحنات في السبعينات والثمانينات ، حيث لم يكن هناك شاحنات مكيفة ، وكان يعمل لساعات طويلة في صحراء الخليج !! وأعلم أنها ليست بحجة ولكن هذا ما قالته لنا والدتي . وسؤالي هو : كيف نقضي كل هذه السنين عن والدي ، ونحن لا نعلم شيئا عن عددها ؟ وعن صيامه في حياته التي امتدت 60 عاما ؟؟ وهناك سؤال عن والدتي : في سنين بلوغها الأولى قبل الزواج ، لم تصم بسبب الجهل في أهمية الصيام ، حيث كانت تعيش في البادية ، وهي التزمت منذ زواجها ولكنها لا تذكر كم فاتها من أيام فقد مر 36 عاما ؛ فكيف تقضي هذه الأيام ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نص الجواب
    الحمد لله
    أولا :
    من ترك الصيام لعذر من سفر أو مرض يرجى برؤه ، لزمه قضاؤه ، فإن مات دون أن يقضيه ، مع تمكنه من القضاء ، بقي الصيام في ذمته ، واستحب لأوليائه أن يصوموا عنه ؛ لحديث عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ) رواه البخاري (1952) ومسلم (1147) .
    وأما إن مات قبل أن يتمكن من القضاء ، كمن استمر به المرض حتى مات ، فلا شيء عليه ، ولا يقضي أولياؤه عنه شيئا .
    ومن ترك الصيام تفريطا وإهمالا ، ولم يكن له عذر ، فهذا لا يلزمه القضاء ولا يصح منه ؛ لفوات وقته .
    وقد سبق بيان ذلك في جواب السؤال رقم ( 50067 ) ورقم (81030) .
    وبناء على ذلك :
    فالذي يظهر من حال والدك وحرصه على الصلاة والخير أنه لا يترك الصيام بغير عذر ، فيبقى أنه ترك الصيام لعذر السفر ، ولا يُعلم هل كان يقضي في سفره في الشتاء مثلا - ولم تعلم بذلك والدتك - أم كان لا يقضي ، وهل كان يتمكن من القضاء مدة راحته وإقامته ، أم كان دائم السفر لطبيعة عمله فلم يتمكن من قضاء ما فاته حتى مات .
    وأمام هذه الاحتمالات ، يقال : إذا لم تقفوا على حقيقة الأمر ، وصمتم عنه ما تقدرون عليه ، فهذا عمل خير وبر ، ينالكم أجره إن شاء الله ، وليس الأمر واجبا ، ولا يلزم معرفة عدد السنوات التي أفطرها على وجه التحديد ، وإنما يعمل بغلبة الظن وأنه ترك كذا من السنوات ، فتصومين عنه ما تقدرين عليه ، من باب الإحسان ، دون أن يشغلك ذلك عما هو أهم وأنفع من الأعمال .
    وهذا القضاء يجوز أن يشترك فيه جميع الورثة ، وما شق عليهم صومه ، أطعموا عنه ، عن كل يوم مسكينا .
    قال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : " يستحب لوليه أن يقضيه فإن لم يفعل، قلنا : أطعم عن كل يوم مسكينا قياسا على صوم الفريضة " .
    وقال : " فلو قدر أن الرجل له خمسة عشر ابنا ، وأراد كل واحد منهم أن يصوم يومين عن ثلاثين يوما فيجزئ . ولو كانوا ثلاثين وارثا وصاموا كلهم يوما واحدا ، فيجزئ لأنهم صاموا ثلاثين يوما ، ولا فرق بين أن يصوموها في يوم واحد أو إذا صام واحد صام الثاني اليوم الذي بعده ، حتى يتموا ثلاثين يوما " انتهى من "الشرح الممتع" (6/ 450- 452) .

    ثانيا :
    ما تركته والدتك من الصيام بعد بلوغها وقبل زواجها ، فيه تفصيل كما يلي :
    1- ما تركته تفريطا وتهاونها دون عذر ، فلا يلزمها قضاؤه كما سبق .
    2- ما تركته لعذر من حيض أو سفر أو مرض ، يلزمها قضاؤه ، وتجتهد في تقدير عدده بما يغلب على الظن أنها تبرأ به .
    والله أعلم .

    المصدر: الإسلام سؤال وجواب


    https://islamqa.info/ar/answers/174581/
    ترجمہ :
    فوت شدگان کی جانب سے کسی عذر یا بغیر عذر کے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دینے کا حکم

    سوال :
    ٭٭٭ میرے والد مرحوم نماز کے پابند تھے اور اپنے پرائے سب غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے انہوں نے اپنی طرف سے اور اپنے والدین کی طرف سے حج بھی کیا تھا، میں ابھی چھوٹی ہی تھی کہ ان کی وفات ہو گئی، لیکن میری والدہ نے ایک دن ہمیں یہ بتلا کر پریشان کر دیا کہ انہوں نے اپنی پوری ازدواجی زندگی (تقریباً 11 یا 12 سال )میں روزے نہیں رکھے، اور شادی سے پہلے کے روزوں سے متعلق انہیں علم نہیں ہے، میری والدہ کہتی ہیں کہ میرے والد روزے نہ رکھنے کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ 70 اور 80 کی دہائی میں بطور ٹرک ڈرائیور ان پر روزہ رکھنا بہت گراں تھا، کیونکہ اس وقت ائیر کنڈیشنڈ ٹرک نہیں ہوتے تھے، اور وہ خلیجی صحراؤں میں لمبی ڈیوٹی دیتے تھے!!، مجھے یہ معلوم ہے کہ یہ بات روزہ چھوڑنے کیلیے نا کافی ہے، لیکن میری والدہ نے ہمیں یہی بتلایا ہے۔
    ا ب میرا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے والد کی طرف سے ان تمام سالوں کے روزوں کی قضا کیسے دیں، اب ہمیں ان کی تعداد کا بھی صحیح علم نہیں ہے، اور ساٹھ سالہ عمر کتنے روزے انہوں نے چھوڑے یہ بھی معلوم نہیں ہے؟
    اور ایک سوال میری والدہ کے متعلق بھی ہے کہ : شادی سے پہلے جب بالغ ہوئیں تو انہوں نے روزوں کی اہمیت سے نا بلد ہونے کے باعث روزے نہیں رکھے؛ کیونکہ وہ اس وقت دیہات میں رہتی تھیں، انہوں نے شریعت کی پابندی شادی کے بعد شروع کی ، اب انہیں بھی یہ صحیح طرح سے معلوم نہیں ہے کہ کتنے سال کے انہوں نے روزے نہیں رکھے؛ کیونکہ اب تک 36 سال گزر چکے ہیں؛ تو اب ان روزوں کی قضا کیسے دے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ

    جواب :

    الحمد للہ:

    اول:

    سفر اور شفا یابی کی امید رکھتے ہوئے بیماری کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دینا واجب ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ان روزوں کی قضا دیے بغیر فوت ہو جائے حالانکہ وہ روزوں کی قضا دے سکتا تھا تو یہ روزے اس کے ذمہ باقی رہیں گے، ایسی صورت میں میت کے ورثا کی جانب سے روزے رکھنا مستحب ہے؛ اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا) بخاری: (1952) مسلم: (1147)

    لیکن اگر قضا دینے کی صلاحیت حاصل ہونے سے پہلے فوت ہو جائے ، مثال کے طور پر وہی بیماری وفات کا سبب بن جائے، تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ روزے نہیں ہوں گے، اور نہ ہی میت کے ورثا اس کی طرف سے روزے رکھیں گے۔

    تاہم جو شخص بغیر کسی عذر کے صرف سستی اور کاہلی کی وجہ سے روزے چھوڑ دے تو ایسا شخص روزے نہیں رکھ سکتا اور اگر رکھ بھی لے تو اس کے یہ روزے صحیح نہیں ہوں گے؛ کیونکہ روزے رکھنے کا وقت گزر چکا ہے۔

    اس بات کی تفصیل پہلے سوال نمبر: (50067) اور (81030) میں گزر چکی ہے۔

    چنانچہ اس بنا پر :
    ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ آپ کے والد نمازوں کے پابند اور صدقہ خیرات کرتے تھے اس لیے وہ روزے بغیر کسی عذر کے نہیں چھوڑ سکتے، تو اب ایک ہی صورت باقی رہتی ہے کہ وہ روزے سفر میں رہنے کی وجہ سے نہیں رکھتے تھے، اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کیا موسم سرما کے دنوں میں دوران سفر وہ روزوں کی قضا دیتے تھے یا نہیں؟ -آپ کی والدہ کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے- نیز کیا گھر میں رہتے ہوئے انہی روزوں کی قضا دینے کا موقع ملتا تھا یا نہیں؟ یا وہ ہمیشہ ہی سفر میں رہتے تھے کیونکہ ان کی ملازمت ہی ایسی تھی جس کی وجہ سے انہیں روزوں کی قضا دینے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا اور اسی حالت میں ان کی وفات ہو گئی۔

    ان تمام احتمالات کو مد نظر رکھ کر یہ کہا جائے گا کہ: اگر آپ کو حقیقت تک رسائی حاصل نہ ہو اور آپ ان کی طرف سے اپنی استطاعت کے مطابق روزے رکھ دو تو یہ اچھا کام ہوگا، ان شاء اللہ آپ کو اس کا اجر ضرور ملے گا، واضح رہے کہ اس صورت میں آپ پر ان کی طرف سے روزے رکھنا واجب نہیں ہے، اسی طرح انہوں نے کتنے سال روزے نہیں رکھے ان کی یقینی تحدید بھی لازمی نہیں ہے، چنانچہ اس کیلیے ظن غالب اور اندازے سے ان سالوں کی تعداد معین کر لی جائے، اور آپ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی طرف سے روزے رکھیں، یہ آپ کا اپنے والد پر احسان ہوگا، لیکن واضح رہے کہ یہ روزے آپ کیلیے اس سے اہم ذمہ داریوں میں رکاوٹ نہ بنیں۔

    آپ کے والد صاحب کی طرف سے روزوں کی قضا دینے کیلیے تمام ورثا بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، اور جس کیلیے روزہ رکھنا مشکل ہو تو وہ ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "میت کی طرف سے ولی پر روزے رکھنا مستحب ہے، اگر ولی روزے نہ رکھے تو ہم کہیں گے کہ: فرض روزے پر اسے قیاس کرتے ہوئے ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے"

    اسی طرح ایک اور مقام پر انہوں نے کہا:
    "مثال کے طور پر یہ کہا جائے کہ ایک آدمی کے 15 بیٹے ہیں اور ہر ایک بیٹا 30 روزوں میں سے 2 روزے رکھے تو یہ درست ہوگا، اسی طرح اگر ورثا کی تعداد 30 ہو اور ہر کوئی ایک ایک روزہ رکھ دے تو یہ بھی درست ہوگا؛ کیونکہ اس طرح روزوں کی تعداد 30 پوری ہو گئی ہے، نیز ایک ہی دن سب روزے رکھیں یا تیس روزے مکمل کرنے تک یکے بعد دیگرے روزے رکھیں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے" انتہی
    "الشرح الممتع" (6/ 450- 452)

    دوم:

    آپ کی والدہ نے بلوغت کے بعد اور شادی سے پہلے جو روزے ترک کیے ہیں ان کے بارے میں درج ذیل تفصیل ہے:

    1- جو روزے انہوں نے سستی اور کاہلی کی وجہ سے بغیر کسی عذر کی بنا پر چھوڑے تو وہ ان روزوں کی قضا نہیں دے سکتیں، جیسے کہ پہلے وضاحت گزر چکی ہے۔

    2- جو روزے انہوں نے حیض، سفر اور بیماری کی وجہ سے چھوڑے ہیں ان کی قضا دینا ان پر لازمی ہے، ان کی تعداد اتنی مقرر کریں جس سے دل مطمئن ہو جائے کہ روزوں کی تعداد مکمل ہو جائے گی ۔

    واللہ اعلم.

    ماخذ: الاسلام سوال و جواب
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    قضاء الصيام عمن مات بعد أن أفطر في رمضان بسبب مرضه
    تاريخ النشر : 14-10-2006
    السؤال
    أريد تفسيرا للحديث ( من مات وعليه صيام صام عنه وليه ) ، حيث هناك أب مات هذا العام بسبب مرض مطول ، ولم يكمل ما عليه من صيام في رمضان الفائت ، فهل يصوم عنه أحد أولاده ؟ أم لا داعي لذلك ؟.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نص الجواب

    الحمد لله
    إذا كان هذا الرجل مريضا مرضا لا يرجى الشفاء منه فلا صيام عليه ولا قضاء ، وإنما يطعم مكان كل يوم مسكينا ، فإن كان قد فعل ذلك في حياته ، وإلا فعلى ورثته أن يطعموا عنه.
    أما إذا كان مرضه مما يرجى حصول الشفاء منه ، فلا يجب عليه الصيام في رمضان بسبب المرض ، وإنما عليه القضاء ، فإن كان لم يتمكن من القضاء بسبب استمرار المرض ، فلا شيء عليه ، لا صيام ولا إطعام ، ولا يلزم ورثته أن يصوموا عنه ولا أن يطعموا .

    أما إذا كان قد تمكن من القضاء ولكنه لم يفعل ، فيستحب لورثته أن يصوموا عنه عدد الأيام التي أفطرها ، فإن لم يفعلوا أطعموا عن كل يوم مسكينا .

    وعلى هذا فمعنى قول النبي صلى الله عليه وسلم : (من مات وعليه صيام) أي من أفطر لعذر كالحيض والسفر أو المرض الذي يرجى حصول الشفاء منه وتمكن من القضاء ولكنه لم يفعل ، فإنه يستحب لأوليائه أن يصوموا عنه .

    قال في "عون المعبود" (7/26) :

    " واتفق أهل العلم على أنه إذا أفطر في المرض والسفر ، ثم لم يفرط في القضاء حتى مات فإنه لا شيء عليه ، ولا يجب الإطعام عنه ، غير قتادة فإنه قال : يطعم عنه . وحُكي ذلك أيضا عن طاووس " انتهى .

    وقال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله في "جموع الفتاوى" (19/ما يكره ويستحب وحكم كم القضاء):

    " من أفطر رمضان لمرض ، ثم مات قبل التمكن من القضاء ، المسألة ليس فيها بحمد الله إشكال : لا من جهة النصوص والآثار ، ولا من جهة كلام أهل العلم .

    أما النصوص : فقد قال الله تعالى : ( وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ) فجعل الله تعالى الواجب عليه عدةً من أيام أخر ، فإذا مات قبل إدراكها فقد مات قبل زمن الوجوب ، فكان كمن مات قبل دخول شهر رمضان ، لا يجب أن يُطعَمَ عنه لرمضان المقبل ، ولو مات قبله بيسير .

    وأيضاً فإن هذا المريض ما دام في مرضه لا يجب عليه أن يصوم ، فإذا مات قبل برئه فقد مات قبل أن يجب عليه الصوم ، فلا يجب أن يُطعَمَ عنه ؛ لأن الإطعامَ بدلٌ عن الصيام ، فإذا لم يجب الصيام لم يجب بدله .

    هذا تقرير دلالة القرآن على أنه إذا لم يتمكن من الصيام فلا شيء عليه .

    وأما السنة : فقد قال النبي صلى الله عليه وسلم : ( مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ )

    رواه البخاري (1952) ومسلم (1147)

    فمنطوق الحديث ظاهر ، ومفهومه أن من مات ولا صيام عليه لم يُصم عنه ، وقد علمت مما سبق أن المريض إذا استمر به المرض لم يجب عليه الصوم أداء ولا قضاء في حال استمرار مرضه .

    وأما كلام أهل العلم :

    فقال في "المغني" ( ص241 ج 3 ط دار المنار ) :

    " وجملة ذلك أن من مات وعليه صيام من رمضان لم يَخلُ من حالين :

    أحدهما : أن يموت قبل إمكان الصيام ، إما لضيق الوقت ، أو لعذر من مرض ، أو سفر ، أو عجز عن الصوم : فهذا لا شيء عليه في قول أكثر أهل العلم ، وحكي عن طاوس وقتادة أنهما قالا : يجب الإطعام عنه ، ثم ذكر علة ذلك وأبطلها .

    ثم قال (ص 341) : الحال الثاني : أن يموت بعد إمكان القضاء ، فالواجب أن يُطعَمَ عنه لكل يوم مسكين ، وهذا قول أكثر أهل العلم ، رُوي ذلك عن عائشة وابن عباس ...

    ثم قال : وقال أبو ثور : يصام عنه ، وهو قول الشافعي ، ثم استدل له بحديث عائشة الذي ذكرناه أولاً .

    وقال في "شرح المهذب" (ص 343 ج 6 نشر مكتبة الإرشاد) :

    " فرع في مذاهب العلماء فيمن مات وعليه صوم فاته بمرض ، أو سفر ، أو غيرهما من الأعذار ، ولم يتمكن من قضائه حتى مات :

    ذكرنا أن مذهبنا لا شيء عليه ، ولا يصام عنه ، ولا يطعم عنه ، بلا خلاف عندنا .

    وبه قال أبو حنيفة ومالك والجمهور ، قال العبدري : وهو قول العلماء كافةً إلا طاوساً وقتادة ، فقالا : يجب أن يُطعِمَ عنه لكل يوم مسكينا ، ثم ذكر علةَ ذلك وأبطلها ، قال : واحتج البيهقي وغيرُه من أصحابنا لمذهبنا بحديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( إذا أمرتكم بأمر فأتوا منه ما استطعتم ) رواه البخاري ومسلم .

    وقال في "الفروع" (ص 39 ج 3 ط آل ثاني) :

    " وإن أخر القضاء حتى مات : فإن كان لعذر فلا شيء عليه ، نص عليه ، وفاقاً للأئمة الثلاثة ؛ لعدم الدليل "

    وبهذا تبين أنه لا إشكال في المسألة ، وأن الصوم لا يُقضى عمن استمر عذره حتى مات ، وكذلك لا يُطَعمُ عنه ، إلا أن يكون مريضاً مرضاً لا يُرجى زواله ، فيكون حينئذ كالكبير الذي لا يستطيع الصوم ، فيطعَمُ عنه ؛ لأن هذا وجب عليه الإطعام في حال حياته بدلاً عن الصيام.

    وليس في النفس مما قرره أهل العلم في هذا شيء ، وقد علمت مما كتبنا أنه يكاد يكون إجماعاً لولا ما روي عن طاوس وقتادة " انتهى .

    وجاء في "فتاوى اللجنة الدائمة" (10/372) السؤال الآتي :

    كانت والدتي مريضة في شهر رمضان عام 97هـ ولم تستطع صيام ثمانية أيام منه ، وتوفيت بعد شهر رمضان بثلاثة أشهر ، فهل أصوم عنها ثمانية الأيام ، وهل يمكن تأجيلها إلى ما بعد رمضان 98هـ أو أتصدق عنها ؟

    فكان الجواب :

    " إذا كانت والدتك شفيت بعد شهر رمضان الذي أفطرت فيه ثمانية أيام ، ومر بها قبل وفاتها وقت تستطيع القضاء فيه ، وماتت ولم تقض ، استحب لك أو لأحد أقاربها صيام ثمانية الأيام عنها ؛ لقوله عليه الصلاة والسلام : ( من مات وعليه صيام صام عنه وليه ) متفق عليه ، ويجوز تأجيل صيامها ، والأَوْلى المبادرة به مع القدرة .

    أما إن كان المرض استمر معها ، وماتت ولم تقدر على القضاء ، فلا يُقضَى عنها لعدم تمكنها من القضاء ، لعموم قوله تعالى : ( لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا ) وقوله : ( فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) " انتهى .

    والله أعلم .

    المصدر: الإسلام سؤال وجواب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ :
    بيمارى كى بنا پر رمضان كے روزے چھوڑنے والى فوت شدہ شخص كى جانب سے روزے ركھنا

    سوال
    برائے مہربانى درج ذيل حديث كى شرح كريں:
    " جو شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو اس كى جانب سے ا سكا ولى روزے ركھے "
    والد طويل مدت تك بيمار رہنے كے بعد فوت ہوا اور اس نے پچھلے رمضان كے روزے مكمل نہيں كيے، تو كيا اس كى جانب سے اس كى اولاد ميں سے كسى كو روزے ركھنا ہونگے، يا كہ اس كى كوئى ضرورت نہيں ؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب

    الحمد للہ:

    اگر تو يہ مريض دائمى مرض كا شكار تھا جس سے شفايابى كى اميد نہ تھى، تو اس پر نہ تو روزے ہيں، اور نہ ہى روزوں كى قضاء، بلكہ وہ ہر يوم كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلائے، اور ا گر اس نے اپنى زندگى ميں يہ كام كر ليا ہے تو ٹھيك وگرنہ اس كے ورثاء اس كى جانب سے مساكين كو كھانا كھلائيں.

    ليكن اگر اس كى بيمارى ايسى تھى جس سے شفايابى كى اميد تھى تو اس پر بيمارى كى بنا پر رمضان ميں روزے فرض نہيں، بلكہ اس كے ذمہ قضاء ہے، اور اگر وہ بيمارى رہنے كى بنا پر قضاء كى ادائيگى نہيں كر سكا تو اس كے ذمہ كچھ نہيں، نہ تو روزے ركھنا، اور نہ ہى كھانا كھلانا، اور نہ ہى اس كے ورثاء كے ليے اس كى جانب سے روزے ركھنا لازم ہيں، اور نہ ہى اس كى جانب سے كھانا كھلانا.

    ليكن اگر وہ قضاء كى ادائيگى پر متمكن تھا، ليكن اس كے باوجود قضاء كے روزے نہيں ركھے، تو اس كے ورثاء كے ليے اس كى جانب سے اتنے ايام كے روزے ركھنا مستحب ہيں جو اس نے چھوڑے تھے، اور اگر وہ ايسا نہيں كرتے تو پھر ہر يوم كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلا ديں.

    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

    " جو شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو اس كى جانب سے ا سكا ولى روزے ركھے "

    يعنى جس نے كسى عذر مثلا حيض اور سفر يا بيمارى جس سے شفايابى كى اميد ہے كى بنا پر روزے نہيں ركھے، اور ا نكى قضاء ميں روزے ركھنے پر قادر تھا ليكن اس نے نہيں ركھا تو اس كے ولى كے ليے روزے ركھنا مستحب ہيں.

    عون المعبود ميں ہے:
    " اہل علم اس پر متفق ہيں كہ: جب بيمارى يا سفر ميں كسى نے روزے ترك كيے، اور پھر اس كى قضاء ميں كوتاہى نہ كى اور مرگيا ت واس كے ذمہ كچھ نہيں، اور نہ ہى اس كى جانب سے كھانا كھلانا واجب ہے، ليكن قتادہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس كى جانب سے كھانا ديا جائيگا، اور طاؤوس سے بھى يہ بيان كيا جاتا ہے " ديكھيں: عون المعبود ( 7 / 26 ).

    اور شيخ ابن عثيمين مجموع الفتاوى ميں مستحب اور مكروہ كيا ہے اور قضاء كا حكم كے تحت لكھتے كہتے ہيں:
    " جس كسى نے رمضان المبارك ميں بيمارى كى بنا پر روزے نہ ركھے اور پھر قضاء ميں روزے ركھنے سے قبل كى فوت ہو گيا تو الحمد للہ اس مسئلہ ميں كوئى اشكال نہيں، نہ تو نصوص اور آثار كے لحاظ سے، اور نہ ہى اہل كى كلام كے اعتبار سے.

    رہيں نصوص تو اللہ تعالى كا فرمان ہے:
    اور جو كوئى مريض ہو يا مسافر تو دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرے .

    تو اللہ سبحانہ و تعالى نے دوسرے ايام ميں گنتى پورى كرنى واجب كى ہے، اس ليے اگر انسان وجوب كا وقت پا لينے سے قبل ہى فوت ہو جائے تو وہ اسى طرح ہے كہ جيسے رمضان المبارك كا مہينہ پانے سے قبل ہى فوت ہو گيا، اس پر آنے والے رمضان كے ليے كھانا كھلانا واجب نہيں ہوتا، چاہے وہ كچھ دير قبل ہى فوت ہو جائے.

    اور يہ بھى ہے كہ يہ مريض تو ابھى اپنى مرض ميں ہى ہے اس پر تو روزے فرض ہى نہيں، اس ليے جب شفاياب ہونے سے قبل ہى فوت ہو گيا تو وہ روزے فرض ہونے سے قبل فوت ہوا، اس ليے اس كى جانب سے كھانا كھلانا واجب نہيں ہوتا؛ كيونكہ كھانا كھلانا روزے كے بدلے ميں ہے، اور جب روزے واجب نہيں ہوئے تو اس كا بدل بھى واجب نہيں ہوا.

    يہاں سے قرآن مجيد كى اس پر دلالت ثابت ہوتى ہے كہ اگر وہ روزے نہ ركھ سكے تو اس پر كچھ لازم نہيں آتا.

    اور سنت كے دلائل يہ ہے:

    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " جو شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تواس كا ولى اس كى جانب سے روزے ركھے "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1952 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1147 ).

    اس حديث كا منطوق تو ظاہر ہے، اور ا سكا مفہوم يہ ہے كہ: جس پر روزے نہ ہوں اور وہ فوت ہو جائے تو اس كى جانب سے روزے نہيں ركھے جائينگے، اور اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس سے آپ كو يہ معلوم ہوا ہو گا كہ جب مريض كا مرض مستقل ہو اور مرض موجود ہو تو اس پر روزے فرض نہيں ہوتے نہ تو بطور ادا نہ ہى بطور قضاء.

    اور رہى اہل علم كا كلام تو وہ درج ذيل ہے:
    المغنى ابن قدامہ طبع دار المنار ( 3 / 241 ) ميں لكھا ہے:
    " ا سكا اجمال يہ ہے كہ جو شخص فوت ہو گيا اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو وہ دو حالتوں سے خالى نہيں:

    پہلى حالت:
    روزے ركھنے كے امكان سے قبل ہى فوت ہو گيا، يا تو وقت كى تنگى كى بنا پر، يا پھر بيمارى يا سفر كى بنا پر، يا روزے ركھنے سے عاجز تھا: توا كثر اہل علم كے قول كے مطابق اس شخص كے ذمہ كچھ لازم نہيں، اور طاؤوس اور قتادہ سے بيان كيا جاتا ہے كہ وہ دونوں اس شخص پر كھانا كھلانا واجب قرار ديتے ہيں، پھر اس كى علت بيان كرنے كے بعد اس علت كو باطل بھى كيا ہے.

    پھر وہ صفحہ ( 341 ) پر كہتے ہيں:
    دوسرى حالت: وہ روزے ركھنے كے امكان كے بعد فوت ہوا ہو، تو اس شخص كى جانب سے ہر يوم كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلانا واجب ہے، اكثر اہل علم كا قول يہى ہے، اور عائشہ اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم سے بھى يہى مروى ہے...

    پھر كہتے ہيں: اور ابو ثور رحمہ كا قول ہے: اس كى جانب سے روزے ركھے جائينگے، امام شافعى كا قول يہى ہے، پھر ہم اوپر جو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ذكر كى ہے اس سے انہوں نے استدلال كيا ہے.

    اور علامہ نوویؒ کی شرح المھذب ( 6 / 343 ) ناشر مكتبہ الارشاد ميں ہے:
    " جو شخص بيمارى يا سفر وغيرہ دوسرے عذر كى بنا پر فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں اور وہ ان روزوں كى قضاء كرنے پر قادر نہ ہو سكا ہو تو علماء كے مذاہب اس ميں كئى ايك ہيں:
    ہم نے بيان كيا ہے كہ ہمارے مذہب ميں تو اس پر كوئى چيز لازم نہيں آتى، نہ تو اس كى جانب سے روزے ركھے جائينگے، اور نہ ہى اس كى جانب سے كھانا كھلايا جائيگا، ہمارے ہاں اس ميں كوئى اختلاف نہيں.
    اور امام ابو حنيفہ اور جمہور كا يہى قول ہے، العبدرى كہتے ہيں: طاؤس اور قتادہ كے علاوہ باقى سب علماء كا قول يہ ہے، وہ دونوں كہتے ہيں كہ: اس كى جانب سے ہر يوم كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلانا واجب ہے، پھر اس كى علت بيان كرنے كے بعد اسے باطل بھى كيا ہے.
    وہ كہتے ہيں: ہمارے اصحاب ميں سے بيہقى وغيرہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كى درج ذيل حديث سے استدلال كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" جب ميں تمہيں كوئى حكم دوں تو اس پر اپنى استطاعت كے مطابق عمل كرو "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور " الفروع " ( 3 / 39 ) طبع آل ثانى ميں درج ہے:
    " اور اگر اس نے قضاء كرنے ميں تاخير كى حتى كہ قضاء سے قبل ہى فوت ہو گيا: اگر تو يہ تاخير كسى عذر كى بنا پر تھى تو اس پر كچھ لازم نہيں، دليل نہ ہونے كى وجہ سے اسے تينوں آئمہ كے موافق بيان كيا ہے "
    تواس سے يہ واضح ہوا كہ اس مسئلہ ميں كوئى اشكال نہيں، اگر كوئى عذر باقى اور جارى ہو تو بغير روزہ ركھے ہوئے فوت ہونے والے شخص كى جانب سے روزوں كى قضاء نہيں كى جائيگى، اور اسى طرح اس كى جانب سے كھانا بھى نہيں كھلايا جائيگا.

    ليكن اگر اس كى بيمارى ايسى ہو كہ اس سے شفايابى كى اميد نہيں تو اس وقت وہ اس بوڑھے كى طرح ہو گا جو روزے ركھنے كى استطاعت نہيں ركھتا، اس ليے اس كى جانب سے كھانا كھلايا جائيگا؛ كيونكہ اس كى زندگى ميں بھى روزوں كے بدلے اس پر يہى واجب تھا.

    اور اسم مسئلہ ميں اہل علم نے جو مقرر كيا ہے، اس كے متعلق نفس ميں كچھ نہيں، اور جو كچھ ہم نےاوپر كى سطور ميں لكھا ہے اس سے آپ كو يہ معلوم ہوا ہو گا كہ اگر طاؤس اور قتادہ سے مروى نہ كيا جاتا تو يہ تقريبا اجماع ہونے والا تھا " انتہى.
    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 19 ) مستحب اور مكروہ كيا ہے اور قضاء كا حكم.

    اور مستقل فتاوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ذيل سوال ہے:
    ( 97 هـ ) كے رمضان المبارك ميں ميرى والدہ بيمار تھى اور اس ميں سے آٹھ روزے نہيں ركھ سكى اور رمضان كے تين ماہ بعد فوت ہو گئى تو كيا ميں اس كى جانب سے آٹھ روزے ركھوں، اور كيا يہ ممكن ہے كہ ان روزوں كو ( 98 هـ ) كے رمضان كے بعد تك مؤخر كردوں، يا كہ اس كى جانب سے صدقہ كروں ؟

    فتاوى كميٹى كا جواب تھا:
    " اگر تو آپ كى والدہ رمضان المبارك كے بعد شفاياب ہو گئى تھى جس ميں اس نے آٹھ روزے چھوڑے تھے، اور وہ فوت ہونے سے قبل شفاياب رہى اور روزے قضاء كرنے كى استطاعت ركھتى تھى، ليكن بغير قضاء كيے ہى فوت ہو گئى تو آپ كے ليے يا اس كے كسى رشتہ دار كے ليے اس كى جانب سے آٹھ روزے ركھنے مستحب ہيں؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    " جو شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ روزے ہوں تو اس كى جانب سے ا سكا ولى روزے ركھے " (متفق عليہ )

    اور روزوں كو مؤخر كرنا جائز ہے، ليكن قدرت ہونے كے ساتھ روزے جلدى ركھنا اولى اور افضل ہيں.
    ليكن اگر وہ مسلسل بيمار رہى اور بيمارى كى حالت ميں ہى فوت ہو گئى اور روزے قضاء كرنے كى استطاعت نہ تھى، تو اس كى جانب سے روزے نہيں ركھے جائينگے، كيونكہ وہ قضاء ميں روزے ركھنے پر متمكن ہى نہيں ہو سكى.

    اس كى دليل عمومى فرمان بارى تعالى ہے:
    اللہ تعالى كسى بھى جان كو اسكى وسعت و طاقت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا .
    اور فرمان بارى تعالى ہے:
    تو تم ميں جتنى استطاعت ہے اس كے مطابق اللہ كا تقوى اختيار كرو . انتہى.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 372 ).

    واللہ اعلم .
    ماخذ: الاسلام سوال و جواب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  5. ‏ستمبر 25، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ضوابط وأحكام حج البدل



    السؤال
    هناك في بلدنا بعض حملات الحج تقدم حج البدل , بحيث نعطيهم نقوداً - وهي تكلفة الحج - وسيقوم أناس من طلبة العلم بالحج بدلاً عنَّا , , فهل يجوز ذلك ؟
    نص الجواب

    الحمد لله
    يتساهل كثيرون في حج البدل ، وحج البدل له ضوابط وشروط وأحكام ، سنذكر ما تيسر منها عسى الله أن ينفع بها :
    1. لا يصح حج البدل في حجة الإسلام عن القادر الذي يستطيع الحج ببدنه .
    قال ابن قدامة رحمه الله :
    "لا يجوز أن يستنيب في الحج الواجب من يقدر على الحج بنفسه إجماعا ، قال ابن المنذر : أجمع أهل العلم على أن من عليه حجة الإسلام وهو قادر على أن يحج لا يجزئ عنه أن يحج غيره عنه" انتهى .
    " المغني " ( 3 / 185 ) .
    2. حج البدل يكون عن المريض مرضاً لا يرجى برؤه ، أو عن العاجز ببدنه ، أو عن الميت ، دون الفقير والعاجز بسبب ظرف سياسي أو أمني .
    قال النووي رحمه الله :
    "والجمهور على أن النيابة في الحج جائزة عن الميت والعاجز الميئوس من برئه ، واعتذر القاضي عياض عن مخالفة مذهبهم – أي : المالكية - لهذه الأحاديث في الصوم عن الميت والحج عنه بأنه مضطرب ، وهذا عذر باطل ، وليس في الحديث اضطراب ، ويكفى في صحته احتجاج مسلم به في صحيحه .
    " شرح النووي على مسلم " ( 8 / 27 ) .
    والحديث الذي أشار إليه النووي رحمه الله وذكر أن بعض المالكية حكم عليه بالاضطراب هو:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ : وَجَبَ أَجْرُكِ ، وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا ؟ قَالَ : صُومِي عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ قَالَ : حُجِّي عَنْهَا . رواه مسلم ( 1149 ) .
    وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله :
    "واتفق من أجاز النيابة في الحج على أنها لا تجزى في الفرض إلا عن موت أو عضَب – أي : شلل - ، فلا يدخل المريض ؛ لأنه يرجى برؤه ، ولا المجنون ؛ لأنه ترجى إفاقته ، ولا المحبوس ؛ لأنه يرجى خلاصه ، ولا الفقير ؛ لأنه يمكن استغناؤه" انتهى .
    " فتح الباري " ( 4 / 70 ) .
    وسئل علماء اللجنة الدائمة :
    هل يجوز للمسلم الذي أدى فرضه أن يحج عن أحد أقاربه في بلاد الصين لعدم تمكنه من الوصول لأداء فريضة الحج ؟ . فأجابوا :
    "يجوز للمسلم الذي قد أدى حج الفريضة عن نفسه أن يحج عن غيره إذا كان ذلك الغير لا يستطيع الحج بنفسه لكبر سنِّه أو مرض لا يرجى برؤه أو لكونه ميتًا ؛ للأحاديث الصحيحة الواردة في ذلك ، أما إن كان من يراد الحج عنه لا يستطيع الحج لأمر عارض يرجى زواله كالمرض الذي يرجى برؤه ، وكالعذر السياسي ، وكعدم أمن الطريق ونحو ذلك : فإنه لا يجزئ الحج عنه" انتهى .
    الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله بن قعود
    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 51 ) .
    3. حج البدل لا يكون عن العاجز ماليّاً ؛ لأن الحج تسقط فرضيته عن الفقير ، إنما حج البدل عن العاجز ببدنه .
    سئل علماء اللجنة الدائمة :
    هل يجوز لأحد أن يعتمر أو يحج عن قريبه الذي يكون بعيداً عن مكة ، وليس لديه ما يصل به إليها ، مع أنه قادر بالطواف ؟
    فأجابوا :
    "قريبك المذكور لا يجب عليه الحج مادام لا يستطيع الحج ماليّاً ، ولا تصح النيابة عنه في الحج ولا في العمرة ؛ لأنه قادر على أداء كل منهما ببدنه لو حضر بنفسه في المشاعر ، وإنما تصح النيابة فيهما عن الميت ، والعاجز عن مباشرة ذلك ببدنه" انتهى .
    الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله بن غديان
    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/52) .
    4. لا يجوز لأحدٍ أن يحج عن غيره إلا أن يكون قد حجَّ عن نفسه ، فإن فعل فتقع حجته عن نفسه لا عن غيره .
    قال علماء اللجنة الدائمة :
    "لا يجوز للإنسان أن يحج عن غيره قبل حجه عن نفسه ، والأصل في ذلك ما رواه ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلاً يقول : لبيك عن شبرمة ، قال : حججت عن نفسك ؟ قال : لا ، قال : حج عن نفسك ، ثم عن شبرمة" انتهى .
    الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الله بن غديان .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 50 ) .
    5. يجوز للمرأة أن تحج عن الرجل ، كما يجوز للرجل أن يحج عن المرأة .
    قال علماء اللجنة الدائمة :
    "والنيابة في الحج جائزة ، إذا كان النائب قد حج عن نفسه ، وكذلك الحال فيما تدفعه للمرأة لتحج به عن أمك ، فإن نيابة المرأة في الحج عن المرأة وعن الرجل جائزة ؛ لورود الأدلة الثابتة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك" انتهى .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 52 ) .
    6. لا يجوز لأحدٍ أن يحج عن شخصين أو أكثر في حجة واحدة ، وله أن يعتمر عن نفسه – أو عن غيره – ويحج عن آخر .
    قال علماء اللجنة الدائمة :
    "تجوز النيابة في الحج عن الميت ، وعن الموجود الذي لا يستطيع الحج ، ولا يجوز للشخص أن يحج مرة واحدة ويجعلها لشخصين ، فالحج لا يجزئ إلا عن واحد ، وكذلك العمرة ، لكن لو حج عن شخص واعتمر عن آخر في سنة واحدة أجزأه إذا كان الحاج قد حج عن نفسه واعتمر عنها" انتهى .
    الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله بن غديان ، الشيخ عبد الله بن قعود .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 58 ) .
    7. لا يجوز لأحدٍ أن يكون قصده من الحج عن غيره أخذ المال ، وإنما يكون قصده الحج والوصول إلى تلك الأماكن المقدسة ، والإحسان إلى أخيه بالحج عنه .
    قال الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله :
    "النيابة في الحج جاءت بها السنَّة ؛ فإن الرسول عليه الصلاة والسلام سألته امرأة وقالت : (إن فريضة الله على عباده في الحج أدركت أبي شيخاً كبيراً لا يثبت على الراحلة أفأحج عنه ؟ قال : نعم) ، والاستنابة بالحج بعوض : إن كان الإنسان قصده العوض : فقد قال شيخ الإسلام رحمه الله : من حج ليأكل فليس له في الآخرة من خلاق – أي : نصيبٌ - وأما من أخذ ليحج : فلا بأس به ، فينبغي لمن أخذ النيابة أن ينوي الاستعانة بهذا الذي أخذ على الحج ، وأن ينوي أيضاً قضاء حاجة صاحبه ؛ لأن الذي استنابه محتاج ، ويفرح إذا وجد أحداً يقوم مقامه ، فينوي بذلك أنه أحسن إليه في قضاء الحج ، وتكون نيته طيبة" انتهى .
    " لقاءات الباب المفتوح " ( 89 / السؤال 6 ) .
    وقال رحمه الله :
    "وإن من المؤسف أن كثيراً من الناس الذين يحجون عن غيرهم إنما يحجون من أجل كسب المال فقط ، وهذا حرام عليهم ؛ فإن العبادات لا يجوز للعبد أن يقصد بها الدنيا ، يقول الله تعالى : ( مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ . أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) ويقول تعالى : ( فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ) ، فلا يقبل الله تعالى من عبد عبادة لا يبتغي بها وجهه ، ولقد حمى رسول الله صلى الله عليه وسلم أماكن العبادة من التكسب للدنيا ، فقال صلى الله عليه وسلم : ( إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد ، فقولوا : لا أربح الله تجارتك ) ، فإذا كان هذا فيمن جعل موضع العبادة مكاناً للتكسب يدعى عليه أن لا يربح الله تجارته : فكيف بمن جعل العبادة نفسها غرضاً للتكسب الدنيوي كأن الحج سلعة ، أو عمل حرفة لبناء بيت ، أو إقامة جدار ؟ تجد الذي تعرض عليه النيابة يكاسر ويماكس هذه دراهم قليلة ، هذه لا تكفي زد أنا أعطاني فلان كذا ، أو أعطي فلان حجة بكذا ، أو نحو هذا الكلام مما يقلب العبادة إلى حرفة وصناعة ، ولهذا صرح فقهاء الحنابلة رحمهم الله بأن تأجير الرجل ليحج عن غيره غير صحيح ، وقال شيخ الإسلام ابن تيمية : من حج ليأخذ المال ، فليس له في الآخرة من خلاق ، لكن إذا أخذ النيابة لغرض ديني مثل أن يقصد نفع أخيه بالحج عنه ، أو يقصد زيادة الطاعة والدعاء والذكر في المشاعر : فهذا لا بأس به ، وهي نية سليمة .
    إن على الذين يأخذون النيابة في الحج أن يخلصوا النية لله تعالى ، وأن تكون نيتهم قضاء وطرهم بالتعبد حول بيت الله وذكره ودعائه ، مع قضاء حاجة إخوانهم بالحج عنهم ، وأن يبتعدوا عن النية الدنيئة بقصد التكسب بالمال ، فإن لم يكن في نفوسهم إلا التكسب بالمال : فإنه لا يحل لهم أخذ النيابة حينئذ ، ومتى أخذ النيابة بنية صالحة : فالمال الذي يأخذه كله له ، إلا أن يشترط عليه رد ما بقي" انتهى .
    " الضياء اللامع من الخطب الجوامع " ( 2 / 477 ، 478 ) .
    8. إذا مات المسلم ولم يقض فريضة الحج وهو مستكمل لشروط وجوبها وجب أن يحج عنه من ماله الذي خلفه سواء أوصى بذلك أو لم يوص .
    قال علماء اللجنة الدائمة :
    "إذا مات المسلم ولم يقض فريضة الحج وهو مستكمل لشروط وجوبها وجب أن يحج عنه من ماله الذي خلفه سواء أوصى بذلك أو لم يوص ، وإذا حج عنه غيره ممن يصح منه الحج وكان قد أدى فريضة الحج عن نفسه : صح حجه عنه ، وأجزأ في سقوط الفرض عنه" انتهى.
    الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله بن غديان ، الشيخ عبد الله بن منيع .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/100) .
    9. هل للذي يحج عن غيره أجر الحج كاملاً ويرجع كيوم ولدته أمه ؟ .
    قال علماء اللجنة الدائمة :
    "وأما تقويم حج المرء عن غيره هل هو كحجه عن نفسه أو أقل فضلاً أو أكثر : فذلك راجع إلى الله سبحانه " انتهى .
    الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الرزاق عفيفي ، الشيخ عبد الله بن غديان ، الشيخ عبد الله بن منيع .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 100 ) .
    وقالوا :
    "من حج أو اعتمر عن غيره بأجرة أو بدونها فثواب الحج والعمرة لمن ناب عنه ، ويرجى له أيضًا أجر عظيم على حسب إخلاصه ورغبته للخير ، وكل من وصل إلى المسجد الحرام وأكثر فيه من نوافل العبادات وأنواع القربات : فإنه يرجى له خير كثير إذا أخلص عمله لله" انتهى .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " ( 11 / 77 ، 78 ) .
    وقال الإمام ابن حزم رحمه الله :
    عن داود أنه قال : قلت لسعيد بن المسيب : يا أبا محمد ، لأيهما الأجر أللحاج أم للمحجوج عنه ؟ فقال سعيد : إن الله تعالى واسع لهما جميعا .
    قال ابن حزم : صدق سعيد رحمه الله .
    " المحلى " ( 7 / 61 ) .
    وما يفعله الموكَّل من أعمال خارج النسك كالصلاة في الحرم وقراءة القرآن وغيرها فأجرها له دون من وكَّله .
    قال الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله :
    "وثواب الأعمال المتعلقة بالنسك كلها لمن وكله ، أما مضاعفة الأجر بالصلاة والطواف الذي يتطوع به خارجا عن النسك وقراءة القرآن لمن حج لا للموكل" انتهى .
    " الضياء اللامع من الخطب الجوامع " ( 2 / 478 ) .
    10. الأفضل أن يحج الولد عن والديه ، والقريب عن قريبه ، فإن استأجر أجنبيّاً جاز .
    سئل الشيخ عبد العزيز بن باز رحمه الله :
    توفيت والدتي وأنا صغير السن ، وقد أجَّرت على حجتها شخصاً موثوقاً به ، وأيضاً والدي توفي ، وقد سمعت من بعض أقاربي أنه حج .
    هل يجوز أن أؤجر على حجة والدتي أم يلزمني أن أحج عنها أنا بنفسي ، وأيضاً والدي هل أقوم بحجة له وأنا سمعت أنه قد حج ؟
    فأجاب :
    "إن حججت عنهما بنفسك واجتهدت في إكمال حجك على الوجه الشرعي : فهو الأفضل ، وإن استأجرت من يحج عنهما من أهل الدين والأمانة : فلا بأس .
    والأفضل أن تؤدي عنهما حجّاً وعمرة ، وهكذا من تستنيبه في ذلك يشرع لك أن تأمره أن يحج عنهما ويعتمر ، وهذا من برِّك لهما وإحسانك إليهما ، تقبل الله منا ومنك" انتهى .
    " فتاوى الشيخ ابن باز " ( 16 / 408 ) .
    11. لا يشترط لمن يُحج عنه أن يُعرف اسمه ، بل تكفي نية الحج عنه .
    سئل علماء اللجنة الدائمة :
    يوجد لدي حوالي أربعة أشخاص متوفين ما بين أعمام وأجداد ، ما بين رجال ونساء ، ولم أعرف أسماء البعض منهم ، وأريد أن أرسل لكل واحد منهم من يحج لهم على حسابي الخاص ؟ .
    فأجابوا :
    "إذا كان الأمر كما ذكر : فمن عرفتَ اسمه من الرجال والنساء: فلا إشكال فيه ، ومن لم تعرف اسمه : فإنه يجوز لك أن تنوي عن الرجال والنساء من الأعمام والأخوال على حسب ترتيب أعمارهم وأوصافهم ، وتكفي النية في ذلك ، وإن لم تعرف الاسم" انتهى .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/172) .
    12. لا يجوز لمن وُكِّل بالحج عن غيره أن يوكِّل غيره إلا برضا من وكَّله .
    قال الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله :
    "ولا يحل لمن أخذ النيابة أن يوكل غيره فيها لا بقليل ، ولا بكثير إلا برضا من صاحبها الذي أعطاه إياها" انتهى .
    " الضياء اللامع من الخطب الجوامع " ( 2 / 478 ) .
    13. هل تجوز الإنابة في حج النافلة ؟ .
    في المسألة خلاف بين العلماء ، وقد اختار الشيخ ابن عثيمين رحمه الله أنه لا تجوز النيابة إلا في حج الفريضة .
    قال الشيخ رحمه الله :
    "إذا كان الرجل قد أدى الفريضة ، وأراد أن يوكل عنه من يحج أو يعتمر نافلة ، فإن في ذلك خلافاً بين أهل العلم ، فمنهم من أجازه ، ومنهم من منعه ، والأقرب عندي : المنع ، وأنه لا يجوز لأحد أن يوكل أحداً يحج عنه أو يعتمر إذا كان ذلك نافلة ؛ لأن الأصل في العبادات أن يقوم بها الإنسان بنفسه ، وكما أنه لا يوكل الإنسان أحداً يصوم عنه - مع أنه لو مات وعليه صيام فرض صام عنه وليه - ، كذلك في الحج ، والحج عبادة يقوم فيها الإنسان ببدنه ، وليست مالية يُقصد بها الغير ، وإذا كانت عبادة بدنية يقوم بها الإنسان ببدنه : فإنها لا تصح من غيره عنه إلا فيما وردت به السنة ، ولم ترد السنة في حج الإنسان عن غيره حج نفل ، وهذه إحدى الروايتين عن أحمد : أعني أن الإنسان لا يصح أن يوكل غيره في نفل حج أو عمره سواء كان قادراً أو غير قادر .
    ونحن إذا قلنا بهذا القول صار في ذلك حث للأغنياء القادرين على الحج بأنفسهم ؛ لأن بعض الناس تمضي عليه السنوات الكثيرة ما ذهب إلى مكة اعتماداً على أنه يوكل من يحج عنه كل عام ، فيفوته الحج على أساس أنه يوكل من يحج عنه" انتهى .
    " فتاوى إسلامية " ( 2 / 192 ، 193 ) .
    14. ينبغي تحري أهل الخير والصدق والأمانة والعلم بمناسك الحج لحج البدل .
    قال علماء اللجنة الدائمة :
    "ينبغي لمن يريد أن ينيب في الحج أن يتحرى فيمن يستنيبه أن يكون من أهل الدين والأمانة حتى يطمئن إلى قيامه بالواجب" انتهى .
    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/53) .
    والله أعلم

    المصدر: الإسلام سؤال وجواب

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ترجمہ :
    حج بدل کے احکام اور ضوابط

    سوال
    ہمارے ملک میں کچھ ایسے حج گروپ ہیں جو حج بدل کی سہولت پیش کرتے ہیں، یعنی ہم انہیں نقدی رقم دیتے ہیں -یہی حج کرنے کیلئے رقم ہوتی ہے- اور پھر اہل علم افراد ہماری طرف سے حج کرتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب :

    الحمد للہ:

    بہت سے لوگ حج بدل میں تساہل سے کام لیتے ہیں، جبکہ حجِ بدل کیلئے خاص ضوابط، شرائط اور احکامات ہیں، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں، اللہ تعالی سے امید ہے کہ ان سے فائدہ ہوگا:

    1- حجۃ الاسلام (فرض حج) کی ہر لحاظ سے طاقت رکھنے والے شخص کی جانب سے حج بدل نہیں کیا جاسکتا۔

    ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "اس بات پر اجماع ہے کہ فرض حج کی طاقت رکھنے والے شخص کی طرف سے کوئی دوسرا شخص حج نہیں کرسکتا، ابن منذر کہتے ہیں: اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس پر حجۃ الاسلام ہو اور وہ اسکے ادا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو، تو اسکی طرف سے کیا جانے والا حج کفایت نہیں کریگا" انتہی

    " المغني " ( 3 / 185 )

    2- حج بدل ایسے مریض کی جانب سے کیا جائے گا جس کے شفا یاب ہونے کی امید نہ ہو، یا بدنی طور پر عاجز ہو، یا میت کی طرف سے حج بدل کیا جائے گا، کسی غریب، یا سیاسی اور امنی طور پر عاجز شخص کی جانب سے حج بدل نہیں کیا جاسکتا۔

    نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "جمہور علمائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ حج میں میت، اور شفایابی سے مایوس عاجز کی جانب سے نیابت کی جاسکتی ہے، قاضی عیاض نے مالکی فقہاء کی ان احادیث -جن میں میت کی جانب سے روزہ رکھنا اور حج کرنے کا ذکر ملتا ہے-کی مخالفت میں انکی جانب سے ایک عذر پیش کیا ہے کہ یہ روایت مضطرب ہے، اور یہ عذر باطل ہے، کیونکہ حدیث میں کوئی اضطراب نہیں، اور اسکے صحیح ہونے کیلئے امام مسلم کا اپنی صحیح میں ذکر کرنا ہی کافی ہے"

    " شرح النووي على مسلم " ( 8 / 27 )

    جس حدیث کی جانب نووی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے کہ بعض مالکی علماء اس پر اضطراب کا حکم لگایا ہے، وہ حدیث یہ ہے: عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک خاتون نے آکر کہا: "میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، اور پھر وہ فوت ہوگئیں"، تو آپ نے فرمایا: (تمہیں تمہارا اجر مل گیا ہے، اور وراثت کی وجہ سے لونڈی تمہارے پاس پھر واپس آگئی ہے) اس نے کہا: "اللہ کے رسول! میری والدہ پر ایک ماہ کے فرض روزےتھے، تو کیا میں یہ روزے انکی طرف سے رکھوں؟"آپ نے فرمایا: (اسکی طرف سے روزے رکھو) پھر اس نےکہا: "میری والدہ نے کبھی بھی حج نہیں کیا ، تو کیا میں اسکی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟" آپ نے فرمایا: (اسکی طرف سے حج کرو) مسلم (1149)

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتےہیں:

    "حج میں نیابت کے قائلین تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ کسی کی طرف سے فرض حج نہیں کیا جاسکتا، سوائے فوت شدگان، یا فالج کے مریضوں کے، چنانچہ ان میں وہ مریض شامل نہیں ہوسکتے جن کے شفا یاب ہونے کی امیدہے، اور نہ ہی مجنون ؛ اس لئے کہ اسکے افاقہ کی امید ہے، نہ ہی قیدی؛ اس لئے کہ وہ جیل سے باہر بھی آسکتا ہے، اور نہ ہی فقیر؛ اس لئے کہ وہ بھی غنی ہوسکتا ہے" انتہی

    " فتح الباری " ( 4 / 70 )

    دائمی کمیٹی کے علماء سے پوچھا گیا:

    کیا کوئی مسلمان جس نے پہلے اپنا حج کیا ہوا ہو چین سے تعلق رکھنے والے اپنے کسی رشتہ دار کی طرف سے حج کرسکتا ہے ؟ کیونکہ وہ شخص حج کی ادائیگی کیلئے سفر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "ایسا مسلمان جس نے اپنا حج ادا کر لیا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف سے حج کر سکتا ہے، جیسے کہ وہ عمر رسیدہ ہے، یا ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس سے شفا یاب ہونے کی امید نہیں، یا وہ فوت ہوچکا ہے؛ اس بارے میں صحیح احادیث موجود ہیں، اور اگر جس کی طرف سے حج کا ارادہ ہے وہ کسی عارضی رکاوٹ کی وجہ سے حج کی ادائیگی نہیں کرسکتا مثلاً: ایسی بیماری اسے لاحق ہے جس سے شفا یابی کی امیدہے، یا کوئی سیاسی عذر ہے، یا سفر کیلئے راستہ پر امن نہیں وغیرہ ؛ تو ایسی شکل میں اس کی جانب سے حج کرنا کافی نہیں ہوگا" انتہی

    شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز.... شيخ عبد الرزاق عفيفی... شيخ عبد الله بن قعود.

    "فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" (11/51)

    3- مالی طور پر عاجز شخص کی طرف سے حج بدل نہیں ہوسکتا ؛ اس لئے کہ غریب آدمی سے حج ساقط ہو جاتا ہے، جبکہ حج بدل بدنی طور پر عاجز شخص کی طرف سے کیا جاسکتا ہے۔

    دائمی فتاوی کمیٹی کے علماء سے پوچھا گیا:

    کیا کسی کیلئے جائز ہے کہ وہ مکہ سے دور رہائش پذیر اپنے کسی رشتہ دار کی طرف سے عمرہ یا حج کرے؟ اور اسکے پاس مکہ آنے کیلئے وسائل نہیں ہیں، لیکن بدنی طور پر وہ خود طواف وغیرہ کر سکتا ہے۔

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "آپ کے سوال میں مذکور رشتہ دار پر حج اس وقت تک واجب نہیں جب تک وہ مالی طور پر حج کی طاقت نہ رکھتا ہو، اور اس کی طرف سے حج یا عمرہ کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لئے کہ اگر وہ خود مشاعر تک پہنچ جائے تو وہ خود ہی انکی دائیگی کر سکتا ہے، جبکہ حج و عمرہ میں نیابت میت یا جسمانی طور پر عاجز شخص کی طرف سے ہوتی ہے " انتہی

    شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز.... شيخ عبد الرزاق عفيفی... شيخ عبد الله بن غديان.

    "فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" (11/52)

    4- کوئی شخص بھی اس وقت تک کسی کی طرف سے حج نہیں کرسکتا جب تک اس نے اپنی طرف سے حج نہ کر لیا ہو، اور اگر اس نے اپنا حج کرنے سے پہلے کسی کی طرف سے کیا تو وہ اُسی کی طرف سے ہوگا ، کسی دوسرے کی طرف سے نہیں ہوگا۔

    دائمی فتوی کمیٹی کے علماء نے کہا:

    "کسی انسان کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے حج کرنے سے پہلے کسی کی طرف سے حج کرے، اس کی دلیل ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا: "میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں"آپ نے فرمایا: (کیا توں نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟)اس نے کہا: "نہیں" آپ نے فرمایا: (پہلے اپنی طرف سے حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا)" انتہی

    شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز... شيخ عبد الله بن غديان

    "فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" (11/50)

    5- ایک خاتون کسی مرد کی طرف سے حج کرسکتی ہے، جیسے کہ مرد کسی خاتون کی طرف سے حج کرسکتا ہے۔

    دائمی فتوی کمیٹی کے علماء نے کہا:

    "حج میں نیابت جائز ہے، بشرطیکہ نیابت کرنے والے نے پہلے اپنا حج کر لیا ہو، ایسے ہی اس عورت کیلئے بھی حج ضروری ہے جسے آپ رقم اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ آپ کی والدہ کی طرف سے حج کرے، اس لئے کہ عورت حج میں کسی دوسری عورت یا مرد کی طرف سے نیابت کر سکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دلائل ثابت ہیں"انتہی۔

    "فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" (11/52)

    6- کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ ایک حج دو یا زیادہ افراد کی طرف سے کرے، ہاں عمرہ اپنے لئے کر لے یا کسی اور کیلئے اور حج کسی تیسرے شخص کیلئے کر سکتا ہے۔

    دائمی کمیٹی کے علماء کہتے ہیں:

    "حج میں میت یا ایسے زندہ کی طرف سے نیابت جائز ہے جو حج کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اور کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ ایک حج کرکے دو شخصوں کی جانب سے کردے، اس لئے کہ حج صرف ایک شخص کی طرف سے ہو سکتا ہے، لیکن اگر حج ایک شخص کی طرف سے ہو اور عمرہ کسی اور کی طرف سے کرے تو یہ جائز ہے ، بشرطیکہ ا س نے اپنا حج یا عمرہ پہلے سے کیا ہوا ہو" انتہی

    شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز.... شيخ عبد الرزاق عفيفی... شيخ عبد الله بن غديان..... شيخ عبد الله بن قعود.

    "فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء" (11/58)

    7- کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ حج بدل کا مقصد مال لینا ہو، بلکہ مقصد حج اور مشاعر مقدسہ میں پہنچ کر اپنے بھائی کی طرف سے حج کر کے اس پر احسان کرنا ہو۔

    شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

    "حج میں کسی کی طرف سے نیابت کرنا سنت رسول میں موجود ہے، اس لئے کہ ایک خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اورکہا: اللہ تعالی کی جانب سے اپنے بندوں پر فریضہ حج میرے والد پر ابھی باقی ہے، اور وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتا تو کیا میں اسکی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: (ہاں)،

    اور حج میں رقم کے بدلے میں نیابت کرنے کے بارے میں یہ ہےکہ : اگر انسان کا مقصد صرف رقم کا حصول ہے تو اس کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتےہیں : "جس نے صرف اس لئے حج کیا کہ کھانے پینے کو مل جائے گا، تو اس کیلئے آخرت میں کچھ نہیں ہے"اور جو اس لئے رقم لیتا ہے تا کہ حج کر سکے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اس لئے نیابت کرنے کیلئے رقم وصول کرتے ہوئے نیت یہ ہو کہ یہ رقم اس کیلئے حج کے دوران مددگار ہوگی، اور یہ بھی نیت کرے کہ جس کی طرف سے حج کر رہا ہے اسکی ضرورت پوری ہوگی، اس لئے کہ جو حج بدل کروا رہا ہے وہ ضرورت مند ہے، اور اسے خوشی ہوتی ہے جب اسے کوئی حج بدل کرنے والا مل جاتا ہے، اس لئے حج بدل کرنے والے کو حج کی ادائیگی کے ذریعے احسان کی نیت کرنی چاہئے" انتہی

    " لقاءات الباب المفتوح " ( 89 / السؤال 6 )

    ایسے انہوں نے کہا:

    "بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ دوسروں کی طرف سے حج صرف اور صرف مال کمانے کی غرض سے کرتے ہیں، اور یہ ان کیلئے حرام ہے؛ اس لئے کہ عبادات کو دنیا کمانے کی غرض سے نہیں کیا جاسکتا، فرمانِ باری تعالی ہے:

    ( مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ . أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ )

    ترجمہ: جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہے تو ہم ایسے لوگوں کو دنیا میں ہی ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیتے ہیں اور وہ دنیا میں گھاٹے میں نہیں رہتے [١5] یہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں آگ کے سوا کچھ حصہ نہیں۔ جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ برباد ہوجائے گا اور جو عمل کرتے رہے وہ بھی بے سود ہوں گے۔ ہود/ 15، 16

    ( فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ )

    ترجمہ: پھر لوگوں میں کچھ تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں : ''اے ہمارے پروردگار! ہمیں سب کچھ دنیا میں ہی دے دے۔'' ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ بقرہ/200

    اس لئے اللہ تعالی اپنے بندے سے کوئی ایسی عبادت قبول نہیں کرتا جس کامقصد اللہ کی ذات نہ ہو، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت گاہوں کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانے سے روکا ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا: (جب تم کسی کو دیکھو کہ مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہے، تو تم اسے کہو: اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے)، چنانچہ اگر عبادت گاہ کو جائے تجارت بنانے پر اس کے خلاف بد دعا کی جارہی ہےکہ اللہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے ، تو اس شخص کے بارے میں کیا خیا ل ہے جس نے عبادت کو ہی ذریعہ تجارت بنا لیا، گویا کہ اس نے حج کو سامانِ تجارت بنا دیا ہے، یا جیسے اس نے کسی کا گھر یا دیوار بناتے ہوئے اس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت دیکھائی ہے!! آپ دیکھو گے کہ جسے آپ نائب بنانا چاہتے ہو وہ اس پر بھاؤ لگانا شروع ہوجاتا ہے، کہ یہ رقم تو تھوڑی ہے!، مجھے فلاں شخص اس سے زیادہ دے رہا تھا!، یا فلاں نے مجھے حج کیلئے اتنی رقم دی تھی!، وغیرہ وغیرہ ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس شخص نے عبادت کو ایک پیشہ بنا لیا ہے، اسی لئے حنبلی فقہاءنے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ : کسی شخص کو اجرت دے کر حج بدل کروانا درست نہیں ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص بھی حج مال کے حصول کیلئے کرتا ہے اس کے لئے آخرت میں کچھ بھی نہیں، ہاں اگر کسی دینی مقصد سے وہ رقم لیتا ہے ، مثال کے طور پر اسکی نیت ہے کہ میں اپنے بھائی کی طرف سے حج کر کے اسے فائدہ پہنچاؤں گا ، تو ٹھیک ہے، یا اسکا مقصد مشاعر میں پہنچ کر زیادہ سے زیادہ عبادت، ذکر کرنا ہوتو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، یہ نیت درست ہے"

    جو لوگ حج میں نیابت کرنے کیلئے کسی سے رقم لیتے ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت خالص کر لیں، انکا مقصد بیت اللہ کا حج کرنا ہو، اللہ کا ذکر اور دعائیں کرنا انکا مقصد ہونا چاہئے، اور ساتھ میں ایک مسلمان کی حاجت کو پورا کرنابھی مقصد میں شامل ہونا چاہئے، انہیں چاہئے کہ مال کمانے کی نیت سے دور ہوجائیں ، لہذا اگر انکی نیت صرف مال کمانا ہے تو ان کیلئے نیابت کرتے ہوئے رقم کی وصولی درست نہیں ہے، چنانچہ جوں ہی انکی نیت درست ہوگی تو جو کچھ بھی انہیں دیا جائے گا وہ اسی کا ہے، اِلاّ کے باقی بچ جانے والی رقم کی واپسی کیلئے شرط لگا دی جائے" انتہی

    " الضياء اللامع من الخطب الجوامع " ( 2 / 477 ، 478 )

    8- جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور وجوبِ حج کی شرائط مکمل ہونے کے باوجود فریضہ حج ادا نہ کرسکے ، تو اسکی طرف سے اسکے مال میں سے حج کروانا ضروری ہے، چاہے اس نے حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔

    دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتےہیں:

    " جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور وجوبِ حج کی شرائط مکمل ہونے کے باوجود فریضہ حج ادا نہ کرسکے ، تو اسکی طرف سے اسکے مال میں سے حج کرنا ضروری ہے، چاہے اس نے حج کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو، چنانچہ اگر اسکی طرف سے کوئی ایسا شخص حج کر دیتا ہے جس کا حج کرنا درست ہو، اور اس نے پہلے اپنی طرف سے حج کیا ہوا ہو تو میت کی طرف سے اسکا حج کرنا درست ہوگا ، اور میت سے فرض کی ادائیگی کیلئے کافی ہوگا" انتہی

    شيخ عبد العزيز بن باز ، شيخ عبد الرزاق عفيفی ، شيخ عبد الله بن غديان ، شيخ عبد الله بن منيع .

    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/100)

    9- کیا حج بدل کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا کہ وہ بھی ایسے ہی واپس آئے گا جیسے اسکی ماں نے آج ہی اُسے جنم دیا ہو؟

    دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتےہیں:

    "حج بدل کرنے والے کے بارے میں یہ کہنا کہ اسے اپناحج کرنےکے برابر ثواب ملے گا، یا کم یا زیادہ تو یہ معاملہ اللہ سبحانہ وتعالی کے سپرد ہے" انتہی

    شيخ عبد العزيز بن باز ، شيخ عبد الرزاق عفيفی ، شيخ عبد الله بن غديان ، شيخ عبد الله بن منيع .

    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/100)

    ایسے ہی انہوں نے کہا: جس شخص نے اجرت لے لیکر یا بغیر اجرت لئے کسی کے لئے حج کیا تو اسکا ثواب اُسی کو ملے گا جس کی طرف سے حج یا عمرہ کیا ہے، اور حج یا عمرہ بدل کرنے والےکیلئے بھی بہت ہی عظیم ثواب کی امید کی جاسکتی ہے، جو اسے اسکے اخلاص اور نیت کے مطابق ملے گا، اور جو کوئی بھی مسجد الحرام تک پہنچ جائے اور وہاں کثرت سے نوافل ادا کرے، اور دیگر عبادات بھی سر انجام دے اس کیلئے اخلاص کی بنیاد پر اجر عظیم کی امید کی جاسکتی ہے" انتہی

    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/77، 78)

    امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    داود کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب کو کہا: ابو محمد! ان دونوں میں سے کس کو ثواب ملے گا، حج بدل کرنے والے کو یا جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے اسکو؟ تو سعید نے کہا: بیشک اللہ تعالی ان دونوں کو دینے کی وسعت رکھتا ہے۔

    ابن حزم کہتے ہیں: سعید رحمہ اللہ نے سچ کہا۔

    " المحلى " ( 7 / 61 )

    اعمالِ حج سے ہٹ کر حج بدل کرنے والا جو کوئی بھی عمل کریگا اسکا ثواب اِسی کرنے والے کو ملے گا، مثلاً: حرم میں نمازوں کی ادائیگی، قرآن مجید کی تلاوت، وغیرہ سب کا ثواب اِسی کرنے والے کو ملے گا نہ کہ جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے۔

    شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "مناسک سے متعلق تمام اعمال کا ثواب اسی کو ملے گا جس نے اسے حج میں اپنا وکیل بنا کر بھیجا ہے، جبکہ اسکے علاوہ نمازوں کا اضافی اجر اور نفلی طواف اور قراءت قرآن کا ثواب اِسی کو ملے گا جو حج کرر ہاہے" انتہی

    " الضياء اللامع من الخطب الجوامع " ( 2 / 478 )

    10- مستحب یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کی طرف سے حج کریں، اور قریبی رشتہ دار اپنے عزیز کیلئے ، لیکن اگر پھر بھی کوئی کسی کو اجرت دے کر حج کیلئے بھیج دیتا ہے تو جائز ہے۔

    شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

    میں چھوٹا سا تھا اس وقت میری والدہ فوت ہوگئیں تھیں، تو میں نے ایک با اعتماد شخص کو انکی جانب سے حج کرنے کیلئے اجرت دے کر بھیج دیا تھا، میرے والد بھی فوت ہوچکے ہیں، میں نے اپنے کچھ اقارب سے سنا ہے کہ انہوں نے حج کیا تھا۔

    تو کیا میرے لئے جائز ہے کہ میں کسی کو اپنی والدہ کی طرف سے حج کرنے کیلئے بھیج دوں، یا مجھے خود ہی انکی طرف سے حج کرنا ہوگا؟ ایسے ہی کیا میں اپنے والدین کی طرف سے حج کروں، اور میں نے سنا ہے کہ انہوں نے پہلے حج کیا تھا؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "اگر تم خود جا کر حج کرو اور شرعی طور پر مکمل مناسک کو اہتمام کے ساتھ ادا کرو تو یہ واقعی افضل ہے، اور اگر کسی بااعتماد شخص کو آپ اجرت دیکرانکی طرف سے حج کروا دیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔

    افضل یہی ہے کہ آپ انکی طرف سے حج اور عمرہ دونوں کریں، ایسے ہی آپ جسکو بھیج رہے ہیں وہ انکی جانب سے حج اور عمرہ کریں، یہ آپکی طرف سے اپنے والدین کیلئے نیکی اور احسان ہوگا، اللہ تعالی آپ سے اور ہم سے تمام نیکیاں قبول فرمائے" انتہی

    " فتاوى الشيخ ابن باز " ( 16 / 408 )

    11- کسی کی طرف سے حج کرنے کی یہ شرط نہیں ہے کہ حج کرنے والے کو اسکے نام کا علم ہو، بلکہ صرف اسکی طرف سے نیت ہی کافی ہے۔

    دائمی کمیٹی کے علماء سے پوچھا گیا:

    میرے عزیز و اقارب میں تقریباً چار افراد ہیں چچا، اور دادا، ان میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہیں، جن میں سے کچھ کے ناموں کا مجھے نہیں پتہ، اور میں چاہتا ہوں کہ انکی طرف سے حج بدل کیلئے کچھ لوگوں کو اپنے ذاتی خرچے پر بھیج دوں، تو میں کیا کروں؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "اگر صورتِ حال ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ذکر کی تو جن خواتین و حضرات کے نام آپ جانتے ہو ان کے بارے میں تو کوئی اشکال نہیں، اور جن مرد و خواتین کے ناموں کا آپکو علم نہیں آپ انکی عمر، اور اوصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے انکی طرف سے نیت کر سکتے ہیں، حج بدل کیلئے صرف نیت ہی کافی ہے، چاہے آپکو انکے ناموں کا علم نہ بھی ہو"انتہی

    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/172)

    12- جس شخص نے کسی کو اپنی طرف سے حج کیلئے وکیل بنایا تو اُسے آگے کسی اور شخص کو وکیل بنانے کی اجازت نہیں ہے اِلاّ کہ وکیل بنانے والے کی رضا مندی حاصل ہوجائے۔

    شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

    "کسی بھی نیابۃً حج کرنے والے کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اور کو وکیل بنائے چاہے تھوڑی یا زیادہ رقم دے یہاں تک کے وکیل بنانے والے کی طرف سے اجازت حاصل کر لے" انتہی

    " الضياء اللامع من الخطب الجوامع " ( 2 / 478 )

    13- کیا نفل حج کیلئے نیابت ہو سکتی ہے؟

    علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے، چنانچہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے کہ نیابت صرف اور صرف فرض حج ہی میں ہوسکتی ہے۔

    شیخ رحمہ اللہ کہتےہیں:

    "اگر آدمی نے فرض ادا کر لیا ہواور اسکا ارادہ بنے کہ کسی کو اپنی طرف سے نفل حج یا عمرہ کرنے کیلئے بھیجے، تو اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، کچھ علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کچھ نے منع قرار دیا، میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ یہ منع ہی ہے، اس لئے کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی کو اپنی طرف سے نفل حج یا عمرہ کرنے کیلئے وکیل بنائے؛ اس لئے عبادات میں اصل یہ ہے کہ انسان خود یہ عبادات کرے، یہ ایسےہی ہے جیسے کوئی اپنی طرف سے روزے رکھنے کیلئے وکیل مقرر نہیں کر سکتا -ہاں اگر کوئی فوت ہوجائے اور اس پر فرض روزے باقی ہوں تو اسکی طرف سے ولی روزے رکھے گا-بعینہ حج ہے ، اور حج ایک ایسی عبادت ہے جو انسان خود اپنے بدن سے کرتا ہے، یہ کوئی مالی عبادت نہیں ہے جس میں اصل ہدف محتاج شخص ہوتا ہے، اور جب عبادت بدنی ہو کہ انسان خود اسے ادا کرے تو کوئی بھی دوسرا شخص اسکی طرف سے ادا نہیں کر سکتا ما سوائے ان عبادات کے جن کے بارے میں سنت میں بیان کردیا گیا، جبکہ نفل حج کے بارے میں کوئی ایسی دلیل موجود نہیں جس میں کسی کی طرف سے نفل حج کرنے کی اجازت دی گئی ہو، یہی موقف امام احمد سے منقول دو روایات میں سے ایک ہے، میری مراد کہ انسان کسی کو نفل حج یا عمرہ میں اپنی طرف سے وکیل نہیں بنا سکتاچاہے وہ خود قادر ہو یا نہ ہو"

    اور جب ہم اس قول پر قائم رہیں گے تو اس سے صاحبِ حیثیت اور جسمانی طاقت رکھنے والے لوگوں کو رغبت ملے گی کہ وہ خود اپنی طرف سے حج کریں؛ اسی لئے کچھ لوگ کئی سالوں تک مکہ نہیں جاتے صرف اس بات پر اعتماد کرتے ہوئے کہ ہم تو ہر سال اپنی طرف سے حج بدل کروا دیتے ہیں، تو اس سے ہر سال حج رہ جاتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے حج کیلئے وکیل بنا دیا ہے" انتہی

    " فتاوى إسلامية " ( 2 / 192 ، 193 )

    14- حج بدل کیلئے قابل اعتماد، سچے اور امین لوگوں کو تلاش کیا جائے، جنہیں مناسک حج کا علم بھی ہو۔

    دائمی کمیٹی کے علمائے کرام کہتےہیں:

    "جو شخص کسی کو اپنا نائب مقرر کرنا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ دیندار، امین لوگوں کو تلاش کرے اور انہی کو اپنا نائب مقرر کرے، تا کہ واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے اسکا دل مطمئن رہے"

    " فتاوى اللجنة الدائمة " (11/53)

    واللہ اعلم .

    ماخذ: الاسلام سوال و جواب
     
  6. ‏ستمبر 25، 2019 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مقروض کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟


    سوال
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    مقروض کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟ اس سلسلے میں جو احادیث وارد ہیں، وہ کسی ہیں؟ مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    مقروض کے جنازہ کے متعلق حدیث صحیح ہے، مسند احمد، صحیح بخاری، اور سنن نسائی میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
    ((قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَاُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺَ صَلِّی عَلَیْھَا قَالَ ھَلْ تَرکَ شَیْئًا قَالُوْا لَا قَالَ عَلَیْہِ دَیْنٌ قَالُوْا ثَلٰثَۃٌ دنَانیر قَالَ صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ فَقَالَ اَبُوْ قِتَادَۃَ صَلِّ عَلَیْہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَعَلَیَّ دَیْنُہٗ فَصَلّٰی عَلَیْہِ))

    ’’یعنی ایک میت پر آپ ﷺ کو نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی گئی آپ ﷺ نے دریافت فرمایا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے لوگوں نے نفی میں جواب دیا، پھر فرمایا اس پر کوئی قرضہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ تین دینار کا مقروض تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم (خود ہی) اس کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ نماز جنازہ پڑھائیں میں قرض ادا کر دوں گا، پھر آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔‘‘

    اسی طرح امام احمد رحمہ اللہ، ابو داؤد، ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے یہ حدیث نقل کی ہے، ا س میں الفاظ ہیں۔ ((فَقَالَ اَبُوْْ قِتَادَۃَ اَنَا َتَکَفّلُ بِہٖ)) ’’یعنی میں اس کی کفالت کا ذمہ لیتا ہوں۔‘‘حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث مسند احمد سنن ابی داؤد سنن نسائی، صحیح ابن حبان اور دارقطنی میں ہے، فرماتے ہیں:
    ((کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم لَا یُصَلِّیْ عَلٰی رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَاُتِیَ بِمَیَّتٍ سأل اَعَلَیْہِ دَیْنٌ قَالُوْا نَعَمْ دَیْنَارًا انِ قَالَ صَلُّوا عَلٰی صَاحِبِکُمْ فَقَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ ھَمَا عَلَیَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ قَالَ اَنَا اَوْلٰی بِکُلِّ مُسْلِمٍ مِنْ نَفْسِہٖ فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَا لَا فَلِوَرِثَتِہٖ))

    ’’یعنی آپ ﷺ مقروض کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے، ایک میت ہوئی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا، اس پر قرض ہے، لوگوں نے کہا، دو دینار کا مقروض ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ذمہ اٹھا لیا، جب اللہ تعالیٰ نے فراخی دے دی تو آپ ﷺ نے فرما دیا، میں ہر مسلمان سے خود اس سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔، اگر کوئی مال چھوڑے، وہ ورثہ لیں، اور اگر کوئی قرض چھوڑ کر دے گا، تووہ میں ادا کروں گا۔‘‘

    اسی طرح دارقطنی اور بیہقی میں ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
    ((قَالَ کُنَّا مَِعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ مِنْ جنازۃ فَلمَّا وُضِعَتْ قَالَ ﷺ ھَل عَلٰی صَاحِبِکُمْ مِنْ دَیْنٍ قَالُوْ نَعَمْ دِرْھَمَانِ قَالَ صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ قَالَ عَلِِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھُمَا عَلی وَانَا لَھُمَا ضَامِنٌ فَقَامَ یَُصَلِّی ثُمَّ اَقَبَلَ عَلٰی عَلِیَّ فَقَال جَزاکَ اللّٰہ عَنِ الْاَسْلِامِ فینہا وَفٰکَ رِھَانَکَ کَمَا فَطَلْتَ رِھَانَ اَخِیْکَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَکَّ رِھَانَ اَخِیْہِ اِلَّا فَکَّ اللّٰہُ رِھَانَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ بَعْضُھُمْ ھٰذَا لِعَلّی خَاصَّۃٌ اُم لِلْمُسْلِمِیْنَ عَامَۃً فَقَالَ لِلْمُسْلِمیْنَ عَامَۃً))

    ’’یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرض ادا کرنے کا وعدہ کر لیا، تو آپ ﷺ نماز جنازہ پڑھانے پر رضا مند ہوئے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کی نیک جزا دے، اور آپ کو نجات دے، جیسے کہ آپ نے اسے نجات دلائی ہے، جو مسلمان اپنے بھائی کا ذمہ اٹھا کر اسے رہائی دلوائے اللہ تعالیٰ اسے نجات دیں گے کسی نے پوچھا کیا یہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے وعدہ ہے فرمایا نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔‘‘

    اس حدیث کی سند میں کلام ہے، مسند احمد، ابو داؤد، نسائی اور دارقطنی میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
    ((قَالَ تُوُفِّی رَجُلٌ فَغَسَلْنَاہُ وَفَطنَاہُ وکَفَناہُ ثُمَّ بِہِ النَّبِیْ ﷺ فَقُلْنَا تُصَلِّیْ عَلَیْہِ فَخَطٰی خُطْوَۃٌ ثُمَّ قَالَ أَعَلَیْہِ دَیْنٌ قُلْنَا دِیْنَا رَانِ فَانصَرَفَ فَتَحَمَّلَھُمَا اَبُوْ قِتَادَۃ رضی اللہ عنہ فَقَال الدِّیْنَا رَانِ عَلیٌ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ قَدْ اَوْفٰی اللّٰہُ حَقّ الْغَرِیْمِ وَبِرِیَْ مِنْہُ الْمَیْتُ قَالَ نَعَمْ فَصَلّٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِکَ بِیَیْومٍ مَا فَعَلَ الدِّیْنَا رَانِ قَالَ اّنِِّمَا مَاتَ بِالْاَرْضِ قَالَ فَعَادَ اللّٰہُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ قَدْ قَضَیْتُھُمَا قَالَ الْاٰنَ بِرَؤَتْ عَلَیْہِ جِلْدَتُہٗ))

    یہ احادیث ایسے طرق سے وارد ہیں کہ ان میں سے چند بھی حجت قائم کرنے کو کافی تھیں۔ لیکن یہ منسوخ ہیں، اور بہت سی احادیث اس نسخ پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً صحیحین وغیرہما میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خطبہ میں فرمایا۔
    ((مَنْ خَلَفَ مَالًا اَوْ حَقًّا فَلِوَرَِثَتِہٖ وَمَنْ خَلَفَ کَلًّا اَوْ دَیْنًا فَکَلُّہٗ اِلَیَّ وَدَیْنُہٗ عَلَیَّ))

    ’’اگر کوئی شخص مال چھوڑ کر مرے یا حق چھوڑ مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور اگر کچھ قرض یا اہل و عیال چھوڑ کر مرا تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔‘‘

    بخاری وغیرہ میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں۔
    ((مَا مِنْ مُوْمِنٍ اِلَّا اَنَا اَوْلٰی بِہٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اِقْرَأُوْ اِنْ شِیْتُمْ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ فَاَیُّمَا مُؤْمِنً مَاتَ وَتَرَکَ مَا لَا فَلْیُوْرِثْہُ غَضْبَۃُ مَنْ کَانُوْا وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضِیَاعًا فَلْیَاْتِنِیْ فَاَنَا مَوْلَاہُ))

    اسی طرح مسند امام احمد اور مسند ابو یعلیٰ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
    ((مِنْ تَرَکَ مَا لَا فَلِاَھْلِہٖ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلِی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ))

    ابن ماجہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
    ((مَنْ حَمِلَ مِنْ اُمَّتِیْ دَیْنًا فَعَبِہْدَنِیْ قَضَائہٖ فَمَاتَ قَبْلَ اَنْ یَقْضِیْہٗ فَاَنَا وَلِیُّہٗ))
    ’’یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے اگر کسی نے قرض ادا کرنے کی کوشش کی لیکن ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا، تو اس کے ہم ولی ہیں۔‘‘

    ابن سعد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
    ((اَحْسَنُ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ ﷺ وَشَرُّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ ضَلَالَۃٌ مَنْ مَاتَ تَرَکَ مَالًا فَلِاَھْلِہٖ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضِیَاعاً فَاِ لِیَّ وَعَلَیَّ وَاَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ))

    غرضیکہ اس مفہوم کی بے شمار احادیث ہیں، واضح رہے یہ احادیث مذکورہ فی الصدر احادیث (کہ جن میں آپ ﷺ نے مقروض کی نماز جنازہ پڑھانے سے اجتناب فرمایا) ہے بعد کی ہیں چنانچہ بعض روایات میں یہ تصریح بھی ہے کہ جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے لگا۔ اور مال و دولت کی فرواوانی ہوئی تو مقروض کا قرض اپنے ذمہ لیتے اور نماز جنازہ پڑھتے، مثلاً ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی روایت پہلے ذکر ہوچکی ہے، لہٰذا کوئی شبہ نہیں رہنا چاہیے، یہ احادیث منسوخ ہیں، جن علماء نے ان کو منسوخ میں شمار نہیں کیا، ان پر استدراک کیا جا سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے ناسخ منسوخ میں بعض وہ مسائل و احادیث بھی ذکر کی ہیں جن میں اس حدیث کی طرح تصریح موجود نہیں، بلکہ کوئی واضح قرینہ بھی نہیں صرف تقدیم زمانی کا سہارا لے کر منسوخ قرار دے دیا ہے، اور بعض جگہ امکان تطبیق کو بھی نظر انداز کر کے منسوخ قرار دیتے ہیں، اور اس حدیث کے متن میں سے نسخ ثابت ہے (ااور ابن صلاح رحمہ اللہ کی تصریح کے مطابق یہ نسخ کی واضح ترین اقسام سے ہے مترجم) تو اس سے غفلت کو کیوں برتیں ((اِفَادَۃُ بِمِقْدَارِ الشُّیُوْخِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوْخِ)) میں ہم نے ذکر کیا کہ منسوخ آیات پانچ ہیں، اور احادیث منسوخہ کی تعداد ہم نے دس ذکر کی، اس وقت ہم سے ذہول ہو گیا، یہ حدیث بھی وہاں شمار کر لینی چاہیے۔

    ((فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ)) کی علت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ کے بعد کے خلفاء کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقروض کا قرض اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت، حکومت اسلامیہ کے خزانۂ عامرہ سے ادا کریں، اس لیے کہ یہ حکم محکم غیر منسوخ ہے پھر وہ ان حقوق کو جو رسول اللہ ﷺ کو حاصل تھے، ان سے اپنے لیے دلیل پکڑتے ہیں
    ج، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ((خُذْ مِنْ أَفْوَالِھِمْ صَدَقَۃ)) ظاہر ہے کہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے، یہ لوگ نہیں کہتے کہ صدقہ وصول کرنا، آنحضرت ﷺ سے خاص تھا، بلکہ اسی حق کو خود استعمال کرتے ہیں۔ پس ان کے لیے ضروری ہے کہ رعایاکی وہ ذمہ داریاں بھی اٹھائیں، جو آنحضرت ﷺ اٹھاتے تھے، اسی حدیث یہ حدیث کہ ((اَنَا وَارِثٌ مَنْ لَا وَارِثَ لَہٗ اَعْقِلُ عَنْہُ وَارِنُہٗ)) (مسند احمد، ابن ماجہ، سعید بن منصور، بیہقی) ’’یعنی جس کا کوئی وارث نہ ہو گا، میں اس کا وارث ہوں، اور میں ہی اس کی طرف سے دیت ادا کروںگا۔‘‘ کوئی نہیں کہتا کہ میراث لاوارث صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص تھی۔ طبرانی کی ایک حدیث میں اس کی تصریح بھی وارد ہے،
    آ نحضرت ﷺ نے فرمایا: ((مِنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَعَلَی الْوُلَاۃِ مِنْ بَعْدِ مِنْ بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِیْنَ)) (طبرانی عن سلمان) ’’یعنی اگر کوئی مسلمان مقروض فوت ہو تو اس کا قرض آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد خلفاء مسلمین کے ذمہ ہے کہ وہ بیت المال سے ادا کریں۔‘‘
    اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن سعید الانصاری ضعیف ہے، لیکن ابن حبان نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے، اگر نہ بھی ہو تو اس مسئلہ میں بنیاد اس حدیث پر نہیں ہے، بلکہ اس پر ہے کہ امراء کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں اگر کہیں کہ اس کا طلب یہ ہوا کہ قرض مقروض سے ساقط ہو کر سلطان کو لاحق ہو گیا، تو ہم کہیں گے کہ یہ مسئلہ کئی شقوں میں منقسم ہے، مقروض کے پاس مال ہو گا، یا نہیں ہو گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو پھر دو صورتیں ہیں کہ وہ قرض ادا کرنے کی کوشش و شدید خواہش رکھتا ہو گا، یا اس نے اس کے متعلق کوئی اہتمام ہی نہیں کیا ہو گا، اب ہر ایک کا حکم سن لیجئے، جس کے پاس مال ہے، اور وہ قرض ادا کر سکتا ہے، اگر ایسا شخص مقروض ہی فوت ہو جائے، اور مسلمانوں کی حکومت کے خزانہ میں اتنی سکت ہے کہ وہ اس قرض کو ادا کر سکے گی، اس لیے آنحضرت کا ارشاد ہے۔ ((مِنْ خَلَفَ کَلَّا اَوْ دَیْنًا فَکَلُّوْ اِلَیَّ وَدَینُہُ عَلَیَّ)) اگرچہ وہ باوجود قدرت کے قرض ادا نہ کرنے پر گناہ گار ہو گا، اور یہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث کے منافی نہیں اس لیے وہ زمانۂ مسرت کی بات ہے، اور یہ مقروض جس نے مال ہونے کے باوجود قرض ادا نہیں کیا، گناہ کا مرتکب ہوا، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
    ((نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ بِدَیْنِہٖ حَتّٰی یُقْضٰی عںہ اخرجہ احمد والترمذی وابن ماجۃ وقال الترمذی حسن ورجال اسنادہ ثقات الاعمر وبن ابی سلمۃ))

    ’’یعنی مقروض کی روح قرض کی وجہ سے لٹکتی رہتی ہے حتی کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے، اس حدیث کے تمام راوی (باستثناء عمرو بن ابی سلمہ) ثقہ ہیں وہ بھی صدوق یخطی ہے، اس لیے یہ حدیث کم از کم حسن ہو گی۔‘‘

    اور اگر کسی کے پاس مال نہیں کہ قرض اد کر سکے، بلکہ اس کا مال کسی نے غصب کررکھا ہے، یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے کوشش کے باوجود ادا نہیں کر سکا، تو وہ بھی اسی شخص کے حکم میں ہو گا، جو مال نہیں رکھتا۔ چنانچہ طبرانی میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث مروی ہے۔
    ((مَنْ دَانَ دَیْنًا وَفِیْ نَفْسِہٖ وَفائَ ہٗ وَمَاتَ تَجَاوَرَ اللّٰہُ عَنْہُ وَاَوْضی غَرِیْمَہٗ بِمَاشَائَ وَمَنْ دَانَ دَیْنًا وَلَیْسَ فِیْ نَفْسِہٖ وَفَائَ ہٗ وَمَاتَ اِقْتَضِیْ اللّٰہُ لِغَرِیْمَہٖ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))

    ’’یعنی جس نے قرض لیا، اور اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن فوت ہو گیا، تو اس سے اللہ درگذر فرمائیں گے، اور اسے قرض خواہ کو جس طرح چاہیں گے، خوش کر دیں گے، اور اگر کسی کا ارادہ ہی ادا کرنے کا نہ تھا، تو اس کا قرض خواہ کے لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن طلب کریں گے۔‘‘

    اسی طرح بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔
    ((اَلدَّیْنُ دَیْنَانِ فَمَنْ مَاتَ وَھُوَ یَنْوِی الْقَضَائج فَاَنَا وَلِیُّہٗ وَمَنْ مَاتَ وَلَا یَنْوِیْ قَضَائَہٗ فَذَالِکَ الَّذِیْ یُوْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِہٖ لَیْسَ یَوْمَئِذٍ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ))
    ’’آنحضرت ﷺ نے فرمایا مقروض دو طرح کے ہیں، جو فوت ہوا اور اس کا قرض ادا کرنے کا پختہ ارادہ تھا تو میں اس کا ولی ہوں گا، لیکن جس کا اررادہ ہی نہ تھا، اس کی نیکیاں لی جائیں گی، کیونکہ اس دن سونا یا چاندی نہ ہو گی۔‘‘

    اور حدیث عبد الرحمٰن بن ابی بکر سے مروی ہے۔

    ((یُوْتٰی بِصَاحِبِ الدَّیْنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ فِیْمَ اَتْلَفْتَ اَمْوَالَ النَّاسِ فَیَقُوْلَ یَا رَبَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ انہ اتی عَلٰی امَّا حُرِّقَ وَاِمَّا غُرِقَ فَیَقُوْلُ فانا قُضِیْہ عَنْکَ الْیَوْمَ فَیَقْضِیْ عَنْہُ))
    ’’قیامت کے دن ایک مقروض لیا جائے گا، اللہ تعالٰٰ اس سے سوال کریں گے، تو نے لوگوں کے مال کیسے تلف کر دئیے، تو وہ کہے گا، اللہ یا رب تعالیٰ تجھے علم ہے، کہ میرے پاس سے یا تو جل گیا، یا غرق ہو گیا، اللہ تعالیٰ کہیں گے، تیرا قرض ہم ادا کریں گے۔‘‘

    مسند احمد الحلیہ (ابو نعیم) مسند بزاز نیز طبرانی میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں۔
    ((یُدْعٰی بِصَاحِبِ الدَّیْنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُوْقف بِیْن یَدَیِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ یَا ابْنَ اٰدَمَ فِیْمَ اَخَذْتَ ھٰذَا الدَّیْنِ وَفِیْمَ ضَیَّعْتَ النَّاسِ فَیَقُوْلُ یَا رَبَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ انٰ اخذتہ فلم اکل ولم اشرب ولم اُضَیِّعْ ذٰلِکَ وَلٰکِنْ اَتٰی عَلٰی یَدِی اِمَّا حُرِّقَ وَاِمَّا سُوِقَ وَاِمَّا ضُیِّعَ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ صَدَقَ عَبْدِیْ وَاَنَا اَحَقُّ مِنْ قَضِیْ عَنْہُ فَیَدْعو اللّٰہُ بِشَیْئِ فَیَضَفُہٗ فِیْ کُفَہِ مِیْزَانِہٖ فَتَرْجَحَ حَسَنَاتہ عَلٰی سیٰاتِہٖ فَیُدْخِلُ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِہٖ وَرَحْمَتِہٖ))

    بخاری وغیرہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
    ((عَنِ النَّبِی ﷺ قَالَ مَنْ اَخَذَا اَمْوَالَ النَّاسِ یُرِیْدُ اَدَاھَا ادَّی اللّٰہُ عَنْہ وَمَنْ اَخَذَھَا یُرِیْدُ اِثْلَا فَھَا اَتْلَقَہُ اللّٰہُ))

    ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث روایت کی ہے۔

    ((مِا مِنْ مُسْلِمٍ یَدَّانُ دَیْنًا یَعْلَمُ اللّٰہُ اَنَّہٗ یُرِیْدُ اَدَائَ ہٗ اِلَّا اَدَّی اللّٰہ عَنْہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ))

    الغرض اگر کسی نے قرض لیا، لیکن کوشش اور خواہش کے باوجود ادا نہ کر سکا، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اد ا کر دیں گے، اور وہ گناہ گار نہ ہو گا۔

    تیسری صورت یہ ہے کہ اس کے پاس ادا کرنے کے لیے مال تو نہ تھا، لیکن اس نے قرض چکانے کے لیے کماحقہ کوشش بھی نہیں کی، اس صورت میں اس سے قرض ادا کرنے کی کوشش نہ کرنے پر مواخذہ ہو گا، البتہ اصل جواب طلبی مسلمان کی ہو گی کہ اس نے تونگری کے باوجود اس کا قرض ادا کس لیے نہ کیا؟ اور اگر اس نے وہ مال کی فضول خرچی یا معصیت سے تباہ نہیں کر ڈالا ہے، تو عین ممکن ہے، کہ رب غفور اس سے باز پرس ہی نہ فرمائیں، یا زیادہ سے زیادہ اس سے یہ سوال کر لیا جائے کہ اس نے کوشش کیوں نہ کی، لیکن سلطان المسلمین اس معاملہ میں جوابدہ ہو گا، اگر کسی کے پاس صرف اپنے اور اہل و عیال کا ستر ڈھانپنے کے کپڑے اور دو وقت کا کھانا کھانے کی سکت ہی ہے تو اسے ہم ’’بے مال‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی اس کے سوا جائیداد اور سازوسامان یا مکانات کا مالک ہے، اور سمجھتا ہے کہ صرف دل میں خواہش اور نیت کر کے اس حدیث کے مطابق نجات حاصل کرے گا، تو یہ سخت غلطی میں ہے خود فریبی میں مبتلا ہے۔

    آنحضرت ﷺ کا فرمان ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبَکُمْ)) ’’تم اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔‘‘ تحفیف پر نہیں بلکہ تہدید پر محمول ہے، لقمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے قصہ میں ((لَا اَشْہَدُ عَلٰی جَوْرٍ)) بھی اسی پر محمول ہے،

    ممکن ہے کسی کے دل میں یہ خیال آئے کہ آنحضرت ﷺ نے مقروض کی نماز جنازہ پڑھانے سے اجتناب فرمایا اس کی بجائے قرض خواہ سے سفارش کر کے قرض معاف کرا دیتے، ایسا کرنا مناسب نہ ہوتا، کیونکہ آپ ﷺ حلال و حرام کی تمیز سمجھانے کے لیے مبعوث ہوئے، اگر آپ ﷺ ایسی سفارشیں شروع کر دیتے، تو بعض لوگوں کے دلوں سے حقوق عباد کی عظمت ختم ہو جانے کا اندیشہ تھا، پھر بعض لوگ تو بخوشی اپنے حق سے دست بردار ہو جاتے، لیکن ممکن ہے بعض لوگ بطیبب خاطر معاف نہ کرتے گو بظاہر آنحضرت ﷺ نے اسے خاوند کی طرف رجوع کی ترغیب دلائی تو اس نے کہا، آپ ﷺ حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صرف سفارش کرتا ہوں، وہ اس پر رضا مند نہ ہوئی، اسی طرح بنو ہوازن نے جب اپنے اموال و عورتوں کی واپسی کی درخواست کی آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم آئے نہیں اب تو ایک ہی چیز مل سکتی ہے، انہوں نے عورتوں اور بچوں کی واپسی چاہی آپﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہ کی رضا مندی سے انہیں واگذار کیا، اور حرف بظاہر طیب نفس پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ ’’عرفائ‘‘ کو مقرر کیا کہ وہ خوشوں کو ناخوش سے الگ کر ین۔ استیفاء بھی حدیث سے ثابت ہے۔

    الغرض آنحضعرت ﷺ مسلمانوں کی مصلحت و خیر خواہی کے لیے حقوق غیر ثابتہ میں سفارش کر دیا کرتے تھے، مثلاً کسی جگہ میاں بیوی کا تنازعہ ہو یا مسلمانوں کا آپس میں شیرازہ متحد رکھنے کے مسئلہ میں لہٰذا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ دوسروں کو قرض ادا کرنے کا حکم کرنے کی بجائے قرض خواہ کو معاف کرنے کے لیے کیوں نہیں کہا، البتہ بعض اوقات مصالحت کرانے کے لیے ایسا بھی کرتے، مثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ دو آدمی مسجد میں جھگڑ پڑے آپ ﷺ نے قرض خواہ کو نصف معاف کرنے کو کہا اور مقروض کو جلدی ادا کرنے کا حکم دیا۔

    یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ حدیث سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اس مقروض سے خاص ہے جو قرض ادا کرنے کے برابر ترکہ نہ چھوڑے، ورنہ اس کا قرضہ اس کے ترکہ سے ادا کر دیا جاتا، اس کے بعد اس امتناع کو مسنوخ کر دیا گیا، اب کسی حالت میں بھی اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے اجتناب کا جواب باقی نہیں، بلکہ سلطان ادا کرنے کا ذمہ دار ہے، اگر ترکہ سے قرض ادا کرنا ممکن ہے، اور سلطان کے پاس اس قدر مال نہیں یا وہ عامل بشریف نہیں تو اس سے قرض ختم نہ ہو گا، بلکہ میت کے ورثاء ادا کریں، کیونکہ ان کا حق بعد میں ہے کہ ارشاد خداوندی ہے۔ {مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَا اَوْ دَیْنٍ} بادشاہ کی اس معاملہ میں لا پروائی ورثہ کے لیے دلیل نہیں ہے، ورنہ لوگوں کے مال ضائع ہوں گے، خاص طور پر اس زمانہ میں کہ اموال خدا (مسلمانوں کے خزانہ) میں اس حد میں کوئی رقم باقی نہیں ہے۔ نیز یہ {مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوْصِیْ بِھَا اَوْ دَیْنٍ} ارشادِ خداوندی کے خلاف ہے، وارث کو اس وقت تک کوئی حق نہیں کہ میراث پائے جب تک قرضہ ادا نہ کرے، الحاصل یہ کہ قرض کی جوابدہی سلطان سے ہو گی، یا مدیون سے۔

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص لوگوں کا مال زبردستی چھین کر کھا لے، اس کی نماز جنازہ کے متعلق کیا حکم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر مقروض کی نماز جنازہ سے امتناع منسوخ نہ ہوتو ا س ظالم کی نماز جازہ بالاولی مستحق اجتناب و امتناع ہوتی، لیکن اب وہ حکم منسوخ ہو چکا ہے، اب اس امتناع کی کوئی وجہ نہیں ہے، اسی طرح دیگر گناہ گاروں کا حال ہے کہ ان پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے، البتہ بعض جاور قسم کے مقلدین یہ کہتے ہیں کہ فاسق کی نماز جنازہ نہیں ہوتی، اور اس کی کوئی دلیل نہیں ہے،

    آنحضرت ﷺ نے مقروض کی نماز جنازہ سے اجتناب فرمایا، لیکن اس سے استدلال درست نہیں اس لیے کہ اولاً یہ منسوخ ہے، ثانیاً منسوخ نہ بھی تو آپ ﷺ کا فرمان ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبَکُمْ)) صاف دلالت کرتا ہے کہ آپ ﷺ نماز نہ پڑھاتے تو کوئی قائم مقام پڑھاتا، اس لیے کہ باقی مسلمانوں کی طرح اس کی نماز جنازہ واجب ہے، بلکہ یہ گناہ گار تو دعا مغفرت کے زیادہ محتاج ہیں، شوکانی فرماتے ہیں، اگرچہ مسلمانوں میں عملی طور پر تفاوت ہے، لیکن اسلام کا کلمہ اور ایمان ان سب کو شامل ہے، اس لیے سب کا حکم ایک ہی ہو گا۔ ((وَحِسَابُ الْعَاصِیْ عَلَی اللّٰہ عزوجل)) ’’گناہ گاروںکا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔‘‘ اگر چاہے تو معاف کر دے، اور چاہے تو شفاعۃ الشافعین قبول کرے، اور اگر چاہے تو انہیں سزا دے۔

    ((لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ مَا شَائَ اللّٰہُ کَانَ مَا لَمْ یَشَاء لَمْ یَکُنْ))

    مسلمانوں کا صرف کافر یا منافق کی نماز جنازہ سے روکا گیا ہے۔ ((کَمَا ذٰلِکَ مَعْلُوْمٌ وَلَا یَخْفٰی))
    ((وفی ھذا لامقدارف کفایہ لمَنْ لہٗ ھِدَایَۃَ۔ وَاللّٰہ اَعْلَمُ))

    مترجما من الفارسیہ، بندہ عبد الرشید اظھر۔

    (الدلیل الطالب علی ارجح الطالب ص ۳۸۹ تا ص ۳۹۷)




    فتاویٰ علمائے حدیث
    جلد 05 ص 123-132
    محدث فتویٰ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    میت کی طرف سے قرض کی ادائیگی
    هل يلزم الابن بسداد دين والدته ؟
    لا يجب عليكِ سداد ديونها – حتى لو كانت مسلمة - لا في حال حياتها ولا بعد مماتها ، إلا أن تكون قد تركت مالاً ، فحينها يجب عليكم قضاء دَيْنها من مالها ( التركة ) لتعلق حقوق الناس به ، فإن وفَّى المال وإلا ذهب الدين على صاحبه ، وليس لأحدٍ منهم أن يطالبكم بسداد الدين ؛ لأن الدَّيْن إنما كان على أمكم لا عليكم ، وأما أنتم فلم تُشغل ذممكم بشيء منه ، لكن إن ماتت على الإسلام فيندب لكم قضاء ديْنها برّاً بها من غير وجوب .

    قال شيخ الإسلام ابن تيمية :
    فإن دين الميت لا يجب على الورثة قضاؤه لكن يقضى من تركته .
    " منهاج السنة " ( 5 / 232 ) .


    والله أعلم .

    المصدر: الإسلام سؤال وجواب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ترجمہ :
    كيا بيٹے پر والدہ كا قرض ادا كرنا واجب ہے ؟
    آپ كے ذمہ ان كے قرض كى ادائيگى واجب نہيں ـ اگر وہ مسلمان بھى ہوتى ـ نہ تو اس كى زندگى ميں، اور نہ ہى اس كے وفات كے بعد، ليكن اگر وہ مال اپنے تركہ ميں چھوڑے تو پھر آپ پر واجب ہوتا ہے كہ آپ اس كے تركہ سے پہلے اس كا قرض ادا كريں، كيونكہ يہ لوگوں كے حقوق سے تعلق ركھتا ہے، اگر تو اس كا مال پورا ہو تو ٹھيك, وگرنہ اس كا قرض اس كے ساتھ ہى رہےگا، اور كسى كو بھى يہ حق نہيں كہ اس قرض كى ادائيگى كا آپ سے مطالبہ كرے؛ كيونكہ وہ قرض تو آپ كى والدہ كے ذمہ تھا، نہ كہ آپ كے ذمہ، ليكن آپ كے ذمہ تو اس ميں سے كچھ بھى نہيں ہے، ليكن اگر وہ اسلام كى حالت ميں فوت ہو تو پھر اپنى والدہ كے ساتھ حسن سلوك كرتے ہوئے آپ كے ليے اپنى والدہ كا قرض ادا كرنا مندوب اور جائز تو ہے ليكن واجب اور ضرورى نہيں.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " ميت كے ذمہ قرض كى ادائيگى ورثاء پر واجب نہيں ہوتى، ليكن يہ قرضہ اس كے تركہ سے ادا كيا جائيگا "
    ديكھيں: منھاج السنۃ ( 5 / 232 ).

    واللہ اعلم .

    ماخذ: الاسلام سوال و جواب​
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2019
  7. ‏ستمبر 25، 2019 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,326
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    زندوں کی طرف سے میت کیلئے ذکر اللہ ،نماز ودیگر عبادت

    إهداء ثواب الذكر إلى أبويه

    السؤال
    هل لي أن أقول سبحان الله مائة مرة أو غير ذلك من الأذكار ، داعياً أن يكون ثواب ذلك لأبي أمي ؟ علماً أن أبي متوفى ، وأمي لا زالت على قيد الحياة .
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نص الجواب

    الحمد لله
    اختلف العلماء في جواز إهداء الثواب للموتى وهل يصلهم ذلك على قولين :
    القول الأول : أن كل عمل صالح يهدى للميت فإنه يصله ، ومن ذلك قراءة القرآن والصوم والصلاة و غيرها من العبادات .
    القول الثاني : أنه لا يصل إلى الميت شيء من الأعمال الصالحة إلا ما دل الدليل على أنه يصل . وهذا هو القول الراجح ، والدليل عليه قوله تعالى : وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى النجم/39

    وقوله عليه الصلاة والسلام : إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة : إلا من صدقة جارية ، أو علم ينتفع به ، أو ولد صالح يدعو له أخرجه مسلم (1631) ، من حديث أبي هريرة رضي الله عنه .

    وقد مات عم النبي صلى الله عليه وسلم حمزة رضي الله عنه ، وزوجته خديجة ، وثلاث من بناته ، ولم يرد أنه قرأ عن واحد منهم القرآن ، أو ضحى أو صام أو صلى عنهم ، ولم ينقل شيء من ذلك عن أحد من الصحابة ، ولو كان مشروعاً لسبقونا إليه .

    أما ما دل الدليل على استثنائه ووصول ثوابه إلى الميت فهو : الحج ، والعمرة ، والصوم الواجب ، والصدقة ، والدعاء .

    قال الحافظ ابن كثير رحمه الله عند تفسير قوله تعالى : ( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) : "ومن هذه الآية استنبط الشافعي ومن تبعه أن القراءة لا يصل إهداء ثوابها إلى الموتى ؛ لأنه ليس من عملهم ولا كسبهم ، ولهذا لم يندب إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم أمته ولا حثهم عليه، ولا أرشدهم إليه بنص ولا إيماء ، ولم ينقل عن أحد من الصحابة رضي الله عنهم ، ولو كان خيراً لسبقونا إليه وباب القربات يقتصر فيه على النصوص ، ولا يتصرف فيه بأنواع الأقيسة والآراء ، فأما الدعاء والصدقة ، فذاك مجمع على وصولها ومنصوصٌ من الشارع عليها " ا.هـ ( تفسير ابن كثير 4/ 258 ) .

    ثم لو سلمنا بأن ثواب الأعمال الصالحة كلها يصل إلى الميت فإن أفضل ما ينفع الميت هو الدعاء ، فلماذا نترك ما حث عليه النبي صلى الله عليه وسلم إلى أمور أخرى لم يفعلها ، ولم يفعلها أحد من أصحابه ؟! و الخير كل الخير في هدي النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه .

    وقد سئل الشيخ ابن باز رحمه لله عن إهداء ثواب قراءة القرآن والصدقة للأم ، سواء كانت حية أم ميتة ، فأجاب :

    " أما قراءة القرآن فقد اختلف العلماء في وصول ثوابها إلى الميت على قولين لأهل العلم ، والأرجح أنها لا تصل لعدم الدليل ؛ لأن الرسول صلى الله عليه وسلم لم يفعلها لأمواته من المسلمين كبناته اللاتي مُتْن في حياته عليه الصلاة والسلام ، ولم يفعلها الصحابة رضي الله عنهم وأرضاهم فيما علمنا ، فالأولى للمؤمن أن يترك ذلك ولا يقرأ للموتى ولا للأحياء ولا يصلي لهم ، وهكذا التطوع بالصوم عنهم ؛ لأن ذلك كله لا دليل عليه ، والأصل في العبادات التوقيف إلا ما ثبت عن الله سبحانه أو عن رسوله صلى الله عليه وسلم شرعيته . أما الصدقة فتنفع الحي والميت بإجماع المسلمين ، وهكذا الدعاء ينفع الحي والميت بإجماع المسلمين ، فالحي لا شك أنه ينتفع بالصدقة منه ومن غيره وينتفع بالدعاء ، فالذي يدعو لوالديه وهم أحياء ينتفعون بدعائه ، وهكذا الصدقة عنهم وهم أحياء تنفعهم ، وهكذا الحج عنهم إذا كانوا عاجزين لكبر أو مرض لا يرجى برؤه فإنه ينفعهم ذلك ، ولهذا ثبت عنه صلى الله عليه وسلم : أن امرأة قالت يا رسول الله إن فريضة الله في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا لا يثبت على الراحلة أفأحج عنه ؟ قال: " حجي عنه" وجاءه رجل آخر فقال : يا رسول الله إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا الظعن أفأحج عنه وأعتمر ؟ قال:" حج عن أبيك واعتمر" فهذا يدل على أن الحج عن الميت أو الحي العاجز لكبر سنه أو المرأة العاجزة لكبر سنها جائز ، فالصدقة والدعاء والحج عن الميت أو العمرة عنه، وكذلك عن العاجز كل هذا ينفعه عند جميع أهل العلم، وهكذا الصوم عن الميت إذا كان عليه صوم واجب سواء كان عن نذر أو كفارة أو عن صوم رمضان لعموم قوله صلى الله عليه وسلم : " من مات وعليه صيام صام عنه وليه" متفق على صحته ، ولأحاديثٍ أخرى في المعنى ، لكن من تأخر في صوم رمضان بعذر شرعي كمرض أو سفر ثم مات قبل أن يتمكن من القضاء فلا قضاء عنه ولا إطعام ؛ لكونه معذورا اهـ . "مجموع فتاوى ومقالات الشيح ابن باز" (4/348) .

    وسئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : هل يجوز أن يتصدق الرجل بمال ويشرك معه غيره في الأجر ؟ فأجاب : يجوز أن يتصدق الشخص بالمال وينويها لأبيه وأمه وأخيه ، ومن شاء من المسلمين ، لأن الأجر كثير ، فالصدقة إذا كانت خالصة لله تعالى ومن كسب طيب تضاعف أضعافاً كثيرة ، كما قال اله تعالى : ( مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) البقرة/261.

    وكان النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يضحي بالشاة الواحدة عنه وعن أهل بيته " اهـ .

    "فتاوى الشيخ ابن عثيمين" (18/249) .

    وبما تقدم يتضح أن ما ذكرتَه من إهدائك أجرَ الذكرِ لوالديك لا يصح على القول الراجح ؛ سواء الحي منهما أو الميت ، وإنما الوصية لك بالإكثار من الدعاء لهما ، والصدقة عنهما , فإن الخير كل الخير في اتباع هدي النبي صلى الله عليه وسلم وصحابته الكرام .

    والله تعالى أعلم .

    المصدر: الإسلام سؤال وجواب

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ترجمہ :
    والدین کو ذکرِ الہی کا ایصال ثواب

    سوال
    سوال: کیا یہ میرے لئے جائز ہے کہ میں 100 بار سبحان اللہ ، یا کوئی اور ورد کرنے کے بعد یہ دعا کروں کہ اسکا ثواب میرے والدین کو ملے؟ واضح رہے کہ میرے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں، جبکہ میری والدہ ابھی زندہ ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب کا متن

    الحمد للہ:

    علمائے کرام کے فوت شدگان کو ایصال ثواب کے بارے میں دو اقوال ہیں:

    1- جو بھی نیک عمل میت کیلئے ہدیہ کیا جائے تو وہ میت کو پہنچ جاتا ہے، اس میں تلاوت قرآن، روزہ، نماز، وغیرہ دیگر عبادات شامل ہیں۔

    2- میت تک کسی بھی نیک عمل کا ثواب نہیں پہنچتا، صرف انہی اعمال کا ثواب پہنچ سکتا ہے، جن کے بارے میں دلیل موجود ہے، یہی موقف راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ: ( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) اور انسان کیلئے وہی ہے جس کیلئے اس نے خود جد و جہد کی۔[النجم:39]

    اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب انسان مر جائے تو اسکے تین اعمال کے علاوہ سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں: صدقہ جاریہ، علم جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، یا نیک اولاد جو اسکے لئے دعا کرتی ہو) مسلم: (1631)

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپکے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ، آپکی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، اور آپکی تین بیٹیاں رضی اللہ عنہن فوت ہوئیں، لیکن یہ کہیں بھی وارد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کی طرف سے قرآن پڑھا ہو، یا خاص انکی طرف سے قربانی ، روزہ، یا نماز پڑھی ہو، ایسے ہی صحابہ کرام کی طرف سے بھی کوئی ایسا عمل منقول نہیں ہے، اور اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ہم سے پہلے یہ کام کر چکے ہوتے۔

    اور جن اعمال کے بارے میں میت تک ثواب پہنچنے کا استثناء دلائل میں موجود ہے ان میں حج، عمرہ، واجب روزہ، صدقہ، اور دعا شامل ہیں۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرمان باری تعالی: ( وَأَنْ لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلا مَا سَعَى ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

    "اسی آیت سے امام شافعی اور انکے موقف کی تائید کرنے والوں نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ فوت شدگان تک تلاوت قرآن کا ثواب نہیں پہنچتا؛ کیونکہ تلاوت انہوں نے خود نہیں کی، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس کام کیلئے ترغیب نہیں دلائی، اور نہ انکے کیلئے اسے اچھا قرار دیا، اور نہ ہی اس کام کیلئے واضح یا اشارۃً لفظوں میں رہنمائی فرمائی ، آپ کے کسی صحابی سے بھی ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے، اگر یہ کام خیر کا ہوتا تو وہ ہم سے پہلے کر گزرتے۔

    عبادات کے معاملے میں شرعی نصوص کی پابندی کی جاتی ہے، اسی لئے عبادات کے متعلق قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی، جبکہ دعا اور صدقہ کے بارے میں یہ ہے کہ یہ میت کو پہنچ جاتا ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں بیان کیا ہے"

    ( تفسير ابن كثير: 4/ 258 )

    اور اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ تمام نیک اعمال کا ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے تو میت کیلئے مفید ترین عبادت "دعا" ہے، تو ہم ایسے اعمال جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دلائی ہے، انہیں چھوڑ کر ایسے اعمال کے پیچھے کیوں جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کئے، آپکے کسی صحابی نے نہیں کئے!؟ حالانکہ ہر قسم کی خیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کرام کے راستے پر چلنے میں ہے۔

    شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے تلاوتِ قران، اور صدقہ کا ثواب زندہ یا فوت شدہ ماں کو ہدیہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

    "تلاوت قرآن کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، کہ تلاوت کا ثواب میت کو پہنچتا ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں دو قول ہیں، راجح یہی ہے کہ تلاوت کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا، کیونکہ اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے؛ ہمارے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے آپکی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹیوں کی طرف سے ایسا نہیں کیا، اور نہ ہی صحابہ کرام نے ایسا کیا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ مؤمن ان امور میں مشغول نہ ہو، اور زندہ ہوں یا فوت شدہ کسی کیلئے تلاوت ، اور نماز مت پڑھے، ایسے ہی انکی طرف سے نفل روزے مت رکھے؛ کیونکہ ان تمام امور کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔

    اور عبادات کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جو اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے ثابت ہوچکا ہے اسی پر عمل کیا جائے وگرنہ توقف اختیار کریں۔

    جبکہ صدقہ کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس سے زندہ ہوں یا مردہ سب کو فائدہ ہوتا ہے، اسی طرح دعا سے بھی ، مسلمانوں کا اس پر بھی اجماع ہے، زندہ کے بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ وہ صدقہ سے مستفید ہوگاچاہے وہ اپنی طرف سے کرے یا کسی کی طرف سے، اسی طرح دعا کرنے سے بھی فائدہ ہوگا، چنانچہ جو شخص اپنے والدین کیلئے انکی زندگی میں دعا کرے تو دعا سے اسکے والدین کو فائدہ ہوگا، اسی طرح انکی طرف سے انکی زندگی میں صدقہ کرنا بھی مفید ہوگا، اسی طرح اگر والدین نہایت بوڑھے ہوچکے ہیں، یا اتنے بیمار ہیں کہ انکی شفایابی کی امید نہیں ہے، تو ایسی صورت میں انکی طرف سے حج کرنا بھی انکے لئے مفید ہوگا، کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "فریضہ حج میرے والد پر انتہائی بڑھاپے کی حالت میں فرض ہوچکا ہے، لیکن وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں انکی طرف سے حج کر لو؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انکی طرف سے تم حج کرو) ، ایک اور واقعے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھا ہے، حج نہیں کرسکتا ، اور نہ سفر کی مشقت برداشت کر سکتا ہے، تو کیا میں انکی طرف سے حج اور عمرہ کر سکتا ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو)، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فوت شدگان، یا انتہائی بوڑھے عاجز افراد کی طرف سے حج کرنا جائز ہے۔

    چنانچہ صدقہ ،دعا، میت کی طرف سے حج یا عمرہ، اور اسی طرح میت کے ذمہ واجب روزے بھی رکھے جاسکتے ہیں چاہے یہ واجب روزے نذر، کفارہ ، یا رمضان کے روزے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عام ہے: (جو شخص مر گیا اور اس کے ذمہ واجب روزے تھے اسکی طرف سے اسکا ولی روزے رکھے گا)اس حدیث کی صحت پر سب کا اتفاق ہے۔ اس معنی اور مفہوم کی دیگر احادیث بھی موجود ہیں۔

    لیکن جس شخص نے رمضان کے روزے سفر، یابیماری کی وجہ سے چھوڑے، اور وہ انکی قضا دینے سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اسکی طرف سے قضائی نہیں دی جائے گی، اور نہ ہی کھانا کھلایا جائے گا؛ کیونکہ وہ معذور ہے"انتہی

    "مجموع فتاوى ومقالات شيح ابن باز" (4/348)

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

    "کیا کوئی آدمی مالی صدقہ کرتے ہوئے کسی دوسرے کو اجر میں شریک بنا سکتا ہے؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "یہ جائز ہے کہ ایک شخص مالی صدقہ اپنے والد، ماں، بھائی یا کسی بھی مسلمان کی طرف سے نیت کرتے ہوئے کرے، کیونکہ [اللہ کے ہاں]اجر بہت زیادہ ہے، چنانچہ صرف اللہ کیلئے پاک مال سے دئے جانے والے صدقہ کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    ( مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ )

    ترجمہ: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگوں کی مثال اس بیج کی طرح ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں، اور ہر بالی میں 100، 100 دانے ہوتے ہیں، اور اللہ تعالی جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر نوازتا ہے، اور اللہ تعالی وسعت والا، اور جاننے والا ہے۔ [البقرة:261]

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کو اپنی اور اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے عید پر قربان کیا کرتے تھے"

    "فتاوى شيخ ابن عثيمين" (18/249)

    مندرجہ بالا وضاحت کے بعد یہ عیاں ہوگیا ہے کہ آپکی طرف سے والدین کو ذکر کا ثواب ہدیہ کرنا راجح موقف کے مطابق درست نہیں ہے، چاہے آپکے والدین زندہ ہوں یا وفات پا گئے ہوں، آپکے لئے نصیحت یہ ہے کہ آپ انکے لئے کثرت سے دعا کریں، صدقہ کریں، کیونکہ خیر و بھلائی تو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کی اتباع ہی میں ہے۔

    واللہ اعلم .

    ماخذ: الاسلام سوال و جواب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں