1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہلحدیث کے اصول فقہ

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از Hasan, ‏جولائی 14، 2012۔

  1. ‏اگست 27، 2012 #21
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    بڑی دور کی سوجھی۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
  2. ‏اگست 27، 2012 #22
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    کیا منتسب ہمیشہ مقلد ہی ہوتا ہے صاحب؟
    کیا کسی امام کا طرف منتسب مجتہد نہیں ہوسکتا؟
     
  3. ‏اگست 27، 2012 #23
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علامہ اسماعیل سلفی کی کتاب ہے ۔ کتاب کے آخر میں کچھ سوالات کے جوابات پر مشتمل یک ضمیمہ ہے جو بعد کے ایڈیشن میں شامل کیا گیا تھا۔ وہاں علامہ نے اس سوال کا تفصیل سے جواب دیا ہے ۔ کتاب وسنت ڈاٹ کام پر جو ایڈیشن ہے اس میں یہ ضمیمہ موجود نہیں ۔ اس ضمیمہ کی پی ڈی ایف ملے تو مجھے بھی فراہم کریں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 27، 2012 #24
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    ہم پہلے بھی گزارش کر چکے ہیں کہ کسی فقہی مذہب کی طرف نسبت کرنے سے تقلید لازم نہیں آتی یہ بات آپ اچھی طرح سمجھ لیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگرد خاص امام ابن قیم رحمہ اللہ دونوں حنبلی مذھب سے تعلق رکھتے تھے اس کے باوجود دونوں عظیم مجتھدین تھے اور تقلید کرنا تو در کنار انہوں نے تو تقلید کی شدید مخالفت کی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ظاہریہ بھی دیگر مذاھب کی طرح ایک مذہب ہے اور اہل سنت میں شامل ہے اگرچہ چند اصولی مسائل میں اہل سنت سے مختلف ہے لیکن اس کو فرقہ کہنا مناسب نہیں۔ تیسری بات یہ کہ تقلید نہ تو مطلقا حرام ہے اور نہ ہی مطلقا حلال بلکہ اس میں تفصیل ہے۔ الوحیز سمیت اصول فقہ کی اکثر کتب میں تقلید و اجتھاد کے باب میں انسانوں کے علمی درجات کے اعتبار سے تقلید کی تین اقسام کی گئی ہیں:

    ۱۔ جو شخص شریعت کے مسائل کا علم نہیں رکھتا اور نہ ہی دلائل کو سمجھنے کی استطاعت رکھتا ہے اس پر واجب ہے کہ وہ ماہر شریعت عالم یا مفتی سے مسئلہ پوچھے اور اس پر عمل کرے۔ گویا اس پر واجب ہے کہ وہ عالم یا مفتی کی تقلید کرے جب تک کہ وہ خود دلائل کو سمجھنے کی استطاعت حاصل نہ کرلے لیکن اس پر یہ واجب نہیں کہ وہ ایک مخصوص مذھب کے مفتی ہی سے اپنے سارے مسائل پوچھے وہ اس معاملے اہل سنت کے صحیح العقیدہ علماء میں سے کسی سے بھی مسئلہ پوچھ سکتا ہے۔ اس درجہ کے شخص کو عامی یا جاہل کہتے ہیں۔
    ۲۔ جو شخص شریعت کے مسائل کا کسی حد تک علم رکھتا ہے اور ان کے دلائل کو بھی کسی حد تک ذاتی طور پر سمجھنے کی استطاعت رکھتا ہے تو ایسے شخص پر ان مسائل میں جن کے دلائل وہ خود سمجھ سکتا ہے تقلید جائز نہیں بلکہ اس پر براہ راست حق کی اتباع واجب ہے لیکن جن مسائل میں وہ خود اجتھاد کرنے سے قاصر ہے ان میں وہ علماء ہی کی طرف رجوع کرے گا اور ان میں کسی کی بھی تقلید کرے گا۔ اس درجہ کو متوسط درجہ کہتے ہیں اور اس پر فائز شخص عام طور پر طالب علم ہوتا ہے۔
    ۳۔ جو شخص شرعی مسائل میں اجتہاد کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور براہ راست نصوص سے مسائل کو اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس پر تقلید حرام ہے اس لئیے کہ وہ مجتہد ہے اور اسے دلائل کی معرفت حاصل ہے لحاظہ اب تقلید کرنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ اس درجہ کو درجہ اجتہاد کہتے ہیں اور اس پر فائز شخص کو مجتہد۔ اجتہاد کے کل چھ مراتب ہیں اور مختلف شرائط ہیں۔

    پس معلوم ہوا کہ آدمی پر اس کے علمی مرتبہ اور استطاعت کے اعتبار سے تقلید واجب، جائز یا حرام ہوتی ہے اور اہل حدیث کے علماء ہمیشہ سے اس کے قائل رہے ہیں۔ البتہ بعض علماء عامی کا مفتی سے سوال کرنے کو بھی تقلید نہیں مانتے بلکہ وہ اس کو بھی اتباع ہی کہتے ہیں لیکن یہ بھی محض لفظی اختلاف ہے ورنہ جاہل عامی کے مفتی سے مسئلہ پوچھنے کو تو یہ علماء بھی واجب ہی کہتے ہیں۔ تو یوں کہہ لیجئے کہ مجتہد پر کسی اور سے پوچھ کر عمل کرنا حرام ہے اور عامی پر مفتی سے پوچھ کر عمل کرنا واجب ہے۔ الغرض یہ کہ نہ تو کسی فقہی مذہب کی طرف نسبت کرنے سے تقلید لازم آتی ہے اور نہ تقلید خود مطلقا حرام ہے بلکہ جو چیز مطلقا حرام ہے وہ تقلید شخصی ہے یعنی کسی ایک معین امام یا مذہب کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کرلینا بھلے نص اس کے مخالف ہو تو یہ ایسا خطرناک عمل ہے کہ جس کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "جو شخص یہ کہے کہ امت کے ہر فرد پر کسی ایک مذہب یا امام کے تمام اقوال کی تقلید کرنا واجب ہے تو ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے اور اگر نہ مانے تو قتل کردیا جائے کیونکہ کسی شخص کے تمام اقوال کی پیروی واجب نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی"۔

    امید ہے اب اشکال دور ہوجائیں گے انشاء اللہ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 27، 2012 #25
    Hasan

    Hasan مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 02، 2012
    پیغامات:
    103
    موصول شکریہ جات:
    426
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    عبدالرحمن لاہوری بھائی نے انتہائی عمدہ انداز میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائی-


    شیخ نذیر حسین دھلوی نے معیار الحق میں جلیل القدر احناف سے ایسے اقوال نقل فرمائے ہیں جو تقلید شخصی کے منافی ہیں- اور آپ نے عامی کے لیے تقلید مطلق کو واجب بھی لکھا ہے-
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 27، 2012 #26
    Hasan

    Hasan مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 02، 2012
    پیغامات:
    103
    موصول شکریہ جات:
    426
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    میری گزارش ہے کہ ایسے اہلحدیث علماء جو ظاھری، مالکی، شافعی یا حنبلی نہیں تھے، اصول القہ پر ان کتب کے نام اس دھاگے میں شامل کردیے جائیں-

    میں نے کہیں پڑہا تھا کہ صنعانی رحمہ اللہ نے بھی اس فن کی ایک کتاب چھوڑی ہے ؟
     
  7. ‏اگست 28، 2012 #27
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    پیارے بھائی امام صنعانی رحمہ اللہ نے اصول فقہ میں جو کتاب لکھی ہے وہ اہل سنت کے ہاں معتبر نہیں اور نہ ہی وہ اہل حدیث کے منہج پر ہے بلکہ وہ زیدی (شیعہ) مذہب میں شمار ہوتی ہے۔ امام صنعانی رحمہ اللہ نے خود تو اگرچہ زیدی مذہب چھوڑ کر حق کی اتباع شروع کردی تھی لیکن اس کے باوجود ان کی تصانیف پر زیدی مذہب کے آثار موجود ہیں حتی کہ ان کی معروف کتاب سبل السلام شرح بلوغ المرام میں بھی زیدی مذہب کے آثار موجود ہیں جنہیں علامہ صدیق حسن خان رحمہ اللہ نے اپنی کتاب فتح العلام لشرح بلوغ المرام میں رفع کیا ہے اور اہل سنت کے مذہب کو واضح کیا ہے۔ لیکن اگر آپ پھر بھی تقابلے کی غرض سے یہ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو میں لنک دے دیتا ہوں:

    أصول الفقه المسمى إجابة السائل شرح بغية الآمل للصنعاني

    یاد رہے یہ کتاب اہل سنت و اہل حدیث کی کتب میں شمار نہیں ہوتی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 29، 2012 #28
    ندوی

    ندوی رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 20، 2011
    پیغامات:
    152
    موصول شکریہ جات:
    328
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    شیخ عبدالرحمن لاہوری اورسرفراز فیضی صاحبان نے شاید میرے مراسلے کی بنیاد پر توجہ نہیں دی اورایک غیرمتعلقہ بحث چھیڑدی۔
    میرابنیادی طورپر کہنایہ ہے کہ آپ حضرات مالکیہ،شوافع اورحنابلہ کو اہل حدیث کہتے ہیں۔
    ان تینوں مسالک کے جمہورعلماء تقلید کے جواز کے قائل ہیں۔
    نتیجہ یہ نکلاکہ جمہوراہل حدیث حضرات تقلید کے جواز کے قائل ہیں
    اسی سے ان لوگوں کی بنیادی غلط فہمی بھی دورہوجانی چاہئے کہ تقلید کاجواز اورعدم جواز اہل حدیث اوراحناف کے درمیان اصل یابنیادی فرق ہے ۔
    آخر میں عبدالرحمن لاہوری صاحب نے جوکچھ فرمایاہے ہم اس کے تہہ دل سے قائل ہیں اوراس کی طرح جمشید بھائی نے بھی اپنے بعض مراسلات میں بات کہی ہے۔دیکھئے
    http://www.kitabosunnat.com/forum/اصلاح-احوال-196/حدیث-دل-4187/#post25332
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 29، 2012 #29
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    پیارے بھائی میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں لیکن میری گزارش یہ ہے کہ متقدمین احناف اور جمہور اہل حدیث (مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ) تقلید شخصی کے ہرگز قائل نہیں تھے بلکہ ان سب نے اس کی مذمت اور عدم جواز کے فتوے دئیے ہیں خود کبار فقہاء احناف جیسے قاضی ابو یوسف، امام محمد بن حسن شیبانی، امام طحاوی، ملا علی القاری سب نے تقلید شخصی کے عدم جواز کے فتوے دئیے ہیں۔ آج اہل حدیث سلفیہ اور ہمارے ہاں کے احناف میں ایک بہت بڑا اختلاف تقلید شخصی پر ہے نہ کہ تقلید عامی پر اور احناف کے علاوہ بہت سے متاخرین مالکیہ اور شوافع میں بھی تصوف اور تقلید شخصی کی بیماری نے جنم لیا جو آج بھی افریقا اور عرب دنیا میں سلفی تحریک کی سخت مخالفت کرتے ہیں مگر الحمد للہ عرب دنیا میں تو سلفی تحریک عروج پر ہے اور دیگر ممالک خاص کر یورپ اور امریکہ کے غیر اسلامی ممالک میں بھی سلفی دعوت بہت پھیل رہی ہے اور کفار کو سخت پریشان کر رہی ہے۔ لحاظہ ہمارے ہاں کے جو اہل حدیث حضرات تقلید یا کسی فقہی مذہب کا نام سنتے ہی جھگڑنے لگتے ہیں اور اس کو بہت بڑا مسئلہ بنالیتے ہیں ان کو تعلیم دینی چاہئیے کیونکہ اکثر لوگ علم کے بغیر بھرپور جزبات کے ساتھ بحث کرنے پر اتر آتے ہیں۔ پس تقلید سے متعلق ہمارے ہاں کے احناف کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ فقہ حنفی ہی کو حق سمجھ بیٹھے ہیں اور اس سے باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اللہ انہیں ہدایت دے آمین۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 22، 2013 #30
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ احباب گرامی اصول الشاشی مترجم کا لنک درکار ہے اگر ممکن ہو تو آگاہ کرکے شکریہ کا موقع دیں۔ والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں