1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل الحدیث اور اہل الرائے : ایک تقابلی جائزہ

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏اکتوبر 26، 2011۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 26، 2011 #1
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اہل الرائے اور اہل الحدیث : ایک تقابلی مطالعہ

    تاریخ کسی بھی قوم یا ملت کا ایک قیمتی سرمایہ اور اثاثہ ہوتی ہے اور ملت اسلامیہ کی تاریخ دین اسلام کا ایک قیمتی ورثہ ہے۔ ہر دور میں اہل علم نے تاریخ اسلام کے متنوع پہلوؤں کو نکھارا ہے اور متفر ق موضوعات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ تاریخ کے ذیلی شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ 'فقہ اسلامی' کی تاریخ کا بھی ہے۔ متقدمین میں تو اس عنوان سے کوئی مستقل کتاب ہمیں نہیں ملتی ہے، اگرچہ متفرق کتب تاریخ و اسمائے رجال اور کتب فِرَق واحادیث وغیرہ میں کہیں کہیں یہ ابحاث موجود ہیں لیکن متاخرین میں سے کئی ایک اہل علم نے اس موضوع پر مستقل تصنیفات مرتب کی ہیں۔

    شروع شروع میں عقیدہ اور فقہ کا علم ایک ہی تھا اور عقیدہ کے مضمون کو 'فقہ اکبر' جبکہ فقہ اسلامی کے مضمون کو 'فقہ اصغر' کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ امام ابو حنفیہ رحمہ اللہ کی عقیدہ اہل سنت پر معروف کتاب کا نام بھی 'فقہ اکبر' ہی ہے۔ بعد ازاں عقیدہ ، علم فقہ سے علیحدہ ایک مستقل مضمون کی صورت میں مدون ہو گیا۔ ملت اسلامیہ میں کچھ گروہی تقسیم عقیدہ کی بنیاد پر ہوئی ہے جبکہ کچھ مسالک فقہ اسلامی کی بنیاد پر معروف ہوئے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 26، 2011 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    علم العقائد میں گروہی تقسیم
    عقیدہ کی بنیاد پر جو تقسیم ہوئی ہے اس میں دو گروہ معروف ہیں:

    اہل سنت
    سلف صالحین صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ اور محدثین عظام اور ان کے متبعین کی جماعت مراد ہیں۔ اور یہ جماعت ایک ہی ہے جسے ہم سلفیہ یا اثریہ کے نام سے جانتے ہیں۔

    اہل بدعت
    جو سلف صالحین کے منہج پر نہیں ہیں۔ ان میں جہمیہ، معتزلہ، مجسمہ، مؤولہ، اشاعرہ، ماتریدیہ ، قدریہ،جبریہ ، خوارج، مرجئہ، روافض اور اہل تشیع وغیرہ شامل ہیں۔

    عقیدہ میں اہل سنت والجماعت کی اصطلاح کے تین مفاہیم
    اہل سنت والجماعت کی اصطلاح عقائد کے باب میں تین قسم کے پس منظر میں استعمال ہوئی ہے:

    سلف صالحین
    اس پس منظر میں اس سے مراد صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ اور فقہائے محدثین کی جماعت ہے۔ اس جماعت کو سلف صالحین کے نام کی نسبت سے سلفیہ اور آثار واحادیث سے تعلق کی بنیاد پر اثریہ بھی کہتے ہیں۔ ائمہ اربعہ وغیرہ میں عقیدہ کے باب میں اختلافات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لہذا اہل الحدیث یعنی اہل حجاز اور اہل الرائے یعنی اہل کوفہ دونوں عقیدہ کے اعتبار سے سلفی ہیں جیسا کہ ہم اپنے ایک مضمون ' کیاتوحید اسماوصفات میں ائمہ اربعہ مفوضہ ہیں' میں بیان کر چکے ہیں جبکہ متاخرین حنفیہ کی اکثریت عقیدہ میں ماتریدی، معتزلی، اشعری یا صوفی ہیں۔

    فرقہ ناجیہ کے طور پر
    اس پس منظر میں اس سے مراد سلفیہ اور غیر متعصب مجتہد مخطی اشاعرہ، ماتریدیہ ہیں۔ شوافع اور مالکیہ کی اکثریت اشاعرہ ہے جبکہ حنفیہ کی اکثریت ماتریدیہ ہے جبکہ ائمہ اربعہ، متقدمین حنفیہ، حنابلہ اور فقہائے محدثین کی جماعت سلفیہ کہلاتی ہے جو سلف صالحین، صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے عقیدہ پر ہے۔ سلفیہ عقائد کے باب میں اشاعرہ اور ماتریدیہ کی تاویلات کو اجتہادی خطا شمار کرتے ہیں اور مجتہد مخطی بھی عند اللہ ماجور ہے بشرطیکہ وہ اپنے اجتہاد میں مخلص ہو جیسا کہ امام الحرمین امام جوینی، امام ابن حجر، امام نووی، امام غزالی، علامہ ابن جوزی، امام سیوطی، امام قرطبی، قاضی ابن عطیہ، امام دارقطنی، امام حاکم، خطیب بغدادی، امام ابن الصلاح، امام سخاوی، امام بیہقی، امام منذری، شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا سلطان محمد جلالپوری، مولانا حنیف ندوی رحمہم اللہ وغیرہ کی مثال ہے۔ لہٰذا اشاعرہ اور ماتریدیہ کے اجتہادات کے خطا ہونے کے باوجود انہیں فرقہ ناجیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اہل تشیع کے بالمقابل
    اس پس منظر میں اس سے مراد معتزلہ، مرجئہ، اشاعرہ، ماتریدیہ اور سلفیہ وغیرہ سب ہوتے ہیں۔

    پس اہل سنت والجماعت سے مراد سے صحابہ، تابعین ،تبع تابعین، ائمہ اربعہ اور محدثین عظام کی جماعت کا عقیدہ ہے جبکہ اہل بدعت میں جہمیہ، معتزلہ، مجسمہ، مؤولہ، قدریہ، جبریہ، اشاعرہ، ماتریدیہ، خوارج، مرجئہ، روافض اور اہل تشیع وغیرہ شامل ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 26، 2011 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    فقہ اسلامی میں گروہی تقسیم
    عقائد کی طرح فقہ اسلامی کے باب میں میں بھی تین طرح کی تقسیم سامنے آئی:

    1- اہل الحدیث
    اہل الحدیث سے مراد امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام داؤد ظاہری، امام ابن حزم، امام بخاری اور دیگرمحدثین عظام رحمہم اللہ کی جماعت ہے اور برصغیر پاک وہند میں تقلیدی جمود کے خلاف اٹھنے والی اہل حدیث کی تحریک بھی اسی منہج کا تتمہ ہے۔ اہل الحدیث کی یہ جماعت مزید تین حصوں میں تقسیم ہو گئی:

    اصحاب الحدیث
    وہ اہل علم جن پر علم حدیث کا غلبہ تھا اور حدیث ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ انہوں نے اپنی زندگیوں کا ایک بڑا حصہ حدیث کی حفاظت اور فروغ میں کھپایا۔ حدیث کے بالمقابل علم فقہ یا تدوین فقہ میں ان کی خدمات نسبتا کم ہیں۔ اس کی مثال امام احمد، امام مسلم، امام نسائی رحمہم اللہ وغیرہ کی جماعت ہے۔

    فقہاے محدثین
    ان سے مراد وہ اہل علم ہیں جو حدیث و فقہ دونوں میں امامت کے درجہ پر فائز ہوئے جیسا کہ امام مالک، امام شافعی، امام بخاری، امام ابن حجر اور امام ابن تیمیہ رحمہم اللہ وغیرہ کی مثالیں ہیں۔

    اہل الظاہر
    اس سے مراد امام داؤد ظاہری، امام ابن حزم رحمہما اللہ اور ان کے متبعین ہیں جو قیاس کے منکر ہیں اور ظاہر نصوص سے استدلال کے قائل ہیں۔

    2- اہل الرائے
    اہل الرائے سے مراد وہ اہل علم ہیں جنہوں نے رائے اور قیاس کو اپنا میدان بنایا۔ یہ اہل علم حدیث میں کمزور تھے لہذا نہوں نے اپنے مذہب کی بنیاد ظاہر قرآن، قیاس اور رائے پر رکھی۔ ان سے مراد اہل کوفہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد قاضی ابو یوسف ، امام محمد، امام زفر رحمہم اللہ وغیرہ ہیں اور معاصر حنفی انہی کا ایک تتمہ ہیں۔

    اہل الرائے اور ان کے متبعین نے فقہ حنفی کی صورت میں اپنی علمی آراء کو مدون کیا جبکہ اہل الحدیث کا علمی ذخیرہ فقہ مالکی، فقہ شافعی، فقہ حنبلی، فقہ ظاہری اور فقہائے محدثین کی علمی آراء کی صورت میں مرتب ومدون ہوا اور تا حال اس میں فتاوی اہل حدیث یا فتاوی اصحاب الحدیث وغیرہ جیسے ناموں سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    3- اہل بدعت
    اس سے مراد اباضی اور جعفری فقہ وغیرہ ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 26، 2011 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    علامہ ابن خلدون کی رائے
    علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ اس فقہی تقسیم کے بارے لکھتے ہیں:


    علامہ ابوبکر شہرستانی کی رائے
    علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ نے قیاس وغیرہ کی مخالفت کی وجہ سے اہل الظاہر کو اہل الحدیث میں شامل نہیں کیا ہے بلکہ ایک مستقل تیسرا مکتبہ فکر شمار کیا ہے جبکہ ابو بکر شہرستانی رحمہ اللہ نے اہل الظاہر کو بھی اہل الحدیث کا ہی ایک ذیلی مکتبہ فکر شمار کیا ہے۔ ابو بکر شہرستانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:


    ڈاکٹر ناصر بن عقیل طریفی نے بھی اہل الظاہر کو اہل الحدیث میں ہی شمار کیا ہے۔ (تاریخ الفقہ الاسلامی، الدکتور ناصر بن عقیل بن جاسر الطریفی، ص ٧٩، مکتبة التوبة، الریاض،١٩٩٧ء)
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 26، 2011 #5
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    غیر مروجہ فقہی مکاتب فکر
    اہل الرائے کے مستقل مکتبہ کے بانی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ(٨٠۔١٥٠ھ) ہیں اور ان سے پھر فقہ حنفی کا سلسلہ جاری و ساری ہو۔ جبکہ اہل الحدیث کے مکتبہ فکر کے بانی امام مالک رحمہ اللہ (٩٦۔١٧٩ھ) ہیں اور ان کے بعدامام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد امام شافعی (١٥٠۔٢٠٤ھ) اور ان کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ(١٦٤۔٢٤١ھ) نے اس مکتبہ فکر کی متنوع جہات کی بنیاد رکھی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بعدان کے شاگرد امام ابو داؤد ( ٢٠٢۔٢٧٥ھ)اور امام ابو داؤد رحمہ اللہ کے شاگرد امام ترمذی رحمہ اللہ(٢٠٩۔٢٧٩ھ) نے محدثین عظام کے طور پر محدثین کی آراء کو متعارف کروایا۔

    دوسری طرف امیر المومنین فی الحدیث علی بن مدینی رحمہ اللہ (١٦١۔ ٢٣٤ھ) کے شاگرد امام بخاری رحمہ اللہ(١٩٤ھ۔٢٥٦ھ)نے بھی محدثین عظام کے فقہی ذخیرہ میں بیش قیمت آراء کا اضافہ کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد داؤد بن علی ظاہری (٢٠١۔٢٧٠ھ) نے فقہ ظاہری کی بنیاد رکھی جسے امام ابن حزم رحمہ اللہ(٣٨٤۔٤٥٦ھ) نے ایک مستقل فقہی مکتب فکر کی صورت دی۔ اگرچہ اہل الظاہر اور اہل الحدیث میں منہج کا بنیادی فرق تو موجودہے لیکن اہل الرائے کے بالمقابل ان کا شمار اہل الحدیث ہی سے نکلی ہوئی ایک ذیلی قسم کے طور پر ہوتا ہے۔

    یہ واضح رہے کہ اہل سنت والجماعت کی فقہوں میں تقریباً ١٣ کے قریب فقہوں کا تذکرہ ہمیں متقدمین سلف صالحین کی کتب میں ملتا ہے جن میں سے اہل الرائے کی فقہ یعنی فقہ حنفی اور اہل الحدیث کی فقہیں مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری اور محدثین عظام کی فقہ تاحال باقی ہیں اور ان کے متبعین کثیر تعداد میں دنیا میں موجود ہیں۔ استاذ علی السایس لکھتے ہیں :

     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 26، 2011 #6
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اہل الرائے اور اہل الحدیث کی تاریخ
    فقہ اسلامی کے باب میں اہل الرائے اور اہل الحدیث کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ بعض اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ مختلف صحابہ کے مزاج تھے جو بعد ازاں مستقبل میں اس تقسیم کی بنیاد بنے ہیں۔ خلافت راشدہ ہی کے دوران بعض فقہائے صحابہ بڑے بڑے اسلامی شہروں میں پھیل گئے اور انہوں نے وہاں علمی مجالس اورتعلیمی حلقے قائم کیے۔ ان صحابہ سے استفادہ کرنے والے تابعین کی تعداد بہت زیادہ تھی اور انہی تابعین نے ان صحابہ کی وفات کے بعد ان شہروں میں افتا و تدریس کی مسند کو سنبھالا۔ ذیل میں ہم اس دور کے معروف اسلامی شہروں کے مفتی و فقہائے صحابہ و تابعین کا ایک اجمالی تعارف نقل کر رہے ہیں:

    فقہائے مدینہ
    مدینہ میں جو فقہا صحابہ افتا و اجتہاد کے میدان میں معروف تھے' ان میں حضرت عائشہ' حضرت عبد اللہ بن عمر' حضرت زید بن ثابت اور حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہم نمایاں تھے۔ ان صحابہ کے علمی حلقوں سے پیاس بجھانے والے تابعین کی جماعت بہت بڑی ہے۔ ڈاکٹر تاج عبد الرحمن عروسی لکھتے ہیں :


    فقہائے کوفہ
    حرمین سے نکلنے والے صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے کوفہ میں بھی سکونت اختیارکی۔ ان ہجرت کرنے والوں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود' حضرت أبو موسی أشعری' حضرت سعد بن أبی وقاص' حضرت عمار بن یاسر' حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت أنس بن مالک رضی اللہ عنہم وغیرہ نمایاں صحابہ ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں جب مختلف صحابہ کو متفرق اسلامی شہروں کی طرف بھیجا تواس ہجرت کے مرحلے میں بہت سے صحابہ کوفہ بھی منتقل ہوئے۔ مؤرخین کے ایک قول کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سانحہ شہادت تک تقریباً تین صد صحابہ کوفہ منتقل ہو چکے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنایا۔ جس وجہ سے یہ شہرصحابہ کی پہلے کی نسبت اور زیادہ توجہ کا مرکز بنا۔ علاوہ ازیں حضرت عبد اللہ بن مسعودکو حضرت عمر رضی اللہ عنہمانے اپنے زمانہ خلافت میں کوفہ کے لیے ایک معلم خصوصی کے طور پر بھیجا تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مکتبہ فکر سے مستفید ہونے والے فقہاء و علماء کے بارے ڈاکٹر تاج عبد الرحمن عروسی لکھتے ہیں :

     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 26، 2011 #7
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اہل الرائے اور اہل الحدیث کی ابتدا
    استاذ محمد علی السایس نے اہل الرائے اور اہل الحدیث کی بنیاد ابراہیم نخعی اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ کو بنایا ہے۔ استاذ محمد علی السایس اہل الحدیث کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں :

    جبکہ دوسری طرف اہل الرائے کے بارے میں لکھتے ہیں:

    امام مالک رحمہ اللہ سے مروی ایک اثر سے بھی اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ ربیعہ بن أبی عبد الرحمن فروخ(متوفی ١٣٦ھ) فقہائے اہل مدینہ میں سے تھے۔ انہوں نے اہل عراق سے بھی فقہ کی تعلیم حاصل کی اور ان کے مزاج میں روایت کی نسبت' رائے کا پہلو غالب تھا۔اسی وجہ سے اہل زمانہ میں ربیعہ رائی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کا ایک واقعہ بعض مؤرخین اور محدثین نے نقل کیا ہے' جس سے اس زمانے میں اہل الحدیث اور اہل الرائے کے منہجی اختلاف کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں :

     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 26، 2011 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اہل الرائے اور اہل الحدیث کے مناہج میں فرق
    اہل الرائے اور اہل الحدیث میں فکر ونظر اور منہج استدلال کے کئی ایک بنیادی و جوہری فرق موجود ہیں جن کا ہم ذیل میں تذکرہ کر رہے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 26، 2011 #9
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    پہلا فرق
    اہل الحدیث اور اہل الرائے میں ایک بنیادی فرق اجتہاد کرنے کے وقت کے بارے ہے کہ اجتہاد کب ہو گا۔ اہل الحدیث کے نزدیک اجتہاد و قیاس ضرورت اور اضطرار کی حالت میں ہو گا جبکہ اہل الرائے کے نزدیک اجتہاد و قیاس ہر حال میں ہو گا اور یہ ایک مستقل شی ہے، البتہ وہ اتنا فرق کر لیتے ہیں کہ ضرورت کے وقت اجتہاد و قیاس فرض ہے اور اگرضرورت نہ ہو تو مستحب ہے۔ اسی طرح اہل الحدیث کے نزدیک قیاس خبر واحد اور حدیث صحیح کی عدم موجودگی میں ہو گا جبکہ اہل الرائے کے نزدیک اخبار آحاد اور احادیث صحیحہ کی موجودگی میں بھی قیاس ہو سکتا ہے۔ ابو بکر شہرستانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    یہ واضح رہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قیاس کا اور اجتہاد ایک ہی شی ہیں۔

    شیخ ابو زہرہ مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

    یہی وجہ ہے کہ اہل الرائے اجتہاد واستنباط میں اپنی رائے کا استعمال بہت زیادہ کرتے تھے کیونکہ احادیث وآثار کا ذخیرہ ان کے پاس بہت کم تھا۔ اس کے برعکس اہل الحدیث اپنی رائے کا اظہار بہت کم کرتے تھے اور کسی سوال کے جواب میں ممکن حد تک کوشش کرتے تھے کہ کسی روایت یا صحابی کے اثر یا صحابی کے فتوی یا تابعی کے قول کو نقل کر دیں۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    اسی طرح قاضی عیاض رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ اہل الحدیث کے بارے لکھتے ہیں:

    ایک اور مقام پر شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ اہل الرائے کے بارے لکھتے ہیں:
    لیکن چوتھی صدی ہجری میں جب تقلیدی جمود اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو پھر اہل الرائے کے متبعین نے اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کے نام پر اپنی رائے کے اظہار میں شدت احتیاط کا منہج اختیار کر لیا۔ دوسری طرف اہل الحدیث کے متبعین میں ہمیں ایسے اہل علم کی کثیر تعداد ملتی ہے جو اہل الحدیث کے منہج پر اجتہاد کرتے ہوئے اور اپنے متبوع ائمہ سے بعض مسائل میں اختلاف کرتے ہوئے ان کے فقہی وعلمی ورثہ میں نمایاں اضافہ کرتے رہے مثلاً امام ابن عبد البر، قاضی ابن رشد، امام نووی، امام ابن حجر، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہم اللہ اجمعین وغیرہ ۔

    (جاری ہے)
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  10. ‏اکتوبر 27، 2011 #10
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    دوسرا فرق
    اہل الحدیث کے نزدیک جب تک کوئی مسئلہ پیش نہ آیا ہے تو اس کے بارے اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے یعنی تفریع مسائل یا مفروضات میں کسی رائے کا اظہار کرنا درست نہیں کیونکہ اجتہاد ضرورت کے تحت مباح ہے لہذا جب تک ضرورت اور اضطرارکی حالت نہ ہو گی تو اجتہاد بھی نہ ہوگا جبکہ اہل الرائے کے نزدیک مستقبل کے پیش آمدہ مسائل بلکہ مفروضہ مسائل میں بھی اجتہاد جائز اور مستحسن امر ہے۔ اسی طرح اہل الرائے تفریع مسائل کے بھی قائل ہیں یعنی ایک سوال سے سوال در سوال نکالتے ہوئے اس کا جواب دیتے چلے جانا۔

    یہی وجہ ہے کہ اہل الحدیث تو تفریع مسائل یا مفروضات کا جواب دینا بالکل بھی پسند نہیں فرماتے تھے جبکہ اہل الرائے نے فرضی مسائل میں تفریع کے ذریعے 'فقہ تقدیری' کے نام سے ایک علمی ذخیرہ اور ورثہ چھوڑا ہے۔ اہل الرائے نے جن مفروضہ مسائل میں اجتہاد کیا ہے وہ بعض اوقات تو ممکنات میں سے ہوتے ہیں اور بعض اوقات ناممکنات میں سے مثلا اگر مرد کے دودھ اتر آئے اور وہ کسی بچے کو پلا دے تو اس سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟وغیرہ ذلک۔ (الفتاوی الھندیة، کتاب الرضاع ؛ فتح القدیرشرح الھدایة، کتاب الرضاع ؛ الجوھرة النیرة،کتاب الرضاع )

    امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد اسد بن الفرات رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تحصیل علم کے لیے امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام رحمہ اللہ کے دیگر شاگرد مثلا ً ابن القاسم اور ابن وہب رحمہما اللہ انہیں اس پر اکساتے تھے کہ وہ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال در سوال کریں۔ چونکہ امام مالک رحمہ اللہ کا رعب و دبدبہ اس قدر تھا کہ پرانے شاگردوں کو ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ امام دار الہجرة رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند جانتے ہیں لہذا انہوں نے ایک نیا شاگرد ہونے کی وجہ سے اسد بن فرات رحمہ اللہ کے ذریعے امام دار الہجرة سے سوالات کروائے۔ اسد بن الفرات رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

    ڈاکٹر مصطفی السباعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے مروی ہے:

    شیخ ابو زہرہ مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    شیخ مناع القطان اور شیخ عمر سلیمان الأشقرنے بھی اس فرق کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ (تاریخ التشریع السلامی، شیخ مناع القطان،ص ٢٩١،مکتبہ وہبة، ٢٠٠١ء) (تاریخ الفقہ السلامی، الدکتور عمر سلیمان الأشقر،ص٨٢، مکتبة الفلاح، الکویت، ١٩٨٢ء)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں