1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل الحدیث اور اہل الرائے : ایک تقابلی جائزہ

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏اکتوبر 26، 2011۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 27، 2011 #11
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    تیسرا فرق
    اہل الرائے کے نزدیک ائمہ کے اجتہادات یا فقہ کو بطور قانون نافذ کیا جا سکتا ہے اور دوسرے ائمہ مجتہدین یا اہل علم یا مذاہب ومسالک کے متبعین کو بذریعہ قانون سازی ایک متعین فقہ کا پابند یا جبری مقلد بنایا جا سکتا ہے جبکہ اہل الحدیث کے نزدیک کسی امام یا فقیہ کے اجتہادات یا فقہ کا بطور قانون نفاذ درست نہیں اور اصل نفاذ کتاب وسنت کا ہو گا جبکہ عدالتوں میں موجود اہل علم قاضی اور جج براہ راست کتاب وسنت کی روشنی میں فیصلے کریں گے۔

    بعض تاریخی روایات میں ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے امام مالک رحمہ اللہ کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ 'موطأ' کو کعبہ پر لٹکاکر لوگوں کو اس پر عمل کا پابند بنا دیتے ہیں تو امام مالک رحمہ اللہ نے اس سے انکار کر دیا۔ ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اس کے برعکس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے تھی کہ کم علم رکھنے والا مجتہد زیادہ علم رکھنے والے مجتہد کے اجتہاد کا پابند ہے یعنی دوسرے الفاظ میں زیادہ علم رکھنے والا مجتہد کے اجتہادات کا کم علم رکھنے والے مجتہدین کو پابند بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں :

    فقہ حنفی کی بنیاد پر سلطنت عثمانیہ میں 'مجلة الأحکام العدلیة' کے نام سے دیوانی قانون نافذ کیا گیا۔ مصر میں بھی تقریباً ١٩٢٠ء تک حنفی قانون کے مطابق فیصلے ہوتے رہے لیکن بعد ازاں کچھ مصری سلفی اہل علم کی کاوشوں سے قانون سازی میں دوسری فقہوں سے بھی استفادہ کیا جانے لگا۔ ڈاکٹر صبحی محمصانی لکھتے ہیں :

    مفتی سید عبد القیوم جالندھری لکھتے ہیں:

    پاکستان میں بھی حنفی اہل علم فقہ حنفی کے نفاذ کو درست اور جائز سمجھتے ہیں جبکہ اہل الحدیث اس کے خلاف ہیں اور کتاب وسنت کے نفاذ کے دعویدار ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب میں چونکہ اہل الحدیث کے متبعین کا غلبہ ہے لہٰذا شروع ہی سے اسلامی قانون تحریری صورت میں نافذ نہیں رہا بلکہ قاضیوں کویہ ہدایت تھی کہ وہ پیش آنے والے مقدمات میں براہ راست قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے کریں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی لکھتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 27، 2011 #12
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    چوتھا فرق
    اہل الحدیث اجتہادات ائمہ یا فقہ کو دائمی حیثیت نہیں دیتے ہیں جبکہ اہل الرائے نے ائمہ کے اجتہادات یا فقہ کو دائمی حیثیت دی ہے اور قیامت تک کے لیے ان کی پیروی کو ایک انتظامی مسئلہ کے طور پر بطور تقلید شخصی لازم قرار دیا ہے۔ اہل الحدیث کے نزدیک دوام صرف شریوت اسلامیہ کی نصوص کو حاصل ہے اور ائمہ کے اجتہادات عارضی اور وقتی طور پر درپیش مسائل کے حل کے لیے ہوتے ہیں جیسا کہ قاضی کا اجتہاد کسی متعین مسئلہ میں وقتی طور رفع نزاع کے لیے ہوتا ہے نہ کہ قیامت تک کے قاضیوں کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے۔

    لہٰذا ہر دور میں ہر ملک کے اہل علم کتاب وسنت کی نصوص کی روشنی میں سلف صالحین کے منہج استنباط پر رہتے ہوئے اپنے اپنے فقہ الواقع کے مطابق اجتہاد کریں گے اور عوام الناس اپنے ان ممالک کے معاصر اہل علم کے اجتہادات کی اتباع کریں گے۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور ١٦٣ھ میں جب دوسری بار حج کے لیے گیا تو اس نے امام مالک رحمہ اللہ سے کہا:

    جبکہ پہلے بھی یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کم علم رکھنے والے مجتہدین زیادہ علم رکھنے والے مجتہد کی رائے کے پابند ہیں۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں:

    حنفیہ میں عملاً امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی کے فتوی پر عمل ہے اور اصحاب ابی حنیفہ رحمہ اللہ کے بعد کے دور کے حنفی اہل علم وفضل اپنے متقدمین کی تقلید سے باہر نہیں نکلتے ہیں اور ان کی تقلید کو اپنے لیے لازم قرار دیتے ہیں بلکہ بقیہ ائمہ مجتہدین کی تقلید کے بالمقابل بھی اپنے امام کی تقلید پر تاکید ، اصرار اور زیادہ زور دیتے ہیں۔ 'فتاوی عالمگیریہ' میں ہے۔

    اہل الرائے کے خاتمہ المحققین امام ابن عابدین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 27، 2011 #13
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    پانچواں فرق
    اہل الرائے قرآن کے عمومات کو قطعی الدلالة سمجھتے ہیں اور اخبار آحاد یعنی احادیث مبارکہ سے ان کی تخصیص، تقیید یا ان پر اضافے کے قائل نہیں ہیں جبکہ اہل الحدیث اخبار آحاد یعنی احادیث صحیحہ کے ذریعے کتاب اللہ کے عمومات کی تخصیص، تقیید اور اس پر اضافے کو جائز سمجھتے ہیں۔ شیخ ابو زہرہ مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    محدثین عظام نے ہم تک پہنچنے کے اعتبار سے حدیث کی دو قسمیں بیان کی ہیں ؛ ایک خبر متواتر اور دوسری اخبار آحاد۔ خبر متواتر وہ ہے جسے ایک بہت بڑی تعداد روایت کرے اور امام ابن صلاح رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی تقریباً ایک ہی مثال ملتی ہے۔ جبکہ خبر واحد وہ روایت ہے جسے ہر طبقہ میں ایک، یا دو یا تین راوی نقل کریں اور حدیث کا سارا ذخیرہ، اخبار آحاد ہی ہے لہٰذا اگر اخبار آحاد کو حدیث کا نام دیا جائے تو بالکل بجا ہے۔

    اہل الرائے کا حدیث کو عموم قرآن کی تفسیر نہ بنانا اس وجہ سے بھی تھا کہ کوفہ ا س دور میں وضع حدیث کا مرکز تھا۔ خوارج و شیعہ کا فتنہ اسی شہر سے اٹھا تھا اور ان دونوں فرقوں نے اپنے مذاہب و افکار کی تائید میں احادیث وضع کی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ عراق کے فقہائے اہل سنت نے حدیث کے قبولیت کے ایسے سخت معیارات مقرر کیے کہ جن پر بہت کم احادیث پوری اترتی تھیں۔ اتنے سخت معیارات مقرر کرنا اس دور و حالات کی ایک مجبوری بھی تھی کیونکہ احادیث نقل تو ہو رہی تھیں لیکن ان کی تحقیق کا کام ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا صحیح' ضعیف اور موضوع روایات آپس میں خلط ملط تھیں۔ اہل حجاز چونکہ اس فن کے متخصصین تھے اور انہیں عراق جیسے حالات بھی درپیش نہ تھے، لہٰذا نہوں نے اپنے مذہب کی بنیاد احادیث و آثار پر رکھی اور قرآن کی تفسیر حدیث و سنت سے کی۔ جبکہ اہل عراق نے اپنے خارجی ماحول کے اثرات کے تحت احادیث و آثار کی قبولیت میں شدت احتیاط کو اختیار کیا اور قیاس و رائے کو اپنے مذہب کی بنیاد بنایا۔ أستاذ محمد علی السایس رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    اہل الحدیث' حجاز کے علاقے میں چھائے ہوئے تھے جبکہ اہل الرائے کو عراق میں علمی غلبہ حاصل تھا۔ ڈاکٹر تاج عروسی لکھتے ہیں:

    اہل الرائے نے قرآن کے عمومات کی حدیث کے ذریعے تشریح وتوضیح کیوں نہ کی یا دوسرے الفاظ میں حدیث کو قرآن کے عموم کی تفسیر کیوں نہ مانا، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شیخ عاصم الحداد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

    لیکن شیخ عاصم الحداد رحمہ اللہ نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ متقدمین حنفیہ تو اس بارے معذور تھے اور ان کا عذر قابل قبول ہے لیکن متاخرین حنفیہ کے پاس کوئی قابل قبول عذر نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 27، 2011 #14
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    چھٹا فرق
    اہل الرائے کے نزدیک قاضی کا فیصلہ ظاہرا اور باطنا دونوں طرح سے نافذ ہوتا ہے یعنی قاضی کا فیصلہ یا اجتہاد حرام کو حلال بنا دیتا ہے جبکہ اہل الحدیث کے نزدیک قاضی کا فیصلہ ظاہرا تو نافذ ہوتا ہے لیکن باطنا نافذ نہیں ہوتا ہے۔ مثلا ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کے بارے عدالت میں یہ دعوی دائر کر دیا کہ اس سے میرا نکاح ہوا تھا اور اس نکاح کے بارے دو جھوٹے گواہ بھی پیش کر دیے۔ قاضی نے گواہوں کے بیان کا اعتبار کرتے ہوئے اس شخص کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس شخص کے لیے اس عورت سے استمتاع جائز ہے اور قاضی کے اس فیصلہ سے وہ اجنبی عورت اس شخص کے لیے حلال ہو جاتی ہے جبکہ اہل الحدیث کےنزدیک قاضی کا یہ فیصلہ ظاہرا تو نافذ ہو گا لیکن اس شخص کے لیے اس عورت سے استمتاع شرعا جائز نہیں ہے اور وہ عورت تاحال اس شخص کے لیے حرام ہے۔ اگر وہ اس سے تعلق قائم کرے گا تو زانی شمار ہو گا۔ یہ واضح رہے کہ صاحبین کا اس مسئلہ میں وہی قول ہے جو اہل الحدیث کا ہے۔ مذہب حنفی میں راجح قول تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا شمار ہوتا ہے لیکن مفتی بہ قول صاحبین کا ہے۔ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں :
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 27، 2011 #15
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ساتواں فرق
    تقلید کا معنی ''قبول قول الغیر من غیر معرفة دلیلہ'' ہے یعنی کسی کا قول اس کی دلیل جانے بغیر قبول کرنا ہے جبکہ اتباع سے مراد یہ ہے کہ کسی کے قول کی دلیل معلوم کرنے کے بعد اس کی پیروی کرنا ہے۔ پہلی صورت میں اصل اعتماد عالم دین پر ہوتا ہے لہذا اس میں مسئلہ پوچھتے وقت اس کی دلیل معلوم نہیں کی جاتی ہے جبکہ دوسری صورت میں اصل مقصود نصوص ہوتی ہیں لہذا نصوص کی اتباع کے لیے عالم دین کوایک ذریعہ اور وسیلہ بنایا جاتاہے۔

    متقدمین اہل الرائے اور اہل الحدیث کا اس پر اتفاق تھا کہ عامی کے لیے تقلید جائز نہیں ہے بلکہ وہ اہل علم کی اتباع کرے گا جبکہ متاخرین میں اس بارے اختلاف نمایاں ہے۔ متاخرین اہل لرائے کے نزدیک عامی کے لیے تقلید واجب ہے جبکہ اہل الحدیث کی اکثریت عامی کے لیے اتباع کی تو قائل ہے لیکن تقلید کو ناجائز قرار دیتی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے:
    '' لا یحل لأحد أن یأخذ بقولنا ما لم یعلم من أین أخذناہ۔''(رسم المفتی : ص ٢٩، ٣٢)
    امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے:
    '' مثل الذی یطلب العلم بلاحجة کمثل حاطب لیل یحمل حزمة حطب وفیہ أفعی تلدغہ وھو لا یدری ذکرہ البیھقی۔'' (اعلام الموقعین،جلد٢، ص٢٠٠، دار الجیل، بیروت)
    امام احمد رحمہ اللہ کے بارے مروی ہے:
    '' وقد فرق المام أحمد رحمہ اللہ بین التقلید والاتباع، فقال ابوداؤد: سمعتہ یقول الاتباع أن یتبع الرجل ما جاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعن أصحابہ ثم ھو من بعد فی التابعین مخیر وقال أیضا لاتقلدنی ولاتقلد مالکا ولا الثوری ولا الأوزاعی وخذ من حیث أخذوا۔'' (اعلام الموقعین، جلد٢، ص ٢٠١)
    امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے مروی ہے:
    '' وقال بشر بن الولید قال أبو یوسف لا یحل لأحد أن یقول مقالتنا حتی یعلم من أین قلنا۔'' (أیضا)

    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ( متوفی ٤٦٣ھ) لکھتے ہیں:
    '' وقال ابو عبداللہ بن خویز منداد البصری المالکی : التقلید معناہ فی الشرع: الرجوع الی قول لا حجة لقائلہ علیہ، وذلک ممنوع منہ فی الشریعة ، والاتباع ما ثبت علیہ حجة ۔وقال فی موضع آخر من کتابہ کل من اتبعت قولہ من غیر أن یجب علیک قولہ لدلیل یوجب ذلک، فأنت مقلدہ ،والتقلید فی دین اللہ غیر صحیح، وکل من أوجب علیک الدلیل اتباع قولہ، فأنت متبعہ والاتباع فی الدین مسوغ والتقلید ممنوع۔'' (جامع بیان العلم وفضلہ، باب فاسد التقلید ونفیہ والفرق بین التقلید والاتباع، جلد٢، ص ٢٢٠، مؤسسة الریان، دار ابن حزم)
    امام ابن حزم رحمہ اللہ(متوفی ٤٥٦ھ) فرماتے ہیں:
    '' فالقتلید کلہ حرام فی جمیع الشرائع أولھا عن آخرھا، من التوحید والنبوة والقدر والایمان والوعید والمامة والمفاضلة وجمیع العبادات والأحکام. فان قال قائل فما وجہ قولہ تعالی فاسألوا أھل الذکر ان کنتم لا تعلمون؟ قیل لہ وباللہ التوفیق انہ تعالی أمرنا أن نسأل أھل العلم عما حکم بہ اللہ تعالی فی ھذہ المسألة وماروی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیھا، ولم یأمرنا أن نسألھم عن شریعة جدیدة یحدثونھا لنا من آرائھم ، وقد بین ذلک علیہ السلام بقولہ فلیبلغ الشاھد الغائب۔'' (الاحکام فی أصول الأحکام، جلد٦، ص٢٩٥۔٢٩٦، دار الحدیث ، القاھرة)

    برصغیر پاک وہند میں معاصر جماعت اہل حدیث کے بارے یہ غلط فہمی عام پائی ہے کہ وہ عامی سے بھی اجتہاد کے متقاضی ہیں، جس کے سبب سے بعض حضرات انہیں اور متجددین کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اہل حدیث اہل علم، غیر مقلدین اور اہل حدیث میں فرق کرتے ہیں اور اسی سبب سے اپنے لیے محض غیر مقلد کی اصطلاح کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ اہل حدیث ہونے کے لیے صرف عدم تقلید لازم نہیں ہے بلکہ سلف صالحین اور خیر القرون کے اہل الحدیث سے اپنا عقیدہ وفکر، منہج استدلال وغیرہ لینا اور ان سے اتصال سند بھی لازم ہے۔ معاصر اہل حدیث اہل علم، عامة الناس کے لیے علماء کی اتباع کے وجوب کے قائل ہیں جبکہ علماء کے لیے ترجیحی اجتہاد کے قائل ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 10، 2011 #16
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    حاصل بحث
    حاصل بحث یہ ہے کہ اہل الرائے اور اہل الحدیث کی تاریخ بہت پرانی ہے اور امت مسلمہ میں اجتہاد واستنباط کے باب میں دو مستقل مناہج فکر تاحال قائم ہیں۔ آج بھی ہم ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور علامہ البانی رحمہ اللہ کے فتاوی کا ایک تقابلی مطالعہ کریں تو یہ فر ق واضح طور نظر آتا ہے کہ مقدم الذکر کے ہاں محدود نصوص نقل کرتے ہوئے تفقہ و استنباط کا پہلو غالب ہے جبکہ موخر الذکر کے ہاں کسی مسئلہ کی بنیاد عموماً احادیث وآثار کی کثرت بیان پر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس شیخ بن باز اور شیخ صالح العثیمین رحمہما اللہ کے بیان نصوص اور نکتہ رسی دونوں ہی کثرت سے موجود ہیں۔

    ہر دور میں بعض اہل علم ایسے بھی رہے ہیں کہ جنہوں نے اہل الرائے اور اہل الحدیث کے منہج کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کی شاگردی کے بعد امام محمد رحمہ اللہ سے تفقہ کی تعلیم حاصل کی اور امام محمد رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے استفادہ کے بعد حدیث وآثار کے لیے امام مالک رحمہ اللہ کی شاگردی اختیار کی۔ اگرچہ امام محمد رحمہ اللہ سے استفادہ کے باوجود امام شافعی رحمہ اللہ پر اہل الحدیث کا منہج غالب رہا اور امام مالک رحمہ اللہ سے کسب فیض کے بعد بھی امام محمد رحمہ اللہ پر اہل الرائے کا منہج چھایا رہا۔

    ہماری رائے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان دونوں مناہج کو کمال درجے میں جمع کیا ہے کہ جس کا شاہکار 'مجموع الفتاوی' ہے۔ امام صاحب ایک طرف تو اہل الحدیث کے منہج پر چلتے ہوئے حدیث وسنت کے بالمقابل کسی امام کی تقلید کو حرا م قرار دیا تو دوسری طرف اہل الرائے کے منہج پر بڑھتے ہوئے قیاس وعلت کے باب میں حکمت کا تصور دے کر قیاس کو جمود سے نکال کر ہر زمانہ کے لیے ایک حرکی تصور بنا دیا۔ ایسے فقہا کہ جنہوں نے ان دونوں مناہج کو جمع کیا ہو، انہیں شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے 'فقہائے محدثین' کا لقب دیا ہے اور اپنی تحریروں میں ان کی اتباع کا مشورہ دیا ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اہل الحدیث کے منہج میں تشدد کی وجہ سے اگر امام داود اور امام ابن حزم ظاہری رحمہا اللہ وغیرہ کی صورت میں ظاہریت نے جنم لیا تو اہل الرائے کے منہج میں غلو نے تقلیدی جمود کو فروغ دیا۔ اہل الحدیث اپنے فتاوی کو ظاہریت کے اثرات سے اسی صورت خالی کر سکتے ہیں کہ جب وہ اہل الرائے جیسی نکتہ رسی کے قائل ہوں اور اہل الرائے اپنے آپ کو اسی صورت تقلیدی جمود سے نکال سکتے ہیں جبکہ وہ اہل الحدیث کی طرح حدیث وسنت میں مہارت پیدا کریں اور اپنے ائمہ کے اجتہادات کو عارضی حیثیت دیتے ہوئے ان کے منہج پر ہر دور میں اپنے علم وفضل کی روشنی میں عوام الناس کی قدیم وجدید مسائل میں رہنمائی کرتے رہیں۔

    معاملات کے باب میں فقہ اسلامی کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ اس میں فتاوی تو نقل ہو گئے ہیں لیکن وہ فقہ الواقع نقل نہیں ہوا کہ جس واقعہ یا حادثہ یا وقوعہ کے بارے کسی امام نے اپنی رائے دی تھی لہٰذا امام کا جواب تو فقہ کی کتب میں منقول ہے لیکن سوال منقول نہیں ہے۔ ایسے حالات میں اس امر کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس قسم کی کمیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے اہل الرائے اور اہل الحدیث کے علمی و فقہی ذخیرہ کا ایک تقابلی موازنہ کرتے ہوئے ان میں راجح و مرجوح اقوال کا تعین کیا جائے۔ یعنی جس طرح فقہ حنفی میں ایک ہی فقہ میں مروی مختلف اقوال میں جمع وترجیح قائم کرنے کے لیے 'اصحاب ترجیح' ہوتے ہیں تو اسی طرح اہل الحدیث اور اہل الرائے سے مروی فقہی اقوال میں بھی جمع و ترجیح قائم کرنے کے لیے دونوں مناہج اجتہاد سے متعلق معتدل اہل علم پر مشتمل فقہی اکیڈمیاں ہونی چاہئیں جو ظاہریت اور فقہی جمود کے مابین مسلک اعتدال کی نمائندہ بن سکتی ہیں ۔

    نوٹ : اس مضمون کا پہلا حصہ یہاں مکمل ہو گیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں