1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل ایمان کا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک اور پروپیگنڈا بطور ہتھیار استعمال کرنا تفسیر السراج۔ پارہ:5

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏اکتوبر 23، 2013۔

  1. ‏اکتوبر 23، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ۝۰ۭ وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ۝۰ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا۝۸۳ فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۚ عَسَى اللہُ اَنْ يَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۭ وَاللہُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّاَشَدُّ تَنْكِيْلًا۝۸۴
    پر و پیگنڈا

    ۱؎ منافقین پر وپیگنڈہ کی مؤثر یت سے خوب واقف تھے۔ جب کبھی کوئی بات ان کے ہاتھ لگتی، خوب پھیلاتے۔ وہ جانتے تھے کہ نشر واشاعت کا یہ طریق نہایت کارگر ہے ۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے اثرات سے اہل ایمان کو آگاہ کیا ہے ۔ فرمایا۔ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لاَ تَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلاَّ قَلِیْلاً۔یعنی اگر خدا کی رحمتیں مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتیں تو وہ بجز چند سمجھ دار انسانوں کے ضرورگمراہ ہوجاتے۔

    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اکاذیب اراجیف کی اشاعت یکسرشیطانی فعل ہے ۔ اسلامی طریق اشاعت ( مروجہ) پروپیگنڈا سے بالکل مختلف ہے ۔ یہی وجہ ہے ، عربی میں کوئی لفظ پر وپیگنڈا کا مترادف نہیں، حالانکہ اس کی وسعت دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔
    حل لغات

    {حَرِّضْ} مصدر {تحریض} آمادہ کرنا۔ اُبھارنا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 23، 2013 #2
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    نبی ملاحم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی پہلی ‘‘پروپیگنڈا جنگ’’ لڑی ہے۔ کیا کوئی بھائی اس جنگ کا نام بتا سکتا ہے؟
     
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 25، 2013 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ،
    جزاک اللہ خیرا
    آصف بھائی آپ ہی بتا دیجیئے۔
    کیا غزوہ بدر یا غزوہ احد ہے؟؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 25، 2013 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏اکتوبر 28، 2013 #5
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    یہ وہ جنگ تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ‘‘فتح مبین’’ قرار دیا تھا۔

    مشرکین مکہ اپنے تئیں عزت و تکریم کا دعویٰ کرتے تھے، حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کو آباد کرنا، نیز حج و عمرہ کے لئے انتظامات، اُن عزت و تکریم کے لئے بنیاد فراہم کرتے تھے۔ جاہلانہ رسم و رواج میں وہ اپنے آپ کو بہت بڑا مہمان نواز سمجھتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔
    ان حالات میں جبکہ مشرکین مکہ کی طرف سے مسلط کی گئی پے در پے کئی جنگوں میں خود انہیں انتہائی بری ہزیمت و شکست بھی اٹھانی پڑی، اپنے بڑے بڑے سورمے بھی انہیں جنگوں کی نذر کر چکے تھے، وہ یہ کیسے گوارا کر سکتے تھے کہ ان کے ازلی و ابدی دشمن (اہل ایمان) بزعم خود اُن کے گھر (مکہ) آئیں اور بحفاظت سعادت عمرہ حاصل کر جائیں۔
    چنانچہ
    اگر مشرکین مکہ
    اہل ایمان کو
    مناسک عمرہ سے روکیں گے
    تو
    پورے عرب (بعد ازاں دنیا ) میں مشہور ہو جائے گا کہ
    اہل مکہ نے حاجیوں کو ادائیگی مناسک سے روک دیا۔
    چنانچہ
    یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ نے مدینہ سے کوچ کرتے وقت ہی
    ادائیگی عمرہ کی پکار لگائی۔
    آپ ﷺ اور اصحاب النبی ﷺ عمرہ تو ادا نہ کر سکے
    لیکن
    مشرکین (اہل مکہ) کی جھوٹی عزت و تکریم
    اور مسجد حرام کی آبادی کاری و حاجیوں کی مہمان نوازی کے
    جھوٹے دعوؤں کو
    بغیر کسی خونی لڑائی کے ہی
    ایک ہی جنبش میں ختم کر ڈالا
    چنانچہ
    یہی پروپیگنڈا کی جنگ تھی
    اور
    یہی فتح مبین
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 30، 2013 #6
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    سبحان اللہ العظیم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں