1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

اہل بدعت کی اس غلط تأویل کا جواب مطلوب ہے؟

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ ابن آدم, ‏نومبر 12، 2017۔

  1. ‏نومبر 12، 2017 #1
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اہل علم سے گزارش ہے کہ مبتدعین کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختار کل اور علم الغیب اور نبی علیہ السلام کے فرشتہ یا نور نہ ہونے پر آیات پیش کی جاتی ہیں جیسا کہ (سورہ الانعام: ۵۰) اور (الاعراف: ۱۱۸) میں آیات آتی ہیں تو ان کی طرف سے یہ دو جواب آتے ہیں
    B پہلا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسابطورِ تواضع کہا جیسے مال ودولت والا کوئی امیر شخص اپنے سے کم درجہ لوگوں کو یوں کہے کہ میں بھی آپ جیسا ہی ہوں ، آپ ہی کی طرح کھاتا پیتا اور پہنتا ہوں، جبکہ اس کا لائف آف سٹینڈرڈ (یعنی اس کا کھانا پینا اور پہننا ) ان سے یکسر مختلف ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے بھی اپنے پیارے حبیب نبی مکرمﷺ سے ایسا بطورِ عاجزی کے کہلوایا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ...
    C دوسرا یہ کہ نبیﷺ کے مختار کل، عالم الغیب اور نور کی نفی والی آیات کا یہ لوگ یہ جواب دیتے ہیں کہ نفی والی آیات کو ذاتی پر محمول کیا جائے گا یعنی کہ نہ تو ذاتی طور پر آپ خزانوں کے مالک ہیں اور نہ ہی ذاتی طور (یعنی خود بخود) آپ کو علم غیب ہو جاتا ہے بلکہ آپ اللہ کی عطاء سے سب کو دیتے ہیں اور اللہ ہی کی عطاء سے آپ کو بہت سارا علم غیب عطاء ہوا ہے...
     
  2. ‏نومبر 12، 2017 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,921
    موصول شکریہ جات:
    2,538
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    پہلے تو ان کی اس مثال پر عرض ہے کہ جناب! یہ مال ودولت والا امیر شخص کیا مال ودولت کے سبب انسان نہیں رہتا؟ بھئی انسان تو وہ رہتا ہے، اور انسان ہونے میں وہ مسکین کی طرح انسان ہی ہے!
    ہاں اس کے اوصاف میں فرق ہے! جیسا کہ یہاں مثال میں اس کے لائف آف اسٹینڈرڈ (یعنی اس کا کھنا پینا اور پہننا) مسکین انسانوں سے مختلف بتلایا ہے۔
    تو کیا اس فرق کی کے سبب اس مال ودولت والے امیر شخص کو انسان نہیں سمجھا اور کہا جائے گا؟ اور وہ کوئی غیر انسانی مخلوق بن جاتا ہے؟
    یہ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عاجزی حقیقت کے برعکس بات کہنے کا حکم دیا ہے؟
    یعنی کہ حکم تو اللہ نے دیا کہ کہو دو کہ بشر ہو، انسان ہو لیکن حقیقت میں اس کے برعکس ہے یعنی انسان وبشر نہیں؟
    آخیر یہ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے پیکر کو اپنی حقیقت کے برعکس بتلانے حکم دے رہا ہے؟
    اور یاد رہے یہ مذکورہ عاجزی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ کے سامنے نہیں بلکہ انسانوں کے سامنے ہے!
    اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے اسے دیکھیں:

    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَة رَبِّهِ أَحَدًا (سورة الكهف 110)
    کہہ دو کہ میں بھی تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پھر جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھے تو اسے چاہیئے کہ اچھے کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے ۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)
    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (سورة فصلت 06)
    آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بھی تم جیسا ایک آدمی ہوں میری طرف یہی حکم آتا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے پھراس کی طرف سیدھے چلے جاؤ اور اس سے معافی مانگو اور مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)
    یہاں دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ وہ انسان ہیں، جیسے کہ یہ لوگ انسان ہیں!
    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین و کفار بھی انسان ہی سمجھتے تھے، مگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وصف سے انکاری تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی ہے،
    لہٰذا آگے اس وصف کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی ہے!
    اور یہ اصل مدعا کہ یہاں مشرکین و کفار کے اس اعتراض کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے انکاری تھے کہ اور کہتےتھے کہ یہ بھی تو ہماری طرح انسان ہے!

    لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ (سورة الأنبياء 03)
    ان کے دل کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری طرح ایک انسان ہی تو ہے پھر کیا تم دیدہ دانستہ جادو کی باتیں سنتے جاتے ہو۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)
    اس اعتراض کا جواب یہاں دیا گیا ہے،
    کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انسان و بشر ہونے کا اثبات کیا ہے، اور بتلایا ہے کہ انسان تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے انسانوں کی طرح ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف یہ ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے!
    میں وہی مثال پیش کرتا ہوں کہ جس طرح امیر انسان صاحب مال ودولت ہونے کو باوجود انسان ہی ہوتا ہے، اسی طرح نبی صاحب وحی ہونے کو باوجود انسان ہی ہوتاہے۔

    صاحب کا مدعا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب تھا، مگر ذاتی نہیں تھا عطائی تھا!
    قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (سورة الأعراف 188)
    کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو الله چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)
    تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں، (ترجمہ احمد رضا خان بریلوی)
    تو جناب ذاتی ہو یا عطائی ہو علم غیب کے سبب علم تو حاصل ہوتا ہی ہے ! لیکن یہاں قرآن میں اللہ تعالی خود نبی کو حکم دیتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ دی کہ اگرنبی صلی اللہ علیہ کو علم غیب ہوتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتے اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچتی!
    اب یہ امر ذاتی علم غیب کا محتاج نہیں، یہ تو عطائی سے بھی حاصل ہو جاتا ہے، لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہاں اپنے علم غیب کی نفی کرنے پر اس اضافی دلیل و وضاحت کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں، نہ ذاتی نہ عطائی!
     
    Last edited: ‏جنوری 13، 2018 at 2:40 AM
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 13، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,896
    موصول شکریہ جات:
    2,070
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس کا بنیادی اور اہم جواب یہ ہے کہ :
    جس طرح
    نبیﷺ کے مختار کل، عالم الغیب اور نور کی نفی والی آیات واضح الفاظ میں موجود ہیں ،
    اسی طرح ان صفات کے عطائی ہونے کی واضح آیات پیش کی جائیں ، جن سے یہ ثابت ہو کہ اللہ رب العزت نے علم غیب ، اور تمام امور میں تصرف کا اختیار نبی کریم ﷺ
    کو عطا فرمادیا ہے !
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مثلاً قرآن مجید میں سیدہ مریم کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کے متعلق بتایا گیا کہ :
    ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
    (44)
    ترجمہ :
    یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں، تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ وه اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا۔ (44)
    یعنی : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟ تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟
    یہاں سیدہ مریم علیہا السلام کی کفالت کے متعلق قرعہ اندازی کے موقع پر ہمارے پیارے نبی ﷺ کی موجودگی کی نفی کی گئی ہے ،
    اب اس نفی کو کسی اور معنی پر محمول کرنے کیلئے ۔۔۔ ایسی ہی ایک آیت۔۔۔ یا صحیح ،صریح حدیث پیش کردی جائے جس سے ثابت ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ
    وہاں موجود تھے ،
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 13، 2017 #4
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!
    جی ابن داؤد بھائی ! ان کا کہنا ہے کہ ہم بشریت نبوی کے انکاری نہیں بلکہ اسے کفر سمجھتے ہیں۔ مزید اپنے الفاظ میں کچھ کہنے کی بجائے فیس بک کے مشہور بریلوی عالم ڈاکٹر فیض احمد چشتی صاحب کی کچھ تحریرات کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
    کیا نبی کریم ﷺ ہمارے جیسے بشر ہیں ؟

    سب سے اول بات تو یہ ہے کہ انبیائے کرام بشر ہیں اور یہ قرآن سے ثابت ہے اور اس کا مطلقاً انکار کرنا کفر ہے، اہل سنت کا مشہور فقہی انسائیکلوپیڈیا بہار شریعت جلد اول حصہ اول عقائد متعلقہ نبوت میں پہلا عقیدہ ہی یہ لکھا ہے کہ نبی اس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ عزوجل نے ہدایت کے لئے وحی بھیجی ہو۔
    اور اسی عبارت کے نیچے دوسرا عقیدہ یہ لکھا ہے کہ انبیا علیہم السلام سب بشر تھے اور مرد ، نہ کوئی جن نبی ہوا اور نہ عورت۔
    انبیا کرام بشر ہیں اس سے کون انکار کرتا ہے جب کہ یہ تو قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ حضور کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں یا خود کو حضور جیسا بشر، اگر تو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں تو جو خصوصیات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوئیں وہ کسی دوسرے نبی کو نہ حاصل ہو سکیں تو ان کو کیسے حاصل ہو جائیں گی اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں تو سوائے رب تعالیٰ کی نعمتوں سے حسد کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا کیونکہ رب تعالیٰ تو ہر لمحہ ہر آن اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درجات کو بلندی عطا فرماتا ہے جس کا ثبوت قرآن پاک کی بیشتر آیات میں ہے جیسے و رفعنا لک ذکرک اے محبوب ہم نے آپ کے ذکر کو آپ کے لئے بلند فرما دیا۔
    اہل سنت کا نظریہ کہ انبیا ءکرام علیہم السلام بشر ہیں لیکن ہم جیسے نہیں وہ بے مثل ہیں، مخلوق میں سے کوئی بھی ان کے ہم پلہ نہیں۔اس کی مثال آپ یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ماں کو باپ کی بیوی یا باپ کو ماں کا خصم یا شوہرکہے تو اگر چہ یہ بات سچی ہے مگر بے ادب و گستاخ کہا جائے گا ۔اسی طرح آقائے دو جہاںﷺ کی عظمت والے القاب کے ہوتے ہوئے محض بشر یا بھائی کہنے والوں کو یقیناً بے ادب و گستاخ کہا جائے گا اور نبی کو بشر کہنا مؤمنین کا طریقہ ہر گز نہیں رہا ہے بلکہ کفار کا طریقہ رہا ہے۔
    دیکھئے سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 32 کا یہ حصہ ملاحظہ فرمائیں .
    یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ
    اے نبی کی بیبیوں تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔
    قارئین کرام غور فرمائیں کہ وہ عورتیں جن کو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت زوجیت حاصل ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ارشاد فرما دیا کہ تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو ،جب رب تعالیٰ نے ان عورتوں کو نسبت رسول کی وجہ سے دیگر عورتوں سے ممتاز فرما دیا تو اور کسی کی کیا جرأت کہ وہ خود کو حضور کی مثل کہے یا حضور کو اپنی مثل کہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ
    مزید اس ضمن میں احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں
    انی لست کاحدکم انی ابیت عند ربی فیطعمنی و یسقینی
    بے شک میں تم میں سے کسی کی مثل نہیں ہوں میں اپنے رب کے ہاں رات گزارتا ہوں پس وہی مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی۔
    امام بخاری نے اپنی صحیح جلد 4 صفحہ 118،123،134 میں ان الفاط کے ساتھ روایت کیا ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صوم وصال رکھنے سے منع فرمایا تو ایک مسلمان نے عرض کی بلاشبہ آپ تو صوم وصال رکھتے ہیں ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
    ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی و یسقینی
    تم میں سے کون ہے میری مثل میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی۔
    حوالہ کے لئے دیکھیں
    مسند الامام احمد جلد 2 صفحہ 21، 102، 231 اور الجامع الصغیر جلد 1 صفحہ 115 الموطا للامام مالک جلد 1 صفحہ 130 اور سنن الدارمی جلد 1 صفحہ 304 اور جامع الترمذی جلد 1 صفحہ 163 اور سنن ابی داود جلد 2 صفحہ 279 اور صحیح مسلم جلد 3 صفحہ 134
    اور ایک روایت صحاح ستہ میں سے تین کتابوں میں پائی جاتی ہے
    ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی و یسقین
    تم میں میرا مثل کون ہے میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (بخاری شریف کے علاوہ مسلم شریف کے صفحہ 351 اور ابوداؤد صفحہ 335 پر بھی موجود ہے)
    بخاری شریف کی ایک روایت یوں ہے: حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دیتے تو ایسے اعمال و افعال بتاتے جو وہ بآسانی کر سکتے تھے یہاں پر صحابہ کرام عرض کرتے : انا لسنا کھیئتک یا رسول اللہ
    آقا صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم آپ کی مثل تو نہیں ہیں۔
    یہ بات انتہائی باعث عار اور گستاخی و بے ادبی کی علت ہے کہ ایک اُمتی اپنی ذات سے بڑھ کر اپنے بے مثال نبی کی مثل ہونے کا دعویٰ کرے۔
    ان ارشادات عالیہ سے یہ بات واضح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی بشریت کے متعلق تمام اشکالات ختم فرما دئے اور یہ بھی یاد رہے کہ ایکم مثلی کے مخاطب صحابہ کرام ہیں جب اتنی برگزیدہ ہستیاں آپ کی مثل نہیں تو کسی اور کو اس دعوی کی کیا مجال ہو سکتی ہے۔ قرآن وحدیث سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں نے کبھی کسی نبی کو اپنے جیسا بشر کہا ہو۔ ہم مسلمان ہیں لہٰذا ہمیں بھی سرکار کا ادب و احترام کرنا چاہیے۔ اس میں قصور جہالت کا ہے یا ان متعصب لوگوں کا جو ادب و احترام سے ہٹ کر نبی کو اپنے جیسا بشر کی رٹ لگائے رکھتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی سازش و اتباع میں ایسا ہو رہا ہے تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و محبت ختم ہو جائے۔ اس کی نشاندہی علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔
    وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
    روح محمد(ﷺ) اس کے بدن سے نکال دو
     
  5. ‏نومبر 13، 2017 #5
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    981
    موصول شکریہ جات:
    301
    تمغے کے پوائنٹ:
    123

    طبقۂ خاص کے پاس قرآن مجید کی آیات کی ” رکیک تاویلات“ کے علاوہ اور کوئی چیز بطورِ ثبوت نہیں ہے ۔ وہ خالق اور مخلوق میں فرق کو عمداً جاننا نہیں چاہتے ۔طبقۂ خاص قرآن مجید سے ہدایت نہیں بلکہ الٹا اس کو ہدایت دینے بیٹھ جاتے ہیں۔
     
  6. ‏دسمبر 24، 2017 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,921
    موصول شکریہ جات:
    2,538
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَة رَبِّهِ أَحَدًا (سورة الكهف 110)
    کہہ دو کہ میں بھی تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پھر جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھے تو اسے چاہیئے کہ اچھے کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے ۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)
    تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے (ترجمہ احمد رضا خان)

    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (سورة فصلت 06)
    آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بھی تم جیسا ایک آدمی ہوں میری طرف یہی حکم آتا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے پھراس کی طرف سیدھے چلے جاؤ اور اس سے معافی مانگو اور مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے۔ (ترجمہ احمد علی لاہوری)
    تم فرماؤ آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور خرابی ہے شرک والوں کو، (ترجمہ احمد رضا خان)
    یہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کا اثبا ت کیا گیا ہے، اور بشر کی کی نفی کو کفر کہا ہے! اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف عالیہ کا بیان ہے!
    بلکل درست ہم بھی اس کے قائل ہیں!
    مگر آگے خود اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنے پر گستاخی کا فتوی داغ دیا گیا ہے:


    مثال تو یہاں بلکل غلط ہے، کہ مثال دی گئی ہے کہ بات سچی ہے، جبکہ جس کے لئے مثال دی گئی ہے وہاں تو انکار ہے!
    یہاں صاحب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر مانتے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ ہم جیسے نہیں وہ بے مثل ہیں!
    جبکہ قرآن خود یہ مثال بیان کر رہا ہے!
    اور یہ بات تو ان کے امام احمد رضا خان نے بھی قرآن کے ترجمہ میں ایک جگہ کی ہے، (جبکہ دوسری جگہ تحریف سے کام لیا ہے)

    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (سورة فصلت 06)
    تم فرماؤ آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور خرابی ہے شرک والوں کو، (ترجمہ احمد رضا خان)
    اب یہ تو احمد رضا خان نے خود قرآن کے ترجمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کے جیسا آدمی کہتے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشر ہونے کے لئے مثال کا اثبات کیا ہے!
    اور یہ درست ہے، قرآن میں کے الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے میں مثل پر قطعی نص ہے!
    اب یہ صاحب کیا احمد رضا خان بریلوی کو گستاخ قرار دیں گے؟
    ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ محض بشر سمجھتے ہیں نہ کہتے ہیں، بلکہ ہم انہیں وہ بشر سمجھنے ہیں جو نبی ہیں اور جس پر وحی آتی ہے!
    ابھی انہوں نے اوپر یہ عقیدہ بیان کیا :
    یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے یا کفار کا؟
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار بشر مانتے ، کہتے ہوئے ان پر وحی کے منکر تھے، جبکہ قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہا اور اور ان پر وحی کا بھی اثبات کیا!
    لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنا قرآن کا حکم ہے، جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیا ہے!
    اب کوئی منچلا آکر اللہ اور اس کے رسول پر بھی گستاخی کا حکم نہ لگا دے!
    لیکن ان صاحب کا احمد رضا خان بریلوی کے متعلق کیا خیال ہے:
    اور یہ بات تو ان کے امام احمد رضا خان نے بھی قرآن کے ترجمہ میں ایک جگہ کی ہے، (جبکہ دوسری جگہ تحریف سے کام لیا ہے)

    قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (سورة فصلت 06)
    تم فرماؤ آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور خرابی ہے شرک والوں کو، (ترجمہ احمد رضا خان)
    اب یہ تو احمد رضا خان نے خود قرآن کے ترجمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسروں کے جیسا آدمی کہتے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشر ہونے کے لئے مثال کا اثبات کیا ہے!

    تو کیا یہاں یہ صاحب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو بھی نوری مخلوق ثابت کرنا چاہتے ہیں؟
    یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لئے احکام واوصاف خصوصیہ کی بات ہے، کہ وہ ان احکام و اوصاف خصوصیہ میں اور عورتوں کی طرح نہیں! وگرنہ بشر ہونے میں وہ بالکل اور عورتوں کی طرح ہیں!
    یہ تمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و اوصاف خصوصیہ کے متعلق ہے، وگرنہ بشر و انسان ہونے میں تو اللہ تعالیٰ نے خود دوسروں کی مثل قرار دیا ہے! اور یہ مثل احمد رضا خان نے بھی ترجمہ قرآ ن میں کی ہے!
    انتہائی باعث عار بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بشر ہونے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے بشر و انسان کی مثل قرار دے دے، اور یہ صاحب اس مسئلہ میں قرآن کا انکار کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل قررار دیں!
    اور بشر ہونے میں نبی صلی اللہ علیہ کی مثل کسی اور بشر سے بیان کرنا، گستاخی ہے ، تو احمد رضا خان بریلوی کو گستاخ قرار دو!
    دعوی ہے کہ قرآن وحدیث سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں نے کبھی کسی نبی کو اپنے جیسا بشر کہا ہو!
    قرآن اللہ کا کلام ہے، اور اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنے آپ کو دوسروں کی مثل بشر ہونے کہنے کا حکم دیا ہے!
    اب آپ معاذ اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمان نہ سمجھتے ہوں ، تو الگ بات ہے!
    بلکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام لازم ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی اٹکل کی بنا پر قرآن و حدیث کے واضح احکام کا اانکار کرتے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ کو بشر ہونے میں دیگر بشر کی جیسا نہ مانا جائے!
    احمد رضا خان نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر بشر جیسا بشر لکھا ہے!
    اس شعر کے تساہل کو نظر انداز کرتے ہوئے عرض ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہے!

     
    Last edited: ‏دسمبر 24، 2017
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 24، 2017 #7
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,282
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    صوم و وصال پر آپﷺ کا عمل لیکن صحابہ کرام کو ممانعت
    صوم و صال کے بارے میں تین قول
    زاد المعاد جلد ۱ ۴۵۲۔۴۵۶
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں