1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بیت سے مراد کون ہیں؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جولائی 25، 2019۔

  1. ‏جولائی 25، 2019 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,340
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اہل بیت سے مراد کون ہیں؟

    نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد آپ کے وہ رشتہ دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ یعنی آپ کی ازواج مطہرات اور اولاد نیز عبدالمطلب کی نسل میں سے ہر مسلمان مرد و عورت جنھیں بنو ہاشم کہا جاتا ہے۔ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ولد هاشم بن عبد مناف: شيبة، وهو عبد المطلب، وفيه العمود والشرف، ولم يبق لهاشم عقب إلا من عبد المطلب فقط
    ”ہاشم بن عبد مناف کے گھر شیبہ پیدا ہوئے جنہیں عبد المطلب کہا جانے لگا۔ ہاشم کے شرف و مرتبہ کے وہی وارث ہوئے اور ان کے علاوہ کسی اور بیٹے سے ہاشم کی نسل نہیں چلی۔“
    (جمھرۃ انساب العرب: 14)

    اور عبد المطلب کی نسل کے بارے میں علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کی کتاب جمھرۃ انساب العرب: 14-15، ابن قدامہ رحمہ اللہ کی کتاب التبیین فی انساب القرشیین: 76، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی منہاج السنۃ: 7/304-305 اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی فتح الباری: 7/78-79 کا مطالعہ کیا جائے۔
    اس بات کی دلیل کہ ”آپ کے چاچاؤں کی نسل بھی اہل بیت میں داخل ہے“ صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جو عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ درخواست لے کر حاضر ہوئے کہ آپ ہمیں صدقہ کی وصولی پر مقرر فرما دیں تاکہ ہم اس کام کی تنخواہ سے اپنی شادی کا سامان کر سکیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
    إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ
    ”آل محمد ﷺ کے لئے صدقہ حلال نہیں، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے۔“
    (صحیح مسلم: 1072)

    پھر آپ نے خمس کے مال سے ان کی شادی کرنے کا حکم دیا۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ جیسے بعض اہل علم نے صدقہ کی حرمت کے مسئلہ میں بنو ہاشم کے ساتھ بنو مطلب بن عبد مناف کو بھی شامل کیا ہے۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے خمس کے خمس سے ان کو بھی حصہ دیا تھا جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ ”نبی کریم ﷺ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو خمس سے حصہ دیا لیکن عبد شمس اور نوفل کی اولاد کو کچھ نہ دیا۔ (حالانکہ ہاشم، مطلب، عبد شمس اور نوفل آپس میں بھائی ہیں) اور وجہ یہ بتائی کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔“
    (صحیح بخاری: 3140)

    آپ کی ازواج مطہرات کے اہل بیت میں سے ہونے کی دلیل اللہ ﷻ کا یہ فرمان ہے:
    وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا[33] وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا[34]
    ”اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔ اللہ ﷻ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے۔ [33] اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ ﷻ لطف کرنے واﻻ خبردار ہے۔ [34]“
    (سورۃ الاحزاب: 33-34)

    یہ آیت مبارکہ قطعی طور پر دلالت کرتی ہے کہ ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل ہیں کیونکہ اس سے ما قبل و ما بعد کی آیات میں انہیں سے خطاب ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث کو اس کے منافی خیال نہ کیا جائے جو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
    خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً، وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
    ”رسول اللہ ﷺ صبح کو نکلے اور آپ ﷺ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر حسین رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کو بھی انہیں کے ساتھ شامل کر لیا پھر علی رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ ”اللہ ﷻ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو۔‘‘ (الاحزاب: 33)۔
    (صحیح مسلم: 2424)

    کیونکہ اس آیت میں صراحتاً خطاب ازواج مطہرات کو ہے لہذا وہ تو قطعا داخل ہیں، البتہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی ان کے ساتھ اہل بیت میں داخل ہیں، اس حدیث میں ان چار حضرات کے ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے رشتہ دار اہل بیت میں داخل نہیں بلکہ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں آپ کے گہرے رشتے دار ہیں۔ اس کی ایک اور مثال آپ ملاحظہ کرنا چاہیں تو وہ یوں ہے:
    لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ
    ”وہ مسجد جس کی بنیاد ابتدا ہی سے تقویٰ اور خلوص پر رکھی گئی۔“
    (سورۃ التوبۃ: 108)

    یہ فرمان الہی مسجد قبا کے بارے میں ہے۔ جبکہ صحیح مسلم کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد سے مراد مسجد نبوی ہے۔ (صحیح مسلم: 1398) گویا دونوں مسجدیں اس فرمان کے مصداق ہیں۔ کیونکہ دونوں کی بنیاد نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ مثال اپنے رسالہ میں ذکر فرمائی ہے۔ (فضل اھل البیت و حقوقھم: 20-21) آپ کی ازواج مطہرات لفظ ”آل“ کے تحت داخل ہیں کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
    أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ
    ”صدقہ (و زکوۃ) آل محمد کے لئے حلال نہیں۔“
    (مسند احمد: 7758)

    اس لئے ان کو خمس سے حصہ دیا جاتا تھا۔ نیز مسند ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے:
    أَنَّ خَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ بَعَثَ إلَى عَائِشَةَ بِبَقَرَةٍ مِنْ الصَّدَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَقَالَتْ إنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ
    ”خالد بن سعید نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر صدقہ کی ایک گائے بھیج دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے واپس لوٹایا اور فرمایا: ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں۔“
    (المصنف لابن ابی شیبۃ: 10708)

    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اس مسلک کے قائلین کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ”یہ لوگ کہتے ہیں کہ بیویاں بھی آل میں داخل ہوتی ہیں خصوصا ازواج مطہرات آل محمد (ﷺ) میں داخل ہیں، کیونکہ زوجیت والا رشتہ بھی تو نسب جیسا ہے۔ ازواج مطہرات کا رشتہ نبی اکرم ﷺ سے منقطع نہیں ہوا تبھی تو وہ آپ کی زندگی میں آپ کی وفات کے بعد بھی دوسرے مردوں پر حرام ہیں۔ وہ دنیا میں بھی آپ کی بیویاں ہیں اور آخرت میں بھی آپ کی بیویاں ہوں گی۔ لہذا ان کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ رشتہ نسب کی طرح قائم و دائم ہے۔ آپ نے درود میں ان کو صراحتاً شامل فرمایا ہے، اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ صدقہ ازواج مطہرات پر بھی حرام ہے کیونکہ یہ لوگوں کی میل کچیل ہے اور اللہ ﷻ نے آپ کی ذات اور آپ کی آل کو انسانوں کی اس میل کچیل سے بچا کر رکھا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ پھر تعجب کی بات ہے کہ اگر ازواج مطہرات آپ کے مندرجہ ذیل فرامین میں داخل ہیں:
    اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
    ”اے اللہ علی محمد ﷺ کو صرف ضرورت کی حد تک رزق دے۔“
    (صحیح مسلم: 1055)

    عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
    مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِالله
    ”آل رسول ﷺ کبھی پے در پے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھا سکے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اللہ سے جا ملے۔“
    (صحیح بخاری: 6687، صحیح مسلم: 2970)

    اسی طرح ازواج مطہرات درود میں بھی داخل ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ وہ آپ کے اس فرمان میں داخل نہیں؟
    أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ
    ”صدقہ (و زکوۃ) آل محمد کے لئے حلال نہیں۔“
    (مسند احمد: 7758)

    حالانکہ صدقہ لوگوں کی میل کچیل ہے۔ ازواج مطہرات کو تو اس سے بچانے اور دور رکھنے کی بہت ضرورت تھی۔

    شبہ: اگر کہا جائے کہ اگر صدقہ ازواج مطہرات پر حرام ہوتا تو ان کے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی حرام ہونا چاہئے تھا جس طرح بنو ہاشم کے غلاموں اور لونڈیوں پر تھا، حالانکہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کا گوشت بھیجا گیا اور انہوں نے کھایا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں منع نہیں کیا، جبکہ بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لانڈی تھیں۔
    جواب: درحقیقت اسی بات سے ان لوگوں کو اشتباہ ہوا جنہوں نے ازواج مطہرات کے لئے صدقے کا استعمال جائز کہا ہے۔ اس اشتباہ کا جواب یہ ہے کہ ازواج مطہرات پر صدقے کی حرمت ذاتی نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی وجہ سے ہے ورنہ آپ کے ساتھ نکاح سے پہلے ان پر صدقہ حرام نہیں تھا، اس لئے یہ حرمت ان کے غلاموں پر لاگو نہ ہوگی۔ جبکہ بنو ہاشم پر صدقے کی حرمت ذاتی ہے اس لئے یہ ان کے غلاموں پر بھی لاگو ہوگی۔
    اس بحث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل ہیں، کیونکہ اہل بیت والی آیت سے ما قبل چند آیات اور بعد والی آیت میں خطاب ازواج مطہرات سے ہے لہذا ان کو اہل بیت سے نکالنا ممکن نہیں۔
    (جلاء الافہام: 113-114)

    بنو ہاشم کے غلاموں پر صدقے کی حرمت کی دلیل یہ حدیث ہے:
    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي؛ فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا. قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ. فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ
    ”نبی اکرم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا، اس نے ابو رافع سے کہا: میرے ساتھ چلو اس میں سے کچھ تمہیں بھی مل جائے گا، انہوں نے کہا: میں رسول ﷺ کے پاس جا کر پوچھ لوں، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: قوم کا غلام انہیں میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لئے صدقہ لینا حلال نہیں۔“
    (سنن ابی داؤد: 1650، سنن الترمذی: 657)

    کتاب: اہل سنت کے نزدیک اہل بیت کا مقام و مرتبہ (13-19)۔ مؤلفہ: دکتور عبد المحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ۔ مترجم: شیخ الحدیث حافظ محمد امین حفظہ اللہ
    یونیکوڈ: عمر اثری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں