1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بیت کون ؟ رافضی اعتراض اور سنی جواب

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏ستمبر 28، 2013۔

  1. ‏نومبر 12، 2013 #21
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    سلفی طرز استدلال ایسے مسائل میں کچھ اس طرح ہوتا ہے مثلا
    ہاں ہم مانتے ہیں سیدہ سارہ ابراہیم علیہ السلام کے اہل بیت میں ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ موسیٰ علیہ السلام کے اہل بیت میں ہیں لیکن اس کی دلیل دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج رسول اللہ کی آل سے ہیں
    کیا آپ اس طرز استدلال کو اب بھول گئے
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 12، 2013 #22
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344


    عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع تصحبني كيما تصيب منها فقال لا حتى آتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلق إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له ان الصدقة لا تحل لنا ومولى القوم من أنفسهم(مصنف ابن ابی شیبہ :ح۱۰۷۰۷
    اس کا مطلب ہے کہ آپ کے غلاموں کے لیے بھی صدقہ جائز نہین اور بیویوں کے لیے بھی صدقہ جائز نہیں اور وہ بھی اہل بیت میں شامل ہیں :
    حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن بن أبي مليكة أن خالد بن سعيد بعث إلى عائشة ببقرة من الصدقة فردتها وقالت انا آل محمد صلى الله عليه و سلم لا تحل لنا الصدقة
     
  3. ‏نومبر 12، 2013 #23
    سید مزمل حسین

    سید مزمل حسین مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 31، 2013
    پیغامات:
    85
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    ان پانچ ہستیوں کی تطہیر میں کوئی شک نہیں مگر اس رکوع کا تسلسل بھی تو دیکھئے جس میں یہ آیت ہے۔اس رکوع میں مسلسل ازواج مطہرات کو مخاطب کیا گیا ہے ا ب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات شامل نہ ہوں۔یہ سارے کا سارا رکوع ہی ازواج مطہرات کے متعلق ہے۔
     
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 12، 2013 #24
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    میں یہ عرض کرچکا کہ امہات المومینن کی لونڈی صدقہ قبول کیا کرتی تھیں جس پر بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی نہی نہیں فرمائی اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پیش کرچکا کہ قوم کا مولیٰ اس قوم میں سے ہی ہوتا اور آل محمد کے غلاموں کے لئے بھی صدقہ حرام ہے اور صحیح مسلم میں ہی سے حضرت زید بن ارقم کا قول بھی پیش کرچکا کہ بیویاں اہل بیت میں نہیں ہوتی اس لئے اس پر مذید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہاں آپ نے جو نئی دلیل دی امی عائشہ کے قول سے اس پر بھی بات کرنے کی حاجت نہیں کہ آپ لوگ تو ویسے بھی مطالبہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کرتے ہیں
     
  5. ‏نومبر 12، 2013 #25
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    بے شک سارا رکوع میں امہات المومینن کو خطاب ہے لیکن آیت تطہیر میں اہل بیت سے خطاب کیا گیا ہے اور ایسی آیت تطہیر کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی نہ کہ پورے رکوع کی اور اس میں ام المومینن حضرت ام سلمیٰ کو ان کی درخواست کے باوجود شامل نہیں فرمایا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس عملی تفسیر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امی عائشہ کے گھر پر بھی دھرایا اور وہاں بھی امی عائشہ کو اس تفسیر میں شامل نہیں کیا ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بار کیا گیا عمل ہی ان کی امت کے لئے حجت ہوتا ہے لیکن یہاں تو اس عمل کو مکرر کیا گیا
     
  6. ‏نومبر 13، 2013 #26
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    نہ تو آپ کو حدیث کا پتہ ہے اور نہ اصول حدیث کا پتہ ہے حضرت عائشہ کا یہ قول مرفوع حدیث کے حکم میں ہے جاؤ جا کر اصول حدیث پڈھو پھر آکر بات کرنا ۔ جاؤ شاباش
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 13، 2013 #27
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ اس آیت میں کم ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟ تو تمہاری آنکھیں بند ہو جائیں گی، جاؤ جا کر اعراب القرآن پڈھو اور ہمیں بھی بتاؤ کہ کم ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 13، 2013 #28
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    گویا آپ کو تسلیم ہے کہ سیدہ سارہ سیدنا ابراہیم﷤ کے اہل بیت میں سے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ ان کے اہل میں سے ہیں۔ تو پھر نبی کریمﷺ کی بیویاں ان کے اہل بیت میں سے کیوں نہیں؟؟؟
    سیدہ ام سلمہ والی حدیث پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں امہات المؤمنین کے اہل بیت ہونے کی نفی نہیں ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 13، 2013 #29
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    قرآن کریم کی آیات اور احدیث نبوی صل الله علیہ وآ لہ وسلم سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حقیقی اہل بیت آپ صل الله علیہ وآ لہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی ہیں- البتہ نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ اکثر و بیشتر اپنے اصحاب ، صحابیت اور دیگر افراد (چاہے وہ رشتے دار ہوں یا نہ ہوں) جو آپ صل الله علیہ وآ لہ پر ایمان لاتے تھے ان کی دلجوئی کے لئے ان کی فضیلت بیان کرتے رہتے تھے - اس کی ایک مثال حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ ہیں - جن کے متعلق بھی آپ صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے یہ فرمایا :سلمان منا اھل البیت (سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں) - باوجود اس کے کہ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کی نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم سے کوئی رشتہ داری نہ تھی - لیکن آپ صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے ان کو اپنے اہل بیت میں شامل کیا -

    اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حضرت علی، فاطمہ حسن و حسین رضی الله عنہ کو اہل بیت میں شامل کرنے کا مقصد لوگوں کو سامنے ان کی فضیلت بیان کرنا تھا - لیکن حقیقی اہل بیت نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم کی ازواج ہیں -جیسا کہ اس تھریڈ میں اکثر بھائیوں نے بیان کر دیا ہے -

    (واللہ اعلم)
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 13، 2013 #30
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں