1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بیت کی تعلیمات سے انحراف اور اہل بیت و صحابہ کی تکفیر

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 29، 2018۔

  1. ‏مئی 29، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    اہل بیت کی تعلیمات سے انحراف اور اہل بیت و صحابہ کی تکفیر

    رسول اللہ ﷺ کی آل اور آپ کے اصحاب کے درمیان باہم رشتہ داریاں، محبتیں، تعلق داریاں ، اخوتیں اور جنبہ داریاں کسی کور چشم سے پوشیدہ ہوں تو ہوں، اہل فکر و نظر سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔
    کبھی علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی شادی خطاب کے بیٹے سے ہوتی ہے، تو کبھی حسن و حسین و دیگر اہل بیت کے بچوں کے ناموں میں وعمر صدیق و عائشہ کے اسمائے گرامی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    گویا یہ محبتیں لازوال اور بے مثال ہیں، جن کا عشر عشیر بھی دیگر لوگوں میں نہیں ملتا، لیکن اس کائنات کا ایک بدبخت گروہ ان مقدس ہستیوں کو باہم دشمن باور کروانے سے کسی دور میں باز نہیں آیا، وہ ان پر جھوٹ باندھتے سمے کچھ خوف خدا نہیں کرتا۔
    وہ لوگ اس عقیدے کی تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ اہم اہل بیت سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، ہم تو بس اہل بیت کے دشمن سے عداوت رکھتے ہیں، اور اسی نعرے پر انہوں نے تمام صحابہ کو کافر قرار دے رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا انکار کر کے تمام صحابہ مرتد ہوگئے تھے، یہاں ایک منٹ کے لئے رک جئے ! جب موجودہ دور میں آپ کسی شیعہ سے کہتے ہو کہ تمہارے نزدیک صحیح روایات میں تمام صحابہ کو کافر لکھا ہوا ہے؟ تو وہ فورا آپ کی بات کو جھٹلا دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ ہماری روایات میں ارتداد سے مراد اسلام سے پھرنا نہیں ہے، بلکہ امام سے پھرنا ہے۔
    تب ایک عامی آدمی پریشان ہوجاتا ہے، اور بعض دفعہ اپنے محققین اور ائمہ سے بدظن ہوجاتا ہے کہ دیکھئے ہمارے ائمہ اور محققین ، شیعہ سے وضاحت مانگے بغیر ان کی طرف ایک عقیدہ منسوب کئے جاتے ہیں، یہ ایک غیر تحقیقی رویہ ہے۔
    ہمارے ساتھ بھی ابتداء ایسا ہی ہوا اور ہم حیران رہ گئے کہ آخر ہمارے ائمہ نے شیعہ کی طرف ایسی بات منسوب کرتے وقت ان سے وضاحت کیوں نہ مانگ لی؟ کہ کسی کی طرف کوئی عقیدہ منسوب کرتے ہوئے اس کی اپنی وضاحت ہی اصل قرار پاتی ہے۔
    لیکن جب شیعہ کی کتابوں کو مزید دیکھا اور مطالعے کے پنچھی کو کتابی فضاؤں میں گھومنے بھیجاتو حیرانی کا رخ اہل سنت سے ہٹ کر دوسری جانب جا پڑا، کیوں کہ شیعہ جب کہتے ہیں کہ فلاں نے امام سے انحراف کیا، یا امام کی امامت کو نہیں مانا تومراد ان کی یہی ہوتی ہے کہ وہ کافر ہوگیا، مخلد فی النار ہوگیا اور جب مرے گا تو جاہلیت کی موت مرے گا۔
    صحیح اصول کافی للباقر بہبودی کی حدیث 128 کو دیکھئے تو صاف لکھا ہے کہ جو امام کو پہچانے بغیر مر گیا، وہ نفاق یا کفر کی موت مرا، اسی طرح 129 نمبر حدیث کے مطابق وہ کفر و نفاق کی موت مرے گا۔ ان دونوں روایات کی سند شیعہ کے ہاں صحیح ہے۔
    تو معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک تمام صحابہ مرتد تھے، نعوذ باللہ
    اور مرتد سے مراد اسلام کو چھوڑ دینا اور کفر و نفاق کی موت مرنا ہے۔یہاں میں احباب کی نظر میں ایک دوسرا زاویہ فکر لانا چاہوں گا، وہ یہ کہ بسا اوقات روایات کا سامنے نظر آنے والا معنی ان روایات کے ماننے والوں کے ہاں معتبر نہیں ہوتا، بلکہ ان کے ہاں اس معنی میں کوئی تخصیص یا کوئی تاویل وغیرہ ہوتی ہے، ایسی صورت میں بھی ایک محقق کو چاہئے کہ انہیں کے بیان کردہ معنی کو تسلیم کرے، تو اس سلسلے ہم شیعہ علماء و ائمہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ذیل میں شیعہ کے بعض محدثین و ائمہ کے خیالات سامنے لائے گئے ہیں، ان کو پڑھ کر خود فیصلہ کیجئے کہ صحابہ کے متعلق ان لوگوں کا عقیدہ کیا ہے؟
    شیعہ کی چار کتابوں میں سے ایک کے مصنف محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي الملقب بالصدوق کا بیان یہ ہے :
    '' امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والے ائمہ کے منکر کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ویسا ہی ہے، جیسے کوئی تمام انبیاء کی نبوت کا انکار کردیتا ہے۔ اور جو شخص باقی تمام ائمہ کو تو مانتا ہے، مگر کسی ایک امام کا انکار کردیتا ہے، اس کا حکم ایسے شخص کی طرح ہے، جو تمام انبیاء کو تو مانتاہے،محمد رسول اللہ ﷺ کو مگر نہیں مانتا۔
    الاعتقادات : ص 103
    اسی طرح شیخ مفید نے لکھا :
    اتفقت الامامية على أن من أنكر إمامة احد من الأئمة وجحد ما اوجبه الله تعالى له من فرض الطاعة فهو كافر ضال مستحق للخلود في النار"
    '' امامیہ کا اس عقیدے پر اتفاق ہے کہ جو کسی ایک امام کی امامت کا انکار کرتا ہے، اور اللہ کے فرض کی اطاعت سے منکر ہوتا ہے، وہ کافر ہے، گمراہ ہے اور ہمیشہ تک کے لئے جہنم کا مستحق ہے۔''
    (المسائل نقلا عن بحار الانوار، ج23 ،ص391)
    شیخ طوسی لکھتا ہے :
    أن المخالف لاهل الحق كافر فيجب ان يكون حكمه حكم الكافر إلا ماخرج بالدليل ۔
    ''اہل حق کا مخالف کافر ہے، تو ضروری ہے کہ اس کو بھی کفار کے حکم میں رکھا جائے، الا یہ کہ کوئی دلیل کے ساتھ اس حکم سے خارج ہوجائے۔''
    (تهذيب الاحكام : ج1 ،335)
    جمال الدین حسن بن یوسف بن مطہر حلی اپنا عقیدہ یوں بیان کرتا ہے :
    " الإمامة لطف عام والنبوة لطف خاص لإمكان خلو الزمان من نبي حي، بخلاف الإمام لما سيأتي. وإنكار اللطف العام شر من إنكار اللطف الخاص، وإلى هذا أشار الصادق عليه السلام بقوله عن منكر الإمامة أصلاً ورأسًا وهو شرهم
    '' امامت لطف عام ہے اور نبوت لطف خاص ہے، کیوں کہ زمانہ کسی زندہ نبی سے خالی تو ہوسکتا ہے، زندہ امام سے خالی مگر نہیں ہوسکتا۔ لطف عام کا انکار لطف خاص کے انکار سے زیادہ برا ہے، امام صادق نے منکر امامت کو زیادہ برا کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے۔''
    (كتاب الألفين في إمامة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ص13 ط)
    اسی طرح یوسف بحرانی جس کو الشیخ المحدث کا لقب ملاہے، کہتا ہے :
    وليت شعري أي فرق بين من كفر بالله سبحانه وتعالى ورسوله، وبين من كفر بالأئمة عليهم السلام مع ثبوت كون الإمامة من أصول الدين
    مجھے نہیں معلوم کہ آخر اللہ و رسول کے منکر اور ائمہ کے منکر میں آخر فرق کیا ہے، حالاں کہ ائمہ کا اصول دین میں سے ہونا ثابت ہوچکا۔''
    الحدائق الناضرة في أحكام العزة الطاهرة (18/ 153) دار الأضواء
    یہی عقیدہ باقر مجلسی نے لکھا ہے :
    " اعلم أن إطلاق لفظ الشرك والكفر على من لم يعتقد إمامة أمير المؤمنين والأئمة من ولده عليهم السلام وفضَّل عليهم غيرهم يدل أنهم مخلدون في النار
    '' جان لیجئے کہ کفر اور شرک کے لفظ کا اطلاق ان پر ہوگا جو امیر المومنین اور ان کی آل کے ائمہ کے منکر ہوں، یا ان پر ان کے غیر کو فضیلت دے دیں، ان کے یہ افعال ان کے مخلد فی النار ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔''
    6_ بحار الأنوار : 23/390
    محمد حسین نجفی بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں :
    والمخالف لأهل الحق كافر بلا خلاف بيننا.. كالمحكي عن الفاضل محمد صالح في شرح أصول (الكافي) بل والشريف القاضي نور الله في إحقاق الحق من الحكم بكفر منكري الولاية لأنها أصل من أصول الدين
    '' اہل حق کا مخالف بلا اختلاف کافر ہے،یہ بات اصول کافی کی شرح میں فاضل محمد صالح سے بھی بیان کی گئی ہے، بلکہ شریف قاضی نور اللہ نے احقاق الحق من الحکم بکفر منکری الولایہ میں بھی کہی ہے، اور ان کا کہنا بجا ہے، کیوں کہ امامت دین کا ایک اصول ہے۔''
    (جواهر الكلام 6/62)
    محسن طباطبائی نے لکھا :
    كفر من خالفهم بلا خلاف بينهم
    '' ائمہ کا مخالف کافر ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔''
    (مستمسك العروة الوثقى 1/ 392)
    عبد اللہ مامقانی ملقب بالعلامہ ثانی کہتے ہیں :
    وغاية ما يستفاد من الأخبار جريان حكم الكافر والمشرك في الآخرة على من لم يكن اثني عشريا
    '' روایات سے جو عقیدہ مستنبط ہوتا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جوشخص اثناء عشریہ میں سے نہیں ہے، اس پر کافر یا مشرک کا حکم لگایا جائے گا۔''
    ( تنقيح المقال 1/208باب الفوائد – ط النجف 1952)
    ابوالقاسم خوئی کہتا ہے :
    بل لا شبهة في كفرهم – أي المخالفين – لأن إنكار الولاية والأئمة حتى الواحد منهم والاعتقاد بخلافة غيرهم وبالعقائد الخرافية كالجبر ونحوه يوجب الكفر والزندقة وتدل عليه الأخبار المتواترة الظاهرة في كفر منكر الولاية.. أنه لا أخوة ولا عصمة بيننا وبين
    المخالفين
    '' مخالفین کے کفر میں کوئی شبہ ہی نہیں ہے، کیوں کہ ولایت کا اور ائمہ کا انکار حتی کہ کسی ایک امام کا بھی انکار اور ان کے سوا کسی دوسرے کی خلافت کا اعتقاد رکھنا اور جبر وغیرہ جیسے خرافی عقائد کا حامل ہونا کفر اور زندیقیت ہے۔ ولایت کے منکرین کے کفر پر متواتر اخبار دلالت کرتی ہیں، ہمارے اور مخالفین کے درمیان کوئی بھائی چارگی اور عصمت ہےہی نہیں۔''
    مصباح الفقاهة) في المعاملات 2/11))
    محمد حسن النجفي کہتا ہے :
    "ومعلوم أن الله تعالى عقد الأخوة بين المؤمنين بقوله تعالى: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ [ الحجرات: 10]، دون غيرهم، وكيف يُتَصَوَّر الأخوة بين المؤمن وبين المخالف بعد تواتر الروايات وتضافر الآيات في وجوب معاداتهم والبراءة منهم
    '' یہ بات معلوم ہے کہ اللہ نے مومن کو مومن کا بھائی قرار دیا ہے، دوسروں کو نہیں ، تو ایسی صورت میں ایک مخالف کے ساتھ اخوت کیسے قائم کی جاسکتی ہے، جب کہ متواتر روایات اور بہتی آیات ان سے براءت اور ان سے دشمنی کو واجب بتلاتی ہیں۔''
    (جواهر الكلام في شرائع الإسلام 22/ 62)
    سیدعبد الله شبر ، اس کو سید اعظم کہا جاتا ہے ، لکھتا ہے :
    وأما سائر المخالفين ممن لم ينصب ولم يعاند ولم يتعصب فالذي عليه جملة من الأئمة كالسيد المرتضى أنهم كفار في الدنيا والآخرة, والذي عليه الأكثر والأشهر أنهم كفار مخلدون في النار في الآخرة
    '' ہمارے تمام مخالفین کے تئیں ہمارے بہت سے ائمہ مثلا سید مرتضی وغیرہ کا فتوی ان کے کفر کا ہے، اور اکثر ی و مشہور فتوی یہ ہے کہ ایسے لوگ کافر ہیں اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم رہیں گے۔''
    حق اليقين في معرفة أصول الدين2/188
    معلوم ہوا کہ شیعہ لوگ صحابہ کرام کو کافر ہی سمجھتے ہیں نعوذ باللہ، لیکن اب لوگوں کے سامنے بتانے سے تقیہ مانع ہو گیا ہے۔ اللہ ہم کو حق سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور سادہ دل اہل سنت جو ان لوگوں سے اتحاد اتحاد کی رٹ لگائے رکھتے ہیں، ان کو فہم عطا کرے۔
    نوٹ : شیعہ کے اس اصول کی مار صرف صحابہ پر ہی نہیں پڑی، بلکہ اس اصول کی رو سے اہل بیت بھی کافر قرا رپاتے ہیں ۔ مزید تفصیل کے لئے ہماری یہ پوسٹ ملاحظہ کریں :
    https://www.facebook.com/molana.hammad/posts/2049632655361792

    نوٹ 2 : شیعہ علماء کے بعض حوالے ایک شیعہ محمد حسین ترحینی کی ایک پوسٹ کی وساطت سے حاصل ہوئے۔
    ابوالوفا محمد حمادا ثری
    #ھفتہ_مدح_اھلِ_بیت
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں