1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل کتاب اور مشرکین میں فرق کیوں کیا جاتا ہے؟

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن حمزہ, ‏فروری 13، 2019۔

  1. ‏فروری 13، 2019 #1
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    251
    موصول شکریہ جات:
    73
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
    مشایخ! کسی نے سوال پوچھا ہے کہ شریعت کے اصول واحکام اہل کتاب اور مشرکین اور کفار میں فرق کیوں کیا جاتا ہے؟ جبکہ دونوں ہی شرک کرتے ہیں اور کرتے آۓ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی پہلے ۔
    اور ایک اور سوال یہ کہ اگر مسلمان (بد عقیدہ) شرک کرے تو اس کو کچھ شروط وموانع کے بغیر کافر نہیں کہا جاتا حالانکہ وہ باقی کفار کی طرح پیدائشئ اس شرک میں مبتلا ہوتا ہے تو اس لحاظ اصلی کافر پر بھی شروط وموانع کے بغیر حکم نہیں لگا سکتے
     
  2. ‏فروری 14، 2019 #2
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    251
    موصول شکریہ جات:
    73
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

  3. ‏فروری 15، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    ان سوالوں میں سے پہلے کا جواب پیش ہے ، موقع ملتے دوسرے سوال کا جواب بھی پیش کردوں گا ،ان شاء اللہ

    اہل کتاب کافر ہیں !
    جن لوگوں کو یہ تسلیم ہے کہ :
    دین اسلام سے پہلے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں ،
    ان میںاللہ تعالی کی کتاب توراۃ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والوں کو یہودی اور کتاب انجیل کی طرف اپنا انتساب کرنے والوں کو نصاریٰ یا عیسائی کہا جاتا ہے ،
    اور قرآن حکیم میں دونوں گروہوں کا مشترکہ نام " اہل کتاب " ہے ،
    ان دونوں گروہوں کا کفر۔۔ دو ۔۔ ادوار میں واضح ہے ،
    پہلا کفر آخری نبی مکرم ﷺ کی آمد سے پہلے کا ۔۔۔ جب انہوں نے اپنے اپنے انبیاء کو غلو کرتے ہوئے اللہ کا بیٹا بنادیا ،اور انہیں مقام الوہیت پربٹھا دیا ،
    ان کا دوسرا واضح کفر آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ اور آخری دین اسلام سے انکار کا کفر ہے ،
    اس کے علاوہ بھی ان کے کفر و شرک کے کئی مظاہر موجود ہیں جو انہیں کافر و مشرک ثابت کرتے ہیں ،
    مثلاً موجودہ نصاریٰ یعنی عیسائی صدیوں سے اہل اسلام کو مرتد کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں ،

    کچھ انبیاء اور اللہ تعالی کی کتابوں سے انتساب اور ان میں سابقہ شرائع کی کچھ باقیات کی موجودگی کی بنا پر دوسرے کفار و مشرکین سے تمییز کیلئےانہیں اہل کتاب کہا جاتا ہے ،یعنی یہ لوگ انبیاء اور آسمانی کتابوں کو ماننے کا دعویٰ رکھنے والے کافر ہیں ، جیسے اسلام چھوڑ کر دوسری کسی مذہب میں جانے والے کافر کو مرتد کہا جاتا ہے ،
    اور کچھ سابقہ انبیاء کوماننے کے دعویٰ اورشریعتوں کی کچھ باقیات سے تعلق کی بنا پر ان اہل کتاب سے باقی کفار کی نسبت اہل اسلام کو کچھ چیزوں میں مختلف معاملہ کرنے کا حکم ہے ،جیسے ان کی عورتوں سے نکاح اور اللہ کے نام پر ذبح کریں تو ان کے ذبیحہ کو کھانا ،

    سعودی عرب کے مشہور جید عالم اور شاہ سعود یونیورسٹی میں استاد شیخ عبد الرحمن بن ناصر البراك اپنے ایک فتوی میں لکھتے ہیں :
    ولكن دلت النصوص من الكتاب والسنة على الفرق بين أهل الكتـاب وغيرهـم من الكفار في بعض الأحكام، فمن ذلك: حل ذبائح أهل الكتاب، وحل نسائهم الحرائر العفيفات: كما قال تعالى: {الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ} [المائدة: ٥] بخـلاف سـائر طوائف الكفار من المجوس وعبدة الأوثان وغيرهم، فلا تحل ذبائحهم ولا نسائهم للمسلمين، وهذا متفق عليه بين العلماء،
    " کتاب و سنت کی نصوص سے ثابت ہے کہ اہل کتاب اور دیگر کفار سے معاملہ میں کچھ چیزوں میں فرق رکھا جائے گا ،جیسا کہ اہل کتاب (اگر اللہ کے نام پر ذبح کریں تو )اس ذبیحہ کو کھانا اہل اسلام کیلئے حلال ہے ،اور ان کی آزاداور پاکدامن اور عفیف عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے ،قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    (اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے ، اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال، اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں ، جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، ۔(سورۃ المائدۃ 5)
    جبکہ دیگر کفار ،بت پرستوں ،مجوسیوں وغیرہ کا نہ ذبیحہ حلال ہے ،نہ ان کی عورتوں سے شادی کرنا جائز ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علمی تحقیقات اور شرعی فتاویٰ کیلئے سعودی عرب کے جید علماء کی کمیٹی کا فتویٰ

    كفر أهل الكتاب ممن لم يؤمنوا برسالة محمد صلى الله عليه وسلم
    جو اہل کتاب آخری نبی جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے ،وہ کافر ہیں ؛
    السؤال الثالث من الفتوى رقم (9438) :
    س3: لقد صرح القرآن الكريم بتكفير أهل الكتاب إلا الذين آمنوا برسالة محمد صلى الله عليه وسلم (القرآن) ، أما الذين قالوا من اليهود: إن عزير ابن الله، وقالت النصارى: المسيح ابن الله، والعياذ بالله. وصرح القرآن الكريم بتكفيرهم: {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ} (سورة المائدة الآية 73) الآية.
    ولكن مع هذه الحجة القطعية وجدنا بعض العلماء يقولون: إن أهل الكتاب ليسوا كفارا، وإنما كانوا أهل الكتاب فقط.. أفيدونا عن هذه المسائل.

    سوال : سوال:قرآن مجید نے اہل کتاب کو صاف الفاظ میں کافر کہا ہے۔ سوائے ان افراد کے جوجناب محمد رسول اللہﷺ کی رسالت اور قرآن مجید پر ایمان لے آئے۔ جن یہودیوں نے جناب عزیر علیہ السلام کو (نعوذباللہ) اللہ کا بیٹا کہا اورجن عیسائیوں نے جناب عیسی علیہ السلام کو یہ مقام دیا، قرآن مجید نے انہیں صاف طور پر کافر کہا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

    ﴿ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾(المائدۃ: 73)
    (یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں تیسرا ہے)

    اس قطعی دلیل کے باوجود ہم نے بعض علماء سے سنا ہے کہ اہل کتاب کافر نہیں۔ وہ تو بس اہل کتاب ہیں۔ براہ کرم ان مسائل کی وضاحت فرمادیجئے۔

    جواب: الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ وآلہ وصحبہ وبعد::

    من قال ذلك فهو كافر؛ لتكذيبه بما جاء في القرآن والسنة من التصريح بكفرهم، قال الله تعالى: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ} (سورة آل عمران الآية 70) وقال: {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ} (سورة المائدة الآية 17) وقال: {لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ} (سورة المائدة الآية 73)
    وقال: {وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ} (سورة التوبة الآية 30) ، وقال تعالى: {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ} (سورة البينة الآية 1) ، وقال: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} (سورة التوبة الآية 29) ... إلى غير ذلك من الآيات الكثيرة.
    وبالله التوفيق. وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم.

    ترجمہ :
    جواب :مذکورہ بالا بات (یعنی اہل کتاب کافر نہیں ) کہنے والا کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن وحدیث کے ان نصوص کا انکار کیا ہےجو اہل کتاب کے کفر کی تصریح کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
    اے اہل کتاب! تم اللہ کی آیات کا انکار کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم خودگواہ ہو)
    (سورۃ آل عمران )
    نیز فرمایا:
    لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾(المائدۃ: 17)
    (یقیناً ان لوگوں نے کفرکیا جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے)

    اور فرمایا:
    ﴿ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾
    (المائدۃ: 73)
    (یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں تیسرا ہے)

    مزید ارشاد ہے:
    ﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّـهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّـهِ,ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ ۖيُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ, قَاتَلَهُمُ اللَّـهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾
    (التوبۃ: 30)
    (یہودیوں نے کہا، عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ یعنی عیسائیوں نے کہا، مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کے منہ کی (بےدلیل) باتیں ہیں۔ یہ گذشتہ زمانے کے کافروں کی بات کی نقل کررہے ہیں۔ اللہ انہیں تباہ کرے کہاں بہکے جاتے ہیں)

    اور فرمایا:
    ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ﴾
    (البینۃ: 1)
    (اہل کتاب اور مشرکین میں جو کافر ہوئے وہ باز آنے والے نہیں تھے حتی کہ ان کے پاس واضح دلیل آجاتی)

    نیز ارشاد ہے:
    ﴿قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ﴾
    (التوبۃ: 29)
    (اہل کتاب میں سے جو لوگ اللہ تعالی اور قیامت پر ایمان نہیں لاتے، جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں سمجھتے اور سچے دین کی اتباع نہیں کرتے ان سے جنگ کرو حتی کہ وہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں)

    ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں۔
    اور توفیق ہدایت تو اللہ تعالی ہی کے ہاتھ میں ہے، وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم

    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... نائب رئيس اللجنة ... الرئيس
    عبد الله بن غديان ... عبد الرزاق عفيفي ... عبد العزيز بن عبد الله بن
    (فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ،جلد دوم ،ص29)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اللہ عزوجل اہل کتاب کے بارے فرماتا ہے:
    إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (150) أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا (151) المائدہ۔
    یعنی: " بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور کہنے لگے ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔یہی لوگ پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ​
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  4. ‏فروری 19، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ :
    " ایک اور سوال یہ کہ اگر مسلمان (بد عقیدہ) شرک کرے تو اس کو کچھ شروط وموانع کے بغیر کافر نہیں کہا جاتا حالانکہ وہ باقی کفار کی طرح پیدائشئ اس شرک میں مبتلا ہوتا ہے تو اس لحاظ اصلی کافر پر بھی شروط وموانع کے بغیر حکم نہیں لگا سکتے ،؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    یعنی آپ کہنا چاہتے ہیں کہ پیدائشی بدعقیدہ مسلمان یعنی وہ لوگ جو نسل در نسل غلط عقیدہ کے حامل ہیں، انہیں بھی تکفیر کی شروط نہ ہونے اور تکفیر کے موانع کی موجودگی میں واضح کا فر نہیں کہا جاتا ،جبکہ پیدائشی کفا و مشرکین کو کافر کہا جاتا ہے ، تو تفریق کی وجہ کیا ہے ؟
    تو اس کا جواب سمجھنا آسان ہے ،
    پیدائشی طور پر بد عقیدہ مسلمان اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ، اقرار کرتا ہے ، اور اکثر بڑے خلوص سے اسلام کو سچا ،مکمل ،آخری دین اور پیارے نبی ﷺ کو اللہ تعالی کا سچا اور آخری نبی بھی مانتا ہے ،
    قرآن کریم کو اللہ عزوجل کی سچی مکمل اور آخری کتاب بھی تسلیم کرتا ہے ،
    لیکن کچھ اعمال و عقائد میں جہالت اور بد عقیدہ لوگوں کے ماحول کے سبب حقیقی اسلام کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتا ہے ،
    (عمومی طور ان لوگوں میں سے )جو کفریہ اور شرکیہ اعمال کرتا ہے ،تو اسلام کی مخالفت اور ضد میں آکر نہیں کرتا ،بلکہ ان خلافِ اسلام اعمال و عقائد کو جہالت یا تقلید کے سبب اسلام کا حصہ سمجھتا ہے ،
    ان اسباب و وجوہ کی بنا پر گمراہ مسلمان کو کافر نہیں کہا جاتا ،بلکہ اس پر اتمام حجت کیلئے اسے حقیقی دین کی تعلیم دینے کی کوشش کی جاتی ہے ،
    جبکہ نسل در نسل کا کافر اپنے شعور کے پہلے دن سے جانتا ہے کہ میرا مذہب دین اسلام نہیں ،بلکہ فلاں ہے ،یعنی وہ جانتا ،مانتا ہے کہ ہندو ،عیسائی ،یا یہودی یادہریہ ہوں ،
    ایسا کافر شعوری طور پر جانتا اور مانتا ہے کہ : میں مسلمان نہیں بلکہ ہندو ،یہودی ،عیسائی یا تمام ادیان و مذاہب کی نفی کرنے والا سیکولر ،لبرل ہوں ،
    اسلئے ہمیں بحیثیت مسلم داعی اس تک اسلام کی دعوت پہنچانی تو دینی تقاضا ہے ،تاہم دعوت اسلام قبول کرنے تک وہ بلاشبہ ایک یہودی یا عیسائی یا ہندو وغیرہ قسم کا کافر ہی ہوگا ،
    اور اگر ہم اسے کافر نہ کہیں تو بھی وہ خود اپنے آپ کو اسلام مخالف اور اسلام کے علاوہ کسی مذہب کا پروکار سمجھتا ،جانتا ،مانتا ہے ،
    اس موضوع پر کچھ عرصہ قبل ماہنامہ ایقاظ میں شائع محترم حامد کمال الدین کے ایک مضمون سے اقتباس پیش ہے ،
    امید مفید رہے گا :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    " ہمارے ہاں کچھ لوگ ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور پارسیوں وغیرہ کو ’ازراہِ شائستگی‘ کافر یا کفار کہنے سے عمداً احتراز برتتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ خوامخواہ کی شدت اور غلظت ہے۔ ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں کیلئے زیادہ سے زیادہ یہ کسی لفظ کے روادار ہیں تو وہ ہے ’غیر مسلم‘۔ بسا اوقات یہ ان کو ’غیر مسلم بھائیوں‘ کے طور پر بھی پکارتے ہیں خصوصاً بعض سیاسی یا سماجی سرگرمیوں کے ضمن میں!
    حق یہ ہے کہ ”غیر مسلم“ کی اصطلاح اسلامی قاموس کے اندر نووارد ہے اور ہماری اِن آخری صدیوں کے اندر جا کر ہی اِس قدر عام ہوئی ہے کیونکہ مغربی نقشے پر کھڑے کئے جانے والے اِن (جدید) معاشروں میں، جہاں ”دین“ انسان کی اصل شناخت نہیں، یہ لوگوں کی ایک ضرورت بن گئی تھی۔ اپنے اِس حالیہ استعمال کے لحاظ سے یہ ”غیر مسلم“ کا لفظ اسلام میں سراسر ایک محدَث (نو پید ) ہے یعنی بعد میں گھڑی جانے والی چیز، قرآن اور حدیث کے ذخیرے قطعی طور پر آپ کو ”غیر مسلم“ کی اصطلاح سے خالی نظر آئیں گے۔

    قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ایک شخص ”مومن“ اور ”مسلم“ ہے خواہ وہ فسق و فجور یا بدعت (غیر مکفرہ) میں کیوں نہ پڑا ہوا ہو، یا پھر ”منافق“ ہوتا ہے (جس کا علم صرف اللہ کے پاس ہو سکتا ہے، ظاہر میں وہ ”مسلم“ ہی ہوتا ہے)، اور یا پھر وہ شخص ”کافر“ ہے۔
    ”غیر مسلم“ البتہ آج کے دور میں سامنے آنے والی ایک نئی اصطلاح ہے جس کو مسلمانوں کی لغت میں زبردستی ٹھونسا جا رہا ہے۔ اِس کی ترویج کیلئے طرح طرح کا سماجی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ شروع شروع میں اِس کی ضرورت یہاں ہونے والی ”حقوق“ کی جدوجہد کے دوران پڑی، بعد ازاں جب یہ یہاں کے جدت پسند دانشوروں کے من کو بھانے لگی، تو اِس کو ایک ”علمی“ و ”شرعی“ اصطلاح کے رنگ میں بھی پیش کیا جانے لگا۔ البتہ جیسے ہی ”گلوبلائزیشن“ کے نقارے بجے، یہ یہاں پر ایک نعمت غیر مترقبہ کے طور پر دیکھی گئی، یہاں تک کہ اسلام کی اصل اصطلاح (”کافر“) آج ایک معیوب و غیر مہذب لفظ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے، بلکہ کچھ دانشوروں کو کیا سوجھی کہ وہ ”کافر“ کے لفظ کو فی زمانہ ”ممنوع“ و ”غیر شرعی“ ثابت کرنے چل پڑے!
    علمائے اہل سنت اِس موضوع پر نہایت صریح ہیں کہ: دنیا کے جس ہندو، عیسائی، یہودی، مجوسی، بدھ یا ملحد نے محمد رسول اللہ کا سن رکھا ہے اور وہ آپ پر ایمان لا کر حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوا، اُس کیلئے ہماری اسلامی شرعی اصطلاح میں ایک ہی لفظ ہے، اور وہ ہے ”کافر“۔

    صرف یہی نہیں، جو شخص ایسے کسی شخص کے کافر ہونے میں شک یا تردد یا توقف بھی کرے، وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ دنیا آج بھی محمد ﷺ کو بنیاد مان کر تقسیم ہو گی۔ قیامت تک دنیا کی تقسیم کی یہی ایک بنیاد ہو گی: محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کو ماننے والے ”مسلم“ اور نہ ماننے والے ”کافر“۔ تیسری کوئی قسم نہیں۔
    چنانچہ اسلام کے سوا کسی اور دین کے ایک پیروکار اور محمد ﷺ کی شریعت کی تابعداری سے انکار کرنے والے ایک شخص کیلئے ’کافر‘ کا لفظ بولنا جس ”کلمہ گو“ پر گراں گزرتا ہے وہ خود بھی کفر کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ (ایقاظ )
    www.eeqaz.org
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور اس موضوع پر شیخ محمد رفیق طاہر (ملتان ) کا فتوی بھی پیش ہے ،اس سے بھی بات سمجھنا آسان ہوگا ؛

    کافر اور غیر مسلم میں فرق ؟
    شیخ محمد رفیق طاہر (حفظہ اللہ تعالی)
    مکمل سوال :
    السلام علیکم شیخ، ایک نوجوان جو قرآن کی تفسیر کے حوالے سے آجکل مغربی ممالک میں بڑا مشہور ہے، نعمان علی خان، ان کا کہنا ہے کہ ہر غیر مسلم کو کافر کہنا درست نہیں، دلیل کے طور پر بتایا کہ قرآن میں غیر مسلموں کے لئے مختلف الفاظ آئے، صرف کافر کے نہیں، اور یوں وہ کافر اور غیر مسلم میں کچھ فرق سمجھانا چاہتا ہے، تاکہ مسلمان ہر غیر مسلم کو کافر کہہ کر اس سے بدسلوکی نہ کریں، یہ بات اسکی کس حد تک درست ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب
    اسلام کے مقابل صرف اور صرف کفر ہی ہے , اسکے سوا کچھ بھی نہیں , لہذا غیر مسلم کا مطلب بھی کافر ہی ہوتا ہے , خواہ اسے کوئی بھی نام دے دیا جائے ۔ مثلا: یہودی, عیسائی, اہل کتاب, ہندو, مجوسی, سکھ, وغیرہ یہ سب کافر ہیں , غیر مسلم ہیں۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ ہر کافر یا غیر مسلم کے ساتھ بد سلوکی کی اجازت اسلام میں موجود نہیں ہے ۔
    اسلام نے تو بعض کفار کے ساتھ حسن سلوک سے بھی منع نہیں کیا ۔ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ " ترجمہ : اللہ تعالى تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے منع نہیں فرماتا جو دین کی بناء پر تم سے لڑتے نہیں اور نہ ہی تمہیں ہجرت پر مجبور کرتے ہیں ۔ یقینا اللہ تعالى انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔ [الممتحنة : 8]
    اور پھر جن کافروں کے ساتھ دلی دوستی لگانا منع ہے انکا ذکر اللہ تعالى نے ان الفاظ میں فرمایا ہے : إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ " یقینا اللہ تعالى تمہیں ایسے لوگوں سے دوستیاں کرنے سے منع فرماتا ہے جو تمہارے ساتھ دین کی بناء پر لڑتے ہیں اور تمہیں ہجرت پر مجبور کرتے ہیں اور تمہیں نکالنے پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ اور جو ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی لگائے گا تو وہی ظالم ہے ۔ [الممتحنة : 9]
    هذا, والله تعالى أعلم, وعلمه أكمل وأتم, ورد العلم إليه أسلم, والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم, وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم
    وكتبه أبو عبد الرحمن محمد رفيق الطاهر‘ عفا الله عنه
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں