• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل کتاب کا ذبیحہ

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
خلاصہ بحث:۔
الحاصل جس جانور کو ذبح کرتے وقت عمداً اللہ کا نام لینا چھوڑدیا اس کا کھنا حرام ہے یہی امت کا فیصلہ ہے اسی پر اجماع ہے اور اب تک اس اجماع کے خلاف ثابت نہیں ہوسکا۔
(۲) امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرآن پاک اور متعدد احادیث کی روشنی میں اگر تسمیہ عند الذبح نسیاناً رہ گیا وہ حلال ہے یہی ابن عباس ؓ کا مسلک ہے اور اسی کو امام بخاری ؒ نے ترجیح دی ہے۔
(۳)حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حدیث سے ترک تسمیہ عامداً ثابت نہیں بلکہ علمائے امت کی تشریحات کی رو سے امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کے مطابق ہےنہ کہ امام شافعیؒ کے مسلک کے جس کے بل بوتے پر مولانا(سعید احمدصاحب اکبرآبادی)نے امریکہ کے ہوٹلوں میں صرف بسم اللہ پڑھ کر یہ گوشت خوب پیٹ بھر کر کھایا ہے۔
(۴) احادیث کے علاوہ آیات سے تسمیہ عندالذبح واجب ہوناثابت ہوتا ہے مثلاً:۔
واذکروااسم اللہ علیہ(الآئیۃ)
اس آیت میں امر کا صیغہ ہے جس سےوجوب ثابت ہوتا ہے۔
فاذکروااسم اللہ صواف
اس آیت سے بھی تسمیہ عندالذبح واجب ہوناثابت ہے کیونکہ اس میں بھی امر کا صیغہ ہے اور مزید قرینہ یہ ہے کہ آگے چل کر فرمایا ''فاذا وجبت جنوبھا'' اور فا اس میں تعقیب کے اوپر دلالت کررہی ہے (احکام القرآن:۷:ج:۳)
(۵) آیت ''لا تاکلو'' الخ سورۃ انعام سے متروک التسمیہ عامداًثابت ہے نہ کہ ناسیاً کیونکہ ''انہ لفسق''کی ضمیر کا مرجع بروایت ابن عباس یہی ہے (روح المعانی :۵۱:۴اور بخاری شریف باب التسمیہ علی الذبح:۸۲۶:ج۲)
(۶) ابن ماجہ اور نسائی کی روایت اپنے ترجمۃ الباب کے تحت اور علمائے امت کی تشریحات خصوصاً ابن تیمیہ ؒ کے اس فتویٰ ''علیہ غیر واحد من السلف'' کی رو سےبھی امام شافعیؒ کے مطابق نہیں بلکہ امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کی تائید میں ہے۔
ذبح کا میکینکل طریقہ: اس طریقہ سے مراد مشین کے ذریعہ ذبح کرنا ہے ہوتا یہ ہے کہ جانوروں کو مذبح میں لیجاکر بجلی کا بٹن دبادیتے ہیں اور مشین ان جانوروں کی گردنوں کا تیا پانچا کردیتی ہے ظاہر ہےامریکہ اور یوروپ کے ہوٹلوں میں جو گوشت آتا ہے وہ اان مشینوں کا ذبح شدہ ہوتا ہے جس کی تجارت یہودی کرتے ہیں یا نصرانی ،یہودی کے یہاں تو اتنا اہتمام کیا جاتا ہے کہ کوئی ان کا ملّا آکر گوشت پر پھونک مار جاتاہے ،اور نصاریٰ کے یہاںتو اس کا بھی اہتمام نہیں ، خود مولانا نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے،اور اللہ کا ناام لیکر بٹن دبانے کا تو سوال ہی نہیں اگر یہ ہوا ہوتا تو مولانا کے لئے تو بہت سہولت تھی ان کو اتنی طویل بحث کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
اب سوال یہ ہے کہ بجلی کا بٹن دبا کر اللہ کا نام لیکر دبایا جائے تو کیا عند الشرع یہ ذبیحہ حلال ہوگا ۔اس کے متعلق یہ عرض ہےکہ شریعت کے نزدیک ذبح کی دو قسم ہیں(۱)ذبح اختیاری (۲)ذبح اضطراری۔
ذبح اختیاری تو یہی ہے کہ کسی آلہ دھار دار سے بسم اللہ کہہ کر جانور کوحلقوم کے پاس سے ذبح کردیا جائے ۔اور ذبح اضطراری یہ ہے کہ شکار یا کسی دیوار میں زندہ دبے ہوئے یا کسی ایسی جگہ پھنسے ہوئے جانور کو ذبح کرنا کہ جہاں سے اس کو زندہ نہ نکالا جاسکے کوئی دھار دار آلہ تسمیہ پڑھ کر پھینک کر ماردینا جس سے اس کا کوئی عضو کٹ جائے ۔میکینکل طریقہ سےذبح کرنا ذبح اختیاری میں داخل ہےنہ کہ ذبح اضطراری میں ،اور اس کے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ شریعت نے معتبر نہیں مانا ہے اورنہ اس کو ابھی تک جمہور امت نے ہی تسلیم کیا ہے ،مصر کے علاماء نے ضرور فتویٰ دیا ہوگا لیکن ان کے فتاویٰ کی حقیقت اوپر بیان کردی گئی ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
یو روپ اور امریکہ کا ذبیحہ
یکم مارچ ۱۹۶۴؁ءکے مدینہ میں ہمارا ایک مضمون مشینری کے ذبیحہ کے متعلق شائع ہوا تھا یہ مضمون ''مدینہ'' اخبار سے نقل ہوکر ہندوستان کے متعدد اخبار اور رسالوں میں شائع ہوا جس کا علم ہمارے مستفتی ''جناب سعید احمد صاحب ؍۴۹؍مدینہ منورہ کوبھی کسی طرح ہوگیا ۔اب انہوں نےہمارے پاس اپنے مکتوب گرامی کے ساتھ رسالہ''المسلمون'' جنیوا شمارہ:۹؍۱۰: جلد نمبر :۸؍ارسال فرمایا ہے جس میں اہل کتاب کے ذبیحہ کے متعلق چند سوالات ہیں ان سوالات کا جواب اردن کے مفتی صاحب محترم جناب الاستاذ الشیخ عبداللہ القلیقلی نے تفصیل سے دیا ہے شطور ذیل میں محترم مستفتی صاحب کا مکتوب اور سوال وجواب کا خلاصہ اور اس کے بعد اپنے تفصیلی جواب کا ترجمہ پیش کررہا ہوں ،یہ جواب مستفتی صاحب نے اور رسالہ ''المسلمون'' کو بھیج دیا گیا ہے۔
مکتوب گرامی: احمد سعید صاحب ص ب :۹۴؍مدینہ منورہ،۱۸ ؍اگست ۶۴؁ء بخدمت جناب اقدس حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمٰن صاحب زاد مجدکم ومد فیوضکم،السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سلام مسنون بعد''المسلمون''ایک رسلاہ ہے جو یوروپ سے نکلتا ہے اس میں ایک اہم مسئلہ جو ذبائح سے متعلق ہے اور جواب مفتی اردن سے دیا گیا ہےجو اس خظ کے ہمراہ موجود ہے،اور پڑھ کر آپ خود اندازہ لگائے اور کیا جواب ہونا چاہئے۔آپ اس کو غورو فکر سے پرھ کر جواب ارسال فرمائیے،چاہے ان کو جواب دیں یا تو میرے اوپر بھیجد یجئے پھر یہاں سے ان کے اوپر روانہ کردوں گا ۔میں نے آپ کے پس اس لئے بھیجا ہے کہ ایک مرتبہآپ نے اس مسئلہ کو کسی اخبار میں واضح طور تحریر فرمایا تھالہٰذا چونکہ یہ دینی کام ہے قوی امید ہے کہ آپ اس میں وقت لگائیں گے اور اس الجھن کودور فرمائیں گے۔فقط
والسلام احمد سعید
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
سوالات کا ترجمہ : دیار مغرب کے یہود ونصاریٰ کے ذبیحہ کے بارے میں شریعت اسلامیہ کی روشنی میں آپ کی کیا رائے ہے؟
(۱) ایک جماعت علماء کی یہ کہتی ہے کہ اہل کتاب سے مراد( جن کا ذبیحہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے حلا ل قرار دیا ہے ) وہ ہیں جو اپنے دین صحیح کی اتباع کرتے ہیں نہ وہ جنہوں نے تحریف وتبدیلی کی ہے۔
دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ آج کے یہود ونصاریٰ وہی ہیں کہ جن کو قرآن نے اہل کتاب قرار دیا ہے اور ہمارے لئے ان کےذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے۔
(۲) ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ اہل کتاب اپنے اسلاف کے طریقہ پر (جس وقت قرآن نازل ہوا تھا)ذبح نہیں کرتے ہیں اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔
(ا) ایک جماعت یہ کہتی ہےکہ اہل کتاب میں سےکچھ تو اس طرح قتل کرتے ہیں کہ اس کے خون ایک قطرہ بھی نہیں بہتا پس یہ حقیقت میں '' مخنوقہ''یا ''موقوذہ'' کے حکم میں ہےذبیحہ نہیں ہے ۔
(ب) دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ بات در اصل یہ ہے کہ منحدارات کے ذریعہ جانوروں کو بیہوش کردیا جاتا ہے تاکہ ان کو تکلیف نہ ہو لیکن یہ عارضی اثر ہے اس سے حیوان مرتا نہیں ہےبلکہ بعض مرتبہ اثنائے قتل ہی میں بیہوشی دور ہوجاتی ہے۔
اور آج کل امریکہ اور یوروپ میں ہزاروں مسلمان آباد ہیں جو ان ہی اہل کتاب کے درمیان رہتے ہیں ان میں سے کچھ حضرات تو ایسے ہیں جو پرہیز کرتے ہیں اور احتیاط پر عمل کرتے ہیں اور بعض حضرات رخصت پر عمل کرتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بھی اہل کتاب کے طعاام میں سے ہےجو کہ مسلمانوں کے لئے حلال ہے ونیز یہاں گوشت کا کھانا ضروریات زندگی میں سے ہےکیوں کہ یہاں سردی بہت زیاددہ ہوتی ہے۔
مسلمانوں میں سے بعض لوگ تو یہودیوں قصابوں سے گوشت خریدتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنے ملاؤں کی موجودگی میں اس کو ذبح کرتے ہیں،لیکن یہ قصاب بہت گراں فروش ہیں پھر اگر ان قصابوں پر مذہبی تعصب سوار ہوجاتا ہے تو سوائے یہودیوں کے دوسرے کے ہاتھ فروخت نہیں کرتےہیں۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
خلاصہ جواب مفتی:
(۱)ان لوگوں کاقول صحیح نہیں ہےجویہ کہتے ہیں اہل حدیث سے مراد وہ ہیںجو اپنے دین کی صحٰح اتباع کرتے ہیں بلکہ دوسرے فریق حق پر ہیں جنہوں نے یہ ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب (کہ جن کاذبیحہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے حلال قرار دیاہے )سے مراد یہی یہود ونصاریٰ ہیں۔
(۲)جو لوگ یہ کہتے ہیں ان اہل کتاب نے اپنے ذبیحے کے طریقوں کو بدل دیا ہےلہٰذا وہ آیت کے حکم سے خارج ہیں،یہ قول بھی پہلے قول کے قر یب قریب ہےجوہمارے نزدیک باطل ہےبلکہ آیت شریفہ مطلق ہے لہٰذا ذبیحہ اہل کتاب خواہ وہ کسی طرح ذبح کیا گیا ہو ہمارے لئے حلال ہے اگرچہ انہوں نےاپنے طریقہ قدیک بدل کیوں نہ دیا ہو،لہٰذا جب ہم یہ دیکھ ہی نہیں رہے ہیںکہ انہوں نے کس طرح ذبح کیاتو ہمیں وساوس میں مبتلا نہ ہونا چاہئے
(۳) جو لوگ یوروپ اور امریکہ کے نصاریٰ کے ذبیحہ سے ممانعت کرتے ہیں ان کے پاس سوائے وہم کے کوئی دلیل نہیں ہےپھر مانعین کا فتویٰ اباحت کا فتویٰ دینے والوں کے معارض ، جب کہ حلت کے اکثر قائل ہیں لہٰذااس گوشت کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیںرہا احتیاط پر عمل کرنایہ علماء کا کام ہے عوام کو اس میں نہیں پڑنا چاہئے۔
مفتی صاحب موصوف نے یہ جوابات بڑی تفصیل سے دئے ہیں جن کو پڑھ کر ہم ان کے تبحرعلمی کے معترف ہیں اور اان کی تحقیقات کی قدر کرتے ہیں،یہ بات دوسری ہےکہ ہم ان سے بعض چیزوں میں متفق نہیں ہیں،بہر حال اب میں اپنا تفصیلی جواب پیش کرتا ہوں۔ وھو الموفق للصواب۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
میراجواب: (۱)اگرچہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اہل کتاب سے مراد وہ ہیإ جو اپنے دین صحیح کی اتباع کرتے ہوں لیکن جمہور علماؑ نے اس قول کو اختیار نہیں کیا کیوں کہ جس وقت آیت مبارکہ:
وطعام الذین اوتو الکتاب حل لکم(الآیۃ)اور اہل کتا ب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے۔
نازل ہوئی اس وقت بھی یہودو نصاریٰ کا حضرت عزیر اور حضرت مسیح علیہما السلام کی انبیت کا عقیدہ تھاان میں اس وقت بھی نصاریٰ ثالث ثلاثہ کا عقیدہ رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے اہل کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے اور فساد عقیدے کے باوجود ان کو قرآن پاک نے اہل اہل کتاب ہی کے خطاب سے یاد کیا ہے۔
لم یکن الذین کفروامن اھل الکتٰب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینہ
نہ تھے کا فر ،اہل کتاب اور مشرک باز آنے والے یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس کھلی بات (قیامہ)
اس آیت میں ''من''اسم موصول کا بیان ہے جس سے اس بات کی طر اشارہ ہے کہ یہ فرقہ اپنے عقائد (ابنیت عیسیٰ وعزیر (علیہما السلام)اور اصنام پرستی) سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں پر ان عقائد فاسدہ کے باوجود ان کو اہل کتاب سے یاد کیا گیا ہے۔اس لئے وہ حضرات جو اہل کتا ب سے مراد دین صحیح کی اتباع قرار دیتے ہیں صواب پر نہیں ہیں۔
(۲) اگر موجودہ اہل کتاب نےاپنے دین سے ارتدا نہیں کیا ہے یعنی یہود اپنے نام نہاد یہودیت اور نصراانی اپنی نام نہاد نصرانیت پر قائم ہیں اور اپنے کو یہود یا نصرانی کہلاتے ہیںتو بیشک وہ اہل کتاب میں سے ہیںاور اس کے متعلق ہم اوپر عرض کرچکے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو علمائے حنفیہ فرماتے ہیں:۔
ان انتقل الکتابی الیٰ دین غیر اھل الکتاب لاتوکل ذبیحتہ
اگر کوئی کتابی کافروں کے دین کی طرف منتقل ہوگیا یعنی مرتد ہوگیا تو اس کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا (عالم گیری: ص۲۸۵:ج،۵)
آج کل سائنسی دور ہے مذہب ایک عیب شمار ہونے لگا ہےخصوصاً یوروپ امریکہ اور روس میں تو مذہب کوکوئی خاص اہمیت حاصل نہیںہے،یوروپ اور امریکہ کی مردم شماری کے موقعہ پر اس قسم کی اطلاعائیں موصول ہوئیںہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی ایک بڑی آبادی کو کوئی مذہب نہیں ہےویسے سلسلہ نسب کے اعتبار سےوہ کسی یہودی یا نصرانی کے یہاں پیدا ہوئے ہیں لیکن ذاتی طور پر وہ اپنا کوئی دین نہیں رکھتے بلکہ لا دینیت ان کے نزدیک قابل فخر ہے۔اس انکار کے باوجود اس کو اہل کتاب ہی شمار کرنا زیادتی ہے لیکن اگر وہ اہل کتاب ہے تو پھر اس کا جواب اوپر دیا جاچکاہے۔
ان د اجمالی جوابات کے بعد اب ہم اہل کتاب اور مشینری کے ذبیحہ پر ذرا تفصیل سے کلام کرنا چاہتے ہیں،اس کے بعد بقیہ جوابات کو بطور خلاصہ کے پیش کردیں گے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
تذکیہ یا ذبح شرعی: ذکات شرعی یا ذبح شرعی سے کیامقصود ہے۔اور ایسا کیوں حکم دیاگیا ہے ؟
اس سوال کے جواب میں ہمارے سامنے دو چیزیں آتی ہیں:۔
(۱) انہار دم یعنی جانور سے خون کا خارج کردینا
(۲)دوسرے اللہ کانام نہ لینا یہ دونوں چیزیں مقصود ہیں نہ کہ تنہا ،انہار دم اس لئے کہ جہاں تک انہار دم کا تعلق ہے وہ تو زمانہ جاہلیت میں بھی موجود تھا اور کافر اپنے جانوروں کا ذبح یانحر کرتے تھے لیکن بوقت ذبح بتوں کا نام لیتے تھے قرآن نے اس کو حرام قرارمایا ہے۔
حرمت علیکم المیتۃالدم لوحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ
تہامارے لئے مردار سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے گئے ہیں حرام ہیں۔
اس کے بعد آگے چل کر ارشاد فرمایاہے:
وما ذبح علی النصب
اور جو بتوں پر ذبح کئے گئے ہیں
یعنی جو جانور غیر اللہ (بتوں) کی نذر اور چڑھاوے کے طور پر ذبح کئے گئے ہیںوہ حرام ہیں ۔بہر حٓل یہ بات بلاشبہ ظاہر ہے کہ ذبیحہ جانوروں میں سے صرف اخراج خون مقصود نہیں ہے اگر صرف انہار مقصود ہوا ہوتا تو کافروں کے ذبیحہ کو حرام قرار نہ دیاجاتا قرآن پاک میں ارشادہے۔
لاتاکلو مما لم یذکراسم اللہ علیہ
اس جانوار کا گوشت نہ کھاؤ جس پر بوقت ذ بح اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو
بلکہ ارشاد فرمایا گیا ہے
الاما ذکیتم
مگر جو تم نے ذبح کیا ہے
یعنی مسلمانوں سے خطاب ہےکہ تمہارے لئے فلاںچیزیں حرام ہیں اور جو جانور تم نے شرعی طور پر ذبح کئے ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں اسی طرح آسمانی کتابوں پر ایمان کرھنے والے یا آسمانی مذہب کے معتقدوں کا ذبیحہ بھی تمہارے لئے حلال ہے۔
وطعام الذین اوتواالکتاب حل لکم
اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے
اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ فرمایا ہے:
طعام اہل کتاب سے مراد ان کا ذبیحہ ہے بہر حال قرآنی آیات سے ی بات بالکل ظاہر ہے کہ تذکیہ شرعیہ یا ذبح شرعیہ میں انہار دم کے ساتھ ایک قسم کی عبادت (اللہ کا نام لینا)بھی موجود ہے۔
علامہ ابن عربی فرماتے ہیں:۔
ان الذکاۃ وان کان المقصود بھا انھار الدم ولٰکن فیھا ضرب من التعبد والتقرب الی اللہ سبحانہ لان الجاہلیۃ کانت تتقرب بذٰ لک لاصنامھا وانصابھا
ذکوٰۃ (ذبح) سے اگرچہ مقصود انہار دم ہے لیکن اس میں ایک قسم کی عبادت اور اللہ تعالیٰکی طرف قربت موجود ہے کیونکہ اہل جاہلیت ذبح سے اپنے بتوں کی طرف قربت حاصل کیا کرتے تھے۔(احکام القرآن:ص،۱۲۴:ج،۱)
اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے ذبح یا ذکاۃ شرعیہ کے دورکن بیان قرار دیدئے ہیں (۱)ایک ذبح محل مخصوص میں(۲)دوسرے اللہ کانام لینا ،ان دونوں میں سے جو ایک چیز بھی فوت ہوجائے گی حرمت آجائے گی۔اس کی تفصیل یہ ہےکہ محل کے اعتبار سے ذبح کی دو قسم ہیں ذبح اختیاری اور ذبح اضطراری،ذکوٰۃ اختاری میں جناب رسول اللہ صلی الہہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔
الا ان الذکوٰۃ فی الحلق واللبہ
ذکوٰۃ حلق اور لبہ میں ہے
یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے غرض کہ ان تمام احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے ائمہ مجتہدین نے فرمایا ہے کہ وہ پانچ رگیں ہیں،جن میں سے اکثر تین کا منقطع ہونا ضروری ہے،امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں:
ان قطع ثلثاًمنھاای ثلث کان یحل الاکل بہ
اگر ان تین رگوں میں تین تہائی کاٹ دیں تو اس جانور کا کھانا حلال ہے۔ (مظہری؛ص:۱۵؛ج:۳)
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
لہٰذا ذکوٰہ اختیاری میں اگر کسی بھی طرح یہ رکن فوت ہوجائے گا تو وہ گوشت حلال نہ ہوگا۔دوسری قسم ذکوٰۃ اضطراری کی ہے یعنی اگر کوئی آدمی جانور کو محل مخصوص میں ذبح کرنے سے قاصر ہے مثلاً شکار ہے یا کوئی جانور کنویں میں گرگیا یا دیوار میں دب گیا یا بھاگ گیاکہ ہاتھ نہیں آتا تو پھر ایسی حالت میں اس جونور کے کسی دھار دار آلہ کو اللہ کانام لیکر پھینک کر ماردینا اور کسی بھی جگہ سے زخم کے ذریعہ خون بہا دینا کافی ہے متعدد حدیثوں میں یہی بیان کیا گیا ہے۔
اما الاضطرار یہ فرکنھا العقر وھو الجراح فی ای موضع کان
اور ذکوٰۃ اضطراری پس اس کو رکن ذخم کسی بھی جگہ لگا دینا ہے۔ (عالمگیری:ص،۲۸۵:ج،۵)
ذکوٰۃ کے ان دو طریقوں کے علاوہ نزول قرآن کے وقت قور کوئی طریقہ رائج نہیں تھا ،ان ہی دو طریقوں کے ساتھ مسلمان اور اہل کتاب کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا گیا ہے آج بھی اگر ان دو قسموں میں سے کسی ایک قسم پر اہل کتاب اللہ کا نام لیکر ذبح کریں گے تو حلال ہوگا۔
یوروپ اور امریکہ کا ذبیحہ:یہ بات ہم تاریخی شواہد سے ثابت کر سکتے ہیںکہ یوروپ اور امریکہ اور یہودی و نصاریٰ قطعی طور سے اسلام کے دشمن ہیں ،انہوں نے ہمیشہ ہمیشہ اسلام کے ہر شعار اور اس کی ہر تہذیب اور اس کے ہر قانون کو مٹانے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا ہے،اس کوبھی رہنے دیجئے وہ سائنسی دوڑ میں مذہبیت کو ایک نہایت فرسودہ اور بیہودہ تصور قرار دیتے ہیں اس لئے وہ جب کوئی چیز ایجاد کرتے ہیں تو ان کے سامنے ہرگز ہرگز یہ تصور نہیں ہوتا کہ ان ایجادات سے یا اس کے فعل سے کسی مذہب پر زد پڑتی ہے یا نہیں۔یہ چیز تو پیروان مذہب کو خیال کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز کے اختیار کرنے میں حدوداللہ کو تو منقطع نہیں کر رہے ہیں اگر انقطاع غدود لازم آتا ہے تو پھر اجتناب ضروری ہے کیونکہ مذہب آیا ہی اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کو اپنا پابند بنائے نہ اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کی مرضی کے مطابق ڈھلتا اوربدلتا جائے ۔اگر ایسا ہے تو پھر کوئی مذہب نہیں بلکہ ہر انسان کا وہی مذہب ہوگا جو اس کا دل چاہے گا۔
اب آئیے یوروپ اور امریکہ کے ذبیحہ پر مذکورہ دوقسموں کی روشنی میں غور کرلیں ۔ذبیحہ کے سلسلے میں مختلف مشینیں ایجاد ہوچکی ہیںجن میں بقدر مشترک اتنا ہے کہ جانوروں کو مذبح میں لاکر کھڑا کردیتے ہیں اور بجلی کا بٹن دبادیتے ہیں اوپر سے چھری گرتی ہے اور ایک دم گردنوں کو اڑاتی چلی جاتی ہے ایسا بھی کرتے ہیںکہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے اس کے دماغ پر داغ دیتے ہیں جس کی وجہ سے جانور پر نیند کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہےیا اس کو نشہ ہوجاتا ہے اس کو''STUN''سن کرنا کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے جانور کو تکلیف کم ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی ''STUN'' کے نتائج میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جسم بہت کچھ باریک نالیاں ہیں جو بند رہتی ہیں اور وہ کام میں نہیں آتیں اس کیوجہ سے وہ پھیل جاتی ہیں اور خون ان کے ذریعہ بدن کے پٹھوں اور عضلات میں پھیل جاتا ہے یہ خون نہ بہہ سکتا ہے اور نہ اس ذی حیات کے ہی کام آسکتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ جانور اگر چہ مرتا نہیں ہے لیکن اس کی حیات جسمانی کے ایک نظم میں خلل واقع ہوجاتا ہےاطباء کی اصطلاح میں اس کو مرض کہاجاتا ہے،فقہ حنفی نے مریض جانور کے ذبح کے متعلق بیان فرمایا ہے:
وان علم حیاتہ حلت مطلقاًوان لم تتحرک ولم یخرج الدم
اور اگر جانور میں حیات تھی حلال ہے اگرچہ اس نے حرکت نہ کی ہو اور نہ اس میں سے خون نکلا ہو (عالمگیری:ص،۲۸۲ج:۵)
لیکن اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ مشین کے ذریعہ سے برقی بٹن دباکر ذبح کرنا شریعت اسلامی کی کونسی قسم میں داخل ہےاگر برقی بٹن کو تیر کمان کا قائک مقام قرار دیا جائے (کہ وہاں کمان کی قوت سے دھار دار آلہ پھینکا جارہا ہے اور یہاں برقی قوت سے )تو جانور اس تعریف میں نہیں آتا جس کے لئے حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم)نے یہ صورت جائز قرار دی ہے ۔اور ذکوٰۃ اختیاری بہر حال یہ ہے ہی نہیں کیونکہ یہاں آلہ دھاردار برق کے توسط سے گردن کاٹ رہاہے لہٰذا نصوص شرعیہ کی کوئی علت مستنبط موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے مشینری کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا جائے بلا شبہ قرآن وحدیث اور فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں مشینری کا ذبیحہ حرام قطعی ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
ذکوٰۃ شرعیہ کا دوسرارکن:تسمیہ یعنی بوق ذبح اللہ کانام لینا ذبح کا دوسرارکن ہے جس کو قرآن پاک نے ''الاّ ما ذکیتم''اور ''ولا تاکلو مما لم یذکر اسم اللہ علیہ'' میں بیان فرمایا ہے یہ رکن بھی اگر فوت ہوجائے گا تو ذبیحہ حرام ہوجائےگا اسی طرح دوسری آیت ''فاذکروااسم اللہ صواف'' اور متعدد احادیث سے اللہ تعالیٰ کا بوقت ذبح نام لینا ثابت ہورہا ہےجمہور علمائے امت کا یہی مسلک ہے،بخاری ،نسائی،ابن ماجہ، اور دیگرکتابوں میں متعدد حدیثیں موجود ہیں علامہ ابن تیمیہ ؒ کا بھی یہی ارشاد ہے فرماتے ہیں:۔
علیہ غیر واحد من السلف
اس پر سلف کا اجماع ہے
ہاں نسیاناً اگر بوقت ذبح اللہ کا نام لینا یاد نہ رہے تو اس کو جائز قرار دیا ہے حضرت ابن عباس ؓ بیان فرماتے ہیں:
من نسی فلا باس و قال اللہ تعالیٰ ولا تاکلو اممالم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق والناسی لا یسمیٰ فاسقاً
جو اللہ کا نام لینا بھول گیا ،اس گوشت کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کو نہ کھاؤ کیونکہ یہ فسق ہے اور بھولنے والا فاسق نہیں ہوتا۔ (بخاری شریف)
اور بھول کر اللہ کا نام نہ لینے میںمسلم اور کتابی دونوں برابر ہیں
والمسلم والکتابی فی ترک التسمیۃ سواء
مسلم اور کتابی اس معاملہ میںدونوں برابر ہیں (عالمگیری:ص،۲۸۸)
پھر اللہ تعالیٰ کا نام لینے میں یہی ضروری نہیں ہے کہ صرف عربی زبان میں نام نہ لیا جائے گا تو تب ہی سمجھا جائے گاورنہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے۔
سواء کانت التسمیۃ بالعربیۃ او با لفارسیۃاو ای لسان کان
برابر ہے کہ تسمیہ عربی زبان میں ہو یا فارسی میں یا کسی بھی زبان میں۔ (عالمگیری :۲۸۵:ج،۵)
بخاری شریف کی روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تسمیہ ضروری نہیں ہے یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ذکر کی ہے ملاحظہ فرمایئے ''باب ذبیحۃ الاعراب''ہم نے یکم مارچ کے'' مدینہ''میں اس حدیث اتنا تفصیلی کلام کیاہے کہ اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی،اس لئے اس جگہ اس کا اعادہ نہیں کیا جارہا ہےطعام اہل کتاب:ذکوٰۃیا ذبح کے ان دونوں ارکان کا بیان کرنے کے بعد اب آج کل کے اہل کتاب ،یوروپ امریکہ کے باشندوں کے ذبیحہ پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہے ۔آج کل یوروپ اور امریکہ میں بہت کم اہل کتاب ایسے ہوں گے جس کو اللہ کا تصور ہوتا ہو ،اس لئے کہ موجودہ زمانہ کی گردشوں نے انسان کو اس جگہ لیجا کر کھڑا کردیا ہے جہاں انسان صرف انا ،انا،ہی کرتا ہےایسی صورت میںبوقت ذبح اللہ کا نام لینا بعض مذہبی لوگوںہی کا کام ہےاگر یہ کہا جائے کہ جب نسیا ناً جائز قرار دیا ہے تو اگر اہل کتاب بھی بھول جاتے ہیں تو کیا مضائقہ؟ بیشک ،لیکن نسیان تو یہی ہے کہ تھوڑی دیر ذہول رہا اور پھر یاد آگیا لیکن آج یوروپ اور امریکہ کے انگریزوں کو تو اللہ کی طرف سے ہمیشہ ہی ذہول رہتا ہےاس صورت میں اہل کتاب کے ذبیحہ میں ترک تسمیہ عامداً پائی جا رہی ہے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
اس جگہ اردن کے مفتی صاحب نے فرمایاہے:۔
''جمہور علماء اس پر ہیں کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے خواہ دین صحیح پر ہوں یا نہ ہوںخواہ انہوں نے کسی بھی طرح ذبح کیا ہو اس لئے کہ آیت مطلق ہے اس میں کسی زمان اور طریقہ کی قید نہیں ہے لہٰذا اگر مسلمان کے سامنےکسی موجودہ کتابی کا ذبیحہ آئے تو اس کواس میں جانے کی ضرورت نہیں کہ اس نے کس طرح ذبح کیا ہے اللہ کا نام بھی لیا ہے یا نہیں۔''
اس کے بعد ایک حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔
''حضرات صحابہ کے سامنے جب اہل کتاب کا ذبیحہ رکھ دیا جاتا تو کھا لیتے اور یہ نہیں پوچھتے تھے کہ یہ کیسے ذبح کیا ہے ۔اللہ کا نام بھی لیا ہے یا نہیں لیا ہے۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال نہیں کیا لہٰذا ہمیں بھی سوال کرنا نہیں چاہئے۔
اس جگہ میں ایک سوال کرنا چاہتاہوں آیت مبارکہ ''طعام الذین اوتواالکتاب حل لکم''میں ذبیحہ مراد ہے ،کیا یہ بتلایا جائے گا کہ اس وقت اہل کتاب سور کا گوشت بھی کھاتے تھےاگر نہیںکھاتے تھےاور آج کل اہل کتاب یہود ونصاریٰ سور کا گوشت کھاتے ہیں،لہٰذا اس بناء پر آیت مطلق نہ رہی بلکہ ذبیحہ میں حلال جانوروں کا ذبیحہ ہی داخل ہوا پھر یہ آیت جس وقت نازل ہوئی اس وقت اہل کتاب اور مسلمان دونوں کا طریقہ ذبیحہ ایک ہی معروف طریقہ تھابلکہ کافروں کابھی وہی طریقہ تھاصرف فرق اس قدر تھا کہ کافر غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے اور مسلمان اور اہل کتاب اللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے،طریقہ ذبح ایک ہی تھا جو معروف تھا اور یہ قاعدہ ہے کہ'' المعروف کالمشروط ''،معروف کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے وہ خود دلالۃًمعلوم ہوتا ہے،اس لئے آیت کو اس بارے میں مطلق کہنا صحیح نہیں ہےبلکہ آیت طریقہ ذبح میں مجمل ہے جس کو اس وقت کا عرف اور عمل بیان کررہا ہےاور وہ معروف ہےاس وجہ سے آیت میں مزید کسی قید کی ضرورت نہیں ہے ورنہ پھر وہی صورت پیش آجائیگی کہ جب طعام اہل کتاب مطلق ہے اور ہرزمان کے لئے مطلق ہے تو پھر موجودہ زمانے کے اعتبار سے سور کا گوشت بھی مراد لینا چاہئے ،''فما ھو جوابکم فھوا جوابنا'' اس جگہ جو جواب دیا جائے گا ہم بھی ہی جواب میں وہی راہ اختیار کریں گے۔
بات دراصل یہ ہے کہ عرب کے اہل کتاب کے دو قبیلہ تھے ایک قبیلہ بنی تغلب کا بھی تھا وہ صحیح طریقہ پر ذبح نہیں کرتے تھے،باوجود آیت کے مطلق یامجمل ہونے کے حضرت علیؓ نے ذبیحہ بنی تغلب کو مستثنیٰ قرار دیدیا حضرت علیؓ فرماتے ہیں۔
لا تاکلواذبائح نصاریٰ بنی تغلب
بنی تغلب کے نصاریٰ کے ذبیحہ کو مت کھاؤ
اس حدیث کو عبد الرزاق نے اور امام شافعی ؒ نے نقل کیا ہےاور امام شافعیؒ نے اس صحیح قرار دیا ہے چونکہ حضرت علیؓ کو بنی تغلب کے نصاریٰ کے حالات معلوم تھے اس وجہ سے انہوں نے بنی تغلب کے زبیحہ کو منع کردیا باوجودیکہ آیت مجمل ہے اسی طرح آج کل کے یہود ونصاریٰ کی حالت معلوم ہے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top