1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایمیزون پر افلیٹ مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جنوری 15، 2020۔

  1. ‏جنوری 15، 2020 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,293
    موصول شکریہ جات:
    362
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    ایمیزون پر افلیٹ مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت

    مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹرمسرہ، طائف

    پہلے ایمیزون(Amazon) اورافلیٹ مارکیٹنگ(Affiliate Marketing) دو الفاظ کو سمجھ لیں پھر ان کی شرعی حیثیت بتاؤں گا۔ ایمیزون انٹرنیٹ پر مبنی برقی تجارت ہے جو عالمی سطح پر امریکہ کی سب سے بڑی برقی تجارت ہے ۔ ایمیزون ڈاٹ کام کے ذریعہ آن لائن ہم اپنی خاص مصنوعات بیچ سکتے ہیں یا اس ویب سائٹ پر جن مصنوعات کے اشتہارات ہیں انہیں آن لائن آڈرکر سکتے ہیں یا مختلف ڈیلیوری پہ کیش بیک حاصل کرسکتے ہیں ،کوئی چاہے توبغیرسرمایہ کاری کئے ایمیزون سے مربوط ہوکر مختلف طریقے سے پیسے کماسکتا ہے ۔
    افلیٹ مارکیٹنگ میں آج کل نوجوان بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور اس کے ذریعہ گھر بیٹھے پیسہ کمارہے ہیں ۔ افلیٹ مارکیٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ ایمیزون یا اس جیسی برقی تجارتی کمپنی میں آن لائن رجسٹرڈ ہوکر اس کمپنی کی مصنوعات کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا۔ مثال کے طورپر ایمیزون ڈاٹ کام پر جاکر پیسہ کمانے کی فہرست میں ایک آبشن آفلیٹ مارکیٹنگ ہے اسے جوائن کریں ، پھر جن پروڈکٹ کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں کمپنی اس کا ویب لنک فراہم کرتی ہے اس لنک کو کاپی کرکے اپنےکسی سوشل نٹورک مثلا واٹس ایپ،یوٹیوب، فیس بک ، بلاگ یا ویب سائٹ پر نشر کریں ، اس لنک سے جو بھی کسٹمر ایمیزون کی مذکورہ پروڈکٹ خریدے گا اس کے منافع کا کچھ حصہ لنک شیئر کرنے والے کو بھی ملے گا۔
    یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایمیزون سے مربوط ہوکر افلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعہ پیسہ کمانا حلال ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم ایمیزون پہ افلیٹ مارکیٹنگ کرسکتے ہیں تاہم مندرجہ ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
    ٭ صرف ان ہی مصنوعات کی تشہیر کی جائے جو اسلامی نقطہ نظر سے حلال ہو ں، جوچیزیں اسلام میں حرام ہیں ان کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا جائز نہیں ہے۔
    ٭ کمپنی کی طرف سےمصنوعات کی حقیقی مواصفات ، قیمت اور حوالگی واضح طور پر درج ہو۔
    ٭کمپنی نےمصنوعات کے جن مواصفات کا ذکر کیا ہے سامان کی ڈیلیوری ہونے پر مذکورہ مواصفات ناپید ہونے کی صورت میں مصنوعات واپس کرنے کا اختیار دیا گیا ہو۔
    ٭ آڈر کرنے کے بعد مقررہ تاریخ تک مصنوعات نہ ملنے پر یا زیادہ تاخیر ہونے کی صورت میں آڈر کینسل کرنے کا بھی اختیار ہو۔
    ٭ سامان نہ ملنے یا غبن ہوجانے کی صورت میں مصنوعات کی خرید کے لئےجمع کی گئی رقم واپس ہونے کی ضمانت دی گئی ہو۔
    ٭ آن لائن تجارت کرنے والےایسے بھی افراد ہیں جن کے یہاں مصنوعات نہیں ہوتیں محض اشتہار بازی ہوتی ہے اور جب کوئی آن لائن سامان آڈر کرتا ہے تو کسی دوسری کمپنی سے سستا سامان خرید کر آگے آڈر کرنے والے شخص کو بیچ دیتا ہے ، اس طریقہ میں کئی شرعی قباحتیں ہیں مثلا ایسی چیز کو فروخت کرنا جو اس کی ملکیت نہیں ہے اور اسی طرح سامان پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی دوسرے کو بیچ دینا،اسلئے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ مصنوعات کا حقیقی وجود ہے۔
    ٭ایمیزون پر آڈر کرنے کے وقت ہی شاید پیمنٹ کرنا پڑتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم آن لائن خریدوفروخت میں کیش آن ڈیلیوری زیادہ مامون طریقہ ہے تاکہ سامان غبن ہوجائے تو بلاوجہ خسارہ نہیں اٹھانا پڑے گا یامطلوبہ صفات پر مبنی سامان ڈیلیوری نہ ہوتو آسانی سےواپس کرسکےگا ۔
    افلیٹ مارکیٹنگ کرنے والوں کو میں ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس مارکیٹنگ میں نفع کم اور وقت کا ضیاع بہت زیادہ ہے ، آپ کی اپنی آن لائن تجارت ہے تو اس کی الگ بات ہے لیکن دوسروں کی تجارت کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا دراصل بہت سارے قیمتی اوقات کا خسارہ ہے ۔ میں جہاں تک سمجھتا ہوں کہ یہی اوقات ہارڈورکنگ پر صرف کرکے پیسہ کمایا جائے تو انٹرنیٹ سے کہیں زیادہ منافع حاصل ہوگا۔انٹرنیٹ کے کثرت استعمال نے نوجوان نسل کی ایسی تربیت کی کہ اس کو وقت کے ضیاع کا قطعی احساس نہیں ہے، اسے بس اس بات کی خوشی ہے کہ گھر سے نکلے بغیر بیٹھے بیٹھے پیسہ آرہا ہے جبکہ یہ پیسہ محنت اور وقت کے بدلے کچھ بھی نہیں ہے ۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں