1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک دعاء جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر پڑھتے اس کی اسنادی صحت

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از وہم, ‏جنوری 19، 2019۔

  1. ‏جنوری 19، 2019 #1
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاۃ
    3.jpg
     
  2. ‏جنوری 19، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,194
    موصول شکریہ جات:
    2,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    ایک مسنون دعاء کی حدیث کی تخریج


    امام ترمذیؒ روایت کرتے ہیں کہ :
    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهِ: «اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ اليَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا».: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ "
    ترجمہ :
    سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اے اللہ! ہمیں تو اپنا اتنا خوف عطا کردے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔»
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔
    جامع الترمذي 3502، وصححه الالباني
    شیخ زبیر علی زئی ؒ کی تخریج کے ساتھ جامع الترمذی کا انگلش ترجمہ والا ایڈیشن جو دار السلام نے شائع کیا اس (جلد 6 ص217)میں لکھا ہے :
    تخريج : (صحيح ) وأخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة ح 402 من حديث ابن المبارك به وحديث خالد بن ابي عمران :أخرجه الحاكم :1-528 وصححه على شرط البخاري ووافقه الذهبي "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قال الشيخ الألباني: (حسن )الكلم الطيب (225 / 169)
    https://archive.org/details/waq52068waq/page/n165
    وحسنه في المشكاة (2492 / التحقيق الثاني)
    دیکھئے ہدایۃ الرواۃ جلد سوم صفحہ32
    https://archive.org/stream/FP51650/hedaitr3#page/n32/mode/2up

    اور شیخ البانیؒ کے شاگرد أبو أسامة، سليم بن عيد الهلالي «عَمَلِ اليَوم وَالليلة»کی تخریج " عُجالةُ الرّاغِب المُتَمَنِّي " جلد 2 ص506) میں اس حدیث کی طویل تخریج کرکے لکھتے ہیں :
    (وهو صحيح بطرقه) ۔۔۔ قلت: وهو بمجموعهما حسن ثابت؛
    یعنی یہ حدیث کئی اسانید سے مروی ہے ،اور اپنےمجموع طرق سے یہ حسن اور ثابت ہے ؛
    ـــــــــــــــــــــ
    ان نامورعلماء حدیث کے نزدیک یہ حدیث "حسن " ہے ۔​
     
    Last edited: ‏جنوری 20، 2019
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں