1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک دعا کے بارے میں استفسار

'اذکار وادعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از abdullahsalfi2016, ‏جون 30، 2015۔

  1. ‏جون 30، 2015 #1
    abdullahsalfi2016

    abdullahsalfi2016 مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 31، 2015
    پیغامات:
    45
    موصول شکریہ جات:
    21
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    صبح شام کے اذکار میں سے ایکدعا
    الهم اني أصبحت (امسيت) اشهدك .........
    اس دعا کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص چار مرتبہ اس دعا کو پڑھے گا اللہ اسے جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا.
    شیخ زبیر على زئی رحمة الله عليه اس حدیث کے چار مرتبہ والی روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں.
    جبکہ صرف ایک بار پڑھنے کو صحیح. دیکھیے دعائے مقبول بتخريج زبیر على زئی رحمة الله عليه.
    جبکہ حافظ عمران ایوب لاہوری حفظه الله اسے بالکل ہی ضعیف کہتے ہیں. دیکھیے دعاؤں کی کتاب
    اسکے برعکس دارلاندلس لاهور سے شائع هونے والے اذکار کارڈ اور حصن المسلم میں یہ دعا چار کی فضیلت کے ساتھ درج ہے
    اہل علم اس بارے میں صحیح ترین رائے کے متعلق میری رہنمائی فرمائیں
    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏جون 30، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آپ پہلے یہ حدیث سند سمیت ملاحظہ فرمائیں :
    سنن ابی داود ۔۔باب ما يقول إذا أصبح
    باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
    حدیث نمبر: 5069
    حدثنا احمد بن صالح حدثنا محمد بن ابي فديك قال:‏‏‏‏ اخبرني عبد الرحمن بن عبد المجيد عن هشام بن الغاز بن ربيعة عن مكحول الدمشقي عن انس بن مالك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ " من قال حين يصبح او يمسي:‏‏‏‏ اللهم إني اصبحت اشهدك واشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك انك انت الله لا إله إلا انت وان محمدا عبدك ورسولك اعتق الله ربعه من النار فمن قالها مرتين:‏‏‏‏ اعتق الله نصفه ومن قالها ثلاثا:‏‏‏‏ اعتق الله ثلاثة ارباعه فإن قالها اربعا:‏‏‏‏ اعتقه الله من النار ".

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں“ تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔

    تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۶۰۳) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمان بن عبدالمجید مجہول ہیں) اور جناب مکحول کے سیدنا انس ؓ سے سماع میں اختلاف ہے ،کچھ محدثین کے ہاں ان کا سماع ثابت ہے اور کچھ کے نزدیک ثابت نہیں،،،اس لئے اس سند سے یہ روایت ضعیف ہے ؛

    جبکہ امام ابو داود رحمہ اللہ نے ایک اور سند سے اس دعاء کو یوں نقل فرمایا ہے :

    حدیث نمبر: 5078
    حدثنا عمرو بن عثمان حدثنا بقية عن مسلم يعني ابن زياد قال:‏‏‏‏ سمعت انس بن مالك يقول:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " من قال حين يصبح:‏‏‏‏ اللهم إني اصبحت اشهدك واشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك انك انت الله لا إله إلا انت وحدك لا شريك لك وان محمدا عبدك ورسولك إلا غفر له ما اصاب في يومه ذلك من ذنب وإن قالها حين يمسي غفر له ما اصاب تلك الليلة ".

    مسلم بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“ کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔‘‘
    اسے ابوداود کے علاوہ ترمذی اور نسائی نے السنن الکبری میں اور بخاری نے الادب المفرد میں نقل کیا ہے ؛
    جناب حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے سنن ابی داود کی تخریج میں اسے حسن قرار دیا ہے ،اور علامہ شعیب ارناوط نے بھی سنن ابی داود کی تخریج میں اسے حسن قرار دیا ہے؛
    اس میں چونکہ عدد نہیں بتایا گیا اسلئے ایک بار پڑھ لینا کافی ہوگا ؛
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں