1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک رات میں دو وتر!جائز یا نا جائز؟

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏جون 23، 2019۔

  1. ‏جون 23، 2019 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    از محمد عبد الرحمن کاشفی اڑیشوی

    السلم علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ...
    سواک ہیے کی تراویح کی نماز کے بعد وتر پڑھ لیۓ
    اسکے بعد اگر شب قدر کی رات جاگنا چاہے تو کیا دوبارہ اخیر میں وتر پڑھنی ہوگی یا نہی؟
    مدلل جواب مطلوب ہیے براۓ مہربانی...
    ـــــــ ــــــــ ـــــــــ ــــــــ ــــــــ ــــــــ ــــــــــ ــــــــ

    الجواب و باللہ التوفیق.

    "دوران تراویح امام کے ساتھ عشا کی نماز کی نیت سے شامل ہو جائیں اور جب امام سلام پھیرے تو آپ کھڑے ہو کر اپنی فرض نماز مکمل کرنے کے لئے دو رکعتیں پڑھ لیں، الا کہ آپ مسافر ہوں تو امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیں، پھر اگر آپ مسافر نہیں ہیں تو امام کے ساتھ عشا کی سنت مؤکدہ پڑھنے کی نیت سے شامل ہو جائیں ، پھر جب آپ عشا کی سنت مؤکدہ پڑھ لیں تو امام کے ساتھ تراویح کی نیت سے شامل ہو جائیں، یہاں امام اور مقتدی کی نیت مختلف ہونے سے کچھ نہیں ہو گا۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ امام نفل کی نیت سے نماز پڑھا رہا ہو اور مقتدی فرض کی نیت سے نماز پڑھے تو جائز ہے، امام احمد نے اس کے بارے میں صراحت کی ہے کہ انسان تراویح پڑھانے والے کے پیچھے عشا کی نماز ادا کر سکتا ہے۔" ختم شد
    " الشرح الممتع على زاد المستقنع " ( 4 / 66 )

    Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں