1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک سوال کا جواب چائیے

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از matlabi, ‏دسمبر 19، 2015۔

  1. ‏دسمبر 19، 2015 #1
    matlabi

    matlabi مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 08، 2015
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    ایک شعیعه عالم شھنشاه حسین نقوی نے سوال اٹھایا ھے که کها جاتاھے که حضرت علی اور اصحاب ثلاثه میں باهمی محبت تھی اسی وجه سے حضرت علی نے اپنے بچوں کے نام اصحاب ثلاثه کے نام پر رکهے . سوال یه ھے اصحاب ثلاثه میں سے بهی کسی نے اپنے بچوں کے نا حسن حسین فاطمه رکهے . با حواله جواب درکار ھے
     
  2. ‏دسمبر 20، 2015 #2
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    مطلبی بھائی، اصحاب ثلاثہ کی اولاد کے نام تو حسن، حسین و فاطمہ ملتے نہیں، لیکن ان سے حضرت علی رض کے خاندان سے محبت ہونا بالکل واضح ہے۔ ثبوت کے طور پر سیدنا ابوبکر صدیق رض کا سیدنا علی المرتضی رض کا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا سے شادی کے لئے آمادہ کرنا، یہ لیں جی شیعہ کتب سے اسکا حوالہ
    005.JPG

    پھر حضرت عمر فاروق رض کا خاندان علی رض سے محبت کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت علی کی صاحبزادی ام کلثوم بنت علی رض سے نکاح فرمایا تھا، اور یہ ام کلثوم حضرت فاطمہ رض کی سگی بیٹی اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم اجمعین کی سگی بہن تھیں۔

    پھر سیدنا عثمان رض سے سیدنا علی رض کی محبت کا ثبوت کچھ اسطرح ہے کہ خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ کی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور خاندانِ نبوتؐ سے عقیدت و محبت کے بہت زیادہ واقعات تاریخ کے روشن صفحات پر محفوظ ہیں۔ جب بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا تو جنتی نوجوانوں کے سردار حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نے اپنے والد ماجد سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت عثمانؓ کے گھر کا پہرہ دیا۔ - حضرت علی نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین، حضرت طلحہ نے اپنے بیٹوں محمد اور موسی اور حضرت زبیر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی حفاظت کے لیے بھیجا۔ یہ وہ وقت تھا جب باغی مدینہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور کسی بھی وقت خلیفہ وقت کو شہید کر سکتے تھے۔ اس طرح ان جلیل القدر صحابہ نے اپنے جوان بیٹوں کو ایک نہایت ہی پرخطر کام پر لگا دیا۔ ان تمام نوجوان صحابہ کی عمر اس وقت تیس سال کے قریب ہو گی۔ جب حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ دوڑے آئے اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو مارا اور عبداللہ بن زبیر اور محمد بن طلحہ کو برا بھلا کہا اور فرمایا کہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ سانحہ کیسے پیش آ گیا۔( بلاذری۔ 6/186)
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 20، 2015 #3
    matlabi

    matlabi مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 08، 2015
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    شکریه بھائ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں