1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک سوال کا جواب چاھیے !!!

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 24، 2014۔

  1. ‏مارچ 24، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام و علیکم :

    میرا ایک دوست کی زمین ہے وہ اس زمین کو کسی کو کھیتی کے لئے دیتا ہے - اس زمین سے جتنا اناج اگتا ہیں - وہ دونوں آدھا آدھا لیتے ہیں -
    جبکہ میرا دوست اس کھیت میں کھیتی کرنے میں کچھ بھی مدد نہیں کرتا - کیا یہ طریقہ صحیح ہیں -

    جواب ضرور دے - جزاک اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 24، 2014 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر سونپی تھی کہ اس میں محنت کریں اور جوتیں بوئیں اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ لیں ۔ (صحیح بخاری۔کتاب کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان)
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 24، 2014 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ہمارے پاس مدینہ کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زمین زیادہ تھی ۔ ہمارے یہاں طریقہ یہ تھا کہ جب زمین بصورت جنس کرایہ پر دیتے تو یہ شرط لگا دیتے کہ اس حصہ کی پیداوار تو میری رہے گی اور اس حصہ کی تمہاری رہے گی ۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ ایک حصہ کی پیداوار خوب ہوتی اور دوسرے کی نہ ہوتی ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح معاملہ کرنے سے منع فرما دیا ۔(ایضاً)
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 24، 2014 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    قریب 40 سال پہلے رجانہ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ جب وہ پنڈ تھا اور وہاں بجلی بھی نہیں پہنچی تھی وہاں جانا ہوا، اس گھر کے ایک فرد کو پوچھا کہ یہاں کوئی دکان ھے میں نے پیپسی پینی ھے، گھر کے فرد نے ایک تھیلہ میں گندم بھری اور دکاندان سے دو پیپسی لیں پیسے کی عوض اس نے دکاندان کو گندم دی، جو اس نے پیپسی کی قیمت پر گندم تول کر تھیلہ سے نکالی اور باقی تھیلہ والی گندم اسے واپس کر دی، میرے پیسے دینے پر انہوں نے کہا کہ یہاں پیسے نہیں چلتے جو بھی خریدنا ہو گندم دے کر خریدنا پڑتا ھے۔

    یہ سوال کا جواب نہیں بلکہ سوال کے ساتھ ہی مزید سوال ھے۔

    والسلام
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 24، 2014 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    کرنسی کی ”ایجاد“ سے قبل بلکہ اس کبہت بعد تلک ”بارٹر سسٹم“ کے تحت خرید و فروخت ہوا کرتی تھی۔ یعنی ایک جنس کے بدلہ دوسری جنس یا خدمات کے بدلہ مطلوبہ جنس۔ جس کے پاس جو چیز ہوتی وہ اسی کے بدلہ اپنی مطلوبہ شئے یا خدمات حاصل کرلیا کرتا تھا۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 24، 2014 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069


    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 24، 2014 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اوپر محمد عامر بھائی نے جو صورت ذکر کی اس کو ’’ مزارعت یا بٹائی ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ جو کہ جائز ہے جیساکہ یوسف ثانی صاحب کی پیش کردہ صحیح بخاری کی حدیث سے بالکل واضح ہے ۔
    بس یہ خیال رہنا چاہیے کہ زمین سے جو فصل یا آمدنی حاصل ہو وہ آپس میں تقسیم کرنی چاہیے ۔ اگر پہلے سے ہی طے ہوجائے کہ فلاں حصے کی فصل یا آمدنی میری اور فلاں کی آپ کی ۔ تو ایسا کرنا درست نہیں اس کی وضاحت بھی یوسف ثانی صاحب کے دوسرے مراسلے میں گزر چکی ۔
    رہی وہ صورت جو کنعان صاحب نے پیش کی :
    اس کے بارے میں ذرا تفصیل میں جانا پڑے گا ۔
    کسی بھی خرید و فروخت میں ہم کچھ لیتے ہیں اور کچھ دیتے ہیں ۔ لی اور دی جانے والی چیزوں کی مختلف صورتیں ہیں :
    پہلی صورت
    دونوں چیزیں ایک ہی طرح ( ایک ہی جنس )کی ہوں ۔ مثلا گندم لےکر گندم ہی دینی ہے ۔ سونے کے بدلے سونا ، چاندی کے بدلے چاندی ۔
    ایسی صورت میں خرید و فروخت کے لیے دو شرطوں کا خیال رکھنا ضروری ہے :
    1. دونوں چیزیں مقدار میں برابر ہوں ۔ مثلا ایک کلو گندم کے بدلے ایک کلو گندم ، ایک تولہ سونے کے بدلے ایک تولہ سونا ۔
    2. ادائیگی نقدہو ۔ یعنی ایک ہاتھ سے لیں اور دوسرے سے دیں ۔
    اگر دونوں میں سے کوئی ایک شرط پوری نہ ہو تو اسے ربا (سود ) کہا جاتا ہے ۔ اگر مقدار میں کمی بیشی ہو تو اسے ’’ ربا الفضل ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
    اور اگر ادائیگی کے وقت میں فاصلہ اور تقدیم و تاخیر ہوجائے تو اسے ’’ ربا النسیئۃ ‘‘ کہاجاتا ہے ۔
    چنانچہ صحیح مسلم (حدیث نمبر 1587) میں آتا ہے :
    عن عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد»»،
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے کی سونے کے بدلے ، چاندی کی چاندی کے بدلے ، گندم کی گندم کے ساتھ ، جَو کی جو کے ساتھ ، کھجور کی کھجور کے ساتھ ، نمک کی نمک کے ساتھ خرید و فروخت برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ جائز ہے ۔ ہاں اگر اصناف مختلف ہوجائیں تو پھر برابری کی شرط نہیں البتہ نقد ہونا ضروری ہے ۔
    دوسری صورت
    دونوں چیزیں مختلف الجنس ہوں ۔ مثلا سونے کے بدلے چاندی ، سونے کے بدلے گندم ، گندم کے بدلے پیپسی وغیرہ ۔
    تو اس صورت کی آگے پھر دو قسمیں ہیں :
    • پہلی قسم : جس میں اوپر والی دونوں شرطیں ہی نہیں ہیں یعنی نہ تو برابری ضروری ہے اور نہ ہی نقد ہونا ضروری ہے ۔
    • دوسری قسم : ایسی اشیاء جن میں صرف نقد ہونا ضروری ہے برابری ضروری نہیں ۔
    ان دوقسموں کی مثالیں سمجھنے کے لیے اوپر حدیث میں جو چھے چیزیں بیان ہوئی ہیں ان کو بھی دو حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا
    پہلی قسم : سونا اور چاندی
    دوسری قسم : گندم ، جو ، کھجور ، نمک
    اب اگران دونوں قسموں کی آپس میں خریدو فروخت ہوگی مثلا پہلی قسم کی دو جنسوں کی آپس میں یعنی سونا دے کر چاندی لینا یا اس کے برعکس ۔ یا دوسری قسم کی دو جنسوں کی آپس میں مثلا گندم کے بدلے کھجور ، یا جو کے بدلے گندم تو یہاں نقد و نقد ہونا شرط ہے دونوں چیزوں کا برابر ہونا شرط نہیں ۔
    اوپر بیان کردہ حدیث کے الفاظ :
    فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد
    سے یہی مراد ہے ۔
    اور اگر ان دو قسموں کی اجناس کی ایک دوسری کے ساتھ خرید و فروخت ہوگی مثلا سونے یا چاندی کے بدلے گندم ، جو ، کھجور ، نمک میں سے کوئی ایک چیز یا سب چیزیں خریدنا تو یہاں دونوں ہی شرطیں نہیں ہیں ۔ نہ تو برابری ضروری ہے اور نہ ہی نقد کی شرط ہے ۔

    اس تفصیل کے مطابق محترم کنعان صاحب کا مسئلہ ’’ گندم کے بدلے پیپسی ‘‘ یہ کون سی صورت بنے گی ؟
    تو اس کے لیے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ حدیث کے اندر صرف چھے چیزوں کا ذکر ہے ۔ اس کے علاوہ جو باقی چیزیں ہیں مثلا کرنسی ، مشروبات ، غذائیات ، لوہا ، تانبا وغیرہ وغیرہ جتنی چیزیں ان کو اوپر ذکر کردہ چھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملایا جائے گا ۔ ( علماء ملائیں گے میں اور آپ نہیں ۔ ابتسامہ ) جو چیز جس کے ساتھ ملے گی اس کا وہی حکم ہوگا ۔
    علماء کرنسی کو سونا چاندی کے ساتھ ملاتے ہیں اور مشروبات اور غذائیات وغیرہ کو گندم ، جو وغیرہ کے ساتھ ملاتے ہیں ۔
    اس تفصیل کے مطابق ’’ گندم کے بدلے پیپسی ‘‘ کا حکم اوپر بیان کردہ دو صورتوں میں سے دوسری صورت کی دوسری قسم والا حکم بنے گا یعنی
    ’’ برابری ضروری نہیں البتہ نقد ہونا ضروری ہے ۔ ‘‘
    واللہ اعلم ۔
    اس بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لیے یہ کتاب دیکھی جاسکتی ہے :
    http://kitabosunnat.com/kutub-library/daor-e-hazir-k-mali-moamlat-ka-shari-hall.html
    باب دوم کا مطالعہ فرمائیں ۔
    اس میں آپ کو ایک تو اوپر ذکر کردہ باتوں کی تصدیق ہوجائے گی بلکہ اچھے انداز میں ملیں گی اور دوسرا آئندہ سوال کا جواب اگر نہیں معلوم تو جواب دینے میں مدد ملے گی ۔
    ایک سوال :
    اگر پیسے دے کر سونا یا چاندی خریدنی ہو تو کون سی صورت بنے گی ؟
    اور اس میں ’’ برابری ‘‘ اور ’’ نقد ‘‘ دونوں شرطیں ہوں گی ؟ یا کوئی ایک ؟ یا پھر کوئی بھی نہیں ؟
     
    • علمی علمی x 5
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 28، 2014 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزیت خیرا۔

    جواب:۔
    عند الاحناف اشیاء ستہ منصوصہ میں ربا کی علت قدر مع الجنس ہے۔ کرنسی اور نقدین کی جنس بھی ایک نہیں اور مقدار کا پیمانہ بھی الگ الگ ہے۔ اس لیے دونوں شرطیں نہیں ہوں گی۔
    البتہ یہ ان کے نزدیک ہوگا جو کرنسی کو سونے کا بدل یا رسید نہیں سمجھتے۔
    اصولی جواب تو یہی ہے۔ باقی اللہ اعلم۔
     
    • علمی علمی x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 31، 2014 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میرے خیال میں آپ کی عبارت مزید وضاحت کی محتاج ہے ۔
     
  10. ‏اپریل 01، 2014 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    حدیث ربا میں چھ چیزوں کا صراحتا ذکر ہے۔

    قال: حدثنا يوسف عن أبيه عن أبي حنيفة، عن عطية العوفي، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «الذهب بالذهب وزنا بوزن، يدا بيد، والفضل ربا، والفضة بالفضة وزنا بوزن يدا بيد، والفضل ربا، والحنطة بالحنطة كيلا بكيل، والفضل ربا، والشعير بالشعير كيلا بكيل والفضل ربا، والتمر بالتمر كيلا بكيل والفضل ربا، والملح بالملح كيلا بكيل والفضل ربا»
    کتاب الآثار لابی یوسف 1۔183 ط دار الکتب العلمیۃ

    (عطیۃ العوفی کو ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے۔)

    حدثنا يوسف بن موسى، قال: نا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن أبي حمزة، عن سعيد بن المسيب، عن بلال، قال: كان عندي تمر فبعته في السوق بتمر أجود منه بنصف كيله، فقدمته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما رأيت اليوم تمرا أجود منه، من أين هذا يا بلال؟» ، فحدثته بما صنعت، فقال: «انطلق فرده على صاحبه، وخذ تمرك فبعه بحنطة أو شعير، ثم اشتر به من هذا التمر» ، ففعلت، فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التمر بالتمر مثلا بمثل، والحنطة بالحنطة مثلا بمثل، والشعير بالشعير مثلا بمثل، والملح بالملح مثلا بمثل، والذهب بالذهب مثلا بمثل، والفضة بالفضة وزنا بوزن، فما كان من فضل فهو ربا» وهذا الحديث رواه قيس، عن أبي حمزة، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم
    مسند البزار 4۔200 مکتبۃ العلوم والحکم



    حدثنا الحسين بن إسحاق التستري، ثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي حمزة، عن سعيد بن المسيب، عن بلال، قال: كان عندي تمر دون، فابتعت به من السوق تمرا أجود منه بنصف كيله، فقدمته إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «ما رأيت اليوم تمرا أجود من هذا، من أين لك هذا يا بلال؟» قال: فحدثته بما صنعت، قال: «انطلق فرده على صاحبه وخذ تمرك، فبعه بحنطة، أو شعير، ثم اشتر به هذا التمر، ثم ائتني به» قال: ففعلت، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التمر بالتمر مثلا بمثل، والحنطة بالحنطة مثلا بمثل، والشعير بالشعير مثلا بمثل، والملح بالملح مثلا بمثل، والذهب بالذهب مثلا بمثل، وزنا بوزن، والفضة بالفضة مثلا بمثل وزنا بوزن، فما كان من فضل فهو ربا»
    المعجم الکبیر للطبرانی 1۔339 ط مکتبۃ ابن تیمیۃ


    بعض احادیث میں ربا کے سلسلے میں پانچ اور بعض میں چار چیزوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ بعض میں اس کے علاوہ زبیب (کشمش) کا بھی بیان ہے۔
    لیکن یہ عام فہم بات ہے کہ ربا ان چھ چیزوں میں بند نہیں ہے اور برابری اور ہاتھ در ہاتھ کی شرط بھی انہی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
    چنانچہ دیگر چیزوں کو ان سے ملانے اور ان پر قیاس کرنے کے لیے مجتہدین نے ان اشیاء میں علتیں تلاش کی ہیں۔
    امام شافعیؒ کے نزدیک ان میں علت طعم اور ثمنیت ہے جیسا کہ علامہ نوویؒ نے اس کی صراحت شرح المھذب میں کی ہے۔
    چنانچہ دو اشیاء اگر ثمن ہونے میں مشترک ہونگی یا طعم میں تو ان میں دونوں شرطیں لازمی ہوں گی۔
    امام مالکؒ نے ادخار (قابل ذخیرہ) اور طعم کو علت قرار دیا ہے۔ (بدایۃ المجتہد)
    اور امام اعظمؒ نے قدر مع الجنس کو علت قرار دیا ہے۔ یعنی ایسی دو چیزیں جن کا پیمانہ بھی ایک ہو اور جنس بھی تو ان میں دونوں شرائط لازمی ہیں۔ اور اگر ایک چیز ہو یعنی یا پیمانہ ایک ہو یا صرف جنس ایک ہو تو پھر تفاضل (زیادتی) درست ہے نساء (ادھار) درست نہیں۔

    سونے یا چاندی کا پیمانہ وزن ہے اور پیسوں کا عدد۔ ہم پیسوں کی گنتی کرتے ہیں وزن نہیں۔ اس لیے قدر دونوں چیزوں کی الگ ہے۔
    البتہ جنس کے بارے میں تھوڑا اختلاف ہے۔
    بعض علماء کے نزدیک روپیہ سونے کی رسید ہے۔ تو ان کے نزدیک یہ بیع کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتی کیوں کہ اس رسید کے بدلے جب تک سونا حاصل نہیں کر لیا جائے گا تب تک یہ ہاتھ در ہاتھ میں شمار نہیں ہوگا۔ لیکن یہ قول اس زمانے میں درست تھا جب روپے کے پیچھے واقعی سونا موجود تھا۔
    اس زمانے میں تحقیقی قول یہ ہے کہ روپے کے پیچھے سونا موجود نہیں بلکہ روپیہ خود ثمن بن گیا ہے عرف کی وجہ سے۔ چناں چہ اس کی جنس بھی سونے چاندی سے مختلف ہوئی۔
    لہذا اسے دے کر سونا یا چاندی خریدنا درست ہوگا۔
    واللہ اعلم

    مالکیہ اور شوافع کے مسلک پر بحث نہیں کر سکتا۔
     
    • علمی علمی x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں