1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک سوال

'قصص و واقعات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏نومبر 05، 2015۔

  1. ‏نومبر 05، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ایک بھائی @محمد عثمان منظور
    کا میرے پرفائل پر ایک سوال:
    السلام و علیکم ورحمۃ اللہ و برکاۃ۔ بھائی ایک شیعی سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا حضرت عمر رض نے کسی کافر کو قتل کیا اور اگر کیا تو اس کا نام بتا دیں؟

    محترم شیخ @اسحاق سلفی
     
  2. ‏نومبر 05، 2015 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

     
  3. ‏نومبر 05، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛؛
    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اتنے کفار اور مجوس کو قتل کیا کہ ان کا شمار نہیں ؛
    یعنی ان کے سنہری دور میں جو فتوحات ہوئیں ،ان میں جتنے کفار مارے گئے دراصل وہ عمر ؓ کے ہاتھوں ہی تو مقتول ہوئے ۔
    کسریٰ اور قیصر کی سلطنت کو مٹاکر وہاں اسلام کی روشنی کس نے پھیلائی ۔۔۔اس حقیقت کو دنیا کے اکثر کافر چودہ صدیوں جانتے ہیں ؛
    اسی لئے تو شیعہ بھی مانتے ہیں کہ پیارے نبی ﷺ نے دعاء کی تھی کہ :
    "اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب - رواه المجلسي في "بحار الأنوار" عن محمد الباقر –"اے اللہ ! اسلام کو عمر ؓ کے ذریعہ قوت و عزت عطا فرما ؛
    ["بحار الأنوار" ج4 كتاب السماء والعالم]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں اپنے ماموں ’’ العاص بن هشام بن المغيرة ‘‘ کو قتل کیا ۔
    سیرۃ ابن ھشام میں ہے :
    قال ابن هشام ‏‏:‏‏ وحدثني أبو عبيدة وغيره من أهل العلم بالمغازي ‏‏:‏‏ أن عمر بن الخطاب قال لسعيد بن العاص ، ومر به ‏‏:‏‏ إني أراك كأن في نفسك شيئا ، أراك تظن أني قتلت أباك ؛ إني لو قتله لم أعتذر إليك من قتله ، ولكني قتلت خالي العاص بن هشام ‘‘
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سعید بن العاص ؓ سے کہا کہ میرا خیال تمہارے دل میں کوئی خلش ہے ،میرا خیال ہے تم سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارے باپ کو قتل کیا ۔
    اگر میں نے تیرے باپ کو مارا ہوتا تو تم سے اس کی معذرت نہ کرتا ،درحقیقت میں نے تو اپنے ماموں ۔۔العاص بن هشام ۔۔کو قتل کیا تھا ۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 05، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء وبارک اللہ لک یا شیخ!
     
  5. ‏نومبر 05، 2015 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ہمارا بھی صرف شیعہ حضرات سے ایک سوال ہے کہ :
    سيدنا الحسن والحسين رضي الله عنهما نے غزوات میں کتنے کفار کو قتل کیا ؟
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 05، 2015 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وانتم فجزاکم اللہ تعالیٰ خیراً
     
  7. ‏نومبر 06، 2015 #7
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ایک یہودی اور منافق ایک تنازعہ کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرواتے ہیں،آپ ﷺ نے فیصلہ صادر فرمادیا جو اس نام نہاد مسلمان کے خلاف تھا، اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کروانا چاہا، چناچہ وہ دونوں ان کی خدمت میں پہنچ گئے، جب انہیں معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں نبی ﷺ فیصلہ فرماچکے ہیں تو شدید غضب کے عالم میں تلوار نکال لائے اور منافق کی گردن پہ یہ کہہ کر وار کیا: "من لم یرض بقضاء رسول اللہ ﷺ فھذا قضاء عمر" جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے راضی نہیں تو عمر اس کا فیصلہ تلوار سے کرتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں