1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک شیعہ کاسوال

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از اعظم بنارسی, ‏اکتوبر 24، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 24، 2017 #1
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    kya Sahaba gunah se pak thay ? Agar nh to unse jo ghltiyan sar zad hoeyn unko byan krnay se roka ku jata hay? Jab k Quran o Hadith me mutaddad maqamat par Ashaab k leay tanbeehi lehja istemal huwa hay...

    Ham is mslay par ahlesunat k muwaqaf ko janna chahta hain..
    Kya ashaab par nuqta cheeni krnay se koi shakhs Daaira e islam se kharij ho jata hay?
    is ki nas Quran o hadith ki roshni me frahm keejye
     
  2. ‏اکتوبر 24، 2017 #2
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,406
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گناہ سے پاک نہیں تھے لیکن ان کےگناہ ان نیک اعمال کے بدلے معاف کردیے جائیں گے جو اعمال وہ بجا لائے ہیں، نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم توبہ کرنے میں سب لوگوں سے سبقت لے جانے والے تھے

    حدثنا احمد بن سعيد الدارمي , حدثنا محمد بن عبد الله الرقاشي , حدثنا وهيب بن خالد , حدثنا معمر , عن عبد الكريم , عن ابي عبيدة بن عبد الله عن ابيه , قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " التائب من الذنب كمن لا ذنب له " .
    ´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو“۔
    تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : ۹۶۱۰ ، ومصباح الزجاجة : ۱۵۲۱ ) ( حسن ) » ( سند میں ابوعبیدہ کا سماع اپنے والد سے نہیں ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : ۶۱۵- ۶۱۶ )
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ , وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ ".
    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارے بنی آدم (انسان) گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں“۔
    تخریج دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة ۴۹ (۲۴۹۹)، (تحفة الأشراف: ۱۳۱۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۹۸، سنن الدارمی/الرقاق ۱۸ (۲۷۶۹) (حسن)
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا
    کہ جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو، جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو۔
    (طبرانی وغیرہ ، الصحیحۃ: 34)
    رسول اللہﷺ نے انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا:
    فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ
    کہ ان کے صالحین کی نیکیوں اور خوبیوں کا اعتراف کرو اور ان کے خطاکاروں کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر کرو۔
    (صحیح البخاری: 3799)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ
    کہ کوئی بھی مجھ سے میرے کسی صحابی کی شکایت نہ کرے میں چاہتا ہوں کہ میں تمہاری طرف نکلوں اور میرا دل صاف ہو
    (سنن ابی داؤد مع العون: 415/4، جامع الترمذی مع التحفۃ: 367/4، مسند احمد : 392/1 وغیرہ)
    حضرت ماعزبن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں‌تو فرمایا :
    لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ
    کہ ماعز کے لیے استغفارہ کرو، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ امت کے درمیان تقسیم کی جائے تو وہ کفایت کرے گی۔
    (صحیح مسلم: 1695)
    شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمتہ اللہ رقمطراز ہیں:
    ولو فُرِض أنه صَدَرَ من واحدٍ منهم ذنب محقَّقٌ فإنّ الله يغفره له بحسناتِه العظيمة، أو بتوبة تَصدُر منه، أوْ يَبتليه ببلاءٍ يكفِّر به سيئاتِه، أو يَقْبَل فيه شفاعةَ نبيِّه وإخوانِه المؤمنين، أو يدعو اللهَ
    بالفرض اگر ان میں سے کسی سے گناہ ثابت ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی عظیم حسنات کی بدولت یا اس کی توبہ کی بنا پر اسے معاف فرمادیں گے، یا اسے کسی ایسی مصیبت وآزمائش میں مبتلا کر دیں گے جو اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی، یا اس کے بارے میں اپنے نبی کی شفاعت یا اس کے مؤمن بھائیوں کی سفارش قبول فرما لے گا یا وہ اللہ سے ایسی دعا کرے جو اس کے حق میں قبول ہوجائے۔
    (جامع المسائل، المجموعۃ الثالثۃ: 78،79)
    قرآن و حدیث میں فضائل بھی بیان ہوئے ہیں اور تنبیہ تو انبیاء علیہ السلام کو بھی کی گئی ہے۔
    حدثنا علي بن محمد ، ‏‏‏‏‏‏ وعمرو بن عبد الله ، ‏‏‏‏‏‏قالا:‏‏‏‏ حدثنا وكيع ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حدثنا سفيان ، ‏‏‏‏‏‏عن نسير بن ذعلوق ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كان ابن عمر ، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " لا تسبوا اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فلمقام احدهم ساعة خير من عمل احدكم عمره .
    نسیر بن ذعلوق کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ”اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے۔
    تخریج دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ۸۵۵۰، ومصباح الزجاجة: ۶۱) (حسن)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    الله! الله! فی اصحابی، لا تتخذوھم غرضاً بعدی، فمن احبھم فبحبی احبھم، ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم
    میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! ان کو میرے بعد ہدفِ ملامت نہ بنالینا، پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔
    (ترمذی ج:۲ ص:۲۲۶)
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 24، 2017 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اول تو کوئی بھی مخلوق خطا ء سے پاک نہیں!
    خطاء سے پاک ذات صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہے!
    تنبیہ لہجہ کیا ، قرآن میں تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انبیاء کو بشمول امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تنبیہ کی ہے!
    اللہ سبحانہ تعالیٰ خالق ہے، یہ اس کو روا ہے!
    اب ان بیوقف رافضیوں کی منطق کے مطابق انبیاء پر بھی ایسی طرح بات کرو گے؟ جیسے یہ رافضی صحابہ کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں!
    رہی بات صحابہ رضی اللہ عنہم سے مرتکب ہونے والی خطاوں کا بیان!
    تو اہل سنت نے اس بیان سے نہیں روکا، بلکہ اسے اپنی کتابوں میں درج بھی کیا ہے! یہی اس بات کا ثبوت ہے!
    وگرنہ روافض کذابوں کی کتب میں پائے جانے والے الزامات و بہتان کے کذب ہونے کے لئے ، ان کا روافضی کذابوں کی روایت ہونا ہی کافی ہے!
    اہل سنت کا مؤقف یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ وعنہم کی خطاؤں کے ساتھ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی!
    نہ صحابی رضی اللہ عنہم کے ایمان پر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے، نہ ان کے اخلاص و نیت پر!
    اور یہ معاملہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھی!
    کہ ان کی خطاؤں کا بھی یہی معاملہ ہے!
     
    • مفید مفید x 3
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 25، 2017 #4
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    جزاکمااللہ خیراواحسن الجزاء
    لیکن رافضی دجال ہمارےماخذ اوراحادیث کومانتے کہاں ہیں ؟؟؟
     
  5. ‏اکتوبر 25، 2017 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,919
    موصول شکریہ جات:
    1,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    معاملہ اصل میں یہی ہے کہ چند نفوس (اہل بیت) کی معصومیت کو جواز فراہم کرنے کے لئے ہی روافض کی طرف سے اس قسم کے بے ہودہ سوال کیے جاتے ہیں- گناہ سے تو حضرت علی رضی الله عنہ اور ان کی آل بھی پاک نہیں تھی - خطائیں ان سے بھی ہوئیں- لیکن الله تبارک وتعالیٰ نے دیگر اصحاب کرام رضوان الله آجمین کی طرح ان اہل بیت کے اعلی درجہ کے ایمان کی بدولت ان کی خطاوں سے درگزر کردیا جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے-
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 25، 2017 #6
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    لیکن وہ ہماری احادیث کی کتب سے اپنا مطلب اچک لیتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 25، 2017 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,251
    موصول شکریہ جات:
    1,066
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    متفق.
    مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس میں غیر متفق والی کیا بات ہے؟
     
  8. ‏اکتوبر 25، 2017 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,406
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    اگر نہیں مانتے تو پھر ہم اپنا موقف کہاں سے لا کردیں ویسے ان کی کتابیں بھی بہت کچھ کہتی ہیں اگر یہ اعتراض کریں گے ہماری کتابوں پر تو انشاءاللہ ان کی کتابوں سے حوالے دیں گے
    وباللہ التوفیق
     
  9. ‏اکتوبر 26، 2017 #9
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    بسم اللہ کریں جناب
     
    Last edited: ‏اکتوبر 26، 2017
  10. ‏اکتوبر 26، 2017 #10
    اعظم بنارسی

    اعظم بنارسی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2017
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    17



    بسم اللہ کریں جناب تاکہ رافضیوں کوآئینہ دکھایاجاسکے
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. ابوالوفا محمد حماد اثری
    جوابات:
    0
    مناظر:
    305
  2. ابوالوفا محمد حماد اثری
    جوابات:
    0
    مناظر:
    424
  3. ابوالوفا محمد حماد اثری
    جوابات:
    0
    مناظر:
    462
  4. محمد نعیم یونس
    جوابات:
    42
    مناظر:
    4,002
  5. محمد عامر یونس
    جوابات:
    3
    مناظر:
    459

اس صفحے کو مشتہر کریں