1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک عام کینڈین مسلمان نے آزادی اظہار کا پول کھول دیا ،مغربی حکومتوں کو شرمندہ کر دیا !!!

'توہین رسالت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 22، 2015۔

  1. ‏جنوری 22، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ایک عام کینڈین مسلمان نے آزادی اظہار کا پول کھول دیا ،مغربی حکومتوں کو شرمندہ کر دیا

    19 جنوری 2015 (22:33)

    ٹورنٹو (نیوز ڈیسک) مغرب نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کو وطیرہ بنا لیا ہے اور جب مسلمان اس پر احتجاج کرتے ہیں تو ہمیشہ یہ جواب دیا جاتا ہے کہ یہ آزادی اظہار ہے اور یہی موقف اپنا کر ایک دفعہ پھر گستاخانہ خاکوں پر مبنی میگزین ”شارلی ایبو“ کی تقریباً ایک کروڑ کاپیاں چھاپی جا رہی ہیں۔

    کینیڈا کے ایک مسلمان نے مغرب کی ڈھٹائی اور منافقت کا بھانڈا پھوڑنے کیلئے نہایت سادہ طریقہ اختیار کیا اور پھر وہی ہوا جو مسلمان ہمیشہ سے کہتے آ رہے ہیں کہ اسلام کی توہین تو آزادی اظہار ہے لیکن جب یہودیوں کے ہولو کاسٹ (ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کی تباہی اور ہلاکت) کا انکار کیا جائے یا مغرب کے ناپسندیدہ موضوعات پر بات کی جائے تو یہ جرم ہے۔

    مس اسرائیل کی شرارت نے لبنانی حسینہ کو بڑی مشکل میں ڈال دیا،جان کے لالے پڑ گئے

    جیری ریڈک کینیڈا سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں اور ہاٹ ڈاگ برگر بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ”آئیے دیکھتے ہیں کہ جب آزادی اظہار کو مسلمانوں کی توہین کے علاوہ کسی بات کیلئے استعمال کیا جائے تو اس کی کتنی آزادی ہے“۔ اس کے بعد انہوں نے مندرجہ ذیل ٹویٹس بھیجیں۔

    1۔ کہتے ہیں کہ سب سے اچھے بھنے ہوئے یہودی پولینڈ اور جرمنی میں ملتے ہیں کیونکہ وہاں مٹی کے تندور استعمال کئے جاتے ہیں“۔

    2۔ ” میں 2001ءمیں سمجھا کہ امریکی اڑ سکتے ہیں، ویسے وہ نیویارک کے ورلڈٹریڈ سنٹر سے چھلانگیں لگا رہے تھے“۔

    3۔ ”ہٹلر نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہ وہ یہودیوں کو کیسے کھانا پسند کرتے ہیں۔ ان کا جواب تھا کہ اچھی طرح پکے ہوئے اور گول بریڈ اور یہودی روایات کے مطابق بنائے گئے اچار کے ساتھ“۔

    وہ نوجوان جس کے جسم کی بجلی بلب جلائے

    4۔ ”اگر میں ہٹلر کا کارٹون بناﺅں کہ وہ ”یہودیوں کو تندور میں پھینک رہا ہے تو کیا یہ بھی اسلام کی گستاخی والے خاکوں کی طرح قابل قبول ہو گا؟“

    مغربی میڈیا میں ہی شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ان ٹویٹس کے منظرعام پر آتے ہی قانون حرکت میں آ گیا اور نہ صرف جیری ریڈک کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بند کر دیا گیا بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ عین اس وقت مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بدترین توہین آمیز باتیں جاری ہیں اور یورپ کے درجنوں میگزین گستاخانہ خاکے شائع کر رہے ہیں۔

    http://dailypakistan.com.pk/daily-bites/19-Jan-2015/184897
     
  2. ‏جنوری 22، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10933744_503224406482492_1565338990388500397_n.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں