1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک قوم پرست کے سوالات: مطالعہ پاکستان کا نیا بے ہودہ امتحانی پرچہ

'تاریخ پاکستان' میں موضوعات آغاز کردہ از عاقل محمدی, ‏نومبر 06، 2016۔

  1. ‏نومبر 06، 2016 #1
    عاقل محمدی

    عاقل محمدی رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2015
    پیغامات:
    57
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
    فیس بک پر ایک جگہ ایک سندھی قوم پرست نے پوسٹ کی اور کچھ سوالات کیئے پاکستان کی تاریخ کے لحاظ سے، میں تاریخ سے اتنا واقف نہیں اس لیئے یہاں پوسٹ کر رہا ہوں، امید ہے ان کے جوابات مل جائیں گے۔
    سوال نمبر1 : اگر علامہ ڈاکٹر سر محمد علامہ اقبال نے واقعی خطبہ الہ آباد میں مسلمانان ہند کے لئے الگ آزاد مملکت کا مطالبہ پیش کیا تھا تو کس کی سازش کے تحت ان کے یہ الفاظ خطبے کے اصل متن سے غائب کئےگئے جبکہ مملکت خداداد کی تیسری جماعت سے لے کر ایم اے تک کے نصاب میں ان کا حوالہ موجود ہے؟
    سوال نمبر 2: نظریہ پاکستان کب اور کس نے لکھا تھا؟ قائداعظم محمد علی جناح کی تمام تقاریر میں نظریہ پاکستان نامی کسی ترکیب کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟ جنرل شیر علی خان پٹوڈی کون تھے اورکیا یہ ممکن ہے کہ ملک پہلے بن جائے اور نظریہ بعد میں جنم لے؟
    سوال نمبر 3: اگر دو قومی نظریے کے تحت مسلمانان ہند اور ہندووں کا تشخص اتنا جداگانہ تھا تو ہزار سال یہ اکٹھے کیسے رہتے رہے؟ اور اگر یہ دو قومی نظریہ جمہوریت کے خطرے سے عبارت تھا تو اس پر عمل درآمد کے بعد یہ کیونکر ممکن تھا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد پھر بھی ہندوستان ہی میں رہتی اور ایک الگ مملکت بننے سے جنم لینے والی نفرت کا کفارہ ہمیشہ کے لئے ادا کرتی؟ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو دو قومی نظریے کی رو سے فائدہ ہوا یا نقصان؟
    سوال نمبر 4: کیا دو قومی نظریے کے تحت پاکستان آج تمام ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی شہریت دینے کا پابند ہے؟
    سوال نمبر 5: کیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین بہاری بنگالی کہلائیں گے یا پاکستانی؟ اور اگر انہیں پاکستان بلایا گیا تو کون سا صوبہ کون سے نظریے کے تحت ان کا استقبال کرے گا؟
    سوال نمبر 6: اگر دو قومی نظریہ ایک آفاقی سچائی ہے تو کیا پاکستان کو برطانیہ، فرانس اور چین میں مسلمان آبادی کے لئے الگ ملک بنانے کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کرنی چاہئے؟
    سوال نمبر 7: دو قومی نظریے کی رو سے پاکستانیوں کو سعودی عرب، ایران ، ترکی یا متحدہ عرب امارات کی اعزازی شہریت کا حق حاصل کرنے کے لئے کیا اوآئ سی کے پلیٹ فارم پر آواز بلند کرنی چاہئے؟
    سوال نمبر 8: بنگلہ دیش کونسے نظریے کے تحت بنا؟ کیا ہمیں انہیں اب بھی مسلم برادر سمجھنا چاہئے؟
    سوال نمبر 9: کیا مسلمانوں کی اکثریت پاکستان بننے کے لئے تحریک کے دوران قتل ہوئی یا پاکستان بننے کےاعلان کے بعد فسادات کے دوران؟ کیا ان کی قربانیوں کی وجہ سے ملک بنا یا ملک بننے کی وجہ سے وہ قربان ہوئے۔ یہی سوال لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی عصمت دری کے حوالے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک ملک بننے کی قیمت میں کتنی لاشوں اور عزتوں کا سودا منافع بخش کہلائے گا؟
    سوال نمبر 10: ” خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی” سے کون سی قوم مراد ہے؟ اور یہ کہاں قیام پذیر ہے؟
    سوال نمبر 11: قیام پاکستان کے وقت مسلم لیگ کی اعلی قیادت میں جاگیرداروں، نوابزادوں، وڈیروں اور اشرافیہ کا کیا تناسب تھا؟ کیا یہ سب واقعی عوام کے غم میں گھلنے کے سبب ایک الگ مملکت کے قیام کے حامی تھے؟
    سوال نمبر 12: مسلم لیگ کے اولین اجلاس منعقدہ 1906 میں تاج برطانیہ سے وفاداری کے بارے میں موقف کیا تھا؟
    سوال نمبر 13: اگر جواہر لال نہرو عوام کی فلاح کے لئے لینڈ ریفارمز ایکٹ انڈیا میں نافذ کر سکتا تھا تو ہماری حکومت کے ہاتھ کس نے باندھے تھے بلکہ کس نے آج تک باندھے ہوئے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ انڈیا میں جاگیرداریاں ختم ہو گئیں لیکن ہم آج بھی ایک جاگیردارانہ معاشرہ ہیں؟ اس سوال کا جواب سوال نمبر 11 کے ساتھ ملا کر دیں
    سوال نمبر 14: اگر 1919 میں جلیانوالہ باغ میں 380 نہتوں کا قتل جنرل ڈائر، وائسرائے ہند اور ملکہ برطانیہ کے سر ہے تو اگست 1948 میں بابڑہ میں حکومتی گولیوں سے مرنے والے 1300 نہتوں اور پھر مرنے والوں کے خاندانوں سے گولیوں کی قیمت تک وصول کرنے کا الزام خان عبدالقیوم اور گورنر جنرل پر رکھنا جائز ہو گا؟ یاد رہے کہ اس سانحے سے ایک ماہ قبل قائداعظم کی خواہش پر ڈاکٹر خان کی حکومت ختم کر کے خان عبدالقیوم کو اقتدار سونپا گیا تھا۔ کیا ایسے واقعات مثلا ڈھاکہ بنگلہ بھاشا فائرنگ 1952، لالو کھیت فائرنگ 1965، مشرقی پاکستان ملٹری ایکشن 1971، لیاقت باغ فائرنگ 1973، ٹیکسٹائل کالونی فائرنگ 1978، 12 مئی کراچی فائرنگ 2007 وغیرہ کو مطالعہ پاکستان کی کتب میں شامل کرنا چاہئے یا جلیانوالہ باغ ہر سینہ کوبی ہی کافی ہو گی؟
    سوال نمبر 15: 1947 سے کے کر اب تک فسادات، دنگوں اور بم دھماکوں میں انڈیا میں کتنے مسلمان مرے ہیں او پاکستان میں کتنے؟ آپ چاہیں تو 1971 کے مقتولوں کو جواب سے خارج کر سکتے ہیں؟ کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اگر ایک ملک میں مرنے والے مسلمان دوسرے ملک میں مرنے والوں سے کئی گنا کم ہوں تو اس ملک کو مسلمانوں کے لئے زیادہ محفوظ سمجھا جائے؟
    سوال نمبر 16: اگر آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں لیکن پھر بھی آپ خریداری کے لئے بازار جا پہنچیں اور خریداری کی کوشش بھی کریں تو کیا یہ طرز عمل دانش مندانہ کہلائے گا؟
    اس پرچے کے لئے اتنے سوال کافی ہیں ۔ آپ ان کے جواب ڈھونڈیئے۔ میں اگلے پرچے کے لئے سوال ڈھونڈتا ہوں۔
    ان میں سے کوئی سوال لازمی نہیں ہے۔ اپ سارے سوال چھوڑ سکتے ہیں ۔ ویسے بھی تقریبا سات دہائیوں سے ہم یہی کر رہے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں آپ کو پورے نمبر ملیں گے۔
    ادھر ادھر سے پوچھنے اور نقل کرنے کھلی اجازت ہے۔
    جواب نہ دینا چاہیں تو بھی آئینہ توڑنے کی ضرورت نہیں، کبھی مستقبل میں بھی اپنی صورت دیکھنے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔​
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 06، 2016
  2. ‏نومبر 06، 2016 #2
    عاقل محمدی

    عاقل محمدی رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2015
    پیغامات:
    57
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    فارمیٹنگ کی سمجھ نہیں آ رہی تھی اس لیئے ایسے ہی پوسٹ کیا ہے!
     
  3. ‏نومبر 06، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ان سوالات کے جوابات عرصہ دراز سے موجود ہیں ۔ پهر بهی اس طرح کے سوالات ذہنوں میں اٹهنا کوئی نئی بات بهی نہیں ۔ ہاں تاریخ سے جوابات ڈهونڈهنا دشوار عمل هوگا ۔ تاریخ هند میں شفافیت نا کل تهی نا آج هے ۔ هر واقعہ کے کئی پہلو هوتے ہیں ، اب تاریخ لکهنے والا جس پہلو سے جتنا متاثر هو اس پہلو کو اتنا ہی اجاگر کرتا هے اور اسکی اس کوشش میں دیگر پہلو دب سے جاتے ہیں یا ان پر روشنی نہیں ڈالی جاتی ۔
    اتنے عرصے بعد اس طرح کے سوالات باقاعدہ ترتیب دے کر اٹهانے کے یقینا مقاصد هونگے ، اب ان مقاصد کو اجاگر کرنا اہمیت رکهتا هے یا ان سوالات کے جوابات دینا اس نقطہ خاص پر بهی توجہ ضرور کی جائے ۔
    شروع اس طرح کرنا چاهیئے کہ کئی سو سال سے سرزمین هند میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے رهتے چلے آرہے تهے ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام ، اس کے بعد برطانوی سامراج اور ملک کے سیاسی تغیرات کا اسکے تمام عوام پر اثر ۔ ظاہر سی بات هے کہ تمام عوام غلام اور محکوم هوگئی تهی محض سلطنت نہیں ۔ ایک مشہور مقولہ هیکہ هر سازش جو ناکام هوجائے بغاوت کہلاتی هے اور اگر کامیاب هوجائے تو انقلاب کہلاتی هے ، لیکن اس امر سے انحراف ناممکن ہیکہ وہ سازش نا ہو ۔ دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کے ساته کیا سلوک هوا؟ کسطرح بندر بانٹ کی گئی؟ سب سے زیادہ نقصان کسے پہونچایا گیا اور کیوں؟
    کس تاریخ داں نے ان سوالات کے حق پر مبنی جوابات دئیے ہیں آج تک !؟
    اس ملک جسے هہم هندوستان کہتے تهے یہ ملک ملکیت کس کی تها؟ کس کا ملک لٹا اور کسکی ملکیت گئی؟ ظاہر سی بات هے غم اسے ہی هوتا هے جسکا چهن جاتا هے یہاں تو سارا سب چهین لیا گیا ۔ حکومت تبدیل هونے سے عوام کے مفادات بهی تبدیل هوجاتے ہیں ۔ آپ چاہیں تو ایوب خان صاحب کے دور سے ضیاءالحق صاحب کے دور تک ہی دیکہیں کہ ایک ہی ملک ، ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے خیالات کس طرح بدل جاتے ہیں ۔ چہ جائکہ ایک کثیر المذاہب ملک جہاں سازشیں تار عنکبوت کی طرح تهیں کیا هونا تها اور کیا کیا جاسکتا تها ۔
    ایک فکر اس برطانوی غلامی کے دور میں علمائے اسلام هند کو یہ شدید تهی کہ اسلامی تشخص برقرار نا رہا ۔ خلط ملط عام هو گئی تهی ۔ قیام اسلامی ملک کا تصور کسے ایک مفکر ، شاعر ، ادیب یا سیاست دان کا نہیں تها بلکہ تمام اهل علم اس میں شامل تهے اور یہ هرگز نہیں بهولنا چاہیئے کہ مسلم عوام نے هر طرح قربانی دینے کا عزم پختہ کرلیا تها وگرنا کسی چیز کا قیام محض خواب بن کر رہ جانا تها ۔
    فسادات هوئے ، دونوں طرف ، کروائے کس نے؟ لوگ لٹے مرے لیکن آخر پس پردہ جو تهے انکی شناخت کس تاریخ داں نے کی؟
    تاریخ کی کتابوں میں وہ سب هو ہی نہیں سکتا جو کہ واقعی هوا تها تو ہم کہاں تلاش کریں ان سوالات کے جوابات؟
    جو ملا وہ تو وہ تها ہی نہیں جو همارا حق تها ۔ واقعتا ماچس کی ڈبیہ ہی ملی اور اسکے ہمراہ نفرتیں جنگیں تاکہ جو ڈبیہ هے وہ بهی سلامت نا رہے ۔ ایک بازو پہلے سے دور تها ۔ اب تو کاٹ بهی دیا گیا؟ کس تارخ داں نے ان ہاتهوں کی شناخت کی جنہوں نے اس بازو کو کاٹا؟
    جو هے وہ غنیمت هے ۔ اس کو سنبهالنا هے ، ستم پر ستم ہی کہ سنبهالے کون؟ تو ان سوالات کے پوچهے جانے کے مقاصد سمجهانے پڑینگے یا اب تک کا آپسی انتشار کافی سے زیادہ سمجها جائے؟
    کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا ۔ جواب تاریخ میں ہی نہیں هے ۔ اتنا ضرور هے کہ ماچس کی ڈبیہ کهٹکتی رهتی هے آنکهوں میں ۔ یہ سلسلہ اسکی آخری تیلی کی بربادی تک جاری رهیگا ۔ یہ اصل معاملہ هے اگر سمجها جائے تو ۔
    میرے ذاتی محسوسات ہیں ۔ آپ حساس ہیں تو اپنے احساس کو سطروں میں پیش کریں
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 06، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    نواب زادہ شیرعلی خان پٹوڈی
    میجر جنرل ریٹائرڈ نواب زادہ شیرعلی خان آف پٹوڈی نواب ابرہیم علی خان پٹوڈی کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ وہ 13 مئی 1913ء کو پٹوڈی ہریانہ
    ( موجودہ ہندوستاں ) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایچی سن کالج لاہور۔۔اور ۔۔ پرنس آف ویلز رائل انڈین ملٹری کالج دہرہ دون (انڈیا )اور رائل ملٹری کالج ساندھرست سے تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے ساتویں لائٹ کیولری آف انڈئن آرمی میں 1933ء میں کمیشن حاصل کیا اور پہلی بٹالین آف پنجاب رجمینٹ کی دوسری جنگ عظیم کے دوران کمان کی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد انڈین آرمڈ فورسز کے اتاشی کے طورپرواشنگٹن میں خدمات انجام دیں۔ وہ جنرل یحیٰ خان کی کابینہ میں وفاقی وزیراطّلاعات ونشریات اور قومی امور بھی رہے۔ وہ کئی سال پاکستان پولو ٹیم کے ممبر بھی رہے۔ انکے بیٹے میجرجنرل اسفندیارعلی خان نے بھی پاکستان آرمی میں خدمات انجام دیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 06، 2016 #5
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    مطالعہ پاکستان کا نیا بے ہودہ امتحانی پرچہ

    August 23, 2016

    M. Usman Faooq

    (حل شدہ مع جوابات)

    محترم حاشر بن ارشاد صاحب آپ نے جو بے ہودہ پرچہ بنایا ہے اور جس میں لمبے لمبے سوالات کیے ہیں انکے جوابات حاضر ہیں مجھے پتا ہے کہ آپ لوگوں کے گھٹنوں میں اتنا پانی نہیں ہے کہ آپ میرے یہ جوابا ت شائع کر سکیں لہذا آپ کو جواب ادھر ہی دے رہا ہوں

    سوال نمبر1: اگر علامہ ڈاکٹر سر محمد علامہ اقبال نے واقعی خطبہ الہ آباد میں مسلمانان ہند کے لئے الگ آزاد مملکت کا مطالبہ پیش کیا تھا تو کس کی سازش کے تحت ان کے یہ الفاظ خطبے کے اصل متن سے غائب کیے گئے جبکہ مملکت خداداد کی تیسری جماعت سے لے کر ایم اے تک کے نصاب میں ان کا حوالہ موجود ہے؟

    جناب کیا یہ ممکن نہیں کہ اس متن سے وہ الفاظ ہی غائب کردیئے جائیں؟ چلیں متن کو چھوڑیں آپ یہ بتائیں کیا آپ اقبال کی شاعری سے اتفاق کرتے ہیں یا آپ کے خیال میں یہ اقبال کی شاعری بھی انکے وفات کے برسوں بعد ضیاالحق کے دور میں لکھی گئی؟

    سوال نمبر 2: نظریہ پاکستان کب اور کس نے لکھا تھا؟ قائداعظم محمد علی جناح کی تمام تقاریر میں نظریہ پاکستان نامی کسی ترکیب کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟ جنرل شیر علی خان پٹوڈی کون تھے اورکیا یہ ممکن ہے کہ ملک پہلے بن جائے اور نظریہ بعد میں جنم لے؟

    محترم دنیا بہت ترقی کر چکی ہے یوٹیوب پر جائیں آپکو کافی تقاریر مل جائیں گی جن میں قائداعظم فرماتے ہیں کہ ہمارا تہذیب و تمدن ہماری روایات سب کچھ ہندووں سے الگ ہے اور اسی چیز کو دو قومی نظریہ کہتے ہیں


    سوال نمبر 3: اگر دو قومی نظریے کے تحت مسلمانان ہند اور ہندووں کا تشخص اتنا جداگانہ تھا تو ہزار سال یہ اکٹھے کیسے رہتے رہے؟

    ہزاروں سال اکٹھے ایسے رہے کیونکہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی


    اور اگر یہ دو قومی نظریہ جمہوریت کے خطرے سے عبارت تھا تو اس پر عمل درآمد کے بعد یہ کیونکر ممکن تھا کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد پھر بھی ہندوستان ہی میں رہتی اور ایک الگ مملکت بننے سے جنم لینے والی نفرت کا کفارہ ہمیشہ کے لئے ادا کرتی؟ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو دو قومی نظریے کی رو سے فائدہ ہوا یا نقصان؟

    انڈیا میں مسلمان قتل ہو جائے تو فیصلہ ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں البتہ گائے ذبح کر دو تو ہندو لوگ فیصلہ چند گھنٹوں میں کرتے ہیں اور آجکل تو انڈیا میں گھر واپسی نامی تحریک بھی چل رہی ہے جس میں مسلمانوں کو بذور بازو ہندو بننے پر مجبور کیا جارہا ہے تو فیصلہ آپ خود کر لیں کہ مسلمانوں کو فائدہ ہوا یا نقصان ہوا

    سوال نمبر 4: کیا دو قومی نظریے کے تحت پاکستان آج تمام ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستانی شہریت دینے کا پابند ہے؟

    اگر کوئی شہریت مانگے یا پھر پاکستان میں آ کر رہنا شروع کر دے تو اس کو شہریت مل جاتی ہے اس کا باقاعدہ ایک طریقہ کار ہے جوکہ آپکو نادرا سے پتہ چل جائے گا ویسے سوال تو آپ سے بھی ہو سکتا ہے کہ کیا ایک قومی نظریے کے تحت انڈیا تمام پاکستانیوں کو انڈین شہریت دینے کا پابند ہے؟

    سوال نمبر 5: کیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین بہاری بنگالی کہلائیں گے یا پاکستانی؟ اور اگر انہیں پاکستان بلایا گیا تو کون سا صوبہ کون سے نظریے کے تحت ان کا استقبال کرے گا؟

    میرے بھولے بادشاہ پاکستان میں کبھی کسی کو بلانے کے لیے رکشے کا کرایہ نہیں بھیجا جاتا جس کو آنا ہوتا ہے خود آ جاتا ہے جب وہ لوگ آئیں تو وقت اور حالات کے مطابق اس وقت کی حکومت خود فیصلہ کر لے گی۔ آپ پریشانی میں نہ گھلیں۔


    سوال نمبر 6: اگر دو قومی نظریہ ایک آفاقی سچائی ہے تو کیا پاکستان کو برطانیہ، فرانس اور چین میں مسلمان آبادی کے لئے الگ ملک بنانے کی قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کرنی چاہئے؟

    ہر نظریے کا ایک بیک گراونڈ ہوتا ہے۔ فرض کرو اگر امریکہ پر قبضہ کر کے روس انکو غلام بنا لیتا ہے اور کئی صدیوں تک امریکہ میں قبضہ جما کر وہاں اپنی آبادی بڑھا لیتا ہے تو امریکیوں کو جب آزادی کا موقع ملے گا وہ لازمی کہیں گے کہ ہم چونکہ امریکی ہیں ہم روس کے ساتھ نہیں چل سکتے ہمیں الگ وطن دو۔ جس طرح جرمن اور ترکی دو الگ قومیں ہیں اسی طرح ہندو مسلمان دو الگ قومیں ہیں یہ ہے دوقومی نظریہ جو کہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ ادھر تک جو بات ہوئی وہ ہے دوقومی نظریہ اب اس نظریے کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہندو ہمارے لیے مسائل پیدا کریں گے لہذا ہمیں الگ وطن دو ٹھیک۔۔۔؟

    جب باقی ممالک کے مسلمان بھی کبھی ایسا کوئی مطالبہ کریں گے تو پھر سوچ لیا جائے گا کیا کرنا ہے۔ہر بات کا تعلق اس خطے کے مخصوص حالات اور سیاسی صورتحال سے ہوتا ہے بھولے بادشاہو


    سوال نمبر 7: دو قومی نظریے کی رو سے پاکستانیوں کو سعودی عرب، ایران، ترکی یا متحدہ عرب امارات کی اعزازی شہریت کا حق حاصل کرنے کے لئے کیا اوآئی سی کے پلیٹ فارم پر آواز بلند کرنی چاہئے؟

    اس سوال کا جواب آپکے اوپر والے سوال میں دیا جا چکا ہے۔


    سوال نمبر 8: بنگلہ دیش کونسے نظریے کے تحت بنا؟ کیا ہمیں انہیں اب بھی مسلم برادر سمجھنا چاہئے؟

    بنگلہ دیش ہند ومسلم دشمنی کے نظریے کے تحت بنا یقین نہیں آتا تو یوٹیوب پر موجود بنگلہ دیش میں نریندر مودی کا اعتراف جرم سن لو۔ جدھر تک بات مسلم برادر سمجھنے کی ہے تو میرے خیال میں تو سمجھنا چاہیئے اور وہاں کے لوگوں کو حسینہ واجد کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے مکتی باہنی جیسی ایک عظیم فورس بھی بنانی چاہیئے۔

    سوال نمبر 9: کیا مسلمانوں کی اکثریت پاکستان بننے کے لئے تحریک کے دوران قتل ہوئی یا پاکستان بننے کے علان کے بعد فسادات کے دوران؟ کیا ان کی قربانیوں کی وجہ سے ملک بنا یا ملک بننے کی وجہ سے وہ قربان ہوئے۔ یہی سوال لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی عصمت دری کے حوالے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک ملک بننے کی قیمت میں کتنی لاشوں اور عزتوں کا سودا منافع بخش کہلائے گا؟

    آزادی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی بھولے بادشاہو کاش آپ مقبوضہ کشمیر میں ہوتے اور آپکے خاندان کا انڈین آرمی ریپ کرتی پھر میں آپ سے یہی سوال پوچھتا تو آپ کیا جواب دیتے؟


    سوال نمبر 10: ”خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی”سے کون سی قوم مراد ہے؟ اور یہ کہاں قیام پذیر ہے؟

    پہلے یہ بتائیں کہ کیا آپ مانتے ہیں یہ شعر اقبال کا ہے یا آپ کے خیال میں یہ شعر بھی جنر ل ضیاالحق نے دلوایا تھا۔ سادہ زبان میں جواب یہ ہے کہ اس سے مراد مسلمان قوم ہے اور یہ شعر اس وقت کہا گیا جب مسلمان برصغیر میں غلام تھے۔ اقبال کے انہی شعروں سے تڑپ لے کر مسلمانوں نے پھر پاکستان بنایا تھا مگر خیر چھوڑیئے آپکو تو پاکستان کا بننا پسند ہی نہیں تھا


    سوال نمبر 11: قیام پاکستان کے وقت مسلم لیگ کی اعلی قیادت میں جاگیرداروں، نوابزادوں، وڈیروں اور اشرافیہ کا کیا تناسب تھا؟ کیا یہ سب واقعی عوام کے غم میں گھلنے کے سبب ایک الگ مملکت کے قیام کے حامی تھے؟

    پہلے یہ بتائیں کہ جاگیر رکھنا یا نواب ہونا کوئی جرم ہے؟ یا پھر نواب ہوکر ظلم کرنا جرم ہے۔ غلط بات کو غلط نہ کہو مگر کوئی اگر دولت رکھتا ہے صرف اس وجہ سے اس سے نفرت کرنا ضروری ہوتا ہے؟ مسلم لیگ میں اگر اشرافیہ زیادہ تھی تو آپ کو کیوں مرچیں لگیں ہیں آپ کے آباو اجداد میں اتنا دم تھا تو کانگریس کے ساتھ مل کر پاکستان کا بننا روک لیتے نا؟ کیا کانگریس میں کوئی اشرافیہ نہیں تھی؟

    سوال نمبر 12: مسلم لیگ کے اولین اجلاس منعقدہ 1906 میں تاج برطانیہ سے وفاداری کے بارے میں موقف کیا تھا؟

    سیاسی پارٹیوں نے وقت اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے قائداعظم بھی پہلے مشترکہ ملک کے حامی تھے مگر جب دیکھا کہ ہندو کے ساتھ نہیں چل سکتے تو الگ ملک بننے کا فیصلہ ہوا اب سوال یہ نہیں کہ 1906 میں مسلم لیگ کا کیا موقف تھا؟ سوال یہ ہے کہ 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ کا کیا موقف تھا اور کیا تاج برطانیہ اس موقف سے خوش تھا؟ کیا کانگریس اس موقف کو روک پائی تھی؟


    سوال نمبر 13: اگر جواہر لال نہرو عوام کی فلاح کے لئے لینڈ ریفارمز ایکٹ انڈیا میں نافذ کر سکتا تھا تو ہماری حکومت کے ہاتھ کس نے باندھے تھے بلکہ کس نے آج تک باندھے ہوئے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ انڈیا میں جاگیرداریاں ختم ہو گئیں لیکن ہم آج بھی ایک جاگیردارانہ معاشرہ ہیں؟ اس سوال کا جواب سوال نمبر 11 کے ساتھ ملا کر دیں

    تبھی تو انڈیا میں آج دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ تبھی تو دنیا میں سب سے زیادہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے انڈیا میں ہیں تبھی تو آج انڈیا کو دنیا میں ریپ کا درالحکومت کہا جاتا ہے

    سوال نمبر 14: اگر 1919 میں جلیانوالہ باغ میں 380 نہتوں کا قتل جنرل ڈائر، وائسرائے ہند اور ملکہ برطانیہ کے سر ہے تو اگست 1948 میں بابڑہ میں حکومتی گولیوں سے مرنے والے 1300 نہتوں اور پھر مرنے والوں کے خاندانوں سے گولیوں کی قیمت تک وصول کرنے کا الزام خان عبدالقیوم اور گورنر جنرل پر رکھنا جائز ہو گا؟ یاد رہے کہ اس سانحے سے ایک ماہ قبل قائداعظم کی خواہش پر ڈاکٹر خان کی حکومت ختم کر کے خان عبدالقیوم کو اقتدار سونپا گیا تھا۔ کیا ایسے واقعات مثلا ڈھاکہ بنگلہ بھاشا فائرنگ 1952، لالو کھیت فائرنگ 1965، مشرقی پاکستان ملٹری ایکشن 1971، لیاقت باغ فائرنگ 1973، ٹیکسٹائل کالونی فائرنگ 1978، پکا قلعہ حیدر آباد فائرنگ 1989، 12 مئی کراچی فائرنگ 2007 وغیرہ کو مطالعہ پاکستان کی کتب میں شامل کرنا چاہئے یا جلیانوالہ باغ ہر سینہ کوبی ہی کافی ہو گی؟

    آپ نے بہت سارے واقعات کا ذکر کر دیا ہر واقعے کو سمجھنے کے لیے اسکا سیاق وسباق سمجھنا ضروری ہوتا ہے فی الحال آپکے موٹے دماغ کے لیے اتنا سمجھ لیں کہ حکومتیں بغاوتوں کو کچلنے کے لیے گولیاں بھی چلاتیں ہیں اور قتل بھی ہوتے ہیں دنیا کی کسی ایک حکومت کا بتا دو جس کی تاریخ میں ایسے ملتے جلتے واقعات نہ ہوں۔

    سوال نمبر 15: 1947 سے کے کر اب تک فسادات، دنگوں اور بم دھماکوں میں انڈیا میں کتنے مسلمان مرے ہیں اور پاکستان میں کتنے؟ آپ چاہیں تو 1971 کے مقتولوں کو جواب سے خارج کر سکتے ہیں؟ کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اگر ایک ملک میں مرنے والے مسلمان دوسرے ملک میں مرنے والوں سے کئی گنا کم ہوں تو اس ملک کو مسلمانوں کے لئے زیادہ محفوظ سمجھا جائے؟

    آپ یہ تقابل صرف کشمیر سے کرلیتے تو کافی بہتر ہوتا۔اور اس سوال میں پاکستان سے پکڑے جانے والے بھارتی فوج کے حاضر سروس جاسوس کے بیانات بھی شامل کرلیتے تو کتنا ہی اچھا ہوتا۔اپنی مرضی کے واقعات یاد رکھنا اور جو پسند نہ آئیں ان واقعات کا ذکر گول کرجانا بری بات ہوتی ہے

    سوال نمبر 16: اگر آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں لیکن پھر بھی آپ خریداری کے لئے بازار جا پہنچیں اور خریداری کی کوشش بھی کریں تو کیا یہ طرز عمل دانش مندانہ کہلائے گا؟

    یہ بات کس حدیث کی کتاب میں لکھی ہے؟ پاکستان کا بننا خریداری نہیں جدوجہد تھا۔ اور ہر بات کا ایک سیاق وسباق ہوتا ہے جو اس سے ہٹ کر بات کرتا ہے اسے کیا کہا جاتا ہے آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔

    آخر میں آپ میں ذرا بھی اخلاقی جرات ہے تو ان جوابات کو بھی اتنے ہی اہتمام سے شائع کیجئے گا جتنے اہتمام سے سوالات شائع کیے تھے-

     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 06، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    محترم کنعان بهائی نے انتہائی اختصار سے لیکن ہر ہر سوال کا جواب دیا هے ۔
    بیرون تو بیرون اندرون سے بهی خطرہ هے ۔
    اللہ حفاظت کرے کہ کافی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمرہ هے جسے نام دیا گیا پاکستان ۔
     
  7. ‏نومبر 06، 2016 #7
    عاقل محمدی

    عاقل محمدی رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2015
    پیغامات:
    57
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    جزاک اللہ خیر۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں