1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک ماں کی اپنے بچوں سے محبت !!!

'والدین کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 19، 2013۔

  1. ‏دسمبر 19، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ایک ماں کی اپنے بچوں سے محبت !!!
    1499452_685146251529929_699914948_n.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 19، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1480635_398146670320528_1106485031_n.jpg
     
  3. ‏دسمبر 22، 2013 #3
    خوارجی کی حقیقت

    خوارجی کی حقیقت رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏نومبر 09، 2013
    پیغامات:
    329
    موصول شکریہ جات:
    132
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏نومبر 29، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ﺳﻤﻨﺪﺭﮐﻨﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﮧ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﺴﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ
    ﭼﻠﯽ ﺗﻮ ﭼﮍﯾﺎ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﮔﯿﺎ ﭼﮍﯾﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ
    ﺍُﺳﮑﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﮔﯿﻠﮯ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﮭﮍﺍ ﮔﺌﯽ ....۔۔

    ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﮩﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﻨﮏ ﺩﮮ ﻣﮕﺮ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﭼﮍﯾﺎ ﺑﻮﻟﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﺟﺎﻭُﮞ ﮔﯽ
    ﺗﺠﮭﮯ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﻭﻧﮕﯽ ... ﺳﻤﻨﺪﺭﺍﭘﻨﮯ ﻏﺮﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺟﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﭼﮍﯾﺎ
    ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻏﺮﻕ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﺗﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﯿﺎ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑﺘﯽ
    ﮨﮯ؟
    ﭼﮍﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺳُﻨﺎ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻞ ﭘﮭﺮﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎ ﺍﺳﯽ
    ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍُﺱ ﻧﮯﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺑﮭﺮﺍ ﺍُﻭﺭ ﺍﮌ ﮐﮯﺩﺭﺧﺖ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﭘﮭﺮ ﺁﺋﯽ
    ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮭﺮﺩﺭﺧﺖ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﺍُﺱ ﻧﮯ 8-7 ﺑﺎﺭ ﺩُﮬﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ : ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯﻟﮕﯽ
    ﮨﮯ ؟ ﻣﮕﺮﭼﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺩُﮬﺮﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ 25-22
    ﺑﺎﺭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻧﮯﺍﯾﮏ ﺯﻭﺭ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻣﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ
    ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ ...
    ﺩﺭﺧﺖ ﺟﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯﺑﻮﻻ ﺍﮮ ﻃﺎﻗﺖ
    ﮐﮯﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯﺍﺱ
    ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺳﮯﮈﺭﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ؟
    ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺑﻮﻻ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺳﺠﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺠﮭﮯﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺍُﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎﮨﻮﮞ ﺍﮎ ﭘﻞ
    ﻣﯿﮟ ﺩُﻧﯿﺎ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎﺳﮯ ﮈﺭﻭﻧﮕﺎ؟
    ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﺳﮯﮈﺭﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﺎﮞ ﮐﮯﺟﺬﺑﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﮨﻮﮞ ﺍﮎ ﻣﺎﮞ
    ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮﻋﺮﺵ ﮨﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ .. ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ
    ﻣﺠﮭﮯﭘﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﮨﯽ ﺩﮮﮔﯽ ....
    ﻣﺎﮞ " ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ " ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻋﻈﯿﻢ
    ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ .. ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐیجیے ..
    ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﮯ ﺩﻋﺎﺀ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮬﻤﯿﮟ
    ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ
    ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ .. ﺁﻣﯿﻦ ثم آمین

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں