1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک مجلس کی تین طلاقوں سے متعلق حدیث رکانہ کے متعلق معلومات درکار ہے

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ اہل حدیث, ‏دسمبر 19، 2019۔

  1. ‏دسمبر 19، 2019 #1
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


    ایک مجلس کی تین طلاقوں کے ایک ہونے سے متعلق حدیث رکانہ کی معلومات درکار ہے


    کسی بھائی کی نظر میں اس متعلق مفصل بحث تو بتائے یا کوئی ٹھریڈ ہو اس متعلق جس میں اس حدیث پر مفصل بحث کی گئی ہو یا شیخ کفایت اللہ صاحب نے مجلہ اہل سنہ کے کسی شمارہ پر یا دوسرے کسی عالم نے اس حدیث پر بحث کی ہو تو ہمیں مطلع کرے تاکہ ہم پڑھ سکیں

    @خضر حیات @اسحاق سلفی @عدیل سلفی @عمر اثری @کفایت اللہ

    برائے مہربانی جتنا جلدی ہو سکے ہمیں معلومات فراہم کریں

    اللہ آپ سب کو جزائے خیر دے
     
  2. ‏دسمبر 19، 2019 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,382
    موصول شکریہ جات:
    1,083
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    https://forum.mohaddis.com/threads/ایک-مجلس-کی-تین-طلاق-سے-متعلق-حدیث-رکانہ-مسند-احمد-پر-بحث.36234/
     
  3. ‏دسمبر 19، 2019 #3
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    156
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    29


    بھائی پر اس میں تو شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ نے صرف اس روایت کو نقل کر کے اعتراضات پوچھے ہیں
    اور ایک بھائی نے ان کو اس حدیث پر اعتراضات بتائے ہیں

    کوئی اس حدیث کی صحت پر بحث نہیں ہے

    کوئی اور ٹھریڈ ہے کیا؟
     
  4. ‏دسمبر 24، 2019 #4
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    651
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    حالت حیض میں طلاق دینا ناجائز مگر طلاق ہوجائے گی

    صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیماً ان کو رجوع کا حکم دیا مگر وہ ایک طلاق شمار ہوئی۔ جیسا کہ خود ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان صحیح مسلم میں ہے۔
    قُلْتُ: فَاعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طَلَّقْتَ وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: «مَا لِيَ لَا أَعْتَدُّ بِهَا، وَإِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ» (صحيح مسلم )۔


    ایک مجلس میں تین طلاق دینا ناجائز مگر ہو جائیں گی

    فاطمہ بنت قیس کو اس کے شوہر نے یمن جانے سے پہلے تین طلاق دیں جس کے تین ہونے کی تصدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔
    طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ابن ماجہ)۔

    ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ اس نے اپنی بیوی کو سو طلاق دی ہے تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا؛
    طَلُقَتْ مِنْكَ لِثَلَاثٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا (مؤطا مالک)

    علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تین طلاق ہیں (مؤطا مالک)۔

    طلاق رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قضیہ

    رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق طلاق طلاق تین دفعہ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو رکانہ نے قسم کھا کر کہا کہ اس کا ارادہ ایک طلاق کا تھا۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ سے تین دفعہ قسم اٹھوائی اور انہوں نے تینوں دفعہ قسم کھا کر یہی کہا کہ ان کا ارادہ ایک ہی کا تھا۔
    أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟» ، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ابوداؤد)۔

    عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نیت کی تحقیق سے انکار

    عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں جب طلاق کی تعداد زیادہ ہوگئی نو مسلموں کے سبب تو نیت کی تحقیق سے بری الذمہ ہوتے ہوئے طلاق طلاق طلاق جیسے الفاظ استعمال کرنے والوں پر تین ہی کا اطلاق کردیا۔

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں