1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہیں

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از ڈاکٹر محمد یٰسین, ‏مئی 28، 2016۔

  1. ‏مئی 29، 2016 #11
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    281
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    مسئلہ طلاق کی تفہیم کے لئے ایک سوال۔ امید ہے ٹھنڈے مزاج سے جواب دینے والے جواب دیں گے۔
    سوال
    ایک شخص نے یکم شعبان کو اپنی زوجہ کو بحالتِ طہر طلاق دی۔ دوسری دوسرے طہر میں اور تیسری تیسرے طہر میں۔اس عورت کی عدت کس مہینہ کی کس تاریخ کو پوری ہوگی؟
     
  2. ‏مئی 30، 2016 #12
    ڈاکٹر محمد یٰسین

    ڈاکٹر محمد یٰسین مبتدی
    جگہ:
    شوراپور
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 31، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    احناف حضرات کی ایک دلیل یہ ہے کہ ''حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے جب اسں قسم کے مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں مجھے رجوع کا حکم دیا تھا اور اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو یقینا وہ تم پر حرام ہوگئی ہے جب تک کہ وہ تیرے بغیر کسی اور مرد سے نکاح نہ کرلے اور اس طرح تو نے اپنی بیوی کو طلاق دینے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی بھی کی ہے۔'' (صحیح مسلم, کتاب الطلاق)

    جواب: اَحناف کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک لفظ سے ہوں جیسے ''تجھ کو تین طلاق ہے۔'' یا متعدد الفاظ سے ہوں ، جیسے ''تجھ کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔''یہ دونوں صورتیں تین طلاق کے حکم میں ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کامذکورہ فیصلہ ان کے دعویٰ کی حمایت نہیں کرتا، بلکہ ان کا یہ جملہ کہ ''تم نے ایک بار یا دو بار طلاق دی ہوتی'' اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کایہ فیصلہ اکٹھی تین طلاقوں کے بارے میں نہیں بلکہ متفرق طور پر طلاقیں دینے کے بارے میں ہے۔ یہ قرینہبھی اس کی تائید کرتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: ''فإن النبي! أمرني بھذا'' کہ'' رسول اﷲ صلیاللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی کا حکم دیاتھا۔'' ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفعتہً اکٹھی تین طلاقیں دینے کا حکم نہیں دیاتھاجو کہ بدعت ہے بلکہ متفرق طور پر طلاق دینے کا حکم دیاتھا۔ (جو کہ جائز بلکہحسن طلاق ہے)
     
  3. ‏مئی 30، 2016 #13
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    پیارے بھائی جان جو روایت میں نے پیش کی ہے اس روایت میں اصل اعتراض اس بات پر کیا جاتا ہے کہ اگر وقفے سے تین طلاقیں دی تو یہ اللہ تعالی کی نافرمانی کیسے ہے؟

    میری پیش کردہ روایت کے الفاظ
    اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے دیں تو تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی

    بس اسی کا جواب چاہئے اس پر کچھ روشنی ڈال دیں جزاک اللہ خیراً
     
  4. ‏مئی 30، 2016 #14
    ڈاکٹر محمد یٰسین

    ڈاکٹر محمد یٰسین مبتدی
    جگہ:
    شوراپور
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 31، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد حالتِ حیض میں دی گئی تین متفرق طلاقیں ہیں جس کے بعد بیوی بائنہ یعنی ہمیشہ کے لئےجدا ہو جائیگی۔ اس طرح حالت حیض میں تین متفرق طلاقیں دینا بھی رب کی نافرمانی ہے۔ اسلئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حالت طہر میں تین متفرق طلاقیں دینے کا حکم دیا تھا۔
    یاد رہے کہ ابن عمر عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اُس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا تھا جس نے حالت حیض میں طلاق دی ہو تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث میں مذکورہ جواب دیا۔
     
  5. ‏مئی 30، 2016 #15
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,885
    موصول شکریہ جات:
    8,135
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شاید آپ نے اوپر والی تحریر ملاحظہ نہیں کی ، کیونکہ پوسٹ نمبر 5 میں دلیل نمبر 6 کے تحت بھی اس کا تفصیلی جواب گزر چکاتھا ۔
     
  6. ‏مئی 30، 2016 #16
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,672
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    متفق۔
    لیکن دیکھا جائے تو حضرت عمر رض کے فیصلے کی جو علت ہے وہ بھی بطریق اولی موجود ہے۔ اور حرام میں پڑنے سے احتیاط بھی اسی میں ہے۔ (از راہ کرم اس بات پر حلالہ کی بحث نہ کی جائے، میں سنجیدہ بات کر رہا ہوں۔)
    تو میرا یہ خیال ہے کہ سائل کی حالت دیکھ کر فتوی دینا چاہیے۔ اگر وہ ظاہرا باشرع، عاقل اور دین دار معلوم ہوتا ہے تو ایک کا فتوی دینا چاہیے اور اگر اس کے یا اس کی بات کے ظاہر سے یہ لگتا ہے کہ اس نے غصے میں آ کر تین طلاقیں دی ہیں اور اب اپنی نیت کا اظہار غلط کر کے ایک کا فتوی لینا چاہ رہا ہے تو تین کا فتوی دینا چاہیے۔

    لیکن یہ یاد رہے کہ یہ سب اس وقت ہے جب اس نے "طلاق، طلاق، طلاق" کہا ہو۔ اگر اس نے صراحت سے "تجھے تین طلاق ہے" کہا ہو تو اس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ ائمہ اربعہ کے ہاں تین ہی ہوں گی۔
    اہل حدیث حضرات کا موقف مجھے معلوم نہیں۔
     
  7. ‏مئی 30، 2016 #17
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    جی بھائی جان میں نے پڑھا لیکن پوسٹ نمبر ۵ میں دلیل نمبر ۶ کے تحت میری پیش کردہ روایت نہیں ہے بلکہ اس سے ملتی جلتی ہے میری روایت کا آخری حصہ ملاحظہ کریں

    " اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے دیں تو تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی"

    جزاک اللہ خیراً
     
  8. ‏مئی 30، 2016 #18
    ڈاکٹر محمد یٰسین

    ڈاکٹر محمد یٰسین مبتدی
    جگہ:
    شوراپور
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 31، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    وعلیکمالسلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد حالتِ حیض میں دی گئی تین متفرق طلاقیں ہیں جس کے بعد بیوی بائنہ یعنی ہمیشہ کے لئےجدا ہو جائیگی۔ اس طرح حالت حیض میں تین متفرق طلاقیں دینا بھی رب کی نافرمانی ہے۔ اسلئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حالت طہر میں تین متفرق طلاقیں دینے کا حکم دیا تھا۔
    یاد رہے کہ ابن عمر عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اُس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا تھا جس نے حالت حیض میں طلاق دی ہو تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث میں مذکورہ جواب دیا۔
     
  9. ‏مئی 30، 2016 #19
    عامر عدنان

    عامر عدنان رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    497
    موصول شکریہ جات:
    199
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    عمدہ جواب

    جزاک اللہ خیراً
     
  10. ‏مئی 30، 2016 #20
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,672
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یہ مراد کیسے معلوم ہو رہی ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں