1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک مجلس کی تین طلاق سے متعلق حدیث رکانہ (مسند احمد) پر بحث

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جولائی 11، 2017۔

  1. ‏جولائی 18، 2017 #11
    انصاری محبوب حسين

    انصاری محبوب حسين رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    یہ کچھ اور اعتراض احناف میڈیا ڈیجیٹل ویب سائٹ پر مولوی الیاس گھمن کے نام سے تھے وہ بھی حاظر ہے


    یہ روایت بھی قابل احتجاج نہیں۔
    اولاً…… اس کی سند میں ایک راوی ”محمد بن اسحاق“ ہے جس پر ائمہ محدثین و وغیرہ نے سخت جرح کر رکھی ہے۔
    (1)

    امام نسائی: ليس بالقوي.
    (2)

    (الضعفاء و المتروکین للنسائی: ص201 رقم الترجمۃ513)
    (2) امام دارقطنی:لا يحتج به.
    (3) امام سلیمان التیمى: كذاب.
    (4) امام ہشام بن عروة:كذاب.
    (5) امام یحیىٰ القطان: أشهد أن محمد بن إسحاق كذاب.
    (6) امام مالك: دجال من الدجاجلة.
    (میزان الاعتدال: ج4 ص47، 48 )
    وقال ایضاً: محمد بن إسحاق كذاب.
    (تاریخ بغداد: ج1 ص174)
    (7) خطیب ابو بکر بغدادی:
    أما كلام مالك في بن إسحاق فمشهور غير خاف على أحد من أهل العلم بالحديث.
    (تاریخ بغداد: ج1 ص174)
    (8) علامہ شمس الدین ذہبی:
    أنه ليس بحجة في الحلال والحرام.
    (تذکرۃ الحفاظ: ج1 ص130)
    (9) حافظ ابن حجر عسقلانی:
    وابن إسحاق لا يحتج بما ينفرد به من الأحكام فضلا عما إذا خالفه من هو أثبت منه.
    (الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ لابن حجر العسقلانی: ج1 ص265 باب الاحرام)
    ٭ نواب صدیق حسن خانؒ ایک سند کے بارے میں کہ جس میں محمد بن اسحاق واقع ہے، لکھتے ہیں:
    در سندش ہمان محمد بن اسحاق است، و محمد بن اسحاق حجت نیست۔
    (دلیل الطالب: ص239)
    محمد بن اسحاق کا ضعیف، متکلم فیہ اور کذاب ہونا تو اپنی جگہ، مزید براں کہ اسے خطیب بغدادی، امام ذہبی اور امام ابن حجر رحمہم اللہ نے شیعہ بھی قرار دیا ہے۔
    (تاریخ بغداد ج 1ص174، سیر اعلام النبلاء: ج 7ص23 ، تقریب : ص498 رقم 5725)
    کتب شیعہ میں بھی اس کو شیعہ کہا گیا ہے۔
    ( رجال کشی : ص280، رجال طوسی ص281)
    اوراصول حدیث کا قاعدہ ہے :
    ان روی ما یقوی بدعتہ فیرد علی المختار.
    (شرح نخبۃ الفکر مع شرح ملا علی القاری ص159)
    کہ بدعتی راوی کی روایت اگر اس کی بدعت کی تائید کرتی ہو تو نا قابل قبول ہوتی ہے۔
    چونکہ شیعہ حضرات کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک شمار ہوتی ہے (جیسا کہ باحوالہ گزرا) اور یہ روایت ان کے اس عمل کی تائید کرتی ہے۔ لہذا اصول مذکور کے تحت یہ روایت ناقالِ قبول ہو گی۔
    ثانیاً…… اس کی سند میں ایک دوسرا راوی ”داؤد بن حصین“ ہے۔ یہ بھی سخت مجروح اور متکلم فیہ راوی ہے۔
    (1) امام ابو زرعہ: لين.
    (2) امام سفيان ابن عیینہ: كنا نتقى حديثه.
    (3) محدث عباس الدوري:
    كان داود بن الحصين عندي ضعيفا.
    (میزان الاعتدال: ج2 ص7 )
    (4) امام ابو حاتم ا لرازی: ليس بالقوي.
    (5) امام ساجی: منكر الحديث.
    (6) امام جوزجانی: لا يحمد الناس حديثه.
    (تہذیب التہذیب: ج2 ص349، 350 )
    (7، 8) امام ابو داؤد و امام علی بن المدینی:
    أحاديثه عن عكرمة مناكير.
    (میزان الاعتدال: ج2 ص 7)
    اور زیر بحث روایت بھی عکرمہ ہی سے مروی ہے۔
    اس روایت میں تنہا محمد بن اسحاق ہوتا تو اس کے ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہونے کے لیے کافی تھا لیکن داؤد بن حصین نے اس کے ضعف کو مزید بڑھا کر اسے ناقابلِ حجت بنا دیا ہے۔
    ثالثاً…… اصل بات یہ ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو ”طلاق بتہ“ دی تھی نہ کہ تین طلاق اور نیت بھی صرف ایک طلاق کی تھی، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے رجوع کی اجازت عطا فرمائی تھی۔ علامہ ابن رشد فرماتے ہیں:
    وأن حديث ابن إسحاق وهم وإنما روى الثقات أنه طلق ركانة زوجه البتة لا ثلاثا.
    (بدایۃ المجتہد: ج2 ص61)
    حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    أن أبا داود رجح أن ركانة إنما طلق امرأته البتة كما أخرجه هو من طريق آل بيت ركانة وهو تعليل قوي
    (فتح الباری:ج9 ص450 باب من جوز الطلاق الثلاث)
    الحاصل فریق مخالف کی یہ روایت ضعیف و کذاب راویوں سے مروی ہے جو کہ صحیح، صریح روایات اور اجماعِ امت کے مقابلہ میں حجت نہیں ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 17، 2019
  2. ‏اگست 04، 2017 #12
    انصاری محبوب حسين

    انصاری محبوب حسين رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    یہ ایک اور دیوبندی مفتی منیر احمد منور نے اس روایت پر تفصیلی اعتراضات کیئے ہے
    00.jpg 1.jpg 2.jpg 3.jpg 4.jpg 5.jpg 6.jpg 7.jpg 8.jpg 9.jpg
     
  3. ‏اگست 04، 2017 #13
    انصاری محبوب حسين

    انصاری محبوب حسين رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    مزید صفحات
    10.jpg 11.jpg 12.jpg 13.jpg 14.jpg 15.jpg 16.jpg 17.jpg 18.jpg 19.jpg
     
  4. ‏اگست 05، 2017 #14
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    یہ کتاب میں نے نہیں پڑھی ہے ۔
    ممبئی میں کہاں سے مل سکتی ہے؟
     
  5. ‏اگست 05، 2017 #15
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 05، 2017 #16
    انصاری محبوب حسين

    انصاری محبوب حسين رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    شیخ میریے پاس pdf میں ہے
     
  7. ‏اگست 05، 2017 #17
    انصاری محبوب حسين

    انصاری محبوب حسين رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

  8. ‏اگست 05، 2017 #18
    انصاری محبوب حسين

    انصاری محبوب حسين رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2015
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 17، 2019 #19
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    354
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    مذکورہ حدیث کے تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے۔
    اس حدیث کے بارے کیا خیال ہے؟
    سنن أبي داود (2 / 263):
    2206 - حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟» ، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: «أَوَّلُهُ لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ، وَآخِرُهُ لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ» ،
    __________

    [حكم الألباني] : ضعيف
     
  10. ‏ستمبر 17، 2019 #20
    بھائی جان

    بھائی جان رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    354
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    اس روایت پر بھی کچھ تبصرہ ہو جائے؛
    صحيح البخاري: کتاب الطلاق: بَاب { وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ } فِي الْعِدَّةِ وَكَيْفَ يُرَاجِعُ الْمَرْأَةَ إِذَا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ
    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ
    وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ

    وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا
    سیدنا نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی جبکہ وہ حیض سے تھیں رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس رکھے حتیٰ کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے۔ پھر اسے دوبارہ حیض آئے تو اسے مہلت دے حتیٰ کہ حیض سے پاک ہوجائے، اگر اس وقت اسے طلاق دینے کا ارادہ ہوتو جس وقت وہ پاک ہوجائے نیز جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے۔ یہی وہ وقت ہے جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
    جب عبداللہ بن عمر ؓ سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو سوال کرنے والے سے کہتے : اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر بیوی تم پر حرام ہے یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے شادی کرے۔
    ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر ؓ نے کہا: اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو تم اسے دوبارہ اپنے پاس لاسکتے ہو کیونکہ نبی ﷺ نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں