1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک مرض دوسرے مریض کو نہ لگنے کی حدیث

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏فروری 26، 2019۔

  1. ‏فروری 26، 2019 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    737
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم @اسحاق سلفی صاحب

    برائے مہربانی درج ذیل حدیث کی وضاحت فرمائیں ۔ اس میں ایک مرض دوسرے میں منتقل ہونے کی نفی ہے۔جب کہ سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ کچھ مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟
    اس کی روایت زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن سنان کے واسطہ سے کی ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 26، 2019
  2. ‏فروری 27، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    آپ نے سوال میںجس حدیث کا ترجمہ پیش کیا ہے ،وہ حدیث کا اصل عربی متن پیش ہے ؛
    حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال: أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، وغيره، أن أبا هريرة رضي الله عنه، قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا عدوى ولا صفر ولا هامة» فقال أعرابي: يا رسول الله، فما بال إبلي، تكون في الرمل كأنها الظباء، فيأتي البعير الأجرب فيدخل بينها فيجربها؟ فقال: «فمن أعدى الأول؟» رواه الزهري، عن أبي سلمة، وسنان بن أبي سنان
    (صحیح بخاری 5717)(صحیح مسلم ،کتاب السلام 5788)
    ترجمہ :
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراض میں چھوت چھات (متعدی ہونا ) صفر اور الو کی نحو ست کی کوئی اصل نہیں ،اس پر ایک اعرابی بولا کہ کہ یا رسول اللہ ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہوگیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہر نوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آجاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس حدیث میں زمانہ جاہلیت کی تین باتوں کی نفی کی گئی ہے،
    مرض کا متعدی ہونا اور ماہِ صفر کے سلسلے میں موجود بداعتقادی پر نکیر ہے، اہل جاہلیت کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے بغیر بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے، یعنی خود سے پھیل جاتی ہے، اسلام نے ان کے اس اعتقاد باطل کو غلط ٹھہرایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاعدوى» یعنی ” بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی “، اور اس کے لیے سب سے پہلے اونٹ کو کھجلی کی بیماری کیسے لگی، کی بات کہہ کر سمجھایا اور بتایا کہ کسی بیماری کا لاحق ہونا اور اس بیماری سے شفاء دینا یہ سب اللہ رب العالمین کے حکم سے ہے وہی مسبب الاسباب ہے۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے،
    دوسری چیز جس کی نفی کی گئی وہ ہے «ھامہ» یعنی الو کی نحوست نہیں ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: «و ولاهامة» ، آج بھی الو کی نحوست کا اعتقاد باطل بہت سے لوگوں کے یہاں پایا جاتا ہے، جو جاہلیت کی بداعتقادی ہے، اسی طرح صفر کے مہینے کو جاہلیت کے زمانے میں لوگ منحوس قرار دیتے تھے، اور جاہل عوام اب تک اسے منحوس جانتے ہیں،
    تیسری چیز جس کی نفی فرمائی وہ ماہِ صفر کے مہینے کے متعلق نحوست کا عقیدہ ہے یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔ یہ بھی آتا ہے کہ عرب ماہ محرم کی جگہ صفر کو حرمت والا مہینہ بنا لیتے تھے، اسلام میں یہ بھی باطل، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عربوں کے اعتقاد میں پیٹ میں ایک سانپ ہوتا تھا جس کو صفر کہا جاتا ہے، بھوک کے وقت وہ پیدا ہوتا ہے اور آدمی کو ایذا پہنچاتا ہے، اور ان کے اعتقاد میں یہ متعدی مرض تھا، تو اسلام نے اس کو باطل قرار دیا۔
    (ملاحظہ ہو: النہایۃ فی غریب الحدیث: مادہ: صفر )

    (لا عدویٰ ) ’’عدویٰ‘‘ مریض سے تندرست آدمی کی طرف مرض کے منتقل ہونے کو کہتے ہیں(مراد چھوت چھات ہے) یا جس طرح حسی امراض متعدی ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اور اخلاقی بیماریاں بھی متعدی ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم نے فرمایا ہے کہ ’’برا ساتھی بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے کہ یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے بدبو محسوس کرو گے۔‘‘2 یہاں پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لفظ عدویٰ استعمال فرمایا ہے وہ حسی اور اخلاقی دونوں بیماریوں کو شامل ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان چاروں امور کی نفی سے مراد ان کے وجود کی نفی نہیں ہے، کیونکہ یہ تو کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں، بلکہ اس سے مراد ان کی تاثیر کی نفی ہے، کیونکہ مؤثر تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ان میں سے جو سبب معلوم ہو وہ صحیح سبب ہے اور جو سبب موہوم ہو وہ باطل ہے اور تاثیر کی جو نفی ہے وہ اس کی ذات اور سببیت کی أثرپذیری کی نفی ہے، البتہ عدویٰ (مرض کا متعدی ہونا) موجود ہے اور اس کی موجودگی کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
    «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلٰی مُصِحٍّ»صحیح البخاری، الطب، باب لا هامة، ح:۵۷۷۱، وصحیح مسلم، السلام، باب لا عدوی ولا طيرة… ح:۲۲۲۱ واللفظ له۔
    ’’یعنی بیمار اونٹوں والا اپنے اونٹوں کو تندرست اونٹوں والے کے پاس نہ لے جائے۔‘‘

    تاکہ متعدی بیماری ایک سے دوسرے اونٹوں کی طرف منتقل نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے:
    «فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ فِرَارَکَ مِنَ الْاَسَدِ»صحیح البخاری، الطب، باب الجذام، ح:۵۷۰۷ ومسند احمد: ۲/۴۴۳ واللفظ له۔
    ’’جذام کی بیماری میں مبتلا مریض سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘

    جذام ایک خبیث بیماری ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے اور مریض کو ہلاک کر دیتی ہے حتیٰ کہ کہا گیا ہے
    " کہ یہ مرض بھی طاعون ہی ہے، لہٰذا فرار کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ بیماری آگے نہ پھیلے۔ اس حدیث میں بھی بیماری کے متعدی ہونے کا اثبات مؤثر ہونے کی وجہ سے ہے، لیکن اس کی تاثیر کوئی حتمی امر نہیں ہے۔ کہ یہی علت فاعلہ ہے۔ لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم سے بھاگنے اور بیمار اونٹوں کو تندرست اونٹوں کے پاس نہ لانے کا جو حکم دیا ہے، یہ اسباب سے اجتناب کے باب سے ہے، اسباب کی ذاتی تاثیر کی قبیل سے نہیں ،
    جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾--البقرة:195
    ’’اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘

    لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عدویٰ کی تاثیر کا انکار فرمایا ہے کیونکہ امر واقع اور دیگر احادیث سے یہ بات باطل قرار پاتی ہے۔

    اگر یہ کہا جائے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: لَا عَدْویٰ ’’کوئی بیماری متعدی نہیں ہے۔‘‘ تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! اونٹ ریگستان میں ہرنوں کی طرح ہوتے ہیں، لیکن جب ان کے پاس کوئی خارش زدہ اونٹ آتا ہے، تو انہیں بھی خارش لاحق ہو جاتی ہے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    «فَمَنْ اَعْدَی الْاَوَّلَ»صحیح البخاری، الطب، باب لا صفر، وهو داء یاخذ البطن، ح:۵۷۱۷۔
    ’’پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی تھی؟‘‘

    اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر: (فَمَنْ اَعْدَی الْاَوَّلَ) ’’پہلے اونٹ کوخارش کس نے لگائی تھی؟‘‘ اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مریض اونٹوں سے تندرست اونٹوں کی طرف مرض اللہ کی تدبیر کے ساتھ منتقل ہوا ہے۔ پہلے اونٹ پر بیماری متعدی صورت کے بغیر اللہ عزوجل کی طرف سے نازل ہوئی تھی ایک چیز کا کبھی کوئی سبب معلوم ہوتا ہے اور کبھی سبب معلوم نہیں ہوتا جیسا کہ پہلے اونٹ کی خارش کا سوائے تقدیر الٰہی کے اور کوئی سبب معلوم نہیں ہے، جب کہ اس کے بعد والے اونٹ کی خارش کا سبب معلوم ہے اب اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس (دوسرے اونٹ) کو خارش لاحق نہ ہوتی۔ بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ اونٹوں کو خارش لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ ختم بھی ہوجاتی ہے اور اس سے اونٹ مرتے نہیں۔ اسی طرح طاعون اور ہیضے جیسے بعض متعدی امراض ہیں جو ایک گھر میں داخل ہو جاتے ہیں، بعض کو تو اپنی لپیٹ میں لے کر موت کی وادی تک پہنچادیتے ہیں اور بعض دیگر افراد ان سے محفوظ رہتے ہیں،انہیں کچھ نہیں ہوتا، چنانچہ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسا رکھنا چاہیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مجذوم شخص حاضر ہوا، آپ نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور فرمایا: ’’کھاؤ۔‘‘ 1 یعنی اس کھانے کو کھاؤ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تناول فرما رہے تھے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر توکل بہت قوی تھا اور یہ توکل متعدی سبب کا مقابلہ کرنے کے لئے انٹی بائٹک کا کرتا تھا۔

    ان احادیث میں تطبیق کی سب سے بہتر صورت یہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ بعض نے اس سلسلہ میں نسخ کا بھی دعویٰ کیا ہے، لیکن یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے، کیونکہ نسخ کی شرائط میں سے ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ دونوں میں تطبیق مشکل ہو اور اگر تطبیق ممکن ہو تو پھر تطبیق دینا واجب ہے، اگر حقیقت میں دیکھا جائے اس طرح دونوں دلیلوں کے مطابق عمل ہو جاتا ہے جب کہ نسخ کی صورت میں ایک دلیل کا باطل ہونا لازم آتا ہے اور دونوں کے مطابق عمل ہو جانا ایک کو باطل قرار دینے سے زیادہ بہتر ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے دونوں دلیلوں کو قابل اعتبار اور لائق حجت قرار دیا ہے۔

    وباللہ التوفیق
    فتاویٰ ارکان اسلام
    محدث فتویٰ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
    مرض جس قسم کا ہو یعنی خواہ حسی یعنی محسوس کیا جانے والا، مثلاً چیچک، بخار، برص اور دیگر امراض اور دوسرا معنوی یعنی جسے اعضاء حاسّہ کے ذریعہ محسوس تو نہ کیا جاسکے مگر عقل ودماغ اس سے آگاہ ہوجائے مثلاً برے شخص کی برائی کا مرض ،کہ اس کا ادراک ہاتھ زبان وغیرہ سے تو نہیں کیا جاسکتامگر چھٹی حس اس کا ادراک کرلیتی ہے۔بشرطیکہ وہ خود مریض نہ ہو!
    اسلام میں دونوں قسم کے مرض کے حکم الہٰی کے بغیر متعدی ہونے کا خیال باطل قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک صحابی نے رسول اکرم اسے سوال کیا کہ اگر مرض متعدی نہیں ہوتاتو خارش زدہ اونٹوں کے درمیان رہنے والے اونٹ کو خارش کیسے ہو جاتی ہے؟ توآپ انے بڑا مختصر اور جچا تلا جملہ ارشاد فرمایا: ’’فمن اعدی الاول؟‘‘ یعنی اگر آپ کے خیال میں دوسرے اونٹ پہلے والے خارش زدہ اونٹ کی وجہ سے خارش میں مبتلا ہوگئے ہیں تو یہ بتاؤ کہ پہلا اونٹ کس کی وجہ سے خارش زدہ ہواتھا؟ (بخاری:۵۷۱۷)
    گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس ذات نے پہلے اونٹ کو خارش زدہ کیا تھا، دوسروں کو خارش زدہ کرنے میں بھی اسی کی قدرت شامل حال ہے۔رہی بات بعض امراض کے متعدی ہونے کی؛تو اسلام اس کا منکر نہیں ہے، اسلام توصرف خود سے متعدی ہونے اور دوسروں میں سرایت کرنے کے عقیدہ کی تردیدکرتاہے۔
    ہاں! اسلام اس بات کی تعلیم ضرور دیتاہے کہ ایسے مریض کے پاس نہ رہا جائے جس کا مرض متعدی سمجھا جاتاہے، یاتواس لیے تاکہ مرض بحکم الہٰی دوسروں میں سرایت نہ کرجائے یا اس لیے تاکہ خواہ مخواہ کا وہم وگمان نہ ہو اور اگر بمرضئ الہٰی مرض متعدی ہوجائے تو جاہلیت کے تعدی کا عقیدہ نہ پیدا ہوجائے۔
    چنانچہ رسول اکرم ا نے ارشاد فرمایا:’’وفرمن المجذوم کما تفر من الاسد‘‘ (بخاری:۵۷۰۷)جذام کے مریض سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔
    اور آپ ا نے مزید فرمایا:’’لا تدیموا النظر الی المجذومین‘‘ (ابن ماجہ:۳۵۴۳، حسن صحیح)
    جذام والوں پر نظریں نہ گڑائے رکھو۔
    اسی طرح طاعون زدہ علاقے میں جانے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔ (بخاری:۳۴۴۳)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    "کوئی مرض از خود متعدی نہیں " کے عقیدہ کا مقصد یہ بھی ہے کہ اہل اسلام کے اندر​
    خواہ مخواہ کا وہم وگمان نہ ہو ، اور اگر بمرضئ الہٰی مرض متعدی ہوجائے تو جاہلیت کے تعدی کا عقیدہ نہ پیدا ہوجائے۔
    اور اسی خوف میں اپنے متعلق شکوک و شبہات کے مرض کا شکار رہیں
    ڈاکٹر کارل مینیگر نے اپنی مشہور کتاب ’دی ہیومن مائنڈ ‘یعنی انسانی ذہن میں بہت سے ایسے لوگوں کے حالات قلمبند کئے ہیں جنہوں نے محض اپنے اوپر ایک قسم کا خوف طاری کرکے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ انہیں واقعتا کوئی بیماری نہیں تھی ،
    اور کم از کم خوف کی یہ کار فرمائی تو بہتوں کے مشاہدے میں ہوگی کہ ایک آدمی ایک ایسی وسیع دیوار پر چل رہا ہے جہاں اس کے قدم بخوبی اپنے لئے رفتار کی گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس خوف و دہشت سے کہ اب گرا اب گرا واقعی اسے گرا کر ہی چھوڑا۔ جب یہ سب کچھ ہے اور خوف و دہشت کے مہلک نتائج و واقعات بھی ہمارے سامنے ہیں تو امراض کے متعدی ہونے کا نظریہ اگر قبول کر لیا جاتا تو بلاشبہ انسانیت کو ایک ایسے مہلکہ میں دھکیل دیا جاتا جس کے بعد اعصاب پر سینکڑوں بیماریوں کے تسلط سے انسان کبھی نجات نہیں پا سکتا تھا۔ اس لئے اسلام جو ایک حقیقت پسند مذہب ہے جو انسان کو ہر وقت مستعد ،کارگذاردیکھنا چاہتا ہے۔ تخیلات کی ان مہلک اور خوفناک بیماریوں میں الجھانا کس طرح پسند کرتا۔ اس لئے بلا شبہ اسلام کا یہ انسان پر احسان ہے کہ اس نے اس نقطہ نظر کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
    بلکہ اسلام کے اس نقطہ نظر کی خوبی کا اس وقت احساس ہوگا جب آپ یہ بھی سوچیں کہ اگر اسلام یہ تعلیم دیتا کہ مریض سے مکمل علیحدگی برتی جائے تو مریض کے لئے مصیبت ہو جاتی کہ کوئی اس کی تیمارداری کرنے والا بھی نہیں ہوتا۔ تیمارداری کی اسلام نے بڑی فضیلتیں بیان کی ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چند حقوق ہیں ان میں سے ایک مریض کی عیادت کرنا ہے‘۔
    ـــــــــــــــــــــــ​
     
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 27، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    کیا اسباب مرض بذاتِ خود مؤثر ہیں ؟


    دراصل زمانۂ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے بیماری خود اُڑ کر دوسرے کو لگ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیئت کا اس میں کوئی دخل نہیں بلکہ یہ خود ہی مؤثر ( یعنی بذاتِ خود اثر انداز ہونے والی) ہے۔
    حدیثِ پاک میں اسی نظریہ کا ردفرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:”لَاعَدْوَی“ یعنی بیماری کا ایک آدمی سے دوسرے کو لگنا کچھ نہیں ہے۔
    اسی حقیقت کو بتانے ،سمجھانے آپ نے مجذوم(جذام کے مریض) کے ساتھ کھانا بھی کھایا تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ مرض اڑ کر دوسرے کو نہیں لگتا۔
    (2) تعدیۂ جراثیم یعنی ”مرض کے جراثیم کا اُڑ کر دوسرے کو لگنا“کھلی حقیقت ہے، جراثیم خود مرض نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی مخلوق ہے جو صرف خردبین یا الٹرامائکرواسکوپ (Ultra-Microscope)کے ذریعے ہی نظر آتی ہے اور یہ جراثیم مرض کا سبب بنتے ہیں۔ پہلے زمانے کے لوگ ان جراثیم سے واقف نہ تھے تو انہوں نے یہی نظریہ بنا لیا کہ مرض مُتَعَدِّی ہوا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام نے اس کی نفی فرمائی کہ کوئی مرض مُتَعَدِّی نہیں ہوتا اسلام کے تعدیہ مرض کی نفی کرنے سے جراثیم کے مُتَعَدِّی ہونے کی نفی قطعاً نہیں ہوتی۔
    تعدیہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شے اپنی طبیعت کے اعتبار سے دوسری چیز کو نہیں لگتی،بنفسہ مؤثر نہیں ، چونکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ اعتقاد رکھتے تھے کہ امراض اپنی طبیعت کے اعتبار سے مُتَعَدِّی ہوتے ہیں اور وہ ان کی نسبت اللّٰہ تعالٰی کی طرف نہیں کرتے تھے، لہذا اس اعتقاد کی نفی کی گئی اورنبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ان کے اعتقاد کو باطل فرمایا اور مجذوم کے ساتھ کھانا کھایا تا کہ آپ انہیں بیان کردیں کہ اللہ ہی بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے۔
    ٭٭٭
     
    Last edited: ‏فروری 27، 2019
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں