1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک نظر مصطلح سلف پر

'ذات باری تعالیٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از ع،ب،أسلم السلفي, ‏جنوری 15، 2020۔

  1. ‏جنوری 15، 2020 #1
    ع،ب،أسلم السلفي

    ع،ب،أسلم السلفي مبتدی
    جگہ:
    جامعہ اسلامیہ،مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2018
    پیغامات:
    16
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    *ایک نظر مصطلح سلف پر*

    ........................................
    ✍ عبيد الله الباقي أسلم
    ........................................
    *أولاً: سلف کا لغوی معنی*
    • "سلف" یہ سالف کی جمع ہے، اور سالف متقدم کو کہا جاتا ہے، اور سلف سے مراد وہ جماعت ہے جو گزر چکی ہو( لسان العرب لابن منظور: 9/158)۔
    ابن فارس فرما تے ہیں: "سلف: السين ، وللام ، والفاء أصل واحد يدل على تقدم وسبق...".
    سلف: سين، لام، اور فاء ایک ایسی اصل ہے؛ جو تقدم اور گزرے ہوئے زامانہ پر دلالت کرتی ہے ۔
    لہذا "سلف"یہ" سلف يسلف سلفا وسلوفا" سے ماخوذ ہے، یعنی: وہ گزر گیا (المفردات للراغب الأصفهاني ص:239).
    • اور ہر انسان کا "سلف" اس کے گزرے ہوئے آبا و اجداد، اور قریبی رشتہ دار میں سے جو عمر و فضل میں برتر ہوں، اور ان میں سے فرد واحد کو "سالف" کہا جاتا ہے( معالم التنزيل للبغوي: 4/142).
    اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلف سے مراد: آبا و اجداد اور اقارب میں سے وہ لوگ ہیں جو مر چکے ہیں، اسی لئے تابعین کے دفعہ اول کو "سلف صالح" کہا جاتا ہے( النهاية في غريب الحديث لابن كثير: 2/390).
    یہ رہا "سلف" کا لغوی معنی ۔

    *ثانياً: سلف کا اصطلاحی معنی*
    • جہاں تک سلف کا اصطلاحی معنی کی بات ہے، اور اس سے کیا مراد ہے؟
    تو اس سلسلے میں علماء کرام نے کئی ایک اقوال پر اختلاف کیا ہے، اور ان کے اختلاف کی وجہ " *تحدید زمانہ* " ہے، ان کے چند اقوال مندرجہ ذیل ہیں:
    *سلف سے مراد* :
    1- صرف صحابہ کرام- رضی اللہ عنہم- ہیں، یہ چند شراح "رسالہ لابن أبي زيد القيرواني" کا قول ہے( وسطية أهل السنة بين الفرق للدكتور محمد باكريم ص: 97-98).
    2- صحابہ کرام-رضی اللہ عنہم- اور تابعین ہیں، یہ ابو حامد الغزالي كا قول ہے، جیسا کہ انہوں نے کہا:"اعلم أن الحق الصريح الذي لا مراء فيه عند أهل البصائر ، هو مذهب السلف، أعني مذهب الصحابة والتابعين "( إلجام العوام عن علم الكلام للغزالي ص : 53) جان لو کہ وہ حق صریح ہے جس کے بارے میں دانشوروں کے نزدیک کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، وہ سلف کا مذہب ہے، (اس سے) میری مراد صحابہ کرام اور تابعین کا مذہب ہے۔
    3- صحابہ کرام، تابعین، اور تبع تابعین ہیں، یعنی وہ تین صدی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس قول میں خیریت کو ثابت کیا ہے "خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم"(صحيح البخاري[2652] و صحيح مسلم 2533) سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے۔
    اس قول کی طرف اھل علم کی ایک بڑی تعداد گئ ہے، جیسے: امام شوکانی، اور امام سفارینی وغیرھما ۔
    • سلف سے متعلق پچھلے تمام اقوال کی رو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سلف کے مسمی میں قرون اولی کے سارے لوگ داخل ہیں، لیکن اس زمانہ کے سارے لوگوں کو "سلفی" نہیں کہا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ بات مشہور ہے کہ قرون اولی ہی ہیں میں مختلف فرقوں کا ظہور ہوا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں خروج و رفض کی بدعت نے جنم لی، جبکہ زمانہ صحابہ کے اواخر میں بدعت ارجاء و قدر، اور زمانہ تابعین کے اوائل میں بدعت تعطیل و تشبیہ نے سر اٹھایا(دیکھیں:منهاج السنة:6/231).
    اس تمام بدعتوں نے مدینہ منورہ سے باہر دوسرے علاقوں میں سر اٹھایا؛ كوفہ میں تشیع و ارجاء، بصرہ میں اعتزال و تصوف، شام میں نصب وقدر، اور خراسان میں تعطیل جیسی بدعتوں نے جنم لی.
    (دیکھیں:مجموع الفتاوی لابن تيمية:20/300)
    اس بنا پر "تعیین سلف میں صرف قدیم زمانہ کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ قدیم زمانہ کے ساتھ کتاب وسنت کے لئے نصوص اور روحانی اعتبار سے رائے کی موافقت ضروری ہے، اسی لئے جس کی رائے کتاب وسنت کے مخالف ہو، اسے "سلفی" نہیں کہا جاسکتا ہے، اگرچہ اس نے صحابہ اور تابعین کے مابین زندگی گزاری ہو"( الإمام ابن تيمية وقضية التأويل للدكتور جنيد ص: 52، كسی حد تک تصرف کے ساتھ اقتباس۔۔۔)۔
    • اور صحیح بات یہی ہے کہ اهل قرون مفضلہ جو کتاب و سنت کے موافق تھے، ان کے ساتھ ان لوگوں کو شامل کیا جائے گا جنہوں نے کتاب وسنت کی موافقت کی، ان بزرگوں کے منہج کو اختیار کیا، اور ان کے ان آثار و صحیح مرویات کو اپنایا جن کے ذریعے سے سلف صالح نے حق کو بیان کیا ہے۔
    لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے لوگ "سلف "کے مفہوم میں داخل ہیں، اور امام سفارینی- رحمہ اللہ- اس مسئلہ میں مُوَفَّق ہیں، جنہوں نے مذہب سلف کی یوں تحدید کی ہے کہ:"( مذہب سلف) وہ طریقہ ہے جس پر صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، اور وہ ائمہ دین قائم تھے، جن کے لئے امامت کی شہادت دی گئی ہو، اور دین کے مسائل میں ان کی قدردانی کی گئی ہو، اور لوگوں نے ان کی باتوں کو شرف قبولیت بخشی ہے، کسی بھی بدعت میں وہ ملوث نہ تھے، اور نہ ہی کسی غیر پسندیدہ لقب سے مشہور ہوئے، جیسے: خوارج، روافض، قدریہ، جبریہ، جہمیہ، معتزلہ اور کرامیہ اور ان جیسے لوگ ۔۔۔(لوامع الأنوار للسفارييني :1/20).
    ☆ بنا بریں سلف سے مراد صرف قرون مفضلہ کے لوگ ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ " *سلف* " کے ضمن میں شامل ہیں؛ جنہوں نے کتاب وسنت کی موافقت کی، اور صحابہ کرام-رضی اللہ عنہم- کے منہج کو اپنایا۔

    *ثالثاً: علماء سلف کے نزدیک " خلف" کا مفہوم* .
    لغت میں " *خلف* " اس شخص کو کہا جاتا ہے جو متقدم کے پیچھے آئے، چاہے وہ زمانہ کے اعتبار سے ، یا پھر رتبہ کے اعتبار سے متاخر ہو( القاموس المحيط للفيروزآبادي ص: 1042-1043).
    اور سلف کے مقابلے میں خلف بول کر وہ شخص مراد ہوتا ہے؛ جو کسی بدعت کا مرتکب ہو، یا کسی ناپسندیدہ لقب سے مشہور ہو( القاموس المحيط للفيروزآبادي، ص: 1042-1043)۔
    جیسا کہ امام سفارینی کی عبارت اس سلسلے میں گزری، لہذا جو بھی کتاب و سنت سے منحرف ہوا، اور صحابہ کرام-رضی اللہ عنہم- کے طریقہ سے روگردانی کی، اسے اپنے لئے منہج نہیں مانا، تو وہ " *خلفی* " ہے، اگرچہ اس نے صحابہ کرام کے درمیان زندگی گزاری ہو۔

    *رابعاً: ائمہ کرام کے نزدیک منہج سلف کا اہتمام*
    اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:{واتبع سبيل من أناب إلي}[سورة لقمان:15].
    امام ابن القیم -رحمہ اللہ- اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:"صحابہ میں سے ہر ایک اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں، لہذا ان کے راستے کی اتباع کرنا ضروری ہے، اور ان کے اقوال و اعتقادات ان کا سب سے بڑا (اہم) راستہ ہے"(أعلام الموقعين:4/168).
    • اللہ تعالٰی اس مبارک گروہ سے راضی تھا، انہیں یہ کہ کر خوشخبری سنائی ہے:{وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[سورة التوبة:100] اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا، اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں؛ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی؛ جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ے.
    لہذا ان کے منہج سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟!
    بنا بریں صحابہ کرام میں سے خصوصا خلفاء راشدین - ابو بکر الصدیق، عمر الفاروق، عثمان ذو النورین، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم- کی سنت، اور ان کے طریقہ کار کو اپنانا مسلمانوں کی شان و پہچان ہے، اسی لئے ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا:"عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، تمسكوا بها، وعضوا عليها بالنواجذ"(سنن أبي داؤد [4607]، سنن الترمذي [2676]البانی رحمہ نے کہا کہ: اس کی اسناد صحیح ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں).
    • عبد اللہ بن مسعود -رضی اللہ عنہ- فرماتے ہیں:"من کا مستنا فلیستن بمن قد مات، فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنة، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أبر هذه الأمة قلوباً وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم اختارهم الله بصحبة نبيه وإقامة دينه فاعرفوا لهم حقهم وفضلهم فقد كانوا على الهدي المستقيم"(جامع بيان العلم وفضله:2/97).
    جو سنت کا متلاشی ہے وہ اپنے پُرکھوں کی سنت کو لازم پکڑے، کیونکہ جو زندہ ہیں ان پر فتنوں کے خطرات ہیں، وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی ہیں، اس امت کے سب سے صاف و شفاف دل والے ہیں، گہرے علم کے مالک ہیں، تکلف سے عاری ہیں، وہ ایسی جماعت ہے؛ جسے اللہ نے اپنے نبی کی صحبت کے لئے اختیار کیا تھا، اور اپنے دین کی سربلندی کے لئے انتخاب فرمایا تھا، تو ان کے حقوق و فضائل کو پہچانو، کیونکہ یہی لوگ راہ راست پر گامزن تھے"(شرح السنة:1/214، الشريعة:4/1685).
    •امام اوزاعی -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:"علم وہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے آیا ہو، اور جو ان سے نہ آیا ہو؛ تو پھر وہ علم ہی نہیں ہے"(جامع بيان العلم وفضله:1/617).
    منہج سلف كو اجاگر کرتے ہوئے ایک اور جگہ فرماتے ہیں:" اپنے سلف کے آثار کو لازم پکڑو، گرچہ لوگ تمہیں نکار دیں"( الشريعة:1/445).
    • امام احمد -رحمہ اللہ- نے فرمایا:"ہمارے نزدیک سنت کا اصول یہ ہے کہ جس منہج پر رسول اللہ علیہ وسلم کے صحابہ گامزن تھے؛ اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لیا جائے، اور ان کا اقتداء کیا جائے، اور بدعتوں کو چھوڑ دیا جائے"(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة:1/156).
    • ائمہ کرام نے منہج سلف پر کتابیں تالیف کی، پیچدہ مسائل کو اسی سے حل کیا، اسے ہی فہم سلیم کے لئے بنیاد قرار دیا، اور استنباط و استدلال کا معیار بتایا؛ چنانچہ امام ابن ابی العز -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:" اور میری تمنا تھی کہ میں راہ سلف پر چلتے ہوئے ان ہی کی عبارتوں میں اس(عقیدہ طحاویہ) کی شرح کروں، اور ان کے زانوئے تلمذ اختیار کرتے ہوئے ان کے طریقوں کو اجاگر کروں، شاید کہ میں ان کے موتیوں کو پیروں دوں، اور ان کے زمرے میں شامل ہو جاؤں..."(شرح العقيدة الطحاوية،ص:74).
    • امام ابوالحسن اشعری -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:" ہم جو کہہ رہے ہیں، اور جس دین سے ہم اللہ کی رضامندی حاصل کرتے ہیں (وہ) ہمارے رب کی کتاب، اور ہمارے رسول کی سنت، اور صحابہ، تابعین، ور ائمہ حدیث سے جو کچھ مروی ہے؛ انہیں لازم پکڑنا ہے"(الإبانة عن أصول الديانة:1/20).
    • اور امام ذہبی -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:" ائے عبد اللہ! اگر انصاف چاہتے ہو؛ تو قرآن و سنتوں کے نصوص پر رک جاؤ، پھر دیکھو ان آیات کے سلسلے میں صحابہ -رضی اللہ عنہم- اور تابعین، اور ائمہ تفسیر نے کیا کہا ہے، اور انہوں نے مذاہب سلف سے متعلق کن اقوال کو بیان کیا ہے، (اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ) پھر یا تو علم ودانائی کے ساتھ بولو گے، یا پھر حلم وبردباری کے ساتھ خاموش رہو گے (العلو،ص:16).
    • شیخ الاسلام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:"اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ - رضی اللہ عنہم- سب سے بہترین مؤمنين ہیں"(مجموع الفتاوى:35/59).
    مزید ایک اور جگہ فرماتے ہیں:"اس میں اور ان جیسے مسائل میں انسان پر جو اعتقاد واجب ہے؛ منجملہ (وہ تمام امور ہیں) جن پر اللہ کی کتاب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دلالت کرتی ہے، جن پر ان سلف مؤمنين کا اتفاق رہا ہے؛ جن کی تعریف اللہ نے کی، اور ان کے پیروکاروں کی تعریف کی ہے، اور ان تمام لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جنہوں نے ان (سلف صالح) کے منہج کو ٹھکرا کر غیروں کی اتباع کی"(مجموع الفتاوى:4/158).
    • ابن رجب -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:"ان تمام علوم میں علم نافع کتاب وسنت کے نصوص کو ضبط کرنا، ان کے معانی کو سمجھنا، اس میں ان اقوال کی قید لگانا(ضروری) ہے؛ جو صحابہ - رضی اللہ عنہم-، تابعین اور تبع تابعین سے قرآن و حدیث کے معانی(کی وضاحت) میں منقول ہیں..."(فضل السلف على علم الخلف:1/6).
    مذکورہ اقوال سے یہ بات دن بارہ بجے کے روشن سورج کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ منہج سلف پر چل کر ہی کامیابی مل سکتی ہے، ان ہی کے طریقوں کو اپنا کر منزل مقصود تک پہونچا جا سکتا ہے، ان ہی کے اقوال و افکار سے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں، اور ان ہی کی حکمت و دانائی سے پریشانیوں کی گھتیاں سلجھائی جا سکتی ہیں؛ تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوٹ آئیں...منہج سلف کی طرف لوٹ آئیں، ہم اس راہ پر چل پڑیں جس کی خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی ہے، اور اس راہ کی مخالفت کو گمراہی قرار دیا ہے، لہذا یہ امر یقینی ہے کہ اسی سلفی منہج سے اصلاح ممکن ہے؛ کیونکہ "اس امت کے آخری دفعہ کی اصلاح وہی چیز کر سکتی ہے جس نے پہلی دفعہ کی اصلاح کی تھی"(الموطأ:1/584).

    *خامساً: منہج سلف یا ائمہ سلف کی طرف انتساب*
    سابقہ سطور سے یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ منہج سلف ایک فکر کا نام ہے، جس کا منبع و سرچشمہ کتاب و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، لہذا ائمہ کرام نے اپنے ان پُرکھوں کو سلف کے نام سے یاد کیا ہے؛ جو اللہ کی کتاب، سنت نبویہ، طریقہ صحابہ کرام، اور منہج تابعین عظام پر قائم تھے، ائمہ سلف کی کتب و مؤلفات اس کی مثالوں سے مملو ومشحون ہیں، چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمہ - رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:"اس شخص کے لئے یہ کوئی عیب کی بات نہیں جس نے مذہب سلف کو ظاہر کیا، اور خود کی اس کی طرف نسبت کی، بلکہ اس سے یہ قبول کرنا ضروری ہے، کیونکہ مذہب سلف صرف حق ہی ہو سکتا ہے"(مجموع الفتاوى:4/149).
    اسی طرح شیخ عبد الرحمن معلمی-رحمہ اللہ- نے اپنی کتاب (القائد إلى تصحيح العقائد،ص:47،51،55) میں، علامہ ابن باز -رحمہ اللہ- نے اپنے رسالے (تنبيهات هامة على ما كتبه محمد على الصابوني في صفات الله عز وجل،ص:34-35) میں، اور شیخ البانی -رحمہ اللہ- نے (مختصر علو،ص:122) میں مصطلح سلف کو استعمال کیا ہے؛ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص منہج سلف کی طرف نسبت کرتے ہوئے خود کو" *سلفی* " کہتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کے اندر کسی قسم کی تعلي و غرور نہ ہو، اپنے آپ کو منہج سلف کے لئے پاسبان ثابت کرے، کتاب اللہ، اور سنت نبویہ کا پانبد بنائے، بدعت اور اہل بدعت سے دوری اختیار کرے، اسلاف کا سچا جانشین بنے، اخلاص وللہیت کا علمبردار ہو، اور عمل وکردار سے اپنی سلفیت کا ثبوت دینے کی ہمہ دم کوشش کرے، تو پھر یہی حقیقی معنی میں اہل منہج سلف، اور سلفی ہیں.
    لہذا سلف و سلفیوں کی مخالفت کرنے والوں کو چاہئے کہ منہج سلف کا مطالعہ کریں، اس عظیم منہج کو ٹٹول کر دیکھیں، جو ایسے موتیوں کا خزینہ ہے؛ جو یقینا راہ راست کو روشن کرنے والے ہیں، اور صراط مستقیم کی رہنمائی کرنے والے ہیں.
    أولئك آبائي فجئني بمثلهم
    یہ وہ قوم تھی جن کے قلوب انبیاء کرام کے بعد سب سے اطہر و انقی قرار دئے گئے ہیں"...ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد، فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد، فجعلهم وزراء نبيه..."(حلية الأولياء:1/375).
    نوٹ:
    اس مضمون کا بیشتر حصہ میرے استاذ محترم دکتور عبد القادر بن محمد عطا صوفی/حفظہ اللہ کی کتاب المفيد في مهمات التوحيد سے مستفاد ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں