1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک ڈائری لکھنا قتل کی وجہ ٹھرا اور بہنوں کا خون حلال ہو گیا!!!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏اکتوبر 09، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 11، 2012 #11
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    صرف ایک سوال:
    ١۔ کیا برطانوی اور امریکی حکومتیں، عالم اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہ ہیں؟؟؟؟

    یقیناً ان کی اسلام دشمنی مسلم کُش اقدامات کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر یہ حکومتیں بعض مخصوص ”پاکستانیوں ہی کے دُکھ درد“ میں ”بے چین“ کیوں ہوتی ہیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
    سیدھا سادا فارمولہ ہے کہ دشمن کا دوست اور خیر خواہ بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔ کفار کا جو یار و خیر خواہ ہے، وہ امت کا غدار ہے
     
  2. ‏اکتوبر 11، 2012 #12
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    آخر ہر وہ کام جو اسلام کے خلاف ہو یا جہاد کے خلاف ہو اس کی ذمہ داری یہ طالبان ہی کیوں لیتے ہیں، اور وہ بھی فورا ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرتے!
    یہ طالبان پاکستان میں آج ہی پیدا ہوئے جب سے امریکہ یہاں آیا، اس سے پہلے یہ طالبان کہاں تھے؟
    ان طالبان کے اصل دشمن وہ لوگ ہیں جو ان پر بم برسا رہے ہیں یعنی ہمارے وزرا اور مشیر اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ لیکن یہ طالبان انہیں کچھ بھی نہیں کہتے ان کے نزدیک سے بھی نہ گزرتے، اور انتہائی ہائی الرٹ والے مقامات جیسے کراچی میں نیوی کی بیس اور اس ہی طرح پولیس کا ٹریننگ سینٹر فوج کے ادارے ان میں گھس کر بڑی آسانی کروائیاں کر دیتے ہیں۔
    اب سوال یہ ہے کہ جب ان کے ایسے وسائل ہیں کہ یہ انتہائی ہائی الرٹ مقامات تک با آسانی پہنچ سکتے ہیں تو پھر یہ اپنے اصل دشمن وہ جنہوں نے انہیں مارنے کی اجازت دے رکھی (یعنی پارلیمنٹ والے) یہ ان کو کیوں کچھ نہیں کہتے۔
    سیدھی بات جس کے پاس عقل ہو اور مغرب کی پٹی اپنی آنکھوں پر اتار رکھی ہو یا پہنچی ہی نہ ہو تو وہ جان لے گا کہ یہ لوگ کوئی طالبان نہیں، یہ لوگ کوئی جہادی نہیں، یہ لوگ کوئی مسلمان نہیں (مسلمان نہیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں کہ کچھ لوگوں کو پاکستان آرمی نے مارا اور جب تحقیق کی تو ہندو نکلے اور ان کا تعلق وغیرہ سے تھا) تو پھر ہم بلاوجہ انہیں طالبان کہہ کر، انہیں نام نہاد جہادی کہہ کر اپنے ہی دین کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اہل کفار کی سازش کو خوب کامیاب بنا رہے ہیں۔
    اللہ سے ڈرو اور اللہ سے ڈر کر ہر بات کہو کہ کل اللہ کو جواب دینا پڑ سکتا ہے کہ تم نے ایسی بات کیوں کہی کہ جس سے دین کو نقصان پہنچا۔
     
  3. ‏اکتوبر 11، 2012 #13
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    یوسف ثانی اور ٹائپسٹ برادران،
    جذباتی باتوں سے حقائق نہیں بدلے جا سکتے۔ امریکہ اور صلیبی اتحاد کی مسلم دشمنی تو کھلی ہے۔ اس سے تو عقل کا کوئی اندھا ہی انکار کر سکتا ہے۔
    لیکن ان کی دشمنی اس بات کو لازم تو نہیں کہ یہ پاکستانی طالبان ہمارے دوست ہیں؟
    آپ احباب حقائق جانے بغیر ان کی جانب سے دفاع کر رہے ہیں۔ ملالہ والے واقعے میں ذرا ایک "مجاہد" کا دیگر مجاہدین کو ، کہ شاید جن کے دل میں اس واقعے سے طالبان کی جانب سے شکوک پید اہو گئے تھے، ثبوت دینے کا انداز دیکھئے۔ میں حرف بحرف ایک جہادی فورم سے کوٹ کر رہا ہوں، لنک نہیں دینا چاہتا۔

    اس کے بعد ڈرون حملے اور ان پر پاکستانی افواج کی خاموشی، لال مسجد قصہ وغیرہ بیان کئے گئے ہیں۔ آخر میں فرماتے ہیں:

    خوب گویا، چونکہ ڈرونز میں سینکڑوں بے گناہ امریکہ مار دیتا ہے۔اور کوئی نہیں شور کرتا۔ تو ہم نے ایک مار دیا تو کیا گناہ کیا۔

    تحمل سے ان مجاہد مفتی کا یہ سارا بیان پڑھئے۔ اور پھر درج ذیل حقائق بھی ذہن نشین رکھئے:

    1۔ ملالہ چودہ سالہ ایک بچی ہے۔ جسے اب یہ حضرات بچی کے بجائے نوجوان خاتون کہہ کر اپنے جرم کی سنگینی کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
    2۔ اس کی بی بی سی کو لکھی جانے والی ڈائری ساری پڑھ ڈالئے۔ کہیں مسلمانوں کی جاسوسی والی شے آپ کو نہ ملے گی۔ ڈائری کا مواد فقط اسکول، سہیلیاں، طالبان کا ڈر، پرخوف حالات، اور اس کی اپنی تعلیم کے اردگرد گھومتا ہے۔ اگر کسی کو شک ہو تو مکمل ڈائری پیش کی جا سکتی ہے۔ بطور نمونہ "مسلمانوں کی جاسوسی" کے الزام کے تحت مرتد قرار دی جانے والی طالبہ کی ڈائری ملاحظہ کیجئے:

    کیا درج بالا اقتباسات مسلمانوں کی جاسوسی کے زمرے میں آتے ہیں؟ پوری ڈائری پڑھ جائیے فقط ٹی وی پر آنے والے بیانات اور زیادہ سے زیادہ اس کے اپنے ارد گرد ہونے والے بم دھماکوں کی اطلاعات پر مشتمل ہیں۔ نہ کسی شخص کا نام ہے اور نہ کوئی ایسی راز کی باتیں جو کسی دوسرے کو معلوم نہ ہوں۔

    3۔ جس طرح وہ اپنی بچکانہ سوچ سے طالبان کے ڈر اور خوف کو ڈائری میں بیان کرتی ہے۔ ویسے ہی پاکستانی افواج پر تنقید بھی کرتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے یہ اقتباس:
    اگر ایک بچی اپنے اردگرد ہونے والے حالات سے متاثر ہو کر طالبان کو اپنی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر اس کا اظہار کرتی ہے تو کیا وہ مرتد ہو جاتی ہے؟ کیا وہ صیہونیت اور صلیبیت کی نمائندہ ہے؟ کیا طالبان نے واقعی اسکولز تباہ نہیں کئے اور ان کی ذمہ داری اپنے میڈیا پر قبول نہیں کی؟
    یہی بچی پاکستانی افواج کو بھی اپنی سوچ کے تحت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، لیکن یہ تنقید شاید ہمارے "مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین" کے نزدیک اسے ارتداد کی صف سے نکالنے کو ناکافی ہے۔

    4۔ باراک اوباما کو آئیڈیل لیڈر قرار دینا کیا کسی مسلمان کو مرتد بنا دیتا ہے؟ کیا اسے آئیڈیل کہنے سے خودبخود یہ مراد لی جائے کہ وہ اوباما کے مسلمانوں کے قتل عام پر بھی خوش اور مطمئن ہے؟ہر شخص جانتا ہے کہ کسی کو آئیڈیل کہنے کا مطلب اس کے ہر ہر عمل کی توثیق و تصویب نہیں ہوتا۔ عوام میں سروے کروائیے کہ کتنے لوگوں کا آئیڈیل شاہ رخ خان ہے؟ لیکن کیا سب لوگ مسلمان مرد کی ہندو عورت سے شادی کی بھی تائید و تصویب کرتے ہیں؟ کتنی خواتین کی آئیڈیل بے کردار اداکارئیں ہیں، لیکن کیا وہ ان کی بے کرداری کو بھی اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتی ہیں؟ اور اس کے بالکل برعکس یہ دیکھئے کہ ہم میں سے کتنے نام نہاد مسلمانوں کے (قولی) آئیڈیل حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں، لیکن کیا ان کی سیرت کی کوئی جھلک بھی ہم میں پائی جاتی ہے؟

    5۔ یہ جملہ:
    ملالہ نے نہیں، بلکہ اس کے بھائی نے کہا تھا۔ ایک بچے کی دعا جو وہ اردگرد کے پرخوف حالات کو دیکھتے ہوئے اللہ سے کرتا ہے۔ اس پر "مجاہدین" کا تبصرہ دیکھئے:
    گویا ایک بچے کی یہ دعا اور اس کی بہن کا اس دعا کو نقل کرنا، ایسا ارتداد ہے کہ وہ لڑکی تو خیر سے مرتدہ ہوئی ہی ہوئی، اس کی تعریف کرنے والے بھی اللہ کی تقدیر میں (جسے یہ مجاہدین پڑھ چکے ہیں) جہنم رسید ہونے والے ہیں۔


    ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور صلیبی اتحاد تو ہمارے کھلے دشمن ہیں ہی۔ ان سے ہمیں وہ خطرہ نہیں جو آستین میں پلنے والے ان سانپوں سے ہے، جو ہمارا ہی دودھ پی پی کر ہمیں ہی ڈس رہے ہیں۔ خدارا، کوئی تو بتائے کہ ان کو کس نے اختیار دیا ہے کہ معصوم بچوں کا خون بھی کریں اور پھر اسے عین جہاد بھی باور کروائیں؟ ڈرون حملوں میں بے شک کہیں زیادہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں، لیکن مارنے والے وہ ہیں جنہیں اسلام کے کسی بندھن کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہاں تو اس قتل ناحق میں ملوث وہ گروہ ہے جو خود کو شریعت کا واحد علمبردار سمجھتا ہے اور اپنے گروہ کے سوا کسی کو مسلمان بھی سمجھنے کو تیار نہیں۔دعا ہے کہ اللہ انہیں ہدایت نصیب فرمائے۔ اگر ہم ہی بے راہ ہیں تو ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین۔
     
  4. ‏اکتوبر 11، 2012 #14
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    بھائی آپ نے بہت لمبا مضمون لکھ دیا ہے اس لیے میں اب وہ کچھ لکھنا چاہتا ہوں جو کچھ میں اب تک سمجھا ہوں اور میڈیا کی خبریں اور طالبان کے حملوں نے مجھے یہی سمجھنے پر مجبور کیا ہے۔
    آپ نے لکھا ہے کہ یہ طالبان کہتے ہیں یہ بچی مرتد تھی اس لیے اسے قتل کیا گیا ہے تو میں یہ پوچھتا ہوں کہ ان کے نزدیک پاکستان میں رہنے والے اکثر لوگ مرتد ہیں اور سر فہرست وہ لوگ جو پارلیمنٹ پاؤس میں براجمان ہیں۔ تو آج تک ان لوگوں نے انہیں کتنا نشانہ بنایا۔
    اب یہ نہ کہنا کہ وہ انتہائی فل پروف سیکیورٹی میں ہوتے ہیں اس لیے ان پر حملہ کرنا اور ان کو نشانہ بنانا اور انہیں ان کے ارتداد کی سزا دینا آسان نہیں اس لیے یہ لوگ انہیں فی الحال چھوڑ دیتے ہیں۔
    تو میں یہ کہوں گا کہ کراچی میں نیوی کی بیس پر حملہ کرنا کیا آسان تھا، پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کرنا کیا آسان تھا؟ اور نہ جانے کتنے فوجی اڈوں کو انہوں نے نشانہ بنایا اور کتنے پاکستان آرمی کے جوانوں کو جاں بحق کیا تو ان فل پروف سیکیورٹی کے اداروں میں گھسنے کے انتظامات ان کے پاس موجود ہیں لیکن وہ لوگ جو چند گارڈز کے ہمراہ گھومتے پھرتے ہیں وہ ان کی دسترس سے باہر کیسے ہو گئے؟
    یہ ساری بات لکھ کر یہ سمجھانا مقصود ہے کہ یہ لوگ یعنی ہمارا حکمران اور یہ طالبان (جنہیں آپ لوگ طالبان کہتے ہیں) یہ دونوں ہی امریکہ کے غلام ہیں اور امریکہ کے کہنے پر سب کچھ کیا جا رہا ہے، اور یہ سب کچھ صرف اسلام کو بدنام کرنے کے لیے ناسمجھ لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کہ اسلام ایک اچھا مذہب نہیں ہے، یہ جہاد کرنے کو کہتا ہے اور دیکھو جہاد کیا ہے کہ ایک معصوم بچی کو مارنا یہی جہاد ہے۔ یہ واویلا کر کے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آپ جیسے سادہ لوگ اس چیز کو سمجھتے ہی نہیں اور طالبان طالبان کر کے اسلام کو بدنام کرنے میں ان کے ساتھ حصہ دار بن جاتے ہیں۔
    طالبان تو افغانستان میں بھی ہیں وہ ایسا کیوں نہیں کرتے،یہ پاکستان کے طالبان ہی کیوں عوام کو مارتے ہیں اور صرف عوام کو ہی مارتے ہیں، عوام نے کیا بگاڑا ہے مارو ان کو جنہوں نے تمہیں مارنے کے لیے فوجیں لگا رکھی ہیں، لیکن نہیں ان کا مشن انہیں نقصان پہنچانا نہیں ان کا مشن وہ ہے جو امریکہ کا ہے اور امریکہ کا مشن اسلام کو بدنام کرنا اور پاکستان کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ اللہ آپ کو اور مجھے صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین۔
     
  5. ‏اکتوبر 11، 2012 #15
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جناب یہ ضرور ملاحضہ فرمائیں تمام احباب۔۔۔۔
    ملالہ حملہ اور ٹی ٹی پی کی قلا بازیاں
    اور تو اور باب السلام فورم جو ٹی ٹی پی کا نمائندہ فورم اور انفورمیشن کا ذریعہ ہے وہ بھی اس خون کے حلال ہونے کی دلیلں پیش کر چکے ہیں۔۔۔کبھی حضر علیہ سلام کے واقع سے اور کبھی اس بچی کو گستاخ رسول قرار دے کر۔۔۔۔
    اور اب نہ جانے وہ پوسٹ کیوں ڈلیٹ کر دی گئی باب السلام فورم سے؟؟ :)
     
  6. ‏اکتوبر 11، 2012 #16
    شیر سلفی

    شیر سلفی رکن
    جگہ:
    صوابی، خیبرپختونخواہ
    شمولیت:
    ‏جون 16، 2011
    پیغامات:
    98
    موصول شکریہ جات:
    197
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    راجا بھائی، مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ملالہ یوسفذئی مرتدہ تھی، یا نہیں ، یا پھر گناہگار تھی یا نہیں، اگر بالفرض وہ گناہگار ثابت بھی ہو جائے تو اس کا قتل ناحق ہے،
    مسئلہ یہ ہے کہ آیا یہ حملہ واقعی طالبان نے کیا ہے یا نہیں؟؟؟
    کیا ان کی طرف سے کوئی مستند بیان آیا ہے یا نہیں؟؟؟
    کفریہ تنظیمیں اور ادارے طالبان کو ڈھال بنا کر اسلام کو مسخ کرنا چاہتے ہیں ۔ اور گویا یہ تصور دینا چاہتےہیں کہ یہ جو جہاد کی ایک عظیم لہر اٹھی ہے، یہ ساری دہشت گردی ہے لہذا اس سے ہر طرح سے دور رہو۔۔۔۔
    اور لوگوں کو اپنے میڈیا کے زریعے یہ بتانا چاہتے ہیں، کہ ملالہ اور اس جیسی دوسری ناپاک دہشت گردی یہ طالبان کر رہے ہیں، تو گویا وہ کفار ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے،،
    عجب داستان بنی ہے کہ میڈیا کو صرف ملالہ ہی کیوں نظر آرہی ہے، آئے دن لوگ مر رہے ہیں ۔لیکن وہ ان کو نظر نہیں آتے، اس لیے کہ ان کفار کو پتا ہے، کہ ملالہ کے نظریات سے طالبان کو جو تھوڑا بہت اختلاف ہے اس لیے اس معاملے کو اتنا اچھالو کہ جہاد فی سبیل اللہ کی کمر ٹوٹ جائے، ،کفار میڈیا کو پتا ہے کہ اگر کوئی اس واقعے کو طالبان کی دہشت گردی نہ کہے تو جلدی سے طالبان-ملالہ اختلاف اٹھا کر سامنے رکھ دو ، خود ہی لوگ جہاد سے کلی طور پر منہ موڑ لیں گے ۔۔ یاد رکھ لے یہ میڈیا اور میرے سب بھائی کہ ہر مسلمان بچی جو بے گناہ ڈرون حملوں تلے روزانہ مرتی ہیں وہ بھی تو اس ملک کی ملالہ ہی تو ہیں، کیا وہ ان کو نظر نہیں آتے۔ لیکن کفار کو یہ پتا ہے کہ عام عوام جو بے گناہ مرتی ہے اس کا الزام تو طالبان پر آ ہی نہیں سکتا لہذا ایسی لڑکی کو نشانہ بناؤ کہ جس سے طالبان پر الزام آئے۔۔ یعنی کالج سکول کی لڑکی یا شوبز والی تاکہ جلدی سے کہا جاسکے کہ یہ طالبان کی کاروائی ہے۔
    اللہ ہمیں حق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
  7. ‏اکتوبر 12، 2012 #17
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    قتل کرنے کی وجہ کوئی بھی ہو سب سے پہلے سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ہمیں ہمارا اسلام کسی مسلم یا غیر مسلم کو بلاوجہ قتل کرنے کا حکم دیتا ہے کہ نہیں؟
     
  8. ‏اکتوبر 12، 2012 #18
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    ملالہ کی ڈائری سے اقتباس حوالہ از بی بی سی:

    برقعہ پتھر کے دور کی نشانی ہے اور داڑھی والے دیکھ کر فرعون یاد آتا ہے۔ ملالہ کی یادگار ڈائری

    http://ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=22836%3A2012-10-11-14-19-35&catid=2%3Anational&Itemid=4&lang=ur

    یہ اقتباس یہاں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس بچی کو ہمارا میڈیا اور مغرب اتنی توجہ کا مرکز کیوں بنا رہا ہے؟ اب اس طرح کے نظریات جس کسی کے بھی ہوں گے اور اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو یہ شبہ ڈالنا بہت آسان ہوگا کہ یہ طالبان نے کیا ہے۔ اور بہت سے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اپنے ہی نظریات رکھنے والوں کو بھی بلی کا بکرا بنا جاتا ہے۔ کچھ سوچو اور سمجھو خوامخواہ اسلام کو بدنام کرنے سے باز آجاؤ، ورنہ یہ جس کا دین ہے وہ تمام کائنات کے لیے اکیلا ہی کافی ہے۔
     
  9. ‏اکتوبر 12، 2012 #19
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اور ساری کی ساری کوریج ملالہ کو ہی کیوں دی جا رہی ہے، شازیہ بھی تو اس کے ساتھ تھی کیا وہ معصوم بچی نہیں ہے؟ کیا وہ بے گناہ نہیں تھی؟ کیا وہ ہماری بہن یا بیٹی نہیں ہے؟
    تو پھر صرف ملالہ کے لیے ہی میڈیا کیوں؟ ملالہ کے لیے ہی ساری سہولیات کیوں؟ سمجھو! سمجھو! خدارا سمجھو! اللہ کے لیے سمجھو۔
     
  10. ‏اکتوبر 12، 2012 #20
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم۔

    حیرت ہے ، کس طرح ایک چودہ سالہ بچی سے یہ امید لگا لی گئی کہ وہ کل علم کی مالک ہوگی۔۔۔ صرف میڈیا کی کرپشن نے اسے مشہور تو کر دیا مگر اس کی دینی تربیت نہ ہونے کے برابر تھی۔
    اگر آپ کے ارد گرد کوئی چودہ سالہ بچا یا بچی ہو تو دیکھ لیں تجربہ کر کے کہ اسے دین کا کتنا کا علم ہے۔

    ٹائپسٹ نے لکھا:
    جب اس بہن نے اپنے ارد گرد داڑھی والوں کی شکل میں دیکھے ہی فرعون ہوں تو وہ کیا کہتی؟؟؟ لوگوں کی گردنیں محض مخالفت کی وجہ سے کاٹی جارہی ہوں، بچے پھاڑے جا رہے ہوں، عورتوں کو ذبردستی نکاح پر مجبور کیا جارہا ہو (یہ جذباتی باتیں نہیں ، اہل سوات اس کے گواہ ہیں ، جائیے تحقیق کر لیجئے، میں تو کر چکا)۔۔۔۔۔تو ان حالات میں وہ نا پختہ ذہن انہیں فرعون نہ کہے تو کیا فرشتے کہتی؟؟؟

    دوسرا، ایک طرف تو آپ میڈیا کو کرپٹ اور اس پر شائع ہونے والی ٹی ٹی پی کی حملے کی ذمہ داری کو کالعدم قرار دے رہے ہیں مگر حیرت ہے پھر اسی بی بی سی پر شائع ہونے والی ڈائری کو وحی کی طرح سمجھ رہے ہیں ۔۔۔عجیب!!!
    جناب ، اب کیا میڈیا یہاں کرپٹ نہیں؟؟؟
    آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ بی بی سی نے ہو باہو وہی ڈائری شائع کی جو اس بچی نے لکھی؟؟؟؟؟؟ بولیئے۔۔۔اگر انصاف کا دامن ابھی بھی ہاتھ میں ہے تو!!!
    اور دوسرا ، آپ زرا خودغور کریں کہ یہ جملہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’برقعہ پتھر کے دور کی یاد‘‘ اس عمر کی بچی کہہ سکتی ہے ، یہ زیادہ ممکن ہے یا اس سے کہلوانا زیادہ ممکن ہے؟؟؟
    اور تو اور یہ بی بی سی کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ مگر عجیب ۔۔۔ایک طرف بی بی سی کی خبر قابل قبول نہیں مگر ڈائری بالکل قابل قبول۔۔۔۔ افسوس ۱!!

    اور اگر یہ جملے بالفرض اس نے کہہ بھی دیئے تھے، تو پہلے اس پر حکم لگنا چاہیئے تھا ، جس میں شرائط بھی اور موانع بھی، پھر کوئی اقدام ،،،، اور اس اقدام کا مکلف صرف ریاست ہے۔۔ورنہ تو پھر ہر ایک جماعت کے نزدیک دوسری جماعت کافر ہے ، مرتد ہے۔۔تو پھر سب حد ارتداد لگانا شروع کر دیں؟؟؟
    مگر یہاں اقدام پہلے کیا ٹی ٹی پی نے اور دلیلیں بعد میں گھڑ نا شروع کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب میں حیران ہوں ۔۔۔۔۔
    جب یہی ترجمان ، پاک آرمی پر یا کسی بیس پر حملے کی ذمہ داری بی بی سی کے ہی ذریعے قبول کرتا ہے تو سارے ٹی ٹی پی کے کارندے اس درست قرار دیتے ہیں ، اس پر مباکبادیں دیتے ہیں۔۔۔۔مگر اب، پہلے تو سب نے مانا ہی نہیں ، پھر دلیلیں بنائی ، جو باب السلام پر بھی چڑہائیں گئیں اور اس کے کافر ہونے کے ضمن میں بی بی سی کی ڈائرئ ہی پیش کرنی شروع کر دی۔۔۔۔۔ھاھاھاھاھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس میں مزید کچھ نہیں لکھوں گا سوائے اس کے کہ ۔۔۔۔۔گمراہی در گمراہی ان ٹی ٹی پی اور انکے حمایتوں کو گھیر چکی ہے۔

    اللہ محفوظ فرمائے تمام اہل اسلام کو!!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں