1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک ہندو کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمود حمید, ‏مارچ 08، 2019۔

  1. ‏مارچ 08، 2019 #1
    محمود حمید

    محمود حمید مبتدی
    جگہ:
    پاکوڑ،جھارکھنڈ،انڈیا
    شمولیت:
    ‏جنوری 17، 2018
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    میں نے خط کے ذریعے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا
    ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
    تحریر: محمود حمید پاکوڑی
    ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

    مورخہ ۷ اپریل بروز جمعہ مجھے جامعہ مصباح العلوم السلفیہ جھوم پورہ، اڈیشہ کی آٹھویں پیغام حرا کانفرنس (جو کہ ۱۵ اپریل بروز سنیچر منعقد ہوگی) کے سلسلے میں مولانا گوڑا، چمپوا جانے کا اتفاق ہوا ـ وہاں کی جامع مسجد میں مجھے خطبہ دینا تھا اور کانفرنس کے لیے چندہ بھی اصول کرنا تھا، لیکن کسی وجہ سے خطبہ تو نہ دے سکا لیکن چندہ بہر حال وصول کر لیا ـ مسجد میں پہنچتے ہی میری ملاقات کوئ تیس سالہ گورے رنگت والا ایک نوجوان سے ہوئ ـ پتلے دبلے ہونے کے باوجود چہرے پر داڑھی کی وجہ سے وہ بہت خوبصورت نظر آرہے تھے ـ سلام کے فورا بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک نو مسلم ہیں اور یہاں اپنے اسلامی بھائیوں سے مالی تعاون حاصل کرنے کے لیے یہاں تشریف لایے ہیں ـ میرے دل میں ان کے لیے محبت و ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گیے اور میں نے ان سے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرنے کو کہا ـ انہوں نے بلا تأمل اپنی بات شروع کردی جس کا خلاصہ اس طرح ہے:
    "میرے تین بھائ اور دو بہن ہیں، والدین میرے بھائ بہنوں کے ساتھ ہریانہ میں رہتے ہیں، جبکہ آبائ گھر سمستی پور بہار ہے ـ وہاں ہم دوائ کی کمپنی مہں کام کرتے تھے ـ دو ہزار ایک کی بات ہے کہ میرے بڑے بھائ پروستم مشرا کو سمستی پور آنا ہوا، یہاں ان کی بعض مسلم نوجوانوں سے شناسائ ہوگئی اور ان کے اخلاق سے متأثر ہوکر اسلام قبول کر لیے اور اپنا اسلامی نام پرویز عالم رکھ لیے ـ اس کی اطلاع جب ہمیں ہریانہ میں ہوئ تو ہم پریشان ہو گیے اور والدین نے مجھے سمستی پور بھیج دیا ـ یہاں بڑے بھائ سے ملاقات کی اور انہیں سمجھانے لگا لیکن وہ نہ سمجھے ـ گاؤں والوں نے کہا کہ تمہارے گھر پر تالا جڑ دینگے، اور اسے ماریں گے ـ پھر بڑے بھائ وہاں سے مدھوپور، دیو گھر، جھارکھنڈ آگیے اور مجھے کچھ کتابیں بھی دی ـ میں ان کتابوں کو پڑھا تو میں بھی اسلام کو سمجھنے لگا ـ بالآخر دو ہزار چھ میں میں نے دین اسلام کو اپنا لیا اور اپنا نام لوکیش ناتھ مشرا بدل کر انس عبداللہ رکھ لیا ـ اس کی اطلاع میں نے اپنے والدین کو خط کے ذریعے کردی اور بڑے بھائ کے پاس مدھوپور آگیا ـ یہاں آکر مولانا زکریا سے رسم ادا کیا اور کورٹ کو اس کی اطلاع دے دی ـ کچھ دنوں تک وہاں کے اءک مدرسہ میں رہنے لگا ـ پھر چند ساتھیوں کے ساتھ ٹاٹا (جمشید پور، جھارکھنڈ) آیا، پھر وہاں سے صوبہ اڈیشہ کی بستی جوڑا آگیا ـ یہاں آکر تجارت کرنا شروع کیا لیکن اس میں خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا بلکہ اسل پونجی بھی ختم ہوگئی ، مزید یہ کہ جسم میں کپکپی کی بیماری پیدا ہو گئی، اس لیے مناسب سمجھا کہ کہیں ٹیوشن پڑھا کے گزر بسر کروں گا لیکن اس سے طبیعت اور خراب ہو گئی اور اب کسی کام کے لائق نہیں رہ گیا ہوں ـ اسی وجہ سے پچھلے ڈیڑھ سالوں سے اپنے اسلامی بھائیوں کی مالی تعاون سے اپنی زندگی گزار رہا ہوں ـ "

    یہ تھی اس نو مسلم بھائ کی روداد ـ ان کے بڑے بھائ اپنی اہلیہ اور تین اولاد کے ساتھ مدھوپور میں اور وہ خود اپنی اہلیہ اور ایک بیٹے کے ساتھ جوڑا میں مقیم ہیں ـ ان کا اپنے والدین، رشتہ دار اور گھربار سے مکمل طور پر تعلق منقطع ہو گیا ہے اور بیماری کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ـ
    اللہ تعالی سے دعا ہیکہ انہیں اسلام پر قائم و دائم رکھے، ان کے حوسلوں کو جوان رکھے، ہر طرح کے مشکلات و مصائب پر صبر کرنے کی توفیق دے اور انہیں اس عظیم قربانی کی بدولت اجر عظیم سے نوازے ، آمین یا رب العالمین ـ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں