1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلا یا۔

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏ستمبر 02، 2012۔

  1. ‏ستمبر 02، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    أو لم يجب حتى ينزل عليه الوحى،‏‏‏‏ ولم يقل برأى ولا بقياس لقوله تعالى ‏ {‏ بما أراك الله‏}‏‏.‏ وقال ابن مسعود سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح فسكت حتى نزلت الآية‏.‏

    بلکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات پوچھی جاتی جس بارے میں وحی نہ اتری ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے میں نہیں جانتا یا وحی اترنے تک خاموش رہتے کچھ جواب نہ دیتے کیونکہ اللہ پاک نے سورۃ نساء میں فرمایا تاکہ اللہ، جیسا تجھ کو بتلائے اس کے موافق تو حکم دے۔


    وقال ابن مسعود سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح فسكت حتى نزلت الآية‏.‏

    اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے یہاں تک کہ یہ آیت اتری۔


    حدیث نمبر: 7309
    حدثنا علي بن عبد الله،‏‏‏‏ حدثنا سفيان،‏‏‏‏ قال سمعت ابن المنكدر،‏‏‏‏ يقول سمعت جابر بن عبد الله،‏‏‏‏ يقول مرضت فجاءني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني وأبو بكر وهما ماشيان،‏‏‏‏ فأتاني وقد أغمي على فتوضأ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صب وضوءه على فأفقت فقلت يا رسول الله ـ وربما قال سفيان فقلت أى رسول الله ـ كيف أقضي في مالي كيف أصنع في مالي قال فما أجابني بشىء حتى نزلت آية الميراث‏.‏


    ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ کہا میں نے محمد بن المنکدر سے سنا ‘ بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ دونوں بزرگ پیدل چل کر آئے تھے ‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ‘ اس سے مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اور بعض اوقات سفیان نے یہ الفاظ بیان کئے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کس طرح فیصلہ کروں ‘ میں اپنے مال کا کیا کروں؟ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔

     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 02، 2012 #2
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیرا
     
  3. ‏ستمبر 03، 2012 #3
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وایاکم
     
  4. ‏فروری 05، 2014 #4
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    نبی کریم ﷺ کی طرف تو اللہ کی جانب سے وحی کا نزول ہوتا تھا۔جس کے بعد آپ ﷺ متعلقہ احکام لوگوں تک پہنچا دیتے،لیکن اب وحی کی صورت موجود نہیں۔۔۔۔تو کیا آج کے دور میں جدید مسائل کے حل کے لیے رائے یا قیاس کی طرف رجوع کیوں نہیں کیا جا سکتا؟؟؟
    کیا اہل حدیث اجماع اور قیاس کو غیر اہم جانتے ہیں؟؟

    خضر حیات
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  5. ‏فروری 05، 2014 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اجماع اور قياس صحيح كی حجیت کے اہل حدیث قائل ہیں ۔
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ، حافظ زبیر علی زئی وغیرہ کی تحریرات پڑھ کا دیکھ لیں آپ کے لیے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جائے گی ۔
    بہت کم علماء ہیں جن کا یہ دعوی ہے کہ اجماع اور قیاس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ عبد المنان نوری پوری رحمہ اللہ کی طرف بھی یہی موقف منسوب کیاجاتا ہے ۔
    اس حوالے سے محترم المقام شیخ رفیق طاھر صاحب ( شاید اس وقت موجود ہیں ) وہ بہتر وضاحت کرسکیں گے ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  6. ‏فروری 06، 2014 #6
    عبدالعلام

    عبدالعلام رکن
    جگہ:
    Aurangabad
    شمولیت:
    ‏مارچ 15، 2012
    پیغامات:
    153
    موصول شکریہ جات:
    478
    تمغے کے پوائنٹ:
    95

    صحیح بات یہ ہے کہ کسی مسئلہ میں لاعلمی کی صورت میں توقف کرنا اور فوری جواب دینے سے پرہیز واجب ہے- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمای تو وحی سے ہو جاتی تھی تو آپ جواب دے دیتے- ہم پر وحی نہیں اتی تو ھم علماء کی طرف رجوع کر کے یہ معلوم کریں گے کہ اس بارے میں کتاب وسنت میں کوی نص ھی- ورنہ اجماع یا عمومات سے تمسک یعنی قیاس -اوپر دیے گئے حولہ کا مفاد صرف جلد بازی سے اجتناب ھی نہ کہ قیاس کی حرمت- فافہم وتدبر
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 14، 2015 #7
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک فقیہ اور مجتہد تھے۔ جو مسئلہ صریحاً قرآن و سنت سے ثابت نہیں تھا اس میں اجتہاد کرتے تھے جیسا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یمن روانگی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااستفسار احادیث کی کتب میں موجود ہے۔ ان کو اہل الرائے کیوں کہا جاتا ہے؟
     
  8. ‏ستمبر 15، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ اگر کسی حدیث میں ہے تو گذارش ہے کہ وہ پوری حدیث بالاسناد یہاں پیش کریں؛

    کس نے ان کو اہل الرائے کہا ؟؟
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 15، 2015 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو قرآن کی دلیل سمجھ نہیں آئی، اور حدیث کے علم میں تو یتیم و مسکین تھے ، تو انہوں نے تو دلائل کا علم نہ ہونے کی بناء پر قیاس کر لیا، اس قیاس کی حیثیت سے قطع نظر، وہ تو معذور ٹھیرے، اب آپ ان کے قیاس سے کیوں چمٹے بیٹھے ہو، آپ تو قرآن و حدیث کے دلائل تسلیم کرلو!
    یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں
    یہ حنفیوں نے پھیلائی ہیں
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 15، 2015 #10
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    سنن ابوداؤد: کتاب الاقضیۃ: بَاب اجْتِهَادِ الرَّأْيِ فِي الْقَضَاءِ

    عن أناس من أهل حمص من أصحاب معاذ بن جبل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أراد أن يبعث معاذا إلى اليمن قال كيف تقضي إذا عرض لك قضاء قال أقضي بكتاب الله قال فإن لم تجد في كتاب الله قال فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فإن لم تجد في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا في كتاب الله قال أجتهد رأيي ولا آلو فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم صدره وقال الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول الله
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں