1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلا یا۔

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏ستمبر 02، 2012۔

  1. ‏ستمبر 20، 2015 #21
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم آپ اہلِ حدیث ہو کر امتیوں کی تقلید کا کیوں کہتے ہو؟
    الحمد للہ میں نے احادیث مبارکہ سے دیکھ لیا کہ کیا غلطی ہے اور اس کی اصلاح کرلی بضد نہیں ہؤا۔ اس میں مَیں آپ کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ شکریہ
    والسلام
     
  2. ‏ستمبر 20، 2015 #22
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    بھٹی صاحب! اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام کہ تمام عادل ہیں، اہل الحدیث کے نزدیک! لہٰذا اتنا معلوم ہو جائے کہ یہ صحابی ہیں، ان کا نام معلوم ہو یا نہ ہو، کافی ہے!
    جبکہ اصحاب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت نہیں کہ تمام کہ تمام عادل ہوں! لہٰذا راوی کا تعین ضروری ہے!

    بھٹی صاحب! اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھئے، آپ کی فقہائے احناف اور اور آپ کے عقیدہ کے امام سعد الدین التفتازانی کیا فرماتے ہیں:
    شرح التلويح على التوضيح - سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني (المتوفى: 793هـ)
    (قَوْلُهُ: وَأَمَّا الْمَجْهُولُ) ذَهَبَ بَعْضُهُمْ إلَى أَنَّ هَذَا كِنَايَةٌ عَنْ كَوْنِهِ مَجْهُولَ الْعَدَالَةِ، وَالضَّبْطِ إذْ مَعْلُومُ الْعَدَالَةِ، وَالضَّبْطِ لَا بَأْسَ بِكَوْنِهِ مُنْفَرِدًا بِحَدِيثٍ أَوْ حَدِيثَيْنِ، فَإِنْ قِيلَ عَدَالَةُ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ ثَابِتَةٌ بِالْآيَاتِ، وَالْأَحَادِيثِ الْوَارِدَةِ فِي فَضَائِلِهِمْ قُلْنَا ذَكَرَ بَعْضُهُمْ أَنَّ الصَّحَابِيَّ اسْمٌ لِمَنْ اُشْتُهِرَ بِطُولِ صُحْبَةِ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - عَلَى طَرِيقِ التَّتَبُّعِ لَهُ، وَالْأَخْذِ مِنْهُ وَبَعْضُهُمْ أَنَّهُ اسْمٌ لِمُؤْمِنٍ رَأَى النَّبِيَّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - سَوَاءٌ طَالَتْ صُحْبَتُهُ أَمْ لَا إلَّا أَنَّ الْجَزْمَ بِالْعَدَالَةِ مُخْتَصٌّ بِمَنْ اُشْتُهِرَ بِذَلِكَ، وَالْبَاقُونَ كَسَائِرِ النَّاسِ فِيهِمْ عُدُولٌ وَغَيْرُ عُدُولٍ.

    (قَوْلُهُ: وَأَمَّا الْمَجْهُولُ) بعض اس طرف گئے ہیں کہ کہ یہ کنایہ ہے کہ وہ مجہول العدالت ،اور مجہول الضبط ہیں ۔کیونکہ جب کسی عدالت ،اور ضبط معلوم ہو، تواس کے ایک ،دو حدیثوں میں منفرد ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔،
    اور اگر یہ کہا جائے کہ جمیع صحابہ کی عدالت آیات، اور ان احادیث سے ثابت ہے، جو ان کے فضائل میں آئیں ہیں،
    تو ہم کہتے ہیں : کہ (یہ قاعدہ علی الاطلاق صحیح نہیں ،کیونکہ )بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ صحابی اس کو کہا جاتا ہے جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طویل صحبت مشہور ہو، اوریہ بات اس صحابی کے حالات کے تتبع سے معلوم کی گئی ہو ،
    اور بعض اہل علم کے نزدیک ’’ صحابی ‘‘ ہر اس مومن کو کہا جاتا ہے، جس نے نبی صلی اللہ علیہ کو (حالت ایمان میں ) دیکھا ہے ، خواہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل صحبت پائی ہو ،یا مختصر ،
    اس کو صحابی تو مانا جائے گا ۔
    مگر یقینی طور پر عدالت اسی کی تسلیم کی جائے گی۔جو ’’صفت عدالت کے ساتھ مشہور ہو ۔
    اور دیگر صحابہ کو عام مومنین کی طرح سمجھا جائے گا ۔جن میں عادل بھی ہیں ۔اور غیر عادل بھی ‘‘
    ملاحضہ فرمائیں:صفحه 10 جلد 02 شرح التلويح على التوضيح - سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني - دار الكتب العلمية بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 06 جلد 02 شرح التلويح على التوضيح – سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني - طبع قديم دار الكتب العلمية بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 10 جلد 02 شرح التلويح على التوضيح - سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني - قديمي كتب خانة كراتشي

    ان حنفیوں میں تو رفض کے جراثیم بھی موجود ہیں!
    اتنی لمبی جراح پیش کر کے فرماتے ہیں کہ جمہور کی تضعیف کو چھوڑ کر ابن حبان کی تساہل پر مبنی توثیق مان لو!
    اسی لئے تو کہتا ہوں کہ مقلدین حنفیہ بوجہ تقلید امام ابو حنیفہ علم الحدیث میں یتیم و مسکین ہوا کرتے ہیں!
     
    Last edited: ‏ستمبر 24، 2015
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 21، 2015 #23
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم جہاں آپ کو مطلب پڑے گا وہاں اسی ’ابن حبان‘ رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف توصیف کرتے نہ تھکو گے۔ خیر اس میں یہ بھی تھا کہ ’ إمام الحرمين أبو المعالى الجوينى نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے‘۔ اس پر بھی کچھ فرما دیتے۔
    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 21، 2015
  4. ‏ستمبر 21، 2015 #24
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    براہِ کر تصحیح فرما لیں یہ لفظ رحمۃ اللہ علیہ ہے غلط ٹیب دبنے کی وجہ سے غلط ہو گیا۔ شکریہ
     
  5. ‏ستمبر 21، 2015 #25
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جناب من! ہم بالکل ابن حبان رحمہ اللہ کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہیں!
    در اصل آپ بوجہ تقلید امام ابو حنیفہ علم الحدیث میں یتیم و مسکین ہو!
    اسی وجہ سے آپ کو اب تک جراح و تعدیل کی بنیادی باتیں بھی نہیں معلوم! کہ کسی کی شاذ توثیق جمہور کی جراح کے مقابلے میں مقبول نہیں ہوتی!

    ویسے ایک بات بتلاؤ! کی اآپ امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی تمام جراح و تعدیل کو قبول کرو گے؟
    اگر ہاں تو جواب لکھئے! پھر میں آپ کو امام ابن حبان رحمہ اللہ کی ایک جراح پیش کروں گا، دیکھتے ہیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو!
    اب ذرا بتلاؤ ، کیا آپ کو امام ابن حبان رحمہ اللہ کی تمام جراح و تعدیل قبول ہیں؟
    بھٹی صاحب! یہ ترجمہ یا تو آپ نے غلط کیا ہے یا بھی پھر آپ کو کسی نے غلط پٹی پڑھائی ہے، مگر اس ترجمہ کی بحث سے بھی قطع نظر!
    بھٹی صاحب! جس کتاب سے آپ نے یہ حوالہ نقل کیا ہے اور آپ نے کود وہ کلام بھی پیش کی اہے، ہم آپ کا اقتباس پیس کرتے ہیں، وہاں ملون الفاظ دیکھیں:
    بھٹی صاحب، اسی کتاب میں اسی جملہ کے فوراً بعد امام ابن حجر العسقلانی نے اسے امام الحرمین ابو المعالی الجوینی کا وہم قرار دیا ہے، امام ابن حجر العسقلانی کے الفاظ دیکھیں:
    ''و وهم فى ذلك ، و الله المستعان''

    اس کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں فرمایا؛
    بھٹی صاحب! اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام کہ تمام عادل ہیں، اہل الحدیث کے نزدیک! لہٰذا اتنا معلوم ہو جائے کہ یہ صحابی ہیں، ان کا نام معلوم ہو یا نہ ہو، کافی ہے!
    جبکہ اصحاب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت نہیں کہ تمام کہ تمام عادل ہوں! لہٰذا راوی کا تعین ضروری ہے!

    بھٹی صاحب! اب ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھئے، آپ کی فقہائے احناف اور اور آپ کے عقیدہ کے امام سعد الدین التفتازانی کیا فرماتے ہیں:
    شرح التلويح على التوضيح - سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني (المتوفى: 793هـ)
    (قَوْلُهُ: وَأَمَّا الْمَجْهُولُ) ذَهَبَ بَعْضُهُمْ إلَى أَنَّ هَذَا كِنَايَةٌ عَنْ كَوْنِهِ مَجْهُولَ الْعَدَالَةِ، وَالضَّبْطِ إذْ مَعْلُومُ الْعَدَالَةِ، وَالضَّبْطِ لَا بَأْسَ بِكَوْنِهِ مُنْفَرِدًا بِحَدِيثٍ أَوْ حَدِيثَيْنِ، فَإِنْ قِيلَ عَدَالَةُ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ ثَابِتَةٌ بِالْآيَاتِ، وَالْأَحَادِيثِ الْوَارِدَةِ فِي فَضَائِلِهِمْ قُلْنَا ذَكَرَ بَعْضُهُمْ أَنَّ الصَّحَابِيَّ اسْمٌ لِمَنْ اُشْتُهِرَ بِطُولِ صُحْبَةِ النَّبِيِّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - عَلَى طَرِيقِ التَّتَبُّعِ لَهُ، وَالْأَخْذِ مِنْهُ وَبَعْضُهُمْ أَنَّهُ اسْمٌ لِمُؤْمِنٍ رَأَى النَّبِيَّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - سَوَاءٌ طَالَتْ صُحْبَتُهُ أَمْ لَا إلَّا أَنَّ الْجَزْمَ بِالْعَدَالَةِ مُخْتَصٌّ بِمَنْ اُشْتُهِرَ بِذَلِكَ، وَالْبَاقُونَ كَسَائِرِ النَّاسِ فِيهِمْ عُدُولٌ وَغَيْرُ عُدُولٍ.

    (قَوْلُهُ: وَأَمَّا الْمَجْهُولُ) بعض اس طرف گئے ہیں کہ کہ یہ کنایہ ہے کہ وہ مجہول العدالت ،اور مجہول الضبط ہیں ۔کیونکہ جب کسی عدالت ،اور ضبط معلوم ہو، تواس کے ایک ،دو حدیثوں میں منفرد ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔،
    اور اگر یہ کہا جائے کہ جمیع صحابہ کی عدالت آیات، اور ان احادیث سے ثابت ہے، جو ان کے فضائل میں آئیں ہیں،
    تو ہم کہتے ہیں : کہ (یہ قاعدہ علی الاطلاق صحیح نہیں ،کیونکہ )بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ صحابی اس کو کہا جاتا ہے جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طویل صحبت مشہور ہو، اوریہ بات اس صحابی کے حالات کے تتبع سے معلوم کی گئی ہو ،
    اور بعض اہل علم کے نزدیک ’’ صحابی ‘‘ ہر اس مومن کو کہا جاتا ہے، جس نے نبی صلی اللہ علیہ کو (حالت ایمان میں ) دیکھا ہے ، خواہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل صحبت پائی ہو ،یا مختصر ،
    اس کو صحابی تو مانا جائے گا ۔
    مگر یقینی طور پر عدالت اسی کی تسلیم کی جائے گی۔جو ’’صفت عدالت کے ساتھ مشہور ہو ۔
    اور دیگر صحابہ کو عام مومنین کی طرح سمجھا جائے گا ۔جن میں عادل بھی ہیں ۔اور غیر عادل بھی ‘‘
    ملاحضہ فرمائیں:صفحه 10 جلد 02 شرح التلويح على التوضيح - سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني - دار الكتب العلمية بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 06 جلد 02 شرح التلويح على التوضيح – سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني - طبع قديم دار الكتب العلمية بيروت
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 10 جلد 02 شرح التلويح على التوضيح - سعد الدين مسعود بن عمر التفتازاني - قديمي كتب خانة كراتشي
    ان حنفیوں میں تو رفض کے جراثیم بھی موجود ہیں!
     
    Last edited: ‏ستمبر 24، 2015
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 24، 2015 #26
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم
    جناب آپ کے تمام علماء کے نزدیک اجماع تو کبھی ہؤا ہی نہیں کہ ہر معاملہ میں کسی نہ کسی کا اختلاف موجود رہا ہے۔ باقی رہی قیاس کی بات تو اہلِ حدیث کا ہی قیاس صحیح ہو سکتا ہے کسی اور کا کبھی نہیں!!!!!!!!!

    ان جھوٹی باتوں کو پھیلانے میں ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں۔

    محترم حدیث میں ’’عن أناس من أهل حمص ‘‘اہل حمص کے کچھ لوگ ‘‘ نہیں بلکہ ’’عن أناس من أهل حمص من اصحابِ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ‘‘ ہے یعنی اہلِ حمص کے کے لوگوں میں سے جو معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ہیں ان سے روایت ہے نہ کہ عامیوں سے۔ راوی عام لوگوں کی نہیں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی بات کر رہا ہے۔

    محترم اگر آپ خود نہیں سمجھ سکتے تو کسی ساتھی سے سمجھ لیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔

    اصول حدیث نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے۔

    محترم یہ کس صحیح حدیث یا احادیث کی مخالف ہے ذرا سامنے لائیں؟

    محترم یہ بات ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ تک کس طرح پہنچاؤ گے۔ ہاں ایک کام ہوسکتا ہے کہ اس کو ’’موضوع احادیث کی کتب‘‘ میں ڈلوادیں۔ کیا اہلِ حدیث کا پسندیدہ کام یہ ہے کہ احادیث کو ضعیف قرار دو پھر ان کا انکار کرو؟ انکارِ حدیث کا الزام بھی نہ آئے اور کام بھی بن جائے۔

    محترم یہ بات آپ بالکل صحیح ہے کہ مقلدین بوجہ تقلید علم الحدیث میں یتیم و مسکین ہوا کرتے ہیں مگر تفہیمِ حدیث میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔
    والسلام
     
  7. ‏ستمبر 24، 2015 #27
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ویسے تو میں اس پوری پوسٹ کا جواب دیتا ۔۔۔۔۔
    لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے بقلم خود تمام مقلدین کو ۔۔علم حدیث میں یتیم و مسکین ‘‘ مان کر
    لا جواب کردیا؛
    شاباش ۔۔زبردست
    اس تھریڈ کا کامیاب اختتام ۔۔بلکہ کامیاب تکمیل مبارک ہو ۔۔اور ساتھ ہی ’’ عید بھی مبارک ہو ‘‘
    وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 24، 2015 #28
    saqibbilwani

    saqibbilwani مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2015
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    اسلام علیکم

    بهائ ان امور سے متعلق اهل الحدیث کا کیا موقف هے جہاں الله کے نبی صلی اللہ علیه وسلم نے ایک بات یا حکم فرمایا مگر الله تعالی نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔ جیسے جنگی قیدیوں کے چهوڑنے کے معاملے پر قرآن میں واقعه مذکور هے
     
  9. ‏ستمبر 24، 2015 #29
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایسے موقعوں پر خود اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ و سلم نے ربانی رہنمائی کے بعد اپنے موقف یا نظریہ تبدیل فرمالیا ، اسی طرح اہل حدیث بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اطاعت کے پابند ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 24، 2015 #30
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ علیہ
    محترم (و ذكر إمام الحرمين أبو المعالى الجوينى : أن هذا الحديث مخرج فى " الصحيح ") امام الحرمین ابو المعالی الجوینی اس کو صحیح کہتے ہیں۔ اب اگر کوئی دوسرا کہتا ہے کہ یہ ان کا وہم ہے تو اس سے ترجمہ کیسے غلط ہو گیا؟ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے؛
    کسی نے کہا کہ یہ امام الحرمین ابو المعالی الجوینی کا وہم ہے اس سے ترجمہ میں کیا نقص واقع ہؤا۔
    محترم جتنی بھی عربی عبارات کا ترجمہ لکھتا ہوں و ہ میں اپنی سمجھ سے لکھتا ہوں۔ جہاں قرآنِ پاک آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہو وہاں میں لفظ ’ترجمہ‘ لکھنے کی بجائے لفظ ’مفہوم‘ لکھتا ہوں تا کہ اگر سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منصوب نہ ہو۔ کچھ جگہوں پر ایسا ہوتا ہے کہ مجھے ترجمہ سمجھ نہیں آتا تو تراجم کی کتب کی طرف مراجعت کرتا ہوں اس میں میرا کافی وقت صرف ہو جاتا ہے۔ جو سمجھ نہیں آتا اس کو نشان زدہ کرکے چھوڑ دیتا ہوں۔ اس لئے ممکن ہے کہ کہیں غلط ترجمہ ہو جائے متنبہ کرنے پر انشاء اللہ تصحیح کر لی جائے گی اور تصحیح کرنے والا شکریہ کا بھی مستحق ہوگا۔
    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں