1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلا یا۔

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏ستمبر 02، 2012۔

  1. ‏ستمبر 25، 2015 #31
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    پہلی عرض تو یہ کہ آپ نے ۔۔سلام۔۔پھر غلط لکھا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری بات یہ کہ ’’امام الحرمین ‘‘ والے کلام کا ترجمہ یقیناً غلط لکھا ہے ۔(صحیح ترجمہ میں بتاتا ہوں ،پہلے درج ذیل امور دیکھ لیں)
    اور تیسری بات یہ ۔۔جس نے یہ کہا کہ ’’ امام الحرمین ‘‘ کو وہم ہوا ،جانتے ہو وہ کون ہے ؟
    وہ ہیں صحیح بخاری کے مشہور و معروف شارح اور بے مثال قیمتی کتب کے مصنف جناب حافظ أبو الفضل أحمد بن علي العسقلاني ۔


    اور ملحوظ رہے :
    امام الحرمین ؒ۔۔کو حدیث کے حوالے میں وہم نہیں بلکہ ۔۔اوہام۔۔ہوئے ہیں ،یہ بات ۔۔جرح و تعدیل کے امام الذہبی ؒ نے واشگاف بیان
    فرمائی ہے ،لکھتے ہیں :

    شهادة الإمام الحافظ الذهبي –إمام أهل الجرح والتعديل في عصره– حيث قال في السير (18|471):
    «كان هذا الإمام مع فرط ذكائه وإمامته في الفروع وأصول المذهب وقوة مناظرته، لا يدري الحديث كما يليق به لا متناً ولا سنداً»
    یعنی ۔۔امام الحرمین ابو المعالی۔انتہائی ذکی اور فقہ اور اصول مذہب میں امامت کا درجہ پانے ،اور مناظرہ کی اہلیت کے باوجود ’’ حدیث کو نہیں جانتے تھے۔نہ سند حدیث کا علم تھا ۔اور نہ ہی متن حدیث کی معرفت حاصل تھی ۔انتہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب جو عالم ۔۔علم حدیث نہ سنداً جانتا ہے ،اور نہ ہی متناً حدیث کا عارف ہے اسے یقیناً ۔۔تخریج ۔۔میں اوہام ہی ہونگے ۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2015
  2. ‏ستمبر 25، 2015 #32
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم اہلَ حدیث کا کاروبار اسی قسم کی موشگافیوں سے چلتا ہے آپ میرا پورا فقرہ لکھتے جو کہ یہ تھا؛
    مقلدین بوجہ تقلید علم الحدیث میں یتیم و مسکین ہوا کرتے ہیں مگر تفہیمِ حدیث میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔
    اس کے سا تھ تفہیم کے لئے دوسرا فقرہ بھی ملاحظہ فرمالیں؛
    غیر مقلدین احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یتیم و مسکین ہوا کرتے ہیں مگر احادیثِ نفس رٹنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور تفہیمِ حدیث ان سے سلب ہوچکی ہے۔
    خیر اس تھریڈ میں جو کچھ لکھا جانا چاہئے وہ لکھیں۔ شکریہ
    ولسلام
     
  3. ‏اکتوبر 02، 2015 #33
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم صحیح ترجمہ کا منتظر ہوں۔
    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں