1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب : زکوٰۃ دینا فرض ہے

'وجوب' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اکتوبر 02، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 02، 2012 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
    باب : زکوٰۃ دینا فرض ہے

    وقول الله تعالى‏:‏ ‏{‏وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة‏}‏ وقال ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ حدثني أبو سفيان ـ رضى الله عنه ـ فذكر حديث النبي صلى الله عليه وسلم فقال يأمرنا بالصلاة والزكاة والصلة والعفاف‏.
    اور اللہ عزوجل نے فرمایا کہ نماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ( قیصر روم سے اپنی ) گفتگو نقل کی کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں وہ نماز‘ زکوٰة‘ صلہ رحمی‘ ناطہ جوڑنے اور حرام کاری سے بچنے کا حکم دیتے ہیں۔

    تشریح : حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اپنی روش کے مطابق پہلے قرآن مجید کی آیت لائے اور فرضیت زکوٰۃ کو قرآن مجید سے ثابت کیا۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کی بابت بیاسی آیات میں اللہ پاک نے حکم فرمایا ہے اور یہ اسلام کا ایک عظیم رکن ہے۔ جو اس کا منکر ہے وہ بالا تفاق کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ زکوٰۃ نہ دینے والوں پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کا اعلان فرما دیا تھا۔

    زکوٰۃ 2ھ میں مسلمانوں پر فرض ہوئی۔ یہ درحقیقت اس صفت ہمدردی ورحم کے بقاعدہ استعمال کا نام ہے جو انسان کے دل میں اپنے ابنائے جنس کے ساتھ قدرتاً فطری طورپر موجود ہے۔ یہ اموال نامیہ یعنی ترقی کرنے والوں میں مقرر کی گئی ہے جن میں سے ادا کرنا ناگوار بھی نہیں گزر سکتا۔ اموال نامیہ میں تجارت سے حاصل ہونے والی دولت‘ زراعت اور مویشی ( بھیڑ بکری گائے وغیرہ ) اور نقد روپیہ اور معدنیات اور دفائن شمار ہوتے ہیں۔ جن کے مختلف نصاب ہیں۔ ان کے تحت ایک حصہ ادا کرنافرض ہے۔ قرآن مجید میں اللہ پاک نے زکوٰۃ کی تقسیم ان لفظوں میں فرمائی۔ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلفُقَرَائِ وَالمَسٰکِینَ وَالعٰمِلَینَ عَلَیہَا وَالمُوَلَّفَۃِ قُلُوبُہُم وَفِی الرِّقَابِ وَالغٰرِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَابنِ السَّبِیلِ ( التوبہ: 60 ) یعنی زکوٰۃ کا مال فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہے اور تحصیلدار ان زکوٰۃ کے لیے ( جو اسلامی اسٹیٹ کی طرف سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر ہوں گے ان کی تنخواہ اس میں سے ادا کی جائے گی ) اور ان لوگوں کے لیے جن کی دل افزائی اسلام میں منظور ہو یعنی نو مسلم لوگ اور غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے اور ایسے قرضداروں کا فرض چکانے کے لیے جو قرض نہ اتارسکتے ہوں اور اللہ کے راستے میں ( اسلام کی اشاعت وترقی وسربلندی کے لیے ) اور مسافروں کے لیے۔

    لفظ زکوٰۃ کی لغوی اور شرعی تشریح کے لیے علامہ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز کتاب فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں: والزکوہ فی اللغۃ النماءیقال زکا الزرع اذا نما ویرد ایضا فی المال وترد ایضا یمعنی التطہیر وشرعا باعتبارین معا اما بالاول فلان اخراجہا سبب للنماءفی المال اوبمعنی ان الا جر بسببہا یکثر ان بمعنی ان متعلقہا الاموال ذات النماءکالتجارۃ والزراعۃ ودلیل الاول مانقص مال من صدقۃ ولانہا یضاعف ثوابہا کما جاءان اللہ یربی الصدقۃ واما بالثانی فلانہا طہرۃ للنفس من رذیلۃ البخل وتطہیر من الذنوب وہی الرکن الثالث من الارکان التی بنی الاسلام علیہا کما تقدم فی کتاب الایمان وقال ابن العربی تطلق الزکوۃ علی الصدقۃ الواجبۃ والمندوبۃ والنفقۃ والحق والعفو وتعریفہا فی الشرع اعطاءجزءمن النصاب الحولی الی الفقیر ونحوہ غیر ہاشمی ولا مطلبی ثم لہا رکن وہو الاخلاص وشرط ہو السبب وہو ملک النصاب الحولی وشرط من تجب علیہ وہو العقل البلوغ والحریۃ لہاحکم وہو سقوط الجواب فی الدنیا وحصول الثواب فی الاخری وحکمۃ وہی تطہیر من الادناس ورفع الدرجۃ واسترقاق الاحرار انتہی وہو جیدلکن فی شرط من تجب علیہ اختلاف والزکوٰۃ امر مقطوع بہ فی الشرع یستغنی عن تکلف لاحتجاج لہ وانما وقع الاختلاف فی بعض فروعہ واما اصل فرضیۃ الزکوۃ فمن جحدہا کفر وانما ترجم المصنف بذلک علی عادتہ فی ایراد الادلۃ الشرعیۃ والمتفق علیہا والمختلف فیہا ( فتح الباری‘ ج: 3ص: 308 )

    اختلف فی اول وقت فرض الزکوۃ فذہب الاکثر الی انہ وقع بعد الہجرۃ فقیل کان فی السنۃ الثانیۃ قبل فرض رمضان اشار الیہ النووی
    خلاصہ یہ کہ لفظ زکوٰۃ نشوونما پر بولا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ زکاالزرع یعنی زراعت کھیتی نے نشوونما پائی جب وہ بڑھنے لگے تو ایسا بولا جاتا ہے۔ اسی طرح مال کی بڑھوتری پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور پاک کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے اور شرعاً ہر دو اعتبار سے اس کا استعمال ہوا ہے۔ اول تو یہ کہ اس کی ادائیگی سے مال میں بڑھوتری ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اس کے سبب اجروثواب کی نشوونما حاصل ہوتی ہے یا یہ بھی کہ یہ زکوٰۃ ان اموال سے ادا کی جاتی ہے جو بڑھنے والے ہیں جیسے تجارت زراعت وغیرہ۔ اول کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں وارد ہے کہ صدقہ نکالنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ وہ بڑھ ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ اس کا ثواب دو گناسہ گنا بڑھتا ہے۔ جیسا کہ آیا ہے کہ اللہ پاک صدقہ کے مال کو بڑھاتا ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے نفس کو بخل کے رذائل سے پاک کرنے والی چیز ہے اور گناہوں سے بھی پاک کرتی ہے اور اسلام کا یہ تیسرا عظیم رکن ہے۔ ابن العربی نے کہا کہ لفظ زکوٰۃ صدقہ فرض اور صدقہ نفل اور دیگر عطایا پر بھی بولا جاتا ہے۔

    اس کی شرعی تعریف یہ کہ مقررہ نصاب پر سال گزرنے کے بعد فقراءودیگر مستحقین کو اسے ادا کرنا فقراءہاشمی اور مطلبی نہ ہوں کہ ان کے لیے اموال زکوٰۃ کا استعمال ناجائز ہے۔ زکوٰۃ کے لیے بھی کچھ اور شرائط ہیں۔ اول اس کی ادائیگی کے وقت اخلاص ہونا ضروری ہے۔ ریا ونمود کے لیے زکوٰۃ ادا کرے تو وہ عند اللہ زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک حد مقررہ کے اندر وہ مال ہو اور اس پر سال گزرجائے اور زکوٰۃ عاقل بالغ آزاد پر واجب ہے۔ اس سے دنیا میں وجوب کی ادائیگی اور آخرت میں ثواب حاصل ہونا مقصود ہے اور اس میں حکمت یہ کہ یہ انسانوں کو گناہوں کے ساتھ خصائل رذالت سے بھی پاک کرتی ہے اور درجات بلند کرتی ہے۔
    اور یہ اسلام میں ایک بہترین عمل ہے مگر جس پر یہ واجب ہے اس کی تفصیلات میں کچھ اختلاف ہے اور یہ اسلام میں ایک ایسا قطعی فریضہ ہے کہ جس کے لیے کسی اور مزید دلیل کی ضرورت ہی نہیں اور دراصل یہ قطعی فرض ہے‘ جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ یہاں بھی مصنف نے اپنی عادت کے مطابق ادلہ شرعیہ سے اس کی فرضیت ثابت کی ہے۔ وہ ادلہ جو متفق علیہ ہیں۔ جن میں پہلے آیت شریفہ‘ پھر چھ احادیث ہیں۔

    حدیث نمبر : 1395
    حدثنا أبو عاصم الضحاك بن مخلد، عن زكرياء بن إسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن أبي معبد، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا ـ رضى الله عنه ـ إلى اليمن فقال ‏"‏ ادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله، فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم، تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا‘ ان سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا‘ ان سے یحیٰی بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بناکر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔

    حدیث نمبر : 1396
    حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابن عثمان بن عبد الله بن موهب، عن موسى بن طلحة، عن أبي أيوب، رضى الله عنه أن رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم أخبرني بعمل يدخلني الجنة‏.‏ قال ما له ما له وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أرب ماله، تعبد الله، ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصل الرحم‏"‏‏. وقال بهز: حدثنا شعبة: حدثنا محمد بن عثمان، وأبوه عثمان بن عبد الله: أنهما سمعا موسى بن طلحة، عن أبي أيوب: بهذا. قال أبو عبد الله: أخشى أن يكون محمد غير محفوظ، إنما هو عمرو.‏
    ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب سے بیان کیا ہے‘ ان سے موسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے۔ ( سنو ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰة دو اور صلہ رحمی کرو۔ اور بہزنے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن عثمان اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان دونوں صاحبان نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح ( سنا ) ابوعبداللہ ( امام بخاری ) نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد سے روایت غیر محفوظ ہے اور روایت عمر وبن عثمان سے ( محفوظ ہے )

    حدیث نمبر : 1397
    حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا وهيب، عن يحيى بن سعيد بن حيان، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن أعرابيا، أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال دلني على عمل إذا عملته دخلت الجنة‏.‏ قال ‏"‏ تعبد الله لا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان‏"‏‏. ‏ قال والذي نفسي بيده لا أزيد على هذا‏.‏ فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا‏"‏‏. حدثنا مسدد، عن يحيى، عن أبي حيان، قال أخبرني أبو زرعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا‏.‏
    ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید بن حیان نے‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا‘ فرض نماز قائم کر‘ فرض زکوٰة دے اور رمضان کے روزے رکھ۔ دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہوتو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا‘ ان سے یحیٰی بن سعید قطان نے‘ ان سے ابوحیان نے‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوزرعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔

    مگر یحیٰی بن سعید قطان کی یہ روایت مرسل ہے۔ کیونکہ ابوزرعہ تابعی ہیں۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا اور وہیب کی روایت جو اوپر گزری وہ موصول ہے اور وہیب ثقہ ہیں۔ ان کی زیارت مقبول ہے۔ اس لیے حدیث میں کوئی علت نہیں ( وحیدی )
    اس حدیث کے ذیل حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: قال القرطبی فی ہذا الحدیث وکذا حدیث طلحۃ فی قصۃ الاعرابی وغیرہما دلالۃ علی جواز ترک التطوعات لکن من داوم علی ترک السنن کان نقصا فی دینہ فان کان ترکہا تہاونا بہا ورغبۃ عنہا کان ذلک فسقا یعنی لو رود الوعید علیہ حیث قال صلی اللہ علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس من وقد کان صدر الصحابۃ ومن تبعہم یواظبون علی السنن مواظبتہم علی الفرائض ولا یفرقون بینہما فی اغتنام ثوابہما ( فتح الباری ) یعنی قرطبی نے کہا کہ اس حدیث میں اور نیز حدیث طلحہ میں جس میں ایک دیہاتی کا ذکر ہے‘ اس پر دلیل ہے کہ نفلیات کا ترک کردینا بھی جائز ہے مگر جو شخص سنتوں کے چھوڑنے پر ہمیشگی کرے گا وہ اس کے دین میں نقص ہوگا اور اگر وہ بے رغبتی اور سستی سے ترک کررہا ہے تو یہ فسق ہوگا۔ اس لیے کہ ترک سنن کے متعلق وعید آئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میری سنتوں سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اور صدر اول میں صحابہ کرام اور تابعین عظام سنتوں پر فرضوں ہی کی طرح ہمیشگی کیا کرتے تھے اور ثواب حاصل کرنے کے خیال میں وہ لوگ فرضوں اور سنتوں میں فرق نہیں کرتے تھے۔

    حدیث بالا میں حج کا ذکر نہیں ہے‘ اس پر حافظ فرماتے ہیں۔ لم یذکر الحج لانہ کان حینئذ حاجا ولعلہ ذکرہ لہ فاختصرہ یعنی حج کا ذکر نہیں فرمایا اس لیے کہ وہ اس وقت حاجی تھا یا آپ نے ذکر فرمایا مگر راوی نے بطور اختصار اس کا ذکر چھوڑ دیا۔

    بعض محترم حنفی حضرات نے اہلحدیث پر الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ سنتوں کا اہتمام نہیں کرتے‘ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ الحمدللہ اہلحدیث کا بنیادی اصول توحید وسنت پر کاربند ہونا ہے۔ سنت کی محبت اہلحدیث کا شیوہ ہے لہٰذا یہ الزام بالکل بے حقیقت ہے۔ ہاں معاندین اہلحدیث کے بارے میں اگر کہا جائے کہ ان کے ہاں اقوال ائمہ اکثر سنتوں پر مقدم سمجھے جاتے ہیں تو یہ ایک حد تک درست ہے۔ جس کی تفصیل کے لیے اعلام الموقعین از علامہ ابن قیم کا مطالعہ مفید ہوگا۔

    حدیث نمبر : 1398

    حدثنا حجاج، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا أبو جمرة، قال سمعت ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ يقول قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله إن هذا الحى من ربيعة قد حالت بيننا وبينك كفار مضر، ولسنا نخلص إليك إلا في الشهر الحرام، فمرنا بشىء نأخذه عنك، وندعو إليه من وراءنا‏.‏ قال ‏"‏ آمركم بأربع، وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله وشهادة أن لا إله إلا الله ـ وعقد بيده هكذا ـ وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وأن تؤدوا خمس ما غنمتم، وأنهاكم عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت‏"‏‏. ‏ وقال سليمان وأبو النعمان عن حماد ‏"‏ الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله‏"‏‏. ‏
    ہم سے حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصربن عمران ضبعی نے بیان کیا‘ کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا‘ آپ نے بتلایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم ربیعہ قبیلہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہوسکتے ہیں ( کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہوجاتی ہیں اور راستے پر امن ہوجاتے ہیں ) آپ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلادیجئے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آسکے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا ( یہ کہتے ہوئے ) آپ نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا۔ نماز قائم کرنا‘ پھر زکوٰة ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے ( کا حکم دیتا ہوں ) اور میں تمہیں کدو کے تو نبی سے اور حنتم ( سبزرنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا ) فقیر ( کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن ) اور زفت لگا ہوا برتن ( زفت بصرہ میں ایک قسم کا تیل ہوتا تھا ) کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے۔ الایمان باللہ شہادة ان لا الہ الا اللہ یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب لا الہ الااللہ کی گواہی دینا۔

    تشریح : یہ حدیث اوپر کئی بار گزر چکی ہے۔ سلیمان اور ابوالنعمان کی روایت میں ایمان باللہ کے بعد واؤ عطف نہیں ہے اور حجاج کی روایت میں واؤ عطف تھی۔ جیسے اوپر گزری۔ ایمان باللہ اور شہادۃ ان لا الہ الا اللہ دونوں ایک ہی ہیں۔ اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ یہ پانچ باتیں ہوگئیں اور حج کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ان لوگوں پر شاید حج فرض نہ ہوگا۔ اس حدیث سے بھی زکوٰۃ کی فرضیت نکلتی ہے کیونکہ آپ نے اس کا امر کیا اور امر وجوب کے لیے ہوا کرتا ہے۔ مگر جب کوئی دوسرا قرینہ ہو جس میں عدم وجوب ثابت ہو۔ حافظ نے کہا کہ سلیمان کی روایت کو خود مؤلف نے مغازی میں اور ابوالنعمان کی روایت کو بھی خود مؤلف نے خمیس میں وصل کیا۔ ( وحیدی )

    چار قسم کے برتن جن کے استعمال سے آپ نے ان کو منع فرمایا وہ یہ تھے جن میں عرب لوگ شراب بطور ذخیرہ رکھا کرتے تھے اور اکثر ان ہی سے صراحی اور جام کا کام لیا کرتے تھے۔ ان برتنوں میں رکھنے سے شراب اور زیادہ نشہ آور ہوجایا کرتی تھی۔ اس لیے آپ نے ان کے استعمال سے منع فرما دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ممانعت وقتی ممانعت تھی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نہ صرف گناہوں سے بچنا بلکہ ان کے اسباب اور دواعی سے بھی پرہیز کرنالازمی ہے جن سے ان گناہوں کے لیے آمادگی پیدا ہوسکتی ہو۔ اسی بناپر قرآن مجید میں کہا گیا کہ لاتقربوا الزنیٰ یعنی ان کاموں کے بھی قریب نہ جاؤ جن سے زنا کے لیے آمادگی کا امکان ہو۔

    حدیث نمبر : 1399
    حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع، أخبرنا شعيب بن أبي حمزة، عن الزهري، حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، أن أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ وكفر من كفر من العرب فقال عمر ـ رضى الله عنه كيف تقاتل الناس، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله‏.‏ فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہوگئے ( اور کچھ نے زکوٰة سے انکار کردیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کرسکتے ہیں “ مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دے دے تو میری طرف سے اس کا مال وجان محفوظ ہوجائے گا۔ سوا اسی کے حق کے ( یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے ) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔

    حدیث نمبر : 1400
    فقال والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فإن الزكاة حق المال، والله لو منعوني عناقا كانوا يؤدونها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها‏.‏ قال عمر ـ رضى الله عنه ـ فوالله ما هو إلا أن قد شرح الله صدر أبي بكر ـ رضى الله عنه ـ فعرفت أنه الحق‏.‏
    اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰة اور نماز میں تفریق کرے گا۔ ( یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰة کے لیے انکار کردے ) کیونکہ زکوٰة مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے زکوٰة میں چار مہینے کی ( بکری کے ) بچے کو دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدایہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔

    تشریح : وفات نبی کے بعد مدینہ کے اطراف میں مختلف قبائل جو پہلے اسلام لاچکے تھے اب انہوں نے سمجھا کہ اسلام ختم ہوگیا لہٰذا ان میں سے بعض بت پرست بن گئے۔ بعض مسیلمہ کذاب کے تابع ہوگئے جیسے یمامہ والے اور بعض مسلمان رہے مگر زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے لگے اور قرآن شریف کی یوں تاویل کرنے لگے کہ زکوٰۃ لینا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص تھا۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا۔ خُذ مِن اَموَالِہِم صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُم وُتُزَکِّیہِم بِہَا وَصَلِّ عَلَیہِم اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَن لَّہُم ( التوبہ: 103 ) اور پیغمبر کے سوا اور کسی کی دعا سے ان کو تسلی نہیں ہوسکتی۔ وحسابہ علی اللہ کا مطلب یہ کہ دل میں اس کے ایمان ہے یا نہیں اس سے ہم کو غرض نہیں اس کی پوچھ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہوگی اور دنیا میں جو کوئی زبان سے لا الہ الا اللہ کہے گا اس کو مومن سمجھیں گے اور اس کے مال اور جان پر حملہ نہ کریں گے۔ صدیقی الفاظ میں فرق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ کا مطلب یہ کہ جو شخص نماز کو فرض کہے گا مگر زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرے گا ہم ضرور ضرور اس پر جہاد کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بعد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا اور سب صحابہ متفق ہوگئے اور زکوٰۃ دینے والوں پر جہاد کیا۔ یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فہم وفراست تھی۔ اگر وہ اس عزم سے کام نہ لیتے تو اسی وقت اسلامی نظام درہم برہم ہوجاتا مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے عزم صمیم سے اسلام کو ایک بڑے فتنے سے بچالیا۔ آج بھی اسلامی قانون یہی ہے کہ کوئی شخص محض کلمہ گو ہونے سے مسلمان نہیں بن جاتا جب تک وہ نماز‘ زکوٰۃ‘ روزہ‘ حج کی فرضیت کا اقراری نہ ہو اور وقت آنے پر ان کو ادا نہ کرے۔ جو کوئی کسی بھی اسلام کے رکن کی فرضیت کا انکار کرے وہ متفقہ طورپر اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ نماز کے لیے تو صاف موجود ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر جس نے جان بوجھ کر بلا عذر شرعی ایک وقت کی نماز بھی ترک کردی تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔

    عدم زکوٰۃ کے لیے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ جہاد موجود ہے اور حج کے متعلق فاروق اعظم کا وہ فرمان قابل غور ہے جس میں آپ نے مملکت اسلامیہ سے ایسے لوگوں کی فہرست طلب کی تھی جو مسلمان ہیں اورجن پر حج فرض ہے مگر وہ یہ فرض نہیں ادا کرتے تو آپ نے فرمایا تھا کہ ان پر جزیہ قائم کردو‘ وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہیں۔
     
  2. ‏اکتوبر 03، 2012 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا!
     
  3. ‏اکتوبر 03، 2012 #3
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں