1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بارہ ربیع الاوّل،غور و فکر کے چند پہلو!

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از رانا ابوبکر, ‏جون 26، 2012۔

  1. ‏جون 26، 2012 #1
    رانا ابوبکر

    رانا ابوبکر ناظم خاص رکن انتظامیہ
    جگہ:
    بورے والہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2011
    پیغامات:
    2,055
    موصول شکریہ جات:
    3,033
    تمغے کے پوائنٹ:
    432

    سیرتِ نبویﷺ
    بیگم عطیہ انعام الٰہی
    بارہ ربیع الاوّل،غور و فکر کے چند پہلو!

    ربیع الاوّل کے بابرکت مہینے میں ہمارے پیارے نبی1 اس دنیا میں تشریف لائے۔ مشیتِ الٰہی کے تحت اس دنیا سے آپﷺ کی واپسی بھی اسی ماہ میں ہوئی۔ یہ صرف ایک اتفاق ہی نہیں بلکہ ربُ العزّت کی طرف سے ہم مسلمانوں کا ایک خاص قسم کا امتحان بھی ہے۔ اس امتحان کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کی پیدائش کا دن اور آپ کا یومِ رحلت بھی ایک ہی یعنی بارہ ربیع الاوّل ہے۔ ہم اس وقت ایک عجیب قسم کے دوراہے پر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ہم آج کے دن آپ کی پیدائش کی خوشی منائیں یا آپ کی وفات کا دُکھ اور صدمہ!
    ایک بارہ ربیع الاوّل وہ تھا جس دن آپﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔بے شک اس موقع پر کئی بابرکت اُمور ظاہر ہوئے مگر کلی طور پر کوئی بھی اس بات کا اِحاطہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ پیدا ہونے والی ہستی کون ہے اور انسانیت کے کس اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے والی ہے، کیونکہ مستقبل کا کامل علم اللہ کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں۔
    پھر درجہ بدرجہ آپ1 اپنی عمر مبارک کی منازل طے کرتے گئے حتیٰ کہ عمر عزیز کے چالیسویں سال آپ کو مقامِ نبوت سے سرفراز فرمایا گیا اور دنیا میں آپ1کی تشریف آوری کا اصل مشن آپ کے سپرد کیا گیا۔ یہ مشن تھا بھٹکی ہوئی انسانیت کو اس کے خالق سے ملانا اور اس کی عبادت اور اِطاعت کے ذریعے اسی کے ساتھ وابستہ کرنا۔
    آپ ﷺنے اس مشن کو توفیقِ ایزدی کے ساتھ اس شان سے کمال تک پہنچایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے گواہی دی کہ آپ نے اپنا فرض کماحقہ پورا کردیا۔ حج کے انہی ایام میں ،منیٰ میں ہی سورۃ النصر نازل ہوئی تو جہاں یہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکمیل مشن کی بشارت تھی، وہیں اس میں آپ 1کے لئے اب دنیا سے رخصتی کا اشارہ بھی تھا۔ سمجھ دار صحابہ اس اشارے کو سمجھ گئے تھے اور غمگین اور افسردہ ہوگئے۔ پھر بارہ ربیع الاوّل کا وہ دن بھی آگیا جب آپ اس دنیاے فانی سے تشریف لے گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون!
    اس دن صحابہ کرام کے غم و الم کا کیا عالم تھا۔حضرت عمرجیسے جری او ربہادر صحابی غم کے اس کوہِ گراں کو برداشت نہ کرسکے اور تلوار لے کر کھڑے ہوگئے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمد1 فوت ہوگئے ہیں تو اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ ابوبکر صدیق نے بڑی ہوش مندی اور تدبر کے ساتھ سب کے سامنے حقیقت بیان کی۔ فرمایا :
    ’’جو شخص محمدﷺ کو پوجتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ بلا شبہ محمدﷺ فوت ہوگئے ہیں او رجو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے او رکبھی مرنے والا نہیں۔‘‘
    پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 144 تلاوت فرمائی:
    وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ
    ’’محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے۔اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ (یعنی اسلام چھوڑ دوگے)‘‘
    عبداللہ بن عباس کہتے ہیں: گویا ہم لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہوئی پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا اور خود سیدنا عمر کہتے ہیں:
    ’’اللہ کی قسم!مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں نے یہ آیت ابوبکر کے تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی او رجب سنی تو سہم گیا۔ دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اُٹھ رہے تھے۔ زمین پر گر گیا او رجب میں نے ابوبکر کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہوا کہ واقعی رسول اللہ1 کی وفات ہوگئی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 4454)
    بلالِ حبشی موذّنِ رسولﷺ کو ایسی چپ لگ گئی کہ نبی1 کے بعد وہ اذان نہ دے سکے۔ رسو ل اللہ1 کے وصال کے بعد فقط دو دفعہ اذان دی۔ ایک دفعہ حضرت حسن وحسین کے مجبور کرنے پر اَذان دینا شروع کی مگر أشھد أن مُ مُ محمد تک پڑھا اور اس سے آگے نہ بڑھ سکے۔صد حیرت اور افسوس ہے ہم پر کہ بارہ ربیع الاوّل کو ہماری یہ کیفیت کیوں نہیں ہوتی۔ آپ1 کے یومِ پیدائش کی خوشی میں آپ 1کے یومِ وصال کو ہم قطعاً بھول جاتے ہیں۔ قارئین!اگر ایسا ہو کہ ہمارا کوئی بہت ہی پیارا عزیز اسی تاریخ پرفوت ہوجائے جس تاریخ پر وہ پیدا ہوا تو آپ دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف سے بتائیے کہ کیا اس تاریخ کو پیدائش کی خوشیاں منائیں گے یا وفات کا غم !
    جس دن نبی1پیدا ہوئے، کسی کو کامل ادراک نہیں تھا کہ کیسی ہستی دنیا میں تشریف لائی، لیکن اپنی بے مثال زندگی گزار کر جب آپ 63سال کے بعد وفات پاتے ہیں تو صحابہ کرام اور سارے عرب کو اندازہ تھا کہ کون سی ہستی ہم سے جدا ہوگئی ہے۔ اسی لئے ان کے غم و اَندوہ کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے اُن پر پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔
    ہم اگر چند دہائیاں پیچھے کو جائیں تو بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ ہمارے ہاں بارہ ربیع الاوّل کو بارہ وفات کا نام دیا جاتاتھا اور اس دن لوگوں کے احساسات و جذبات افسردہ اور اُداس ہوتے تھے۔ اس دن ان کی سرگرمیاں ایسے ہی جذبات کی عکاسی کرتیں۔ نجانے کس روشن خیالی کے تحت ایسی سب سوچوں پر پہرہ لگا دیا گیا او راس کو صرف اور صرف خوشیوں اور مسرتوں کا ایک ایسا موقع سمجھ لیا گیا کہ ’عید‘سے کم کسی نام پر اطمینان ہی نہیں۔ حالانکہ ایسی مذہبی ، ملی او راجتماعی خوشیوں کے مواقع مقرر کرنا اللہ اور اس کے رسول1کا حق ہے اور ان دو ہستیوں نے ہمارے لئے سال بھر میں دو عیدیں مقرر فرمائیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ عیدین کے فلسفہ پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں عیدوں کے ساتھ اسلام کے دو بنیادی فرائض وابستہ ہیں:رمضان اور حج،او ران کی ادائیگی کی خوشی اور شکرانے میں اللہ تعالیٰ ہمیں مسرت کا ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ اللہ کے بندوں نے اللہ کی رضا پانے کے لئے اللہ کے عائد کردہ فرائض بجا لانے میں محنت کی۔ آخرت میں اللہ نے حسن قبولیت کا پروانہ دیا اور دنیا میں اجتماعی ملّی خوشی کا دن مقرر کردیا۔ عیدمیلادالنبی1 کے ساتھ ایسا کوئی فریضہ وابستہ نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ رب العزّت کا بے پایاں کرم ہے کہ اس نے ہمیں امام الانبیاء رحمۃ للعالمین محمد1 سے نوازا۔اس موقع پر اللہ کا شکر ادا کریں اور محمد رسول اللہ1 کی اتباعِ کامل کا عہد و اقرار کریں تو اللہ رب العزّت کی اس نعمتِ عظمی کا کچھ حق ادا ہوسکتا ہے۔
    کسی بھی عمل کو بطورِ ایک شرعی فریضے کے ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس دو بنیادیں ہوتی ہیں:قرآن کریم اور سنت مطہرہ میں اس کے بارے میں شرعی حکم ۔جس کے بارے میں دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ کے دور کے بعد ہمیشہ سے اُمتِ مسلمہ کا اجتماعی عمل بھی ہمارے شوقِ عمل کو مہمیز دیتا ہے۔
    عیدمیلادالنبی1 کے حوالے سے ہم قرآن و سنت میں غور کریں تو واضح نظر آتا ہے کہ اَحادیث میں ہمیشہ ’عیدین‘یعنی دو عیدوں کے احکام اور تفاصیل ہی ملتی ہیں نہ کہ تین عیدوں کی۔رہ گیا اُمت کا تعامل تو سب سے پہلے ان میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاکیزہ جماعت کا نمبر ہے ، دوسرے نمبر پر تابعین کا او رپھر تبع تابعین کا۔ نبی1 نے اپنی ایک حدیث میں فرمایا ہے:
    ’’ سب سے بہترین میرا زمانہ ہے پھر اس کے ساتھ کا او رپھر اس کے ساتھ کا۔‘‘
    (صحیح بخاری:2651(
    اگر ہم ان تینوں ادوار کو دیکھیں تو ان پاکیزہ نفوس نے بارہ ربیع الاوّل کےحوالے سے ہمارے لئے کوئی نمونہ قائم نہیں کیا۔ ہمارے لئے ان اَدوار کے صالحین کا عملی نمونہ بن سکتا ہے،کیونکہ انہیں آنحضورﷺ نے بہترین قرار دیا۔پھر بعد کے اَدوار میں دین پر عمل کے حوالے سے لوگوں میں ویسی پابندی اوراہتمام نہ رہا، اس لئے بعد کے لوگوں کا عمل ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔
    نبی1 کے یومِ میلاد کے سلسلے میں ایک تاریخی پہلو سے بھی جائزہ لیں۔مسلمانوں میں معروف ہے کہ نبی1 22/اپریل 571ء میں بروز سوموار پیدا ہوئے۔ جبکہ اسلامی مہینے کے لحاظ بارہ ربیع الاوّل عام الفیل کے اگلے سال بروز سوموار صبح کو پیدا ہوئے۔
    محققین کی تحقیق کے مطابق 22/اپریل 571ء ، 12 ربیع الاوّل سن1 ہجری عام الفیل میں پیر کا دن نہیں بنتا بلکہ جمعرات کا دن بنتا ہے۔پیر کا دن 9 ربیع الاوّل میں پڑتا ہے۔ اس لئے آپ1 کی یوم پیدائش 9 ربیع الاوّل ہے، نہ کہ 12ربیع الاوّل۔ یہ تحقیق سیرتِ نبوی پر عالمی انعام یافتہ کتاب ’الرحیق المختوم‘کے مصنف علامہ صفی الرحمٰن مبارکپوری کی ہے۔اُنہوں نے اپنی اس کتاب میں علامہ محمد سلیمان منصورپوری اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق کا حوالہ دیا ہے۔
    قارئین!غور فرمائیں اگر منشائے الٰہی یہ ہوتا کہ اُمتِ محمدیہ اپنے نبی محمد1 کا یوم پیدائش بطورِ عید منائے تو کم از کم اس کی تاریخ کے بارے میں اختلاف نہ ہوتا۔ دوسری طرف 12 ربیع الاوّل آپﷺ کا یوم رحلت ہونے کے بارے میں اُمت میں کوئی اختلاف نہیں۔ لہٰذا بارہ ربیع الاوّل آپ1 کا یومِ میلاد ہو یا نہ ہو مگر یہ نبی1کا یوم رحلت ضرور ہے۔ مگر ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ اس سنگ دل اُمت نے اپنے نبی1 کے یوم رحلت کو’یومِ عید‘بنا ڈالا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے یومِ پیدائش کو بطورِ عید مناتے ہیں تو مسلمانوں نے بھی اُن کی دیکھا دیکھی اپنے نبی1کے یومِ پیدائش کو عید بنا ڈالا۔مگر جوشِ نقالی میں وہ یہ بھی غور نہ کرسکے کہ یومِ پیدائش کو عید منا رہے ہیں یا یوم ِوصال کو۔
    پھر اس عید کو منانے کے لئے نئے سے نئے انداز اختیار کرلیے۔ پہلے تو صرف جلوس نکلتے تھے۔جس کی قیادت ہاروں سے لدے پھندے کچھ ’پير‘ کرتے ہیں۔ ساتھ میں کچھ ڈھول بجانے او ربھنگڑا ڈالنے والے بھی ہوتے ہیں۔ پھر آخر میں سب پیٹ بھر کر اعلیٰ کھانا کھاتے ہیں۔نام نبی 1کا اور شان اپنی دوبالا کرتے ہیں۔کام و دہن کی لذت خود حاصل کرتے ہیں۔ اُس نبی کے نام پر جنہوں نے کبھی پیٹ بھر کر اچھا کھانا نہیں کھایا تھا اور کئی کئی دن تک اُن کے ہاں چولہا ہی نہیں جلتا تھا۔
    ہر سال اس عید کو منانے میں جدت پیدا کرلی جاتی ہے۔ اس دفعہ کی خبر یہ ہے کہ عیدمیلاد النبی1 پر مشعل بردار جلوس نکالا جائے گا۔ یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ یہ مشعلیں خوشی کی علامت ہوں گی یا غم کی؟کیونکہ مغرب میں تو غم کے موقع پر مشعلیں جلا کر خاموشی اختیا رکی جاتی ہے۔ نوائے وقت میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ مدینہ منورہ سے اشیا حاصل کرکے یہاں پاکستان میں تین من کیک تیار کیا جائے گا۔ اگریہ کیک ’برتھ ڈے‘کیک ہے تو پھر اس کو 63 من کا ہونا چاہئے، کیونکہ حضور1 کی عمر مبارک 63 سال تھی اور اگر یومِ رحلت کے لئے ہے تو خود ہی اپنے عمل کی سنگینی پر غور فرمالیں۔
    ’’یہ اُمت روایات میں کھوگئی!‘‘
    یہ بات واضح ہے کہ عوام الناس اپنے آباء اَجداد او رنام نہاد ’مولویوں‘کو دیکھتے سنتے ہوئے یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ان کی غلطی اور کوتاہی یہ ہے کہ دین کے معاملات کو کم اہم سمجھتے ہوئے اُن میں خود سمجھ پیدا نہیں کرتے اور کچھ نہیں تو اُنہیں علمائے حق سے ہی راہنمائی لے لینی چاہئے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ لوگ نبیﷺ سے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ... اظہارِ عقیدت و محبت کے لئے ہمارے سامنےکتاب و سنت او راُسوہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہونا چاہئے نہ کہ مروّجہ رسوم و رواج!
    کتاب و سنت اور اُسوہ صحابہ کرامکی روشنی میں حب ِرسول1 کے عملی تقاضے پورے کرنے کے لئے ہمارے سامنے واضح احکام اور ہدایات ہیں جن پرپورا اُترنے سے ہی حب ِرسول1 کا کچھ اظہار ہوسکتا ہے۔جس بات سے رسول اللہﷺ منع فرمائیں، ہم رک جائیں او رجس کام کو کرنے کا حکم دیں، پوری رضا و رغبت سے اس پر عمل پیرا ہوں، یہی ہمارے دین کا مطالبہ ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں اتباع رسول کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور اتباع سے مراد یہ ہے کہ اطاعت سے آگے بڑھ کر رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہر معاملے میں اتباع اور پیروی کو اختیارکیا جائے یعنی آپ1 کی پسند و ناپسند کو اپنی پسند اورناپسند بنا لینا۔
    آپ سے محبت کا ایک طریقہ یہ بھی ہےکہ نبی1 پر مسنون طریقے سے مسنون الفاظ میں زیادہ سے زیادہ درود و سلام پڑھا جائے۔اذان کے بعد آپ1 کے لئے مقامِ وسیلہ کی دعا کی جائے ۔اس کے لئے مسنون دعا کو ہی اختیار کیا جائے او راللہ تعالیٰٰ سے اُمید رکھی جائے کہ وہ روزِ قیامت ہمیں رسول اللہﷺ کی شفاعت نصیب فرمائیں گے۔

    نوٹ: یہ مضمون PDF فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں
     
  2. ‏جون 26، 2012 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ایک لمبے آرٹیکل کو موضوع کے مطابق مختلف پوسٹس میں دیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں