1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باطل سے اتحاد کے لیے حق سے اختلاف!؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏اکتوبر 27، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 27، 2012 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    باطل سے اتحاد کے لیے حق سے اختلاف!؟

    آج ہرچہارجانب سے امت مسلمہ میں اتحاد کے نعرے لگ رہے ہیں اوراس کے لئے ہرممکن ذریعہ کی تلاش اوراس پرعمل کی کوششیں جاری ہیں حالانکہ قران وحدیث میں واضح طورپراختلاف کے اسباب اوراتحاد کے ذرائع کی طرف نشاندہی کردی گئی ہے،لیکن افسوس کی قرآنی ارشادات ونبوی تصریحات کی روشنی میں اختلاف دورکرنے اوراتحاد قائم کرنے کی کوشش کے بجائے اپنی عقل وتجربہ کی بنیادپراتحاد امت بلکہ اتحاد انسانیت کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔


    اورآج مصلحت پرستوں نے اتحاد کاسب سے بہترین فارمولہ یہ اپنا لیا ہے کہ جولوگ ہم سے اختلاف رائے رکھتے ہیں ان کی کچھ باتوں کو قبول کرلیاجائے گرچہ ان کابطلان اظہرمن الشمس ہو۔
    اس میں شک نہیں اس فارمولہ سے بھی کسی حدتک اتحاد ممکن ہے مگراتحاد کے خاطرایسے سمجھوتے کی قران وحدیث میں قطعاکوئی گنجائش نہیں ،بلکہ صراحت کے ساتھ اس سے منع دیاگیاہے


    اللہ کاارشادہے


    {وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ}

    [البقرة: 120]


    یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دوکہ راستہ بس وہی ہے، جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگراُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے

    البقرة120ترجمہ مودودی)۔)


    اس آیت میں اہل باطل کے ساتھ اتحاد اوران کی رضا کے حصول کے لئے ایک کامیاب ذریعہ بتلایا گیا ، اور وہ ہے اہل باطل کے باتیں قبول کرلینا۔


    اللہ تعالی نے یہ کار آمد ذریعہ اس لئے نہیں بتلایا تھا کہ اس پر مکمل نہ سہی تو جزوی طورپرہی عمل کرکے اغیار کی خوشنودی حاصل کی جائے بلکہ مقصود یہ ہے کہ یہ ذریعہ گرچہ کار آمد ہے مگر اس پر عمل ،اغیارکی خواہشات کی پیروی کرنا ہے ، اور علم و حقائق کے واضح ہوجانے کے بعد یہ طرزعمل الہی نصرت وتائید سے محرومی کا ذریعہ بھی ہے ، گرچہ دنیاوی اتحاد اس سے حاصل ہوجائے،فرمایا


    { وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ }

    [البقرة: 120]


    اگراُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے


    البقرة120ترجمہ مودودی)۔)


    مگرافسوس کہ آج مدعیان اسلام کا ایک پورا گروہ ہے جو جزوی طور پر اس فارمولہ پر عمل پیرا ہے اور اغیار کی نصرت و حمایت کے حصول کی خاطر اللہ کی نصرت تائید کاسودا کررہا ہے،چنانچہ

    کوئی سزائے رجم کا انکار رہاہے۔


    کوئی بے پردگی کی حمایت کررہاہے۔


    کوئی قربانی کے خلاف احتجاج کررہاے۔


    کوئی شاتمین رسول کے تحفظ پر کتابیں لکھ رہاہے۔


    کوئی شراب نوشی ، حرام خوری اور فحاشیت کو جائز بتلا رہا ہے ۔


    کوئی خواتین کو خطبہ جمعہ اور مردوں کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر نماز پڑھنے کی تعلیم دے رہاہے۔

    اسی پر بس نہیں بلکہ مفتیان کرام نے توموسیقی اورخواتین اسلام کے لئے اہل کتاب سے شادی تک کی اجازت دے دی،اوراس کے لئے قران وحدیث سے دلائل بھی فراہم کردئے۔
    ان تمام گمراہیوں کی وجہ کم علمی نہیں بلکہ اغیارکی رضاجوئی ہے،آج دنیاوی ترقی یافتہ قوم کو خوش کرنے کے لئے اوران کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلنے کے لئے باطل کے ساتھ سمجھوتہ کیا جارہا۔
    یہ طرز عمل عمومامفکرین کا ہوتا ہے لیکن ایسے علمائے دین کی بھی کمی نہیں ہے جو آئے دن اہل بدعت کی تائیدوتصویب کرتے جاتے ہیں تاکہ وہ ان سے خوش رہیں ، اورنتیجتا ہمارے اوران کے بیچ اتحاد وامن ومان قائم ہو،چنانچہ اسی فارمولہ پرعمل کرتے ہوئے

    ٭کوئی حادث ،عطائی اورمحدودکافلسفہ پیش کرکے انبیاء کے لئے بھی علم غیب کااثبات کررہاہے۔


    ٭کوئی عقائد میں اشعری فکرکی حمایت میں سرگرم ہے۔


    ٭کوئی رفع الیدین میں جوازالامرین کاقائل ہے،وغیرہ وغیرہ۔

    اس میں شک نہیں کہ ماضی میں فہم ومعرفت میں تفاوت کی بناپربھی ان امورمیں اختلافات ہوئے ہیں مگرآج قیام اتحادکے پیش نظر ان اختلافی امور میں رائے قائم کی جارہی ۔
    مولانامودودی صاحب بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اتحاد امت کے لئے کوششیں کی ہیں اوراس اتحادکی خاطر بہت سارے دینی وشرعی مسائل میں جوازالامرین اورمباح کاتسلسل عام کردیا،خواہ یہ مسائل اوامرومنہیات ہی کے قبیل سے کیوں نہ ہوں ۔


    اسی پربس نہیں بلکہ موصوف نے شیعہ حضرات کے ساتھ بھی قدم سے قدم ملانے کی ٹھان لی اورانہیں بھی ساتھ لیکرایک فلیٹ فارم پرمتحدہونے کی کوشش کی ،اوران کے ساتھ اتحادکے لئے اسی فارمولے پرعمل کیا یعنی ان کے بعض گمراہ کن اورباطل افکارکی تائیدوتصویب کردی اور''خلافیت وملوکیت'' کے نام پرخیرالقرون کے مقدس گروہ صحابہ رضی اللہ عنہم پرسب وشتم تک کوگوراکرلیا تاکہ اسی طرح شیعہ حضرات قریب ہوسکیں اوران کے ساتھ متحدہونے کی راہ ہموارہو۔


    الغرض یہ کہ آج ایسے بہت سے لوگ ہیں جوباطل کے ساتھ اس لئے سمجھوتہ کررہے ہیں تاکہ وہ ان سے قریب ہوسکیں اورآج کی بھولی بھالی عوام اسے اختلاف رائے کا نتیجہ سمجھتی ہے مگردرحقیت یہ '' باطل کے ساتھ اتحادکے لئے حق سے اختلاف '' کافارمولہ ہے،دنیاکی چندعارضی کوڑیوں کے لئے آخرت کی نعمتوں کی قربانی ہے،ضلالت وگمراہی کے لے ہدایت ومغفرت کاسوداہے، حق ان کی نظروں میں روز روشن کی طرح عیاں ہے، مگردنیاپرستی کی خاطرحق پوشی سے کام لے رہے ہیں


    إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (174) أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ (175) ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (176)

    [البقرة: 174 - 176]


    یقینا جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اور تھوڑے سے دُنیوی فائدوں پرا نہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ اُنہیں پاکیزہ ٹہرائے گا، اور اُن کے لیے دردناک سزا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے


    البقرة: 174، 176)۔)


    اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کا بیان ہواہے جو حق جاننے کے باوجود محض دنیاوی مفاد کی خاطر واضح غلطیوں بلکہ گمراہیوں پربھی سمجھوتہ کرلیتے تھے۔
    اللہ ہم سب کو ایسے افکاراورایسے افکارکے حامل افراد کے شرسے بچائے ، آمین۔۔۔

     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 28، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء
    بہت زبردست تحریر ہے ماشاءاللہ
    اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 29، 2014 #3
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (174) أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ (175) ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (176)
    [البقرة: 174 - 176]​
    یقینا جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اور تھوڑے سے دُنیوی فائدوں پرا نہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ اُنہیں پاکیزہ ٹہرائے گا، اور اُن کے لیے دردناک سزا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے​
    البقرة: 174، 176​
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 29، 2014 #4
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    خضر حیات بھائی کیا آپ اس تحریر سے متفق ہیں -
     
  5. ‏اپریل 29، 2014 #5
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    T.K.H آپ کیوں غیر متفق ہیں - وجہ بتا دیں پلیز -
     
  6. ‏اپریل 29، 2014 #6
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,092
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    آپ نے مولانا مودودی کے متعلق بہت سر سری رائے کا اظہار کیا ہے جس سے میں اتفاق نہیں کرتا۔ براہِ کرم پہلے ان کی تحریروں کو بغور پڑھیں اور پھر کچھ عرض کریں۔
     
  7. ‏مئی 01، 2014 #7
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



    کیا کہیں گے آپ یہاں ​
     
  8. ‏مئی 01، 2014 #8
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,092
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    کیا آپ نے خود ”خلافت و ملوکیت“ کا مطالعہ کیا ہے ؟ یقینا نہیں کیا ہو گا ورنہ آپ صرف شیخ توصیف الرحمان راشدی کی تحقیق پر اعتماد نہ کرتے۔ بلکہ خود کتاب کا مطالعہ کرتے۔ اور جہاں تک حیات النبیﷺ کا مسئلہ ہے تو میں اسکا قائل نہیں۔ براہِ کرم مسئلہ حیات النبیﷺ کے بارے میں آپ ”رسائل و مسائل “ جلد نمبر 3 ، صفحہ نمبر 440-437 کا مطالعہ کریں۔
     
  9. ‏مئی 01، 2014 #9
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



    آپ کسی چیز کے قائل ہیں یا نہیں - اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ بات دلیل سے ہوتی ہے ۔ میں نے بھی آپ کو خلافت و ملوکیت کا حوالہ دیا

    کیا شیعہ کو خوش کرنے کی خاطر ہم صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں - خلافت و ملوکیت میں حضرت امیر معاویہ رضی الله عنھ کتاب الله سے انحراف اور بدعت کا الزام لگا دیا مودودی صاحب نے - کیا اتحاد ایسے ہوتا ہے - اور دوسری طرف آج ہی اصول کافی جو شیعہ کی متعبر کتاب ہے اس میں پڑھنے کو ملا کہ امام ابو حنیفہ رحم اللہ پر اللہ کی لعنت ھو - استغفراللہ

    کیا شیعہ سنی بھائی بھائی کا نعرہ لگانے والے یہ برداشت کر سکیں گے - خود دیکھ لیں. امید ہے کہ انتظامیہ ناراض نہیں ھو گی - ویسے مجھ پر پابندی ہے کچھ پوسٹ کرنے کی شیعہ اور احناف کے خلاف - بات آئ تو حوالہ دے رہا ہوں -

    آپ کی راۓ چاہوں گا -

    shiaa sunni bhai bhai ka narah lagany walay.jpg
     
  10. ‏مئی 01، 2014 #10
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,092
    موصول شکریہ جات:
    315
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    آپ ”خلافت و ملوکیت “ اور ”خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ“ کا مطالعہ کریں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں