1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باغ فدک کے متعلق صحیح سنی عقیدہ اور جائیداد کیلئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا دعوی

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از Rashid Nawaz, ‏جون 18، 2019۔

  1. ‏جون 18، 2019 #1
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    السلام علیکم
    میری کچھ دن پہلے اپنے ایک شیعہ دوست سے باغِ فدک کے بارے میں بات ہوئی اور اس میں اُسے میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی یا انکا کوئی وارث نہیں ہوتا۔
    حسب توقع اس نے اس حدیث کا رد کیا اور اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ اسکا کہنا ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک تو وراثت کا دعوی کیا تھا، اور ایک ہبہ کا دعوی بھی کیا تھا۔ جسکے مطابق ہبہ کے دعوی پر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گواہ مانگے تو شاید ایک امِ ایمن تھیں اور علی رضی اللہ عنہ گواہ کے طور پر پیش ہوئے مگر خلیفہ ءِ اول نے شرعی گواہی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اس دعوی کو رد کر دیا تھا۔ شیعہ دوست کے الفاظ تھے کہ حاکمِ وقت نے فاطمہ علیہ السلام کے پیش کردہ گواہوں کی گواہی کو بھی ماننے سے انکار کیا اور فدک پر قبضہ کر لیا۔

    اس پر میں نے اپنے اس دوست کو عقلی دلائل سے تو ثابت کر دیا کہ ہبہ اور وراثت کا دعوی ایک ہی وقت میں صحیح نہیں ہوسکتا۔ اگر بی بی فاطمہ نے فدک کو وراثت میں مانگا تو اسکا مطلب وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم کی وفات تک انہی کی ملکیت میں تھا بی بی فاطمہ کو ہبہ نہی ہوا تھا۔ اور اگر انہوں نے ہبہ کا دعوی کیا تو وراثت کا دعوی باطل ٹھہرتا ہے کیونکہ اسکا مطلب ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مطابق جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم کی وفات ہوئی تو فدک انکی ملکیت میں نہیں تھا بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ملکیت بن چکا تھا لہذا وراثت کا دعوی نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔۔

    ابھی اس وقت مجھے سنی نقطہ ءِ نظر جاننا ہے جو حدیث سے ثابت ہو۔ کہ ہمارے نزدیک آیا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دونوں دعوے کیے تھے؟ یعنی دعوی وراثت اور دعوی ہبہ؟؟ یا پھر اہلسنت کے نقطہ نظر کے مطابق بی بی فاطمہ نے محض وراثت کا دعوی کیا تھا اور ہبہ کا دعوی محض اہل تشیع حضرات کی طرف سے الزام ہے ہماری کتب کے مطابق فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہبہ کا دعوی نہیں کیا۔۔۔۔

    اسکی حقیقت بتا دیں ۔

    جزاک اللہ۔
     
  2. ‏جون 18، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    فدک مدینہ منورہ سے تین منزلوں پر واقع ایک بستی کا نام ہے۔ 7ہجری میں جب خیبر فتح ہوا تو آپﷺ مدینہ تشریف لارہے تھے تو آپﷺ نے حضرت محیصہ بن مسعود کو اہل فدک کی طرف بھیجا کہ انہیں اسلام قبول کرلینے کی دعوت دیں۔ اس کے سردار یوشع بن نون یہودی نے فدک کی آدھی آمدنی پر صلح کرلی اور اسی میں باغ فدک مسلمانوں کے قبضہ میں آیا چونکہ یہ مال لڑائی کے بغیر اور صلح کرنےکے عوض تھا اس لیےاسے مال فئی کہتے ہیں۔اوریہ باغ آپ ﷺ کےحصہ میں آیا۔ آپﷺ اس باغ سے اپنے گھر والوں پر بھی خرچ کرتے اور غرباء میں بھی۔ آپ ﷺکی وفات کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے اس باغ کامطالبہ کیا تو آپؓ نے انہیں یہ کہہ کر واپس کردیا کہ انبیاء کی وراثت نہیں ہوتی۔

    اس سے متعلقہ روایات اس طرح ہیں:
    «عن عروة، عن عائشة: أن فاطمة والعباس عليهما السلام، أتيا أبا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدك، وسهمهما من خيبر، فقال لهما أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا نورث، ما تركنا صدقة، إنما يأكل آل محمد من هذا المال» قال أبو بكر: والله لا أدع أمرا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته» (صحیح بخاری کتاب الفرائض بابقول النبی لا نورث ماترکنا صدقه)
    ترجمہ :
    ’’اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا عباسؓ دونوں ( رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کررہے تھے اور خیبرمیں بھی اپنے حصہ کا۔
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا، واللہ، میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہوگا وہ میں بھی کروں گا۔‘‘
    اس حدیث میں سیدہ فاطمہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے مطالبہ " میراث " یعنی ترکہ سے شرعی حق اور "سہم " حصہ استعمال ہوئے ہیں ، اگر وہ زمین انہیں ہبہ کردی گئی تھی ،تو اسے میراث اور ترکہ میں حصہ کے نام پر طلب کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
    اور ان کے مطالبہ کے جواب میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حدیث
    «لا نورث، ما تركنا صدقة ۔ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے»
    سنانا بھی ثابت کرتا ہے کہ وہ ترکہ سے حصہ کے طلبگار تھے ،
    اورانبیاء کی وراثت ان کی وفات کے بعد ورثا میں تقسیم نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اوپر حدیث میں گزر چکا ہے۔

    یہی روایت سیدنا ابوہریرہؓ سے بھی اس طرح مروی ہے کہ:
    «قال لا تقسم ورثتی دینارا ماترکت بعد نفقة نسائی و مؤنة عاملی فھو صدقة»
    ’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرا ورثہ دیناروں کی صورت میں تقسیم نہیں ہو گا، جو کچھ بھی چھوڑ جاؤں تو وہ زوجات کے اخراجات اور عمال کی محنت کے بعد سب صدقہ ہو گا ‘‘
    (سنن ابی داؤد کتاب الخراج وإلا مارۃ والفئی باب فی صفا یارسول اللہ من الأموال 2974)

    مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی وراثت درہم و دینار نہیں ہوتا جو کہ ان کی اولاد وغیرہ میں تقسیم ہوں۔ اس کی تائید معروف شیعہ محدث محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی کتاب اصول کافی میں بروایت ابوالبختری امام ابوعبداللہ جعفر صادق سے اس معنی کی روایت نقل کی ہے:
    «عن ابی عبداللہ قال ان العلماء ورثة الأنبیاء و ذالک ان الانبیاء ................ دراھما ولا دینارا وانما ورثوا احادیث من احادیثھم فمن اخذ بیشئ منھا اخذ بحظ وافر» (اصول کافی:1؍32 باب صفة العلم وفضله)
    حضرت جعفر صادق نے فرمایا: ہر گاہ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اس لیےکہ انبیاء علیہم السلام کی وراثت درہم و دینار کی صورت میں نہیں ہوتی وہ اپنی حدیثیں وراثت میں چھوڑتے ہیں جو انہیں لے لیتا ہے اس نے پورا حصہ پالیا۔‘‘

    اور یہ صرف انبیاء کی اولاد ہی کے لیے قانون نہیں بلکہ ان کی بیویوں اور دوسرے رشتہ داروں کے لیےبھی ہے کہ انبیاء کی وراثت سے انہیں کچھ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ کی وفات کے بعد امہات المؤمنینؓ نے جب آپ ﷺ کے ترکہ کے لیے ارادہ کیا تو ام المومنین سیدہ عائشہؓ نے منع کردیا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
    «عن عائشه أن أزواج النبی صلی اللہ علیه وسلم حین توفی رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم أردن أن یبعثن عثمان إلی أبی بکر یسألنه مبراثھن فقالت عائشة ألیس قد قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم لا نورث ماترکنا صدقة»
    ( صحیح بخاری کتاب الفرائض باب قول النبی لانورث ماترکنا صدقة)
    ’’ام المومنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو آپ ﷺ کی ازواج نے یہ ارادہ کیاکہ حضرت عثمانؓ کو سیدناابوبکر صدیقؓ کے پاس بھیجیں اور اپنے ورثہ کا مطالبہ کریں تو اس وقت میں (عائشہ) نے ان کو کہا کیا تم کو معلوم نہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا ہے: ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔‘‘

    مذکورہ بالا نصوص سے پتہ چلا کہ انبیاء کی وراثت ان کی اولاد اور رشتہ داروں میں تقسیم نہیں ہوسکتی اوریہ انبیاء کے لیے ایک قانون تھا جس پر نبی کریم محمدﷺ کی ذات بھی شامل ہے۔ لہٰذا ان احادیث کی روشنی میں خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکرؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو باغ فدک وراثت میں نہ دیا اوراس طرح اس حدیث کے تحت امہات المؤمنین کوبھی آپ ﷺ کے ترکہ نہیں مِلا ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جون 18، 2019
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 18، 2019 #3
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    جزاک اللہ بھائی۔
    اسکا مطلب کہ اہل سنت کی کتب سے صرف دعوی وراثت ہی ثابت ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کاہبہ کا دعوی سنی کتب سے ثابت نہیں بلکہ یہ محض اہل تشیع کا الزام ہے فاطمہ رضی اللہ عنہ پر۔

    اگر مناسب سمجھیں تو یہ بھی بتا دیں کہ اہل تشیع کے مطابق جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہبہ کا دعوی کیا اور ان سے گواہ مانگے، تو کونسے گواہ پیش کیے گئے تھے بی بی کی طرف سے؟ یہ میں اہل تشیع کے نقطہ نظر سے پوچھ رہا ہوں۔

    اگر یہاں کوئی شیعہ عالم موجود ہوں تو وہ بھی اس بات کا جواب دے سکتے ہیں۔
     
  4. ‏جون 18، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آپ درج ذیل تھریڈ پڑھ کر اس کے متعلق سوال سامنے لائیں !
    کیا فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا ؟
     
    Last edited: ‏جون 19، 2019
  5. ‏جون 19، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    باغ فدک کے ہبہ ہونے کے ثبوت میں رافضی حضرات درج ذیل روایت پیش کرتے ہیں :

    ٭ باغِ فدک


    باغِ فَدَک
    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منسوب روایت ہے کہ:
    (( لَمَّا نَزَلَت ھٰذِہِ الآیَةُ :" وَآتِ ذَا القُربٰی حَقَّہُ " (بنی إسرائیل17: 26) دَعَا رَسُولُ ﷺ فَاطِمَةَ فَأَ عطَاھَا فَدَکَ ))
    ” جب یہ فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ "اپنے عزیز و اقارب کو ان کا حق دیجئے"، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر باغِ فدک دے دیا۔“
    (مسند البزّار(کشف الأستار): 2223)
    موضوع (من گھڑت) :یہ روایت من گھڑت ہے کیونکہ:
    اس کے راوی عطیہ عوفی کو جمہور محدثینِ کرام نے "ضعیف "قرار دیا ہے۔
    (تھذیب الأسماء واللغات للنوي:48/1، طرح التثریب لابن العراقي: 42/3، مجمع الزوائد للھیثمي: 412/1، البدرالمنیر لابن الملقن: 463/7، عمدۃ القاري للعیني: 250/6)
    اس کو امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام نسائی، امام ابن عدی، امام دارقطنی، امام ابن حبان اور علامہ جوزجانی رحمہم اللہ وغیرہ نے "ضعیف" قرار دیا ہے۔
    اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہوگیا تھا، جیساکہ :
    ٭حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "عطیہ عوفی کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام نے اتفاق کرلیا ہے۔" (الموضوعات: 386/1)
    ٭نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کرام کا اجماع ہے۔" (المغنی في الضعفاء: 62/2)
    ٭حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ باتفاقِ محدثین ضعیف ہے۔" (البدر المنیر: 313/5)
    عطیہ عوفی تدلیس کی بُری قِسم میں بُری طرح ملوث تھا۔
    ٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ کمزور حافظے والا تھا اور بُری تدلیس کے ساتھ مشہور تھا۔" (طبقات المدلّسین، ص: 50)
    ٭حافظ ذہبی رحمہ اللہ زیر بحث روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: "یہ روایت باطل ہے، اگر واقعی ایسا ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس چیز کا مطالبہ کرنے نہ آتیں جو پہلے سے ان کے پاس موجود اور ان کی ملکیت میں تھی۔" (میزان الاعتدال: 135/3)
    ٭حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر اس روایت کی سند صحیح بھی ہو تو اس میں اشکال ہے، کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور فدک تو سات ہجری میں خیبر کے ساتھ فتح ہوا۔ کیسے اس آیت کو اس واقعہ کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔" (تفسیر ابن کثیر:69/5م بتحقیق الدکتور سلامۃ)
    تنبیہ: عطیہ عوفی اپنے استاذ ابو سعید محمد بن السائب الکلبی (کذاب) سے روایت کرتے ہوئے "عن أبي سعید" یا "حدثني أبو سعید" کہہ کر روایت کرتے ہوئے یہ دھوکا دیتا تھا کہ وہ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کررہا ہے۔ یہ(والی) تدلیس حرام اور بہت بڑا فراڈ ہے۔ یاد رہے کہ عطیہ عوفی اگر عن ابی سعید کے ساتھ الخدری کی صراحت بھی کردے تو اس سے الکلبی ہی مراد ہے، سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں۔
    تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب المجروحین لابن حبان (176/2)

    صحیح حدیث: متواتر حدیث ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    "ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم (انبیاء) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔"
    (صحیح البخاری:6727، صحیح مسلم: 1761، عن أبي ھریرۃ)
     
  6. ‏جون 19، 2019 #6
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اس فورم پر جو بحث کی گئی ہے وہ تو میرے سر کے اوپر سے ہی گزر گئی ہے۔

    بحرحال، جو میں جاننا چاہ رہا تھا وہ آپکے بعد والے میسج میں واضح ہوگیا کہ اہل سنت کے نزدیک فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہبہ کا مطالبہ نہیں کیا تھا، یہ محض اہل تشیع کا الزام ہے۔ اور وہ ایسا مطالبہ کر بھی کیسے سکتی تھیں جو بالکل ہی خلافِ عقل ہو۔ میرا ماننا ہے کہ اگر یہ دو دعوے کسی بھی نیوٹرل شخص کو بتائے جائیں تو تھوڑی سی عقل رکھنے والا شخص بھی کہے گا کہ وراثت اور ہبہ کا دعوی بیک وقت درست ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر وراثت کا دعوی صحیح مانا جائے تو یہ ہبہ کے دعوی کی نفی کر دیتا ہے اور اگر ہبہ کا دعوی صحیح مانا جائے تو یہ وراثت کے دعوی کی نفی کر دیتا ہے۔

    اللہ ہدایت سے ہمارے شیعہ بھائیوں کو۔

    جزاک اللہ۔
     
  7. ‏جون 19، 2019 #7
    فاران

    فاران مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 19، 2019
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    سلام عرض

    میرے بھائی یہاں بات اللہ کے رسول کی ہورہی ہے وزیراعظم گیلانی کی نہی جو سرکاری ہار اپنی بیوی کو دیدے۔

    خدا کی قسم رسول اللہ ایسی کوئی نیچ حرکت کر ہی نہی سکتے تھے کہ جو باغ انکا ہے ہی نہی اسکو تحفے کے طور پر اپنی بیٹی کو دے دیں۔ رسول اللہ کے بارے میں کوئی ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ وہ سرکاری املاک اپنے کسی عزیز کو ہبہ کردی چاہے وہ عزیز انکی اپنی بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔

    آپکا دوست اگر صدیق اکبر کی وراثت والی کو نہیں مانتا نہ مانے، آپ مان جائیں اسکی بات کہ چلو انبیاء کی مالی وراثت بھی ہوتی ہے مگر پھر بھی فاطمہ رضی اللہ عنہ کو فدک سے وراثت نہی مل سکتی تھی کیونکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ والسلم کی ملکیت تھا ہی نہی۔

    فدک رسول اللہ کی ملکیت میں سربراہ کی حیثیت سے تھا نہ کہ ذاتی حیثیت سے۔ اور اسکا اقرا شیعوں کے بڑے بڑے کر چکے ہیں۔

    اب وراثت ہوتی ہے یا نہی ہوتی، ہبہ ہوا تھا یا نہی ہوا تھا یو تو بعد کی بات ہے پہلے اس باغ کو محمد صلی اللہ علیہ والسلم کی ملکیت تو ثابت کریں یہ لوگ۔ جب ملکیت ہی نہی تو کاہے کا ہبہ اور کاہے کی وراثت۔

    موبائل سے ٹائپ کیا کوئی غلطی ہو تو معذرت
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 19، 2019 #8
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    یہ میرے لیے بالکل ہی نئی بات ہے۔ اگر باغِ فدک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم کی ملکیت تھا ہی نہیں تو پھر آخر یہ جھگڑا کیوں؟ اور یہ بھی پوائنٹ بہت زبردست ہے کہ وراثت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی یہ بات تو تب ہوگی جب باغِ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم کی ملکیت ہو۔

    برائے مہربانی اس پر کچھ روشنی ڈالیں، اہل سنتہ کی کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ یہ باغ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ والسلم کی ملکیت نہیں تھا۔ مزید آپ نے جو کہا کہ "اسکا اقرار شیعوں کے بڑے بڑے کر چکے ہیں" اسکا بھی برائے مہربانی حوالہ دے دیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر تو یہ معاملہ ہی حل ہوجاتا ہے۔
     
  9. ‏جون 23، 2019 #9
    Rashid Nawaz

    Rashid Nawaz مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2018
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    فاران بھائی آپکے جواب کا انتظار ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں