1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باپ کا اپنے لڑکے کو کچھ ہبہ کرنا

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 20، 2012۔

  1. ‏مئی 20، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,951
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وإذا أعطى بعض ولده شيئا لم يجز،‏‏‏‏ حتى يعدل بينهم ويعطي الآخرين مثله،‏‏‏‏ ولا يشهد عليه‏.‏ وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اعدلوا بين أولادكم في العطية ‏"‏‏.‏ وهل للوالد أن يرجع في عطيته وما يأكل من مال ولده بالمعروف ولا يتعدى‏.‏ واشترى النبي صلى الله عليه وسلم من عمر بعيرا ثم أعطاه ابن عمر،‏‏‏‏ وقال ‏"‏ اصنع به ما شئت ‏"‏‏.‏
    اور اپنے بعض لڑکوں کو اگر کوئی چیز ہبہ میں دی تو جب تک انصاف کے ساتھ تمام لڑکوں کو برابر نہ دے، یہ ہبہ جائز نہیں ہو گا اور ایسے ظلم کے ہبہ پر گواہ ہونا بھی درست نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عطایا کے سلسلہ میں اپنی اولاد کے درمیان انصاف کیا کرو، اور کیا باپ اپنا عطیہ واپس بھی لے سکتا ہے؟ اور باپ اپنے لڑکے کے مال میں سے دستور کے مطابق جب کہ ظلم کا ارادہ نہ ہو لے سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اونٹ خریدا اور پھر اسے آپ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو عطا فرمایا اور فرمایا کہ اس کا جو چاہے کر۔


    حدیث نمبر: 2586
    حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ أخبرنا مالك،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ عن حميد بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ ومحمد بن النعمان بن بشير،‏‏‏‏ أنهما حدثاه عن النعمان بن بشير،‏‏‏‏ أن أباه،‏‏‏‏ أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني نحلت ابني هذا غلاما‏.‏ فقال ‏"‏ أكل ولدك نحلت مثله ‏"‏‏.‏ قال لا‏.‏ قال ‏"‏ فارجعه ‏"‏‏.‏

    ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابن شہاب سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان بن بشیر سے اور ان سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ پھر (ان سے بھی) واپس لے لے۔


    کتاب الہبہ صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں