1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بخار دوزخ کی بھاپ سے ہے

'طب نبویﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اگست 12، 2012۔

  1. ‏اگست 12، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 5723
    حدثني يحيى بن سليمان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثني ابن وهب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن نافع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الحمى من فيح جهنم فأطفئوها بالماء ‏"‏‏.‏ قال نافع وكان عبد الله يقول اكشف عنا الرجز‏.‏


    مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ۔ نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (کو جب بخار آتا تو) یوں دعا کرتے کہ ”اللہ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے۔“



    حدیث نمبر: 5724
    حدثنا عبد الله بن مسلمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن مالك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن فاطمة بنت المنذر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن أسماء بنت أبي بكر ـ رضى الله عنهما ـ كانت إذا أتيت بالمرأة قد حمت تدعو لها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخذت الماء فصبته بينها وبين جيبها قالت وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا أن نبردها بالماء‏.


    ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔



    حدیث نمبر: 5725
    حدثني محمد بن المثنى،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا يحيى،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرني أبي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء ‏"‏‏.


    مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ میرے والد نے مجھ کو خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔



    حدیث نمبر: 5726
    حدثنا مسدد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبو الأحوص،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سعيد بن مسروق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عباية بن رفاعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن جده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رافع بن خديج قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ الحمى من فوح جهنم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فابردوها بالماء ‏"‏‏.‏


    ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن مسروق نے بیان کیا، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے، ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔
     
  2. ‏اگست 13، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    تشریح : حرارت کی بنا پر دوزخ کی بھاپ سے تشبیہ دی گئی ہے وصدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخار پر صبر کرنا ہی ثواب ہے اورتندرستی کی دعا اتنا ہی درست ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت دعا فرماتے تھے ”اللھم انی اسئلک العفو والعافیۃ“ اے اللہ ! میں تجھ سے عافیت کے لیے سوال کرتا ہوں۔

    تشریح : ایک روایت میں ہے زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو مراد وہ بخار ہے جو صفراءکے جوش سے ہو اس میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ نہانا یا ہاتھ پاؤں کا دھونا بھی مفید ہے ۔ اسے آج کی ڈاکٹری نے بھی تسلیم کیا ہے شدید بخار میں برف کا استعمال بھی اسی قبیل سے ہے۔

    تشریح : مروجہ ڈاکٹری کاایک شعبہ علاج پانی سے بھی ہے جو کافی ترقی پذیر ہے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے جمیع علوم نافعہ کا خزانہ بنا کر مبعوث فرمایا تھا چنانچہ فن طبابت میں آپ کے پیش کردہ اصول اس قدر جامع ہیں کہ کوئی بھی عقلمند ان سکی تردید نہیں کرسکتا ۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں