1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بخدا ! محمد ﷺ کا خاندان ایسا نہیں تھا

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 29، 2018۔

  1. ‏مئی 29، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20


    #ھفتہ_مدح_اھلِ_بیت

    بخدا ! محمد ﷺکا خاندان ایسا نہیں تھا

    اللہ کے پیغمبروں کو ایک امتیازی شان ملا کرتی ہے، انبیاء سے گناہ نہیں ہوتا، وہ اللہ کی
    نافرمانی نہیں کرتے، ان سےغیر اخلاقی حرکات صادر نہیں ہوتیں، حتی کہ انبیاء ادنی اخلاقی برائیوں سے بھی دور ہوتے ہیں، دشمن سامنے کھڑا ہے، موقع ہے سر قلم کردیا جائے، جانثاروں نے عرض کیا کہ حضور ہمیں اشارہ کیا ہوتا اور ہم اس کا سر تن سے جدا کردیتے، فرمایا : نہیں، ایک نبی کو یہ بات زیبا نہیں
    اور یہی اخلاقیات رسول اللہ ﷺ کے خاندا ن کو بھی عطا کی گئی ہیں، آپ کے پیارے اور آپ کے لاڈلے میدان کے شہسوار ہیں، اخلاق کے ہیرو ہیں، سچ کے آسمان ہیں، جسے حق سمجھا اس پر ڈٹ گئے، بیٹا باپ کے سامنے ڈٹ گیاکہ بابا جان! آپ کی مانوں یا رسول اللہ ﷺ کی مانوں ؟ علی رضی اللہ عنہ نے جسے حق سمجھا اس کی خاطر لڑنے لگے، حتی کہ اپنی ماں سے لڑ گئے، حسن نے جب حق سمجھا بیعت کر لی، حسین نے غلط جانا مقابلے میں آگئے، یہ پیغمبرانہ صفات ان کو ورثے میں ملی تھیں، لیکن کچھ لوگ میرے نبی کے خاندان کا ایک عجیب تصور پیش کرتے ہیں، وہ ان کو ایک نارمل اور باحیا انسان تک نہیں مانتے، مگر دن رات ان کو معصوم عن الخطا بھی باور کرواتے ہیں اور اسی پر عقائد قائم کرتے ہیں،یہ لوگ ہم کو بتاتے ہیں کہ امام معصوم کے مقابلے میں امامت کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہے، لعنتی ہے، جہنمی ہے اور پھر یہ بھی بتاتے ہیں کہ علی کے بیٹے محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نےزین العابدین کی امامت کا انکار کردیا تھا، ایک جگہ اس کو جہنمی کہتے ہیں، پھر علی کا لاڈلا اور علی کا بازو بھی قرار دیتے ہیں۔
    یہ ایک جگہ سمجھاتے ہیں کہ محمد بن حنفیہ اللہ کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، لیکن دوسرے ہی لمحے میں کہتے ہیں کہ محمد نے امامت کا انکار کرے روسیاہی مول لی تھی۔
    ان کے نام پر ایک پورا فرقہ وجود میں آتا ہے، جسے لوگ کیسانیہ فرقہ کے نام سے جانتے ہیں، وہ لوگ امام زین العابدین کو نہیں، محمد بن حنفیہ کو امام مانتے ہیں۔
    یہ لوگ امام کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ مختار کو گالی نہ دیا کرو، پھردوسرے ہی
    لمحے اسے کیسانیہ کا بانی بتلا کر اس کو نص کا منکر اور اللہ کے ہاں کا رو سیاہ اور جہنمی ثابت
    کرتے ہیں۔
    یہ لکھتے ہیں کہ زین العابدین کا بیٹا زید امام منصوص نہیں تھا، لیکن پھر زید امامت کا دعوی کرتا
    نظر آتا ہے اور زید امامت کا مدعی ہوکر جہنمی بن جاتا ہے، یہ اور بات کہ زید کے بارے میں
    معصوم امام یہ بھی کہتا ہے کہ زید ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں سے رسول اللہﷺ کے
    ساتھ جہاد میں شہادت پائی تھی۔کیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شہادت پائی ہو جہنمی ہوتے ہیں؟
    خود امام معصوم باقر ہی زید کو جہنم کا ڈراوایا دیتے ہیں، اور زید ان کی امامت کو رد کردیتے ہیں۔ پھر
    نفس ذکیہ کا زمانہ آتا ہے، یہ امام جعفر صادق کے چچا زاد بھائی ہیں ، بطور فائدہ بتاتا چلوں کہ نفس ذکیہ کے گھر والے ان کو مہدی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔
    ان کو ذوالفقار حیدری کا مالک کہا جاتا ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ان کے متعلق بشارتیں بھی سنائی جاتی ہیں، ان کو علم و شجاعت و تقوے کا امام کہا جاتا ہے، لیکن وہ بیچارے بھی جہنمی رہتے ہیں، کیوں کہ انہوں نے امام کے مقابلے میں امامت کا دعوی کردیا تھا۔یہیں پر بس نہیں بلکہ تمام اولاد علی ، سبھی اولاد جعفر ، زبیر بن عوام کی آل اور سب قریشی نفس ذکیہ کی بیعت کرتے ہیں ، مولا! سبھی جہنمی! تو جنت میں کون جائے گا؟
    یہ بتاتے ہیں کہ خلافت آل رسول کا حق ہے، لیکن امام خود جعفر صادق خلافت لینے سے انکار کردیتے ہیں۔
    پھر رسول اللہ ﷺ ہی کے خانوادے سے حسین بن علی مثلث جس کو حسین بن علی ثانی کہا جاتا ہے، یہ امام کاظم کا چچا زاد ہے اور شیعہ ہی کی روایتوں کے مطابق اس کا جنازہ رسول اللہ ﷺ نے خود پڑھا دیا تھا۔پھر امام ان کو جنتی بھی کہتا ہے، ہائے امام تو ان کو جنتی کہتا ہے، مگر پھر امام ہی ان کو جہنمی قرار دیتا ہے کہ اس نے امام کے مقابلے میں امامت کا دعوی رکھ دیا تھا۔
    قرآن منافقوں کی صفت بتاتا ہے کہ یہ لوگ مومنوں کے ہاں آکر ایمان کا دعوی کرتے ہیں اور اپنے شیطانوں کے پاس جا کر ان کی ہمنوائی کرتے ہیں۔
    اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے فرزند امام کاظم کو یہ لوگ نعوذ با للہ منافق باور کروانے سے باز نہیں آتے، بھلا اس کے بارے میں کیا خیال ہوگا، جو حسین بن علی مثلث کو جنتی بھی قرار دے، پھر اس کا ساتھ دینے بھی نہ جائے، بلکہ حکومت وقت کا ساتھ دے؟ صرف خود نہیں، اپنے ساتھیوں کو بھی اس کا ساتھ دینے سے منع کردے، ہاں یہ لوگ امام کاظم کے منہ سے کہلواتے ہیں کہ حکومت وقت کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔
    پھر علی رضا کا زمانہ آتا ہے، سوچا تھا کہ شاید یہاں کوئی جہنمی نہ ہوگا، مگر ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ پیغمبر پر جھوٹ باندھنے والے پیغمبر ہی کے خانوادے کو ہر دور میں جہنمی نہ کہاکریں،جی جناب ! علی رضا کے مقابلے میں محمد بن جعفر نے دعوی امامت کیا تھا۔
    بلکہ علی رضا کے مقابلے میں چھ لوگوں نے امامت کا دعوی رکھا، محمد بن ابراہیم نے کوفہ، مدینہ میں محمد بن سلیما ن نے، بصرہ میں علی بن محمد نے، پھر اسی بصرہ ہی میں زید بن موسی نے، یمن میں ابراہیم بن موسی نے، مکہ اور حجاز میں محمد بن جعفر نے، دعوی امامت کیاہے ، کیایہ سب جہنمی ہیں، نعوذ باللہ روسیاہ ہیں ۔؟
    ابھی اسی پر بس نہیں، ہر امام کے دور میں بغاوتیں ہوتی رہیں اوررسول اللہﷺ کے خاندان کے لوگ کرتے رہے اور جہنمی قرار پاتے رہے،یہ حیرت اپنی جگہ رہی کہ ہر ہر دور میں کچھ اہل بیت کو دین کے لئے کٹ جائیں اور دیگر کچھ تقیہ کئے بیٹھے رہیں؟ نہ حضور ! ہم نہیں مان سکتے، یہ پیغمبر کے خاندان پر الزام ہے۔
    ابھی حیرت کے جہان مزید کھلے ہیں، میں شاک کی کیفیت میں ہوں، دھچکا لگا ہے، جب دیکھا ہے کہ یہ اپنے ائمہ کو انبیاء کے تقریبا ہم پلہ باور کرواتے ہیں،بلکہ جو ائمہ کی امامت نہ مانے اس نبی کو بھی اللہ کے عذاب کا حقدار سمجھتے ہیں، نبی نوح علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں لے جانے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے امامت سے انکار کردیا تھا۔

    یہ حیدر کرار کے نام پر فرقہ کھڑا کرتے ہیں، لیکن پھر حیدر کرار کو مچھر سے تشبیہ دیتے ہیں، کوئے سے تشبیہ دیتے ہیں، ا ن کو ووٹوں کا بھوکا قرار دیتے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ محمد رسول اللہﷺ کا داماد محض حکومت کے لئے کوئی بھی حربہ اختیار کرلیتا ہے۔نعوذ باللہ بلکہ ان کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود کو گالیاں دینے کا حکم بھی دے لیتے ہیں، نعوذ باللہ ، یہ نبی کی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نام پر دن رات روتے ہیں، لیکن اس کا نقشہ کچھ یوں بٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے خاوند سے لڑتی رہا کرتی تھیں، وہ اپنے باپ کی پسند سے ناخوش تھیں، وہ اپنے خاوند کو نعوذ باللہ ذلیل بھی کہہ لیا کرتی تھیں۔وہ محض دولت کی خاطر غیر مرد کا گریبان پکڑ کر کھینچ لیا کرتی تھیں، حتی کہ اپنے شوہر کو مار لیا کرتی تھیں، اس سے بڑا جھوٹ پیغمبر کی بیٹی پر کیا ہوگا، ؟ یہ بات بات پر ناراض ہوجاتی تھیں، میں پوچھتا ہوں کیا تم
    لوگ رسول اللہ ﷺ کی شہزادی کو ایک شریف خاتون بھی سمجھنے کوتیار نہیں؟
    یہ محمد ﷺ کی آل بارے لکھتے ہیں کہ وہ ننگے بدن محض شرمگاہ پر چونا لگا کر بازار میں آجایا
    کرتے تھے، دو معصوم امام ایک ہی حمام میں ننگے نہا لیا کرتے تھے ۔
    یہ رسول اللہ ﷺ کے حسن کو مذل المومنین کہنے سے باز نہیں آتے، بلکہ کافر تک قرار دے دیتے ہیں۔بلکہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ جس کو پیارے رسول ﷺ نے سردار کہا تھا، اس کی زبان ایک فحاش اور جگت باز کی سی باور کرواتے ہیں۔ حسن کو خائن کہتے ہیں، نعوذ باللہ۔یہ نبی کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ذلیل کہتے ہیں، نعوذ باللہ
    یہ باتیں میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھی ہیں، ان ہی کی کتب سے اٹھا کر لایا ہوں اور حیران ہو کہ کہاں کہاں کا ماتم کروں، کس کس بات کا رونا روؤں ، تن ہمہ داغ داغ شد ، پنجہ کجا کجا نہم
    نہ میرے یار، میں نہیں مان سکتا کہ آل رسول کو جیسا تم نے بتلایا ہے وہ ویسے تھے، میرا دل
    نہیں مانتا، وہ چیخ چیخ کر گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے یہ جھوٹ ہے یہ
    جھوٹ، سچ نہیں ہوسکتا،میرے نبی کی عترت مومن تھی، وہ باحیا تھے، وہ بہادر تھے، وہ فصیح و بلیغ
    اور شرم وغیرت کے نشان کے تھے، وہ فحاش نہیں تھے، البتہ تم جھوٹے ہوجو ان پر الزام رکھتے ہو ، ہاں تم جھوٹے ہو
    ابوالوفا محمد حماد اثری
    کتابیات :
    اصول کافی، تاریخ الائمہ، رجال کشی، مناقب شہر بن آشوب، جلاء العیون، انوار نعمانیہ، تفسیر قمی، احتجاج طبرسی، مروج الذہب للمسعودی، نہج البلاغہ، فروع کافی، روضہ کافی، کشف الغمہ، مناقب آل ابی طالب ، الارشاد للشیخ مفید
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں