1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بدبو دار اشیاء کھا کر مسجد میں نہ آئیں !

'مساجد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 01، 2015۔

  1. ‏مئی 01، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    11188405_542263865911879_316484588819111473_n (1).jpg

    جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لہسن كى بو ناپسند كى تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:


    " جو شخص بھى اس خبيث اور گندے درخت سے كھائے تو وہ ہمارى مسجد كے قريب مت آئے، تو لوگ كہنے لگے حرام كر ديا گيا حرام كر ديا گيا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو جب يہ بات پہنچى تو آپ نے فرمايا:

    " لوگو مجھے كسى چيز ايسى چيز كو حرام كرنے كا حق حاصل نہيں جسے اللہ تعالى نے حلال كيا ہے، ليكن ميں ميں اس درخت كى بو ناپسند كرتا ہوں "

    اسے امام احمد نے روايت كيا ہے، اور مسلم شريف حديث نمبر ( 877 ) ميں ہے.

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ واضح كر ديا اور بيان كيا كہ ان كا اسے ناپسند كرنا اور لوگوں كو يہ كھا كر مسجد ميں آنے سے منع كرنے كا معنى يہ نہيں كہ يہ حرام ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں