1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بدعت كی تعريف،اسباب،مظاہر اور نقصانات

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از قاری مصطفی راسخ, ‏اپریل 25، 2012۔

  1. ‏جون 24، 2016 #11
    ابوبکر میر

    ابوبکر میر مبتدی
    جگہ:
    گوجرانوال پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

     
  2. ‏جون 24، 2016 #12
    ابوبکر میر

    ابوبکر میر مبتدی
    جگہ:
    گوجرانوال پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    السلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبارکاتہ
    شیخ ایک چھوٹا سا اشکال ھے بدعت کے حوالے سے
    کہ جس چیز کی اصل شریعیت میں موجود ھو اسکو بدعت نہیں کہا جاتا
    مثال کے طور پر تراویخ کی جماعت کی اصل شریعیت میں موجود ھے اس لیے حضرت عمر ؓ کا عمل بدعت نہیں کہلائے گا
    اس طرح ہمارے کچھ بھائی عید میلاد النبی کے حوالے سے کہتے ھیں کہ اسکی اصل بھی شریعت میں موجود ھے اس لیے یہ عمل بدعت نہیں ھے اور وہ دلیل دیتے ھیں نبی کریم ﷺ کا روزہ رکھنا
    اس حوالے سے تھوڑی سی رہنمائی فرما دیں
    جزاک اللہ خیر
     
  3. ‏جون 24، 2016 #13
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جناب عالی!
    روزہ رکھنے سے میلاد کا ثبوت کیسے ملنے لگا؟؟؟
     
  4. ‏جون 24، 2016 #14
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز کا روزہ رکھا کرتے، یہ بالکل سنت ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں!
    مسئلہ یہ ہے کہ اول نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے روز کا روزہ رکھتے تھے، نا کہ ہر سال 12 ربیع الاول کا،
    دوم کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے، نہ کہ ''کھابوں'' کی دعوت ، اور یہ بات تو سمجھ آ ہی جائے گی کہ جس روز دن میں ''کھابوں'' کی دعوت ہو، تو وہاں روزہ نہیں ہوتا!

    لہٰذا اگر یہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن بنانے کی دلیل ہے، تو اس نص پر عمل کیا جائے، اور پیر کے روز کا روزہ رکھا جائے! اس نص کی مخالفت کرکے کون سے بے سروپا قیاس پر عمل کرتے ہیں یہ !
     
    Last edited: ‏جون 24، 2016
  5. ‏جون 25، 2016 #15
    ابوبکر میر

    ابوبکر میر مبتدی
    جگہ:
    گوجرانوال پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    مطلب نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا اس دن جس دن آپ ﷺ پیدا ھوئے
    اب آج کل جس طرح میلاد منایا جاتا ھے ڈنڈے جھنڈے سے یہ سب تو خرافات ھیں
    لیکن میلاد یعنی پیدائش پر روزہ رکھنے سے
    میلاد کی اصل تو مل رھی ھے نا
    ویسے ھی جیسے تراویخ کی جماعت کی اصل ملتی ھے
    ؟؟؟
     
  6. ‏جون 25، 2016 #16
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیر کے روز روزہ رکھنے سے میلاد کی اصل نہیں ملتی، کیونکہ کسی صحابی سے اس لئے پیر کے روز روزہ رکھنے کا ثبوت نہیں ملتا، یعنی کہ اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس طرح نہیں سمجھا، جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے بھی تھے، ثواب و عبادات کے حریص بھی تھے۔
    اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جب انسان کو کوئی خوشی میسر آئےتو انسان اللہ کا شکر بجا لائے اور اس شکر میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے روزہ رکھے۔ عاشورہ کے روز کا روزہ بھی اس کی ایک مثال ہے! یہود اس خوشی کے دن روزہ رکھتے تھے، جو شریعت محمدی میں بھی برقرار رہی۔ اس طرح اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پیر کا روزہ رکھنا مسنون و مستحب عمل ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے روز بھی کہ ہفتہ کے کسی بھی روز پیدا ہوا ہو، سوائے جمعہ کے دن کے (کیونکہ جمعہ کے دن کو روزہ کے لئے خاص کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے) تو اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی رضا کے لئے روزہ رکھ سکتا ہے!
    اور اگر یہ پیر کا روزہ رکھنامیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل بنے تو یہ ہفتہ وار عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلیل بنے گی، نہ کہ سالانہ! اور وہ بھی روزہ رکھنے کی!
    تراویح کے معاملہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی حدیث موجود ہے، جس میں تراویح پڑھنے کی صراحت بھی موجود ہے، باجماعت پڑھنے کی صراحت بھی موجود ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خود اس جماعت نہ کروانے کی وجہ بھی مذکور ہے۔ اور یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی تھا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی جاری تھا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد میں ہونے والی متعدد جماعت کو جمع کر کے ایک جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کیا تھا۔
     
  7. ‏جون 25، 2016 #17
    ابوبکر میر

    ابوبکر میر مبتدی
    جگہ:
    گوجرانوال پاکستان
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    جزاک اللہ خیر
    ابن داور بھائی
     
  8. ‏جون 25، 2016 #18
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ابن داود ہے ابن داور نہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں