1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بدعت کو سمجھیے-10: (بدعت کی نحوست، اہل سنت و اہل بدعت کی پہچان)

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از deewan, ‏مئی 09، 2017۔

  1. ‏مئی 09، 2017 #1
    deewan

    deewan رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2014
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    یہ اس مضمون کی آخری قسط ہے۔ اس کے جملہ حقوق عام ہیں۔ ہر شخص اس کو شائع کرسکتا ہے۔
    اس پوسٹ کے ساتھ اس مضمون کی فائلیں بھی منسلک ہیں۔

    -----------------------------------------------------------------------------------
    پچھلی قسط: بدعت کو سمجھیے-9: (صحابہ کرامؓ کا رد بدعت)
    ------------------------------------------------------------------------------------
    بدعت کی نحوست
    بدعت اور بدعتی کی تردید اور مذمت کے لیے احادیث میں کیا آیا ہے اس کی مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
    بدعتی سے رسول اللہ ﷺ لاتعلق ہیں
    حدیث

    عن سهل بن سعد قال قال النبي صلى الله عليه وسلم اني فرطكم على الحوض من مر علي شرب ومن شرب لم يظما ابدا ليردن علي اقوام اعرفهم ويعرفوني ثم يحال بيني وبينهم فاقول انهم مني فيقال انك لا تدري ما احدثوا بعدك فاقول سحقا سحقا لمن غير بعدي (صحیح البخاري، صحیح مسلم)
    ترجمہ: حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود ہوں گا جو شخص میرے پاس آئے گا وہ اس کا پانی پیے گا اور جو شخص ایک بار پی لے گا پھر اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گے کچھ لو وہاں میرے پاس آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے مگر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی میں کہوں گا کہ یہ میری امت کے لوگ ہیں پس (مجھ سے کہا) جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی ہیں یہ سن کر میں کہوں گا پھٹکار پھٹکار ان لوگوں کے لیے جنہوں نے میرے بعد دین بدل ڈالا۔‘‘
    حدیث
    عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعائشة يا عائشة ان الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعا اصحاب البدع واهل الاهواء واصحاب الضلالة ليس لهم توبة انا منهم بريء وهم مني برآء (شعب الايمان للبيهقی)
    ترجمہ: سیدنا عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: ’’اے عائشۃ جن لوگوں نے دین پارہ پارہ کیا اور فرقوں میں بٹ گئے، وہ اہل بدعت، خواہش پرست، گمراہ طبقے ہیں ان کے لیے توبہ بھی نہیں، میں ان سے بری اور وہ مجھ سے بری۔‘‘
    بدعتی کا کوئی عمل قبول نہیں
    حدیث

    عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقبل الله لصاحب بدعة صوما ولا صلاة ولا صدقة ولا حجا ولا عمرة ولا جهادا ولا صرفا ولا عدلا يخرج من الاسلام كما تخرج الشعرة من العجين (سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمۃ)
    ترجمہ: اللہ تعالیٰ بدعتی کا نہ روزہ قبول فرماتا ہے اور نہ نماز نہ صدقہ نہ حج نہ عمرہ نہ جہاد نہ کوئی فرض عبادت نہ کوئی نفل عبادت، وہ اسلام سےایسے نکل جاتا ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے
    حدیث
    عن عبداللہ بن عباس ابی اللہ ان یقبل عمل صاحب بدعۃ حتی یدع بدعتہ (سنن ابن ماجہ، کتاب المقدمۃ)
    ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے بدعتی کے کسی عمل کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی بدعت کو ترک نہ کردے۔‘‘
    بدعتی رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نہ پائے گا
    حدیث

    حلت شفاعتي لامتي الا صاحب بدعة (الاعتصام، الشاطبی، الباب الثانی)
    ترجمہ: بدعتی کے سوا ہر امتی کے لیے میری شفاعت ہوگی
    بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند ہے
    حدیث

    ان الله حجب التوبة عن صاحب بدعة حتى يدع بدعته(الطبرانی، الترغيب والترهيب)
    ترجمہ: اللہ نے بدعتی سے توبہ کا دروازہ بند کردیا ہے یہاں تک کہ وہ بدعت چھوڑ دے
    عقلی طور پر بھی یہ بات بالکل درست ہے اس لیے کہ جب بدعتی اپنی بدعت کو ثواب کا کام سمجھ کر کرتا ہے تو اس سے وہ توبہ کیوں کرے گا۔ توبہ تو گناہوں پر کی جاتی ہے نہ کہ نیکیوں پر!
    اہل سنت و اہل بدعت کی پہچان
    اگر اہل سنت اور اہل بدعت کی پہچان کے لیے دو باتیں یاد رکھ لی جائیں تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ راہ حق روشن ہوجائے گی۔ پہلی بات تو یہ کہ اللہ کے یہاں صرف وہی عمل قابل قبول ہے جو صرف اور صرف اسی جل شانہ کے لیے کیا جائے۔ معمولی آمیزش بھی اس کو قبول نہیں۔ اس کو اخلاص کہتے ہیں۔ اس کا فرمان ہے:
    آیت
    قل ان صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا اول المسلمين (الانعام: 162)
    ترجمہ: کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے
    اخلاص کے بعد دوسری علامت اتباع رسول ﷺ ہے۔ جو خود امر الہی ہے۔ اتباع ہی معیار حب رسول ﷺ ہے۔ اور اتباع بھی کامل ہی درکار ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
    حدیث
    لا يؤمن احدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به (اربعین النووی)
    ترجمہ: تم میں کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس کے تابع نہ ہو جو میں لایا ہوں
    فرمان باری تعالیٰ ہے:
    آیت
    لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر (الاحزاب :21)
    ترجمہ: تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے اس شخص کے لیے جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو
    حضرت فضیل بن عیاضؒ کی یہ نصیحت ہمیشہ پیش نظر رہے:
    اخلصه و اصوبه قالوا يا ابا علي ما اخلصه و اصوبه قال ان العمل اذا كان خالصا ولم يكن صوابا لم يقبل واذا كان صوابا ولم يكن خالصا لم يقبل حتى يكون خالصا صوابا والخالص ان يكون لله والصواب ان يكون على السنة
    ترجمہ: اپنے عمل میں اخلاص اختیار کرو اور اس میں راستگی اختیار کرو، لوگوں نے پوچھا اے اباعلی (یعنی حضرت فضیلؒ) یہ اخلاص کیا چیز ہے اور یہ راستگی کیا ہے؟ انہوں (فضیلؒ) نے فرمایا: ’’اگر عمل میں اخلاص ہو اور راستگی نہ ہو وہ قبول نہیں، اور اگر اس میں راستگی ہو لیکن اخلاص نہ ہو وہ بھی قبول نہیں۔ (قبول اسی وقت ہے) جب تک خالص ہو اور راست ہو، اور (عمل کا) خالص ہونا یہ ہے کہ صرف اللہ جل شانہ کے لیے ہو اور (عمل کا) راست ہونا یہ ہے کہ وہ سنت کے مطابق ہو
    بس یہی معیار سنت و بدعت ہے۔
    ہر وہ عمل جو سنت سے ہٹ کر ہو اس کو ترک کر دیا جائے۔ اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے سابقوں لاحقوں کے ساتھ والے عمل سے دور رہنے ہی میں عافیت ہے۔ اپنا شعار اتباع سنت کو بنانا ہی دین و دنیا کی فلاح کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے دنیا طلبی ہے۔
    آیت
    منكم من يريد الدنيا ومنكم من يريد الآخرة (آل عمران: 152)
    ترجمہ: بعض تو تم میں سے دنیا کے طلب گار تھے اور بعض آخرت کے طالب
     

    منسلک کردہ فائلیں:

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں