1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بدعقیدہ افراد کی نوکری اور نماز

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از طارق فاروق, ‏مئی 10، 2016۔

  1. ‏مئی 10، 2016 #1
    طارق فاروق

    طارق فاروق مبتدی
    جگہ:
    لودہراں
    شمولیت:
    ‏مئی 15، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
    گزارش ہے کہ میں الحمدللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں عقائد ونظریات رکھنے والا فرد ہوں لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میں بال بچے دار ہوں اور ایک جماعت (جماعت اسلامی) کے دفتر میں ملازم ہوں۔ کمپیوٹر کمپوزنگ وڈیزائننگ کے حوالے سے مکمل دسترس رکھتا ہوں(عربی،انگلش اور اردو) کمپوزنگ کا ماہر ہوں۔ لیکن تعلیم زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ادارے یا سرکاری ملازمت ملنا مشکل ہے۔ کمپیوٹر کے علاوہ کوئی کام نہیں جانتا ہوں۔گذشتہ کئی عرصہ سے قرآن وحدیث کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کی وجہ سے میں اس ملازمت پر عدم اطمینان کا شکار ہوں لیکن پھر یہ سوچ کر تسلی رکھتا ہوں کہ جب مجھ سے کوئی غیر شرعی کام لیا جائے گا توانکار کردوں گا۔(سوچتا ہوں صحابہ بھی تو یہودیوں کے باغات وغیرہ میں کام کاج کرتے تھے) ۔جماعت اسلامی والے میرے عقائد کے خلاف بھی نہیں ہیں اور پوری طرح مجھ سے متفق بھی نہیں ہیں۔ اصلاح کی کوشش بھی جاری رکھتا ہوں کبھی بات مان لی جاتی ہے اور کبھی نہیں مانی جاتی۔ میں کیا کروں نوکری چھوڑ دوں اور کوئی مزدوری وغیرہ اختیار کرلوں یا اپنے عقائد کی حفاظت کرتے ہوئے ملازمت کرتا رہوں؟
    دوسری عرض یہ ہے کہ میرے دفتر کے قرب وجوار میں کوئی اہلحدیث مسجد نہیں ہے اور اسی طرح گھر کی صورتحال ہے تو کیا میں جماعت اسلامی یا دیوبندی مکتبِ فکر کے افراد کے پیچھے نماز ادا کرسکتا ہوں یا انفرادی طور پر پڑھوں۔ گھر میں میرے بچے بھی (بڑا 14 سال پھر 12 اور پھر باقی ہیں) بیوی بھی ہے کیا ان کے ساتھ باجماعت نماز پڑھوں یا سفر کرکے اہلحدیث مسجد میں ہی نماز پڑھنا ضروری ہے؟
     
  2. ‏جون 06، 2016 #2
    طارق فاروق

    طارق فاروق مبتدی
    جگہ:
    لودہراں
    شمولیت:
    ‏مئی 15، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    میرے سوالات کا فورم پر موجود کسی عالم نے جواب نہیں دیا۔ براہِ کرام جواب دیں ؟؟
     
  3. ‏جون 06، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,383
    موصول شکریہ جات:
    1,083
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  4. ‏جون 07، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اللہ تعالی آپ کو استقامت ، اور مزید توفیق خیر سے نوازے ،
    اگر جماعت کے دفتر میں کام کرنے سے دینی فرائض کی ادائیگی اور سبیل رسول ﷺ کی پیروی میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں آتی تو وہاں کام جاری رکھیں ،اور قرآن و سنت کی روشنی عام کرتے رہیں ،علم و اخلاق دو ایسے ہتھیار ہیں جو اصلاح احوال میں بڑے مؤثر ثابت ہوتے ہیں ،لہٰذا دلیل اور اخلاق حسنہ کا اہتمام رکھیں ،
    جماعت اسلامی یا دیوبندی مکتبِ فکر کے لوگ عقائد میں جہمیت کی طرف مائل اور اکثر قبوری تصوف زدہ ،اور فقہی و عملی مسائل کے معاملہ میں غالی مقلد ہونے کے سبب راہ سنت سے منحرف ہیں ،الا ما شاء اللہ
    اس لیئے اضطراری حالت کے علاوہ ان کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھنی چاہیئے ، ویسے بھی ان کے پیچھے سنت کے مطابق نماز پڑھی ہی نہیں جا سکتی،
    نماز میں اطمینان اور تعدیل ارکان اکثر عنقا ہوتا ہے ،اسلیئے اگر عقائد سے قطع نظر ان کی اقتدا کر بھی لی جائے تو کئی چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑھتے ہیں : اسلئے موجودہ مقلدین کے پیچھے نماز پر یہی کہا جا سکتا ہے :
    تیرا امام بے حضور، تری نماز بے سرور
    ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 07، 2016 #5
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    721
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محلے میں ہمیں بھی ایسی ہی صورتحال درپیش ہے، دیوبندی / بریلویوں کی مساجد ہیں اور عموماً "تعدیل ارکان" کی کوئی رعایت ان لوگوں کے ہاں نہیں پائی جاتی.

    محترم شیخ اس معاملے میں "معین" حکم کیا ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 07، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بریلوی عقیدہ رکھنے والے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟


    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    بریلوی عقیدہ رکھنے والے حنفی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ ایک امام دیوبندی عقیدہ رکھتا ہے لیکن قومہ اور جلسہ میں دعا نہیں پڑھتا اور اس کے پیچھے اہل حدیث مقتدی اس کی کچھ عجلت کی وجہ سے قومہ اور جلسہ کی دعائیں نہیں پڑھ سکتے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہ وجائے گی؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    کسی بریلوی حنفی کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ ان کے بعض عقائد و اعمال شرکیہ اور کفریہ ہیں (مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کا یہ عقیدہ کہ آپ کو غیب کا کلی علم تھا اور آپ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔ اور اولیا ء اللہ کائنات میں تصرف کی قوت رکھتے ہیں اور تصرف کرتے ہیں اور اہل قبور کو حاجب روا سمجھ کر ان سے استمداد و استعانت اور قبروں اور پیروں کو سجدہ وغیرہ ذلک من القائد الکفریۃ) اور شرک و کفر کرنے والے کے پیچھے قطعاً نماز جائز نہیں ہے۔ فانہ لا فرق بین الکفرة من الیھود والنصاریٰ والھنادک وبین ھولاء القبوریین ۔ اگر یہ دیو بندی امام رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اور سجدہ کے لیے سر جھکانے سے پہلے کچھ توقف کرکے سجدہ میں جاتا ہے اور پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد سیدھا بیٹھ جاتا ہے اور قدرے توقف کر کے دوسرے سجدہ میں جاتا ہے تو اس کے پیچھے اہل حدیث کی نماز ہو جائے گی۔ اگرچہ یہ امام بجز تحمید کے قومہ اور جلسہ میں السجدتین کی دعا نہ پڑھے۔ اور نہ اس کی اس قدر عجلت کی وجہ سے اہل حدیث مقتدی کو پڑھنے کا موقع ملے۔ قومہ میں سیدھا کھڑا ہونا اور سجدہ کے لیے جھکنے سے پہلے اطمینان اور قدرے توقف کرنا اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا اور اطمینان اور کچھ توقف کرنا فرض ہے بغیر اس کے نماز صحیح نہیں ہو سکتی اور ان دونوں مقاموں میں دعا و ذکر ضروری نہیں بلکہ سنت ہے لیکن تعجب ہے ان لوگوں پر جو اپنے تئیں اہل سنت و الجماعت کہلوانے کے باوجود ان صحیح حدیثوں پر عمل نہیں کرتے جن میں قومہ اور جلسہ میں بین السجدتین کا رکوع و سجدہ کے قریب ہونا اور ان دونوں مقاموں میں دعا و ذکر مخصوص مروی اور مذکور ہے۔ (بخاری و مسلم عن انس و براء بن عازب ۔ ترمذی ابو داؤد۔ ابن ماجہ عن ابن عباس۔ احمد عن ابی ہریرۃ۔ ترمذی ابو داؤد نسائی عن رفاعۃ الزرقی۔ بخاری و مسلم عن ابی ہریرۃ مسلم نسائی عن ابن عباس مسلم ترمذی ابو داؤد نسائی ابن حبان دارقطنی عن علی) ان حدیثوں کی دعائوں کو بلا دلیل نفل نمازکے ساتھ مخصوص کرکے فرائض میں قصداً دیدہ ودانستہ اس سنت ثابتہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔
    لکنہ لیس باول قارورة کسرت فلا عجب فانہ قد سول لھم قرینھم رد السنن الصحیحة الثابتة حتی صار ذلك عادتھم فلا یبالون بما یفعلون باحادیث رسول اللّٰہ ﷺ
    اور اگر یہ دیو بندی امام قومہ میں سیدھا کھڑا ہوئے اور کچھ توقف کیے ہوئے بغیر سجدہ میں گر پڑتا ہے اور پہلے سجدہ کے بعد سیدھا بیٹھنے اور قدرے توقف کرنے کے بغیر دوسرے سجدہ میں چلا جاتا ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ (محدث دہلی جلد نمبر ۹ شمارہ نمبر ۸)
    فتاویٰ علمائے حدیث​


    کتاب الصلاۃجلد 1 ص 240۔241
    محدث فتویٰ
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اطمئنان اور تعدیل ارکان کے بغیر نماز دوہرانے کا حکم​

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ المَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَصَلَّى، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ وَقَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» ، فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» ثَلاَثًا، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ، فَعَلِّمْنِي، فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاَتِكَ كُلِّهَا»
    (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اس کے بعد ایک اور شخص آیا۔ اس نے نماز پڑھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا۔ لیکن آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے اس طرح تین مرتبہ کیا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس کے علاوہ اور کوئی اچھا طریقہ نہیں جانتا، اس لیے آپ مجھے نماز سکھا دیجئیے۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے تکبیر تحریمہ کہہ۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تجھ کو یاد ہو اس کی تلاوت کر۔ اس کے بعد رکوع کر، اچھی طرح سے رکوع ہو لے تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑا ہو جا۔ اس کے بعد سجدہ کر پورے اطمینان کے ساتھ۔ پھر سر اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کر۔
    (صحیح بخاری 757 )
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 08، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,340
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں