1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

برائی اور اچھائی

'دینی، اخلاقی و اصلاحی ایس ایم ایس' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏مئی 01، 2013۔

  1. ‏مئی 01، 2013 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    برائی کی مثال ایسے ہے،
    جیسے پیاڑ سے نیچے اترنا،ایک قدم اٹھا ؤ
    تو باقی اٹھتے چلے جاتے ہیں
    اور اچھائی کی مثال ایسے ہے
    جیسے پہاڑ پر چڑھنا ، ہر قدم پچھلے قدم سے زیادہ مشکل
    مگر ہر قدم پر بلندی ملتی ہے۔
     
  2. ‏مئی 01، 2013 #2
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    پتانہیں نیکی کیون مشکل ہوتی ہےاور برائی کیوں آسان ہوتی ہے۔؟سماج یا انسانی طبعیت وجبلت
     
  3. ‏مئی 01، 2013 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

  4. ‏مئی 01، 2013 #4
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,504
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ خیرا دعا بہن
     
  5. ‏مئی 01، 2013 #5
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    آپ کی وہ عبارت پڑنےسے مجھےحضرت شاہ ولی اللہکی بات یاد آگئی کہ وہ فرماتےہیں کہ نیکی کرتےکرتےانسان ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتاہےجہاں اسے نیکی کی طلب ایسے محسوس ہوتی ہےجیسے بھوگ کےوقت روٹی کی ہوتی ہے۔اس وقت نیکی جزوبدن اور جزوروح ہوجاتی ہے۔
     
  6. ‏مئی 01، 2013 #6
    ابراہیم بھائی

    ابراہیم بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 03، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    814
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    بے شک
    اللہ اکبر
     
  7. ‏مئی 01، 2013 #7
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    جزاکم اللہ خیرا
     
  8. ‏مئی 01، 2013 #8
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ،
    بھائی دونوں ہی وجوہات کی وجہ سے۔
     
  9. ‏مئی 01، 2013 #9
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ،
    بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔دراصل مجھے پتا نہیں تھا اس دھاگے کا۔لیکن اچھی باتیں بار بار شئیر کرتے رہنا چاہیئے۔ :)
    اللہ آپ کو جزا دے۔آمین
     
  10. ‏مئی 02، 2013 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی جان ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو جنت اور دوزخ کو دیکھنے کے لیے بھیجا جب وہ واپس آئے تو اپنے تاثرات بیان کیے کہ جنت ایسی اچھی جگہ ہے کہ ہر کوئی اس میں ہی جائے گا، اور دوزخ کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ کوئی اس میں نہیں جانا چاہے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے جنت کو صالح اعمال جو ہمیں مشکل لگتے ہیں سے ڈھانپ دیا، اور دوزخ کو خواہشات،لوازمات سے، اور پھر دوبارہ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے بھیجا۔واپسی پر جبرائیل علیہ السلام کے تاثرات تبدیل تھے، انہوں نے جنت کے بارے میں کہا کہ اب تو اس میں کوئی نہیں جا سکے گا یا کہا کہ اب اس میں تھوڑے لوگ جا سکیں گے اور دوزخ کے بارے میں بتایا کہ لگتا ہے سارے اس میں جائیں گے یاکہا کہ یہ بھر جائے گی۔

    اب آپ خود دیکھ لیں کہ نیکی پر چلنا کیوں مشکل اور گناہ کرنا کیوں آسان ہے؟

    دراصل ایک اور بات بھی ہے کہ شیطان جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے وہ گناہ کے کاموں کو مزین کر کے دکھاتا ہے، اب دیکھیں مسجد میں جانا مفت نماز پڑھنا مفت بلکہ ساتھ دنیا و آخرت کی بھلائیاں بھی حاصل ہوتی ہیں۔لیکن مساجد میں تھوڑے لوگ ہوتے ہیں۔

    لیکن ڈانس کلب جانا پیسوں کے ساتھ، لیکن حاصل کچھ نہیں ہو گا بلکہ الٹا عذاب۔ لیکن زیادہ لوگ ہوتے ہیں کیونکہ شیطان ان گناہوں کو مزین کر دیتا ہے۔

    اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال بڑھا ہے اور برکت ہوتی ہے۔ لیکن اکثر لوگ خرچ نہیں کرتے۔

    جبکہ برائی کے راستے میں خرچ کرنے سے مال ختم ہوتا ہے اور برکت تو ہو نہیں سکتی۔ لیکن لوگ زیادہ وہیں خرچ کرتے ہیں کیونکہ شیطان ان گناہوں کو مزین کر دیتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں