1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بريلوى عورت سے شادى كرنے كا حكم

'باطل نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدسمیرخان, ‏مارچ 31، 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 31، 2013 #1
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    بريلوى عورت سے شادى كرنے كا حكم

    سوال:
    جواب
     
  2. ‏اپریل 18، 2013 #2
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    پاکستان میں اکثریت بریلویوں یا شیعہ کی نظر آتی ہے اور اس اصول کے تحت اگر بریلوی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے تو امید کامل ہے کہ اس ہی فتوے کا اطلاق شیعہ پر بھی ہوگا اور پھر بریلویوں کا آپس میں یا شیعوں کا آپس میں نکاح بھی جائز نہ ہوا؟ اگر انکا نکاح جائز نہیں ہے تو وہ زنا کے مرتکب ہیں؟ ان کی اولاد کو ولد الزنا کے زمرے میں رکھا جائے گا؟ اس تحریر کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہمارے ارد گرد اتنے "اعلانیہ زانی" گھوم پھر رہے ہیں۔ کاروبار کر رہے ہیں۔ ہمارے افسر ہیں یا ماتحت ہیں ہمارے محلے دار ہیں بلکہ اکثر سے تو خونی کے علاوہ خوشی غمی کا رشتہ بھی ہے اورہم ان "اعلانیہ زانیوں" کی نگری کے خاموش باشندے ہیں۔ کہاں گیا "امر بالمعروف نہی عن المنکر"۔ ان "اعلانیہ زانیوں" کی سنگساری کا فتویٰ بھی ساتھ ہی منسلک کر دیتے تو اس "علمی" تحریر کو پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا۔ ویسے سو بار جزاک اللہ کہ مجھ جیسے علم کے متلاشی کو کتنی "علمی معلومات" میسر آ گئی اس تحریر کو دیکھ کر۔ میں تو باطل نکاح کے ٹیگ کو دیکھ کر اس پوسٹ پر آیا تھا کیا معلوم تھا کہ یہاں بھی "مسلکی فتویٰ" میرے علم میں خاطر خواہ اضافے کا باعث بنے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 18، 2013 #3
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    آج ایک دوست بتارہے تھے کہ شیعہ ختنہ نہیں کرواتے۔۔۔
    کسی بھائی کو اس کا علم ہے؟؟؟۔۔۔
     
  4. ‏اپریل 18، 2013 #4
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں۔۔ جہاں ہم رہتے ہیں۔ چند گھروں کے علاوہ پورے کا پورا علاقہ شیعوں کا ہے۔۔ سر عام بچوں کے ختنہ کی رسم مثل شادی ان کےہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔۔۔
     
  5. ‏اپریل 18، 2013 #5
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    امت مسلمہ کےمخلص اورجذباتی نوجوان امت کیلے کئی طرح کے مسائل پیداکررہےہیں۔کتنامظلوم ہےاسلام کہ ہرکوئی اس کی ترجمانی کرتاپھرتاہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 18، 2013 #6
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    محترم بھائی ! ہر وہ چیز جو انٹرنیٹ پر شائع ہوتی ہو اسے "دین" سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ اس قسم کے فتاویٰ آپ کو ہر مسلک و طبقہ کی سائیٹ پر مل جائیں گے۔ گوکہ مفتیان کرام کا دانستہ ارادہ نہیں ہوتا کہ ایسے فتویٰ جات کے ذریعے امت میں انتشار و افتراق کی فضا قائم کی جائے مگر نادانستگی میں ایسا اکثر ہوا جاتا ہے ، شاید یہی سبب ہو کہ یہ سعودی فتویٰ سائیٹ ہونے کے باوجود سعودی حکومت کے زیراثر یہاں سعودی عرب میں بلاک ہے۔
    میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ کی ایسی چیزوں بطور خاص سوشل نیٹ ورکنگ کے پیچھے وقت ضائع کرنے کے بجائے اصلاح معاشرہ کے موضوعات پر مبنی کتب کا مطالعہ جاری رکھیں اور مسلکی اختلافی مسائل میں الجھنے کے بجائے انفرادی و اجتماعی عملی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 18، 2013 #7
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    یہ ساری عبارت تو آن جناب کا ذاتی فتویٰ ہے، جس کا اوپر کے فتویٰ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ محترم کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اوپر کے فتویٰ پر تنقید کرتے کرتے وہ خود کتنے بڑے بڑے فتاویٰ بغیر دلیل کے ارشاد فرما چکے ہیں!

    اللہ المستعان
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 18، 2013 #8
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    یہی فتویٰ لجنۃ دائمۃ للافتاء (ابن باز وابن عثیمین رحمہم اللہ) کا بھی ہے۔
    وسئل علماء اللجنة الدائمة للإفتاء :
    جماعة معينة في الباكستان تسمى البريلوية أو جماعة نواري نسبة إلى رئيسهم الحالي المعروف بنواري حيث طلبت من فضيلتكم الحكم الشرعي بهم وباعتقادهم وبالصلاة خلفهم ليكون ذلك بردا وسلاما على قلوب كثيرة لا تعرف الحقيقة ومرة ثانية ، أذكركم ببعض خرافاتهم واعتقاداتهم الشائعة :
    1- الاعتقاد بأن الرسول عليه الصلاة والسلام حي .
    2- الاعتقاد بأن الرسول عليه الصلاة والسلام حاضر وناظر خاصة بعد صلاة الجمعة مباشرة .
    3- الاعتقاد بأن الرسول عليه أفضل الصلاة والسلام الشفيع مسبقا .
    4- يعتقدون بالأولياء وأصحاب القبور ويصلون عندهم طالبين منهم قضاء الحاجة .
    5- إشادة القباب وإضاءة القبور .
    6- قولهم المشهور : يا رسول ، يا محمد صلى الله عليه وسلم .
    7 - يسخطون بمن يجهر بالتأمين ويرفع يديه في الصلاة ويعتبرونه وهابي .
    8- التعجب الشديد عند استعمال السواك عند الصلاة .
    9- تقبيل الأصابع أثناء الوضوء والأذان وبعد الصلاة .
    10- يردد إمامهم دائما بعد الصلاة الآية : ( إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ) وبالتالي فإن جميع المأمومين يصلون على النبي بشكل جماعي بصوت عال .
    11- يتحلقون بعد صلاة الجمعة واقفين وينشدون ويمدحون بصوت مرتفع .
    12- بعد ختم القرآن الكريم في تراويح شهر رمضان يطهون الطعام الكثير ويوزعونه في صحن المسجد بالإضافة إلى الحلويات .
    13- يشيدون المساجد ويهتمون بزخرفتها كثيرا ، ويكتبون فوق المحراب : يا محمد .
    14- يعتبرون أنفسهم هم أصحاب السنة والعقيدة الصحيحة وغيرهم على خطأ .
    ما الحكم الشرعي بالصلاة خلفهم ؟
    فأجابوا :
    " من هذه صفاته لا تجوز الصلاة خلفه ، ولا تصح لو فُعلت مِنْ عالمٍ بحاله ؛ لأن معظمها صفات كفرية وبدعية تناقض التوحيد الذي أرسل الله به رسله وأنزل به كتبه ، وتعارض صريح القرآن ، مثل قوله سبحانه : (إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ) وقوله : (وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا) وينكر عليهم البدع التي يفعلونها بأسلوب حسن ، فإن قبلوا فالحمد لله ، وإن لم يقبلوا هجرهم وصلى في مساجد أهل السنة ، وله في خليل الرحمن أسوة حسنة في قوله : (وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا) " انتهى .
    "فتاوى اللجنة الدائمة" (2 / 396-398) .
    وسئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : ما حكم الصلاة خلف إمام من طائفة البريلوية ، الذين يعتقدون أن النبي صلى الله عليه وسلم حي حاضر ناظر ؟
    فأجاب : " إذا كانوا يعتقدون ذلك ، فقد خالفوا الإجماع ، أو كانوا يستغيثون به فهو شرك ، فلا تجوز الصلاة خلفهم " انتهى .
    "ثمرات التدوين" (ص 8) .
    والله أعلم .
    موقع الإسلام سؤال وجواب
    موقع الإسلام سؤال وجواب - عقائد \"البريلوية\"
     
  9. ‏اپریل 18، 2013 #9
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    باذوق بھائی جزاک اللہ
     
  10. ‏اپریل 18، 2013 #10
    فیض اللہ

    فیض اللہ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 25، 2013
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    اصل میں بخاری سید کی غلط فہمی کی بنیاد کی وجہ یہ ہے کہ انکا خیال ہے کہ جس طرح مومن کا مشرک سے نکاح نہیں ہوتا اسی طرح مشرک کا مشرک یا کافر کا کافر سے نہیں ہوتا
    جو کہ غلط ہے
    اگر اس اصول کو لاگو کیا جائے تو بریلوی ہی کیا تمام شیعہ اور یہودی اور نصاری کا آپس میں بھی نکاح نہیں ہوتا اور یہ غلط ہے
    اصل بات یہ ہے کہ مومن کا مشرک سے نکاح نہیں ہوتا
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں