1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بریلویوں کی غیر اللہ سے مدد مانگنے کی دلیل !!! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہیں ؟

'غیر اللہ سے مدد مانگنا' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 26، 2014۔

  1. ‏مارچ 26، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    معراج کے موقع پر موسی علیہ السلام نے نماز کم کرنے میں ھماری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی -

    آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہیں ؟
     
  2. ‏مارچ 26، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    معراج کے موقعے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسی علیہ السلام نےاپنی امت کے لئے نمازیں کم کروانے کی تجویز دی تھی، اس میں مدد کرنے کی کون سی بات ہے؟ اگر بالفرض اسے مدد کرنا تسلیم کر لیا جائے تو یہ ماتحت الاسباب مدد ہے نا کہ مافوق الاسباب۔ اور ماتحت الاسباب مدد کرنا جائز ہے اور اس کا حکم قرآن میں بھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ۔۔۔المائده
    ترجمه: نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو
    تو اس سے بریلویوں کا مقصد حاصل نہیں ہوتا جو وہ کرنا چاہتے ہیں، اول جو انہوں نے دلیل دی ہے اس سے غیراللہ سے مدد مانگنے کی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی، بالفرض موسی علیہ السلام کی تجویز کو امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا تسلیم کر لیا جائے تو یہ ماتحت الاسباب مدد ہے جو جائز ہے۔واللہ اعلم
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 26، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 26، 2014 #4
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    یہ تو تب ہے جب نبی کریمﷺ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے نمازوں میں تخفیف کا مطالبہ کیا ہو اور انہوں نے نمازیں کم کی ہوں!!

    نہ نبی کریمﷺ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے نمازوں کی تخفیف کیلئے مدد مانگی اور نہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے نمازیں کم کیں اور نہ ہی انہیں اس قسم کا ذرّہ برابر بھی اختیار حاصل تھا۔

    سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے نبی کریمﷺ کو ایک مشورہ دیا جو وہ بالکل دے سکتے تھے اور کوئی بھی کسی کو کسی قسم کا مشورہ دے سکتا ہے اور نبی کریمﷺ نے اس مشورہ کے مطابق مدد تو اللہ رب العٰلمین سے مانگی ہے اور مدد اللہ تعالیٰ نے ہی کی ہے کہ نمازوں کی تعداد میں کمی کردی لیکن اجر وہی رہنے دیا۔

    تو دعویٰ کچھ اور ہے اور دلیل کچھ اور! ۔۔۔ اسے کہتے ہیں سوال گندم جواب چنا!!!
     
    • زبردست زبردست x 7
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں