1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بسنت اور ویلنٹائن ڈے … شرعی نقطہ نظر

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 08، 2012۔

  1. ‏فروری 08، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    بسنت اور ویلنٹائن ڈے … شرعی نقطہ نظر

    حافظ مبشر حسین لاہوری​

    بسنت اور ویلنٹائن ڈے؛ حامی اور مخالف نقطہ ہائے نظر
    موسم بہار کی آمد پر پاکستان میں بسنت میلہ، جشن ِبہاراں، پتنگ بازی، ویلنٹائن ڈے وغیرہ کے نام سے تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہ تہوار کب، کیسے اور کیوں شروع ہوئے اور اسلامی نقطہ نظر سے ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں بنیادی طور پر دو نقطہ ہائے نظر ہیں: ایک مذہبی اور دوسرا سیکولر … سیکولر طبقہ کی حقیقت ہلڑبازوں اور لفنگوں کے کردار سے سامنے آجاتی ہے۔لہٰذا ہم پہلے دونوں نقطہ نظر بیان کریں گے ، پھر سیکولر طبقہ کا عملی مظہر دکھائیں گے اور اس کے بعد شریعت کی روشنی میں اپناتجزیہ پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ
    مذہبی نقطہ نظر
    مذہبی گروہ کا کہنا ہے کہ تہوار اور میلے ہر قوم کی اپنی مذہبی و ثقافتی اقدارو نظریات کے ترجمان ہوتے ہیں اور اسلام چونکہ ایک الگ مستقل الہامی دین ہے اس لیے اس کی اپنی روایات واقدار ہیں جن کی نمائندگی کے لئے خود اسلام کے پیغامبر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنی اُمت کے لئے دو تہوار (یعنی عیدالاضحی و عیدالفطر) مقرر کردیے ہیں اور ان تہواروں پر خوشی، تفریح اور اظہارِ جذبات کی حدود بھی عملی طور پر طے کردی ہیں جب کہ اس سے پہلے دورِ جاہلیت میں مروّج دیگر تہواروں اور میلوں پر یکسر خط ِتنسیخ پھیر دیا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے۔
    لہٰذا اب کسی نئے یاپہلے سے مروّج غیرمسلموں کے تہوار کو اسلام میں داخل کرنا یا از خود کوئی تہوار مقرر کرلینا نہ صرف جائز نہیں بلکہ دین میں اضافہ(یعنی بدعت جاری)کرلینے کے مترادف ہے جبکہدوسری طرف عیدین کی شکل میں جو دو تہوار ہمارے لئے آنحضرت ﷺ نے مقرر فرما دیے ہیں ان میں بھی خوشی کے جذبات سے مغلوب ہوکر کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں جو اسلامی اقدار کے منافی یااسلامی روح کے خلاف ہو خواہ وہ اسراف و تبذیر کی صورت میں ہو یابے ہودگی اور جنسی بے راہ روی کی شکل میں!
    اس پس منظر میں مذہبی گروہ کا کہنا ہے کہ ’بسنت‘ ہندوٴانہ تہوار ہے جبکہ ’ویلنٹائن ڈے‘ جنسی بے راہ روی میں ڈوبے عیسائی معاشرے کا من گھڑت تہوار ہے لہٰذا انہیں مناناغیر مسلم اقوام کی مشابہت کرنا ہے خواہ اسے منانے کی شکل من و عن وہی ہو جو اُن اقوام کے ہاں پائی جاتی ہے یا اس سے قدرے مختلف؛ بہرصورت یہ غیر مسلم اقوام کی مشابہت میں داخل ہے، جس کی وعید خود نبی اکرم ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے :
     
  2. ‏فروری 08، 2012 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    سیکولرنقطہ نظر
    بسنت اور ویلنٹائن ڈے کے بارے میں سیکولر اور آزاد خیال دانشور طبقہ کی رائے یہ ہے کہ بسنت مذہبی نہیں بلکہ علاقائی تہوار ہے اور ویلنٹائن ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن۔ اسلام علاقائی تہواروں کی مذمت نہیں کرتا بلکہ
    یہی بات ایک اور ’دانشور‘ نے اس انداز میں کہی ہے :
    علاقائی تہواروں کو اسلام کے دامن میں سمونے کی ایک اور دلیل موصوف نے یہ بھی دی ہے
    سیکولر طبقہ کی نمائندگی کرنے والوں کا کہنا ہے :
    ویلنٹائن ڈے کے حوالہ سے اس طبقہ فکر کی رائے یہ ہے :
     
  3. ‏فروری 08، 2012 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    لفنگوں اور اوباشوں کا رویہ
    بسنت اور ویلنٹائن ڈے کے حوالہ سے اوباش طبقہ کا کردار سیکولر سوچ کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ یہ تہوار دراصل اسی طبقہ کے لوگ مناتے ہیں جب کہ ان من چلوں کی تائید کے لئے سیکولر طبقہ نام نہاد دانشوری پر اتر آتا ہے۔ مزید برآں مغربی تہذیب کی دلدادہ این جی اوز اسلام کے خلاف سازش کے طور پر ان کے ساتھ نہ صرف شریک ہوتی ہیں بلکہ ان کی تفریح میں لہوولعب اور شور وغل کو مہمیز دیتی ہیں تاکہ ایسی تفریح کے پردہ میں غیر اسلامی کلچر کو پروان چڑھانے کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔
    یہ طبقہ کن لوگوں پر مشتمل ہے؟ اور یہ تہوار کس ’شان و شوکت‘ سے منایا جاتا ہے؟ اس کا مشاہدہ تو بسنت کے شب و روز میں لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی پررونق عمارتوں اور وڈیروں کی کوٹھیوں بلکہ ’کوٹھوں‘ پرکیا جاسکتا ہے جبکہ اس کا دھندلا سا عکس متعلقہ دنوں کے اخبارات اور میگزینوں کے صفحات پر بھی دکھائی دیتا ہے۔
    مذکورہ تہوار منانے والا اصلی طبقہ تو یہی ہے اور یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ان کی عیاشی ودلربائی میں رکاوٹ بنے۔ انہیں اپنے تہوار کے لئے چند دن ہی درکار ہیں، اس کے علاوہ باقی سارا سال پتنگ بازی پر پابندی رہے، اس سے انہیں کوئی غرض نہیں لیکن ان کی تفریح کے خاص ایام کوپھیکا کرنے کی کوئی کوشش ہو تو یہ فورا ً حق ِآزادی، تفریح ِطبع وغیرہ کا وِرد کرنے لگتے ہیں اور میڈیا بھی ان کی ہم نوائی میں خم ٹھونک کر کھڑا ہوجاتا ہے جبکہ ’سرکار‘ کے لئے پہلے ہی خوشی کے چند لمحات محفوظ کردیئے جاتے ہیں، اس لئے ان کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور ان کی طرف بڑھنے والا ہر قدم روک دیا جاتاہے لہٰذاانہی کا پلڑا بالآخر بھاری ثابت ہوتا ہے۔
    تجزیہ وتاریخی پس منظر
    بسنت، پتنگ بازی اور ویلنٹائن ڈے کے حامیوں اور مخالفوں کے دلائل و آرا کے تجزیہ کے علاوہ صحیح نقطہ نظر کی توضیح کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ تہواروں کا تاریخی پس منظر بھی بیان کردیا جائے۔
    پتنگ سازی اور پتنگ بازی
    پتنگ سازی اور پتنگ بازی کا آغاز کب اور کس مقصد کے لئے ہوا؟ اس کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم معروف یہی ہے کہ پتنگ سازی کا آغاز ہزاروں سال قبل مسیح چین سے ہوا پھر چینی تاجروں نے اسے کوریا، ایشیا اور برصغیر میں متعارف کروایا اور آج بھی پتنگ سازی کی صنعت میں چین ہی سب سے آگے ہے۔ باقی رہا پتنگ بازی کا مسئلہ تو یہ مختلف مقاصد کے لئے کی جاتی رہی ہے، مثلاً:
    یہ تو تھی پتنگ سازی اور پتنگ بازی کی مختصر تاریخ، اب آئیے ’بسنت‘ کا جائزہ لیتے ہیں :
     
  4. ‏فروری 08، 2012 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ’بسنت‘ ہندوانہ مذہبی تہوار
    جن خطوں میں موسمی تغیرات ’بہار‘ کی فضا مہیا کرتے ہیں، وہاں عام طور پر خوشی اور تفریح کے لئے لوگ اپنے اپنے انداز میں جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً ایران میں موسم بہار کی آمد پر نو دن طویل جشن منایا جاتاہے جسے ’نوروز‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں ’درگادیوی‘ کو خوش کرنے کے لئے بسنت کا تہوار منایا جاتا جیسا کہ البیرونی ہندوستان کی علاقائی تاریخ پراپنی مستند تصنیف’کتاب الہند‘ باب ۷۶ میں’عیدین اور خوشی کے دن‘ کے عنوان کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    گویا بسنت ہندووٴں کا مذہبی تہوار تھا بلکہ اس کی اہمیت ان کے ہاں ’عید‘ سے کم نہ تھی۔
    بسنت اور پتنگ بازی کا اکٹھ
    بسنت اور پتنگ بازی کے پس منظرسے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بسنت ہندووٴں کا ایک مذہبی تہوار تھا جب کہ پتنگ کو کھیل و تفریحکے علاوہ اگرچہ سائنسی تجربات، عسکری مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور مذہبی توہمات کے تحت بھی اسے اُڑایا جاتا تھا۔ یعنی یہ دو الگ الگ چیزیں تھیں،پھر ان کا ا ختلاط کیسے ہوا؟ اس کا پس منظر بڑا دل خراش ہے جواُمت ِمسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
    حقیقت رائے کے اس واقعہ سے قریب قریب سبھی اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم اس کی تفصیلات میں اختلافِ رائے ہے۔ بعض موٴرخین کے بقول پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ (جیسا کہ ہندو موٴرخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب"Punjab Under the Later Mughals"کے ص ۲۷۹ پر لکھا ہے) جبکہ بعض کے نزدیک ’بسنت‘ میلہ اس سے بھی پہلے سے چلا آتا تھا جیسا کہ البیرونی کی کتاب الہند میں ہے لیکن جس روز حقیقت رائے کو پھانسی دی گئی، اتفاق سے وہ ’بسنت‘ ہی کا دن تھا۔ چنانچہ متحدہ پنجاب کے غیر مسلموں نے اس اتفاقی دن سے فائدہ اٹھایااورجہاں حقیقت رائے کو پھانسی دی گئی تھی وہاں اس کا مزار بنا کر یہی تہواروہ نئی آن شان سے منانے لگے بلکہ انہوں نے جشن کے طور پر پتنگ اڑانے شروع کردیئے۔ اس طرح بسنت اور پتنگ لازم و ملزوم ہوتے چلے گئے…!
    بسنت کو ہندوو ٴں کے ہاں پہلے بھی مذہبی تہوار کی حیثیت حاصل تھی جبکہ حقیقت رائے کی پھانسی کے بعد اس میں مزید مذہبی رنگ شامل ہوگیا اور آج بھی اسے مذہبی حیثیت ہی سے منایا جاتا ہے۔ ایک صاحب کا آنکھوں دیکھا حال ملاحظہ فرمائیے:
     
  5. ‏فروری 08، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    خلاصہٴ کلام
    پتنگ اور بسنت کے نام نہاد جشن بہاراں کے بارے میں گذشتہ تفصیلات سے معلوم ہواکہ
     
  6. ‏فروری 08، 2012 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ویلنٹائن ڈے؛ عاشقوں کا تہوار
    بسنت کا شرعی اعتبار سے جائزہ لینے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’ویلنٹائن ڈے‘ کا تاریخی پس منظر بھی پیش کردیا جائے۔کیونکہ پاکستان میں جس طرح بسنت اور ویلن ٹائن ڈے کا ’ملاپ‘ ہوتا جارہا ہے اور دونوں تہواروں کے منانے کا انداز بھی ایک جیسا ہی ہے اسی طرح ان کی شرعی حیثیت بھی قریب قریب ایک ہی ہے۔
    ’ویلنٹائن ڈے‘ کیا ہے اور کس طرح یہ شروع ہوا؟ اس کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں تاہم ان میں یہ بات مشترک ہے :
    اسے عاشقوں کے تہوار کے طور پر کیوں منایا جاتا ہے؟ اس کے بارے میں بک آف نالج کا مذکورہ اقتباس لائق توجہ ہے :
    ۱۴ فروری کا یہ ’یومِ محبت‘ سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے بارے میں محمد عطاء اللہ صدیقی رقم طراز ہیں :
    آج کل یورپ و امریکہ میں ویلنٹائن ڈے کیسے منایا جاتا ہے ، اس کی تفصیلات کو جاننے کے لئے محترم صدیقی کا پیش کردہ درج ذیل واقعہ ملاحظہ فرمائیے:
    پاکستان میں گذشتہ دو تین سالوں سے اسے کس انداز میں منایاجارہا ہے اس کااندازہ ۱۴ فروری سے ایک دو روز آگے پیچھے کے کسی بھی قومی اخبار پر سرسری نگاہ ڈال کر کیا جاسکتا ہے۔ ایک تازہ واقعہ ملاحظہ فرمائیے:
    اگرچہ بظاہریہ واقعہ چھوٹاہوگا مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ سرکاری سطح پر اگر ایسے اقدامات کی روک تھا م نہ کی گئی تو آئندہ چند برسوں میں جنسی انارکی اور اباحیت کا ایک نہ تھمنے والا سیلاب اس معاشرے کی رہی سہی اسلامی اقدار بہا لے جائے گا۔
     
  7. ‏فروری 08، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    بسنت اور ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت

    بدعتی تہوار
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بسنت اور ویلنٹائن ڈے الگ الگ قوموں کے دوتہوار ہیں۔بسنت ہندووٴں کا اور ویلنٹائن ڈے عیسائیوں کا۔ ہندووٴں کے ہاں بسنت میں مذہبی رنگ بھی شامل ہے جبکہ عیسائیوں کے ویلن ٹائن ڈے کو ان کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اباحیت کی جو تحریک مغرب میں عروج پرہے، اس کے مقابلہ میں اس فحش تہوار پر کسی قسم کی قدغن لگانا خود عیسائی مذہب کے ’ذمہ داروں‘ کے لئے ممکن نہیں۔
    اب رہی یہ بات کہ ایک مسلم معاشرہ غیر مسلم تہواروں کو منانے کی گنجائش رکھتا ہے یا نہیں؟ تو مذہبی نقطہ نظر سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ کوئی شخص سفلی خواہشات کی تکمیل کے لئے ان تہواروں میں شرکت کرنا چاہے تو کرے لیکن اگرکوئی نام نہاد دینی رہنما یہ دعویٰ کرے کہ دین اسلام بھی اس معاملہ میں اس کی پشت پناہی کرتاہے تو یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ پیغمبر اسلام نے ہمارے لئے خوشی کی غرض سے دو تہوار (عیدین) مقرر کئے جبکہ باقی تمام تہواروں کی آپ نے ممانعت فرما دی۔ آپ کے بعدکسی کو یہ اتھارٹی حاصل نہیں کہ وہ کسی اور تہوار کواسلام کا حصہ بنائے۔ سیکولر طبقہ نے علاقائی رواج اور تہواروں میں اصولی فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے کئی ایک شبہات پیدا کئے ہیں جن کا ازالہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس اُصولی فرق کو واضح نہ کر دیا جائے۔
    تہوار اور رسم ورواج میں فرق
    ہر قوم اور معاشرے میں کچھ روایات خالصتا اچھی ہوتی ہیں اور کچھ بری اور کچھ ایسی بھی جن میں خیر وشر کا اختلاط ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں ہر قوم کے کچھ تہوار بھی ہوتے ہیں جن میں قوم کا ہر فرد شریک ہوتا ہے خواہ وہ مشرق میں ہو یا مغرب میں۔روایات اور تہواروں کے بارے میں اسلام کانقطہ نظر جاننے کے لیے ہم تہواروں سے بات شروع کرتے ہیں۔
    دیگر اقوام کی طرح اہل عرب بھی کئی ایک تہوار منایاکرتے تھے مگر آنحضرت ﷺ نے ان کے کسی تہوار کو اپنایا اور نہ اہل ایمان کو ان میں شرکت کی کبھی اجازت دی۔ تا ہم خوشی اور تفریح کے جذبات چونکہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں جنہیں کچلا نہیں جا سکتا، اس لیے آپ نے جاہلانہ تہواروں کے برعکس مسلمانوں کے لیے دو مستقل تہوار مقرر فرما دیئے جن میں عبادت (نماز) اور ذکر الٰہی کا اہتمام بھی ہوتااور کھیل کود کا مظاہرہ بھی۔ یہ باتیں مستند کتب احادیث کی روایات سے ثابت ہیں ۔انہی میں سے ایک روایت کو امام نسائی نے اپنی سنن میں ’جاہلانہ تہوار‘ کے عنوان کے تحت اس طرح بیان کیاہے:
    حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے تو (صحابہ کرام سے) فرمایا:
    اس روایت میں مدینہ کے غیر مسلموں کے دو تہواروں کا ذکر ہے روایات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کے علاقائی تہوار تھے اور ان میں مذہبی رنگ شامل نہیں تھا مگر اس کے باوجود آپ نے انہیں ا پنی امت کے لیے ناجائز قرار دے دیا اوراگر ان میں مذہبی رنگ بھی شامل ہوتا تو پھر ان کی ممانعت اور قوی ہوجاتی ۔بلکہ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب کے بعض تہوار ایسے بھی تھے جن میں مشرکانہ عقائد کی شکل میں ان کا مذہبی رنگ بھی شامل تھا یہ تہوار’عرس‘ کی شکل میں مختلف دنوں میں منائے جاتے تھے جیسا کہ معروف موٴرخ جناب شبلی نعمانی اپنی سیرت النبی میں امام ابن اسحاق کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ
    یہ اسلام سے پہلے کا واقعہ ہے پھر یہ حضرات موحدانہ تعلیمات پر مبنی دین کی تلاش کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اس کے بعد کیا ہوا اس کی تفصیل مذکورہ کتاب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ بتوں کے ناموں پر بھی عرب میں عرس منائے جاتے تھے مگر آپ نے ان کی پوجا پاٹ اور نذر ونیاز وغیرہ کے لیے کبھی ان میں شرکت نہ فرمائی بلکہ آپ نے چونکہ مشرکانہ عقائد کی سخت تردید فرمائی اور فتح مکہ کے بعد ان تمام بتوں کو نذر آتش کروا دیا، اس لیے یہ مذہبی عرس اور تہوار بھی اپنی موت آپ مر گئے۔
    گویا آپ نے سائل سے جو دو باتیں پوچھیں، یہ دونوں گناہ کی صورتیں تھیں اور اگر ان میں سے کوئی ایک صورت بھی ہوتی تو آپ نے اس صحابی کو اپنی نذر پوری کرنے سے ضرور منع کردینا تھا۔ گویا غیر مسلموں کے تہواروں کو منانا تو بہت دور کی بات، جہاں وہ تہوار منایا کرتے تھے وہاں کوئی ایسا کام کرنا جو ان کی مشابہت کا شک پیدا کرے وہ بھی آنحضرت ﷺ کے نزدیک جائز نہیں۔
    اس سے ہمیں ا ختلاف نہیں کہ اشاعت ِ اسلام کے بعد بھی ایران میں نو روز کا تہوار منایا جاتا رہا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اسے منانے والے کون تھے؟ کیا فاتح مسلمان بھی یہ تہوار مناتے تھے؟ اگر ایسا ہے تو پھر کسی ایک صحابی یا تابعی ہی کا موصوف نام بتا دیں جو اس تہوار میں شریک ہوئے؟ اگر آج کے نام نہاد مسلمان ’نوروز‘ مناتے ہیں تو یہ ان کی جہالت و سرکشی اور ہوائے نفس کا نتیجہ ہے ورنہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے نہ اسلام کو حقیقی طور پر سمجھنے والے اوّلین گروہ (صحابہ ) کے عمل سے اس کی کوئی تائید ہوتی ہے!
    یہ تو تھا تہواروں کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر اب آئیے معاشرتی روایات کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر معلوم کرتے ہیں:
    ہم یہ ذکر کر چلے ہیں کہ ہر معاشرے میں کچھ عادات اور روایات اچھی ،کچھ بری اور کچھ ملی جلی ہوتی ہیں ان کی امتیازی حیثیت کی وجہ سے انہیں ’رسومات‘ بھی کہا جا سکتا ہے اور بار بار ان کا اظہار ہوتے رہنے کی حیثیت سے انہیں’رواج‘ کے لفظ سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے ۔ ان روایات (یعنی رسم ورواج) وغیرہ کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر دو جملوں میں بیان کیاجا سکتا ہے یعنی ’خذ ما صفا ودع ما کدر ‘ …”جو اچھی چیزیں ہیں انہیں اختیار کرو اور جو بری ہیں ان سے اجتناب کرو“ یعنی اگر کسی معاشرے کی کوئی روایت رواج یا رسم اچھی ہو اور اسلامی مزاج کے منافی نہ ہو تو اسے اختیار کیا جا سکتا ہے ۔مثلاً ایک صاحب نے عرب معاشرے کی جودو سخا کا ذکر کرتے ہوئے جو یہ کہا ہے : ” ایک روایت کے مطابق دس روز تک خود آنجناب کے لیے اس گھر سے کھانا بھیجا گیا“ تو اس روایت کے حوالے سے اس بات سے قطع نظر کہ سیر ت کی مستند کتابوں میں اس کا کہیں ذکر ہے بھی یا نہیں۔ ہم یہ واضح کرنا چاہیں گے کہ جودو سخا عرب معاشرے کی ایک اچھی روایت تھی جسے آپ نے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اپنے متعدد فرامین میں اس کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔ مگر یہ کوئی تہوار نہیں تھا کہ اس بنیاد پر ہم غیر اسلامی تہواروں کا جواز نکالنے بیٹھ جائیں!
    اسی طرح وہ معاشرتی روایات جو سرا سر شر پر مبنی تھیں انہیں آپ ﷺ نے اختیار نہ فرمایا بلکہ ان کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی فرمائی مثلاً اس دور میں رواج تھا کہ باپ کی منکوحہ بڑے بیٹے کو وراثت میں ملتی ۔غیر مرد کا نطفہ لینے کے لیے بیوی سے بدکاری کروائی جاتی (جسے ہندومت میں ’نیوگ‘ کہا جاتا ہے) بچیوں کو زندہ درگور کیاجاتا…وغیرہ آپ نے شر پر مبنی یہ تمام رسومات اوررواج ختم کر دیئے۔
    معلوم ہوا کہ معاشرتی روایات اگر اچھی ہوں اور اسلام کے منافی نہ ہوں تو انہیں ا ختیار کیاجاسکتا ہے مگر کسی تہوار کے بارے میں اسلام کا یہ نظریہ نہیں ہے۔ لہٰذا اسلام کے صرف دو ہی تہوار (عیدین) ہیں اس کے علاوہ کسی اور تہوار کو اسلام میں داخل کرنا ’بدعت‘ کے مترادف ہے خواہ وہ تہوار بسنت اور ویلنٹائن ڈے کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں۔
    تہوار کے بارے میں اس سخت موقف کی وجہ غالبا یہ ہے کہ تہوار چونکہ کسی قوم کی شان وشوکت کے مظہر اور قومی وحدت کاشعار ہوتے ہیں جن میں اس قوم کا تشخص دوبالا ہوتاہے اسلام اپنا ایک برتر تشخص اور الٰہی تصور وفلسفہ رکھتا ہے ۔جس میں کسی غیر قوم کے قومی شعارات کی کوئی گنجائش نہیں۔
     
  8. ‏فروری 08، 2012 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    علاقائی ثقافت اور مذہب میں فرق
    رسم اور تہوار کے اس اُصولی فرق کی توضیح کے بعد ہم ایک اور اصولی غلطی کی نشاندہی کرناچاہتے ہیں۔ اول الذکر غلط فہمی کی طرح یہ غلط فہمی بھی سیکولر طبقہ کی پیدا کردہ ہے۔اس غلط فہمی کو ایک سیکولر کالم نگار نے اس انداز میں پیش کیا ہے:
    موصوف کی یہ بات کہ ”کسی بھی علاقہ کی ثقافت کامذہب سے کوئی ٹکراوٴ نہیں ہوتا“ محل نظر ہے کیونکہ :
    دراصل ہندو مت میں مذہب و ثقافت تقریباً مدغم ہیں۔ جن چیزوں کو ان کے ہاں علاقائی ثقافت کا درجہ حاصل ہے وہی ان کے مذہب کی تائید لئے کھڑی ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی شادی بیاہ کی رسومات کی مثال بڑی واضح ہے جبکہ مغربی معاشرے میں پاپائیت کی شکست کے بعد مذہب کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔ لیکن اسلام کا معاملہ بالکل منفرد ہے۔دین اسلام اوّل تو آخری الہامی دین ہے اور پھر اس کے اصول و ضوابط کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ تاقیامت پیش آنے والے تمام مسائل کا حل پیش کرنے اور راہِ عمل متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے اصول و ضوابط منجانب اللہ طے ہیں۔ جن کی روشنی میں کسی بھی علاقائی مسئلہ اور زمانی واقعہ کا تجزیہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ علاقائی ثقافت کے معاملے میں بھی اسلام ہی کسوٹی ہے جس پر ہر مشتبہ چیز کو تولا اور حق و باطل میں نکھار پیدا کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ ہر بندے کے کرنے کا کام نہیں بلکہ اس کا حق وہی لوگ رکھتے ہیں جو راسخ فی الدین علما ہیں۔
    اب رہا یہ مسئلہ کہ’ بسنت علاقائی تہوار ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں بلکہ خود موصوف نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ”بسنت بنیادی طور پر ہندووٴں کا تہوار ہے مگر مسلمانوں نے اس میں دلچسپی لینا شروع کردی۔“ (ص:۱۸) لیکن شرعی نقطہ نگاہ سے اصل سوال یہ ہے کہ اسلام اس علاقائی ہندوانہ تہوار (جس میں ان کامذہبی رنگ بھی شامل ہے) کو منانے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اُصولی لفظوں میں ہم دے چکے ہیں کہ ”اسلام دو تہواروں (عیدین) کے علاوہ کسی اور تہوار منانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا خواہ وہ مذہبی تہوار ہو یا علاقائی!“
    اسی طرح ایک صاحب نے حسین بن منصور حلاج کے حوالے سے جو یہ بات ذکر کی کہ انہوں نے کہا: ”میرا نو روز ابھی نہیں آیا؟“ تو ان کے یہ کہنے سے ’نوروز‘ یا کسی اور تہوار کا جواز آخر کیسے نکل آیا؟ اس سلسلہ میں واضح رہے کہ اگر کسی زمانہ یا علاقہ میں مسلمانوں کے بعض افراد یا حکمران طبقہ کسی غیر اسلامی تہوار یا غیر اسلامی رسوم و روایات پر عمل پیرا مل جائے تو اس سے وہ غیر اسلامی تہوار یا رسم و رواج اسلامی نہیں بن جائیں گے۔ کیونکہ اسلام وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے محمد عربی پر مکمل کردیا گیا۔ بعد کے ادوار میں خود مسلمانوں کے اعمال جیسے تیسے بھی ہوں، ان کو پرکھنے کی کسوٹی قرآن و حدیث ہے نہ کہ بعض مسلمانوں کا طرزِعمل!
    تہواروں، میلوں ٹھیلوں کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر تو اوپر واضح ہوچکا کہ اسلام صرف دو تہواروں کی اجازت دیتا ہے اور ان کے علاوہ کوئی تہوار خواہ اس کی نوعیت مذہبی ہو یا علاقائی، تاریخی ہو یا موسمی،اسلام اسے غلط قرار دیتا ہے۔ لیکن ان حقائق اور اصولی باتوں کے باوجود اگر کوئی صاحب یہ دعویٰ کریں کہ ”بسنت میلہ منانے سے کون سا اسلامی ضابطہ مجروح ہوتا ہے؟“ تو پھر ان کی اس سوچ پر ماتم ہی کیاجاسکتا ہے۔
     
  9. ‏فروری 08، 2012 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    ان تہواروں کے غیر اسلامی ہونے کی وجوہات اخلاقی اور سماجی بھی ہیں، مثلاً:
    فحاشی و بے حیائی کی ترویج اور جنسی بے راہ روی
    اسلام ایک مقدس دین ہے جو پاکیزہ اقدار ہی کو فروغ دیتا ہے جبکہ ان تمام ذرائع ووسائل کا بھی دروازہ بند کرتا ہے جو معاشرتی استحکام میں رخنہ اندازی کا باعث ہوں۔ اسی لئے فحاشی کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    بسنت اور ویلنٹائن ڈے دونوں ہی فحاشی و بے حیائی کے فروغ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ ویلنٹائن ڈے تو ہے ہی فحاشی کا دوسرا نام جبکہ بسنت میلہ جس کا اکٹھ ویلن ٹائن ڈے سے خود بخود ہوتا جارہا ہے، بھی مسلم معاشرے کو سفلی خواہشات،جنسی انارکی اور اباحیت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جب بسنت کے موقع پر ہر دوسرے گھر سے فحش گانوں کی صدائیں بلند ہورہی ہوں اور بسنت نائٹ کے موقع پرملک کا نودولتیاطوائفوں کی ’خدمات‘ حاصل کرکے طوفانِ بدتمیز ی بھی پیداکررہا ہو تو ڈر لگتا ہے کہ نجانے کب اللہ کے عذاب کا بھی سنگین کوڑا اس اُمت پربرس پڑے جو عاد و ثمود اور قومِ لوط پر برسا تھا !!
    غیر مسلموں سے مشابہت
    مسلمانوں کے دینی شعاراور ثقافتی طور طریقے اپنے ہیں جن میں غیر مسلموں کی نقالی ومشابہت سے بچنے کا پرزور حکم دیا گیا ہے۔حدیث ِنبوی ہے:
    مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنی دینی روایات کا تحفظ کرسکیں جبکہ تمام اچھی چیزیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں مثلاً مفید سائنسی ایجادات وغیرہ خواہ وہ کافروں ہی سے کیوں نہ ملیں، اسلام ان کے استفادہ سے ہرگز منع نہیں کرتا مگر ان نام کے مسلمانوں پرماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو غیر مسلموں کی دین و اخلاق سے عاری عادات کو تو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں لیکن جو جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی ان سیلینی چاہیے اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتے…!!
    اب ویلن ٹائن ڈے کے موقع پر اجتماعی شادیوں کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ اجتماعی شادی کا رواج غیر شرعی تو نہیں لیکن اسے ویلنٹائن ڈے کے ساتھ ملانا مناسب نہیں۔ اسی طرح میاں بیوی کا آپس میں تحائف کا تبادلہ اور خوشی ومحبت کا اظہاریقینا مستحب ہے مگر ویلن ٹائن ڈے کی مناسبت سے آپس میں تحائف کا تبادلہ کرنا اور خاص اسی روز ایک دوسرے کو پھول پیش کرنا غیر مسلموں کی نقالی کے پیش نظر نامناسب ہے لہٰذا ایسے موقع پر اس طرح کے عمل سے اجتناب ضروری ہے۔
     
  10. ‏فروری 08، 2012 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,398
    موصول شکریہ جات:
    25,968
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    پتنگ بازی سے انجانی ہلاکتیں اورمعاشی نقصانات
    کسی اجتماعی پروگرام کے انعقاد میں فتنہ و فسادیا معصوم لوگوں کی ہلاکت کا معمولی اندیشہ بھی ہو تو ہماری حکومت ایسے پروگرام کے انعقاد کی بالکل اجازت نہیں دیتی۔ واقعتا امن عامہ کے قیام کا یہ اہم تقاضاہے لیکن بسنت میلہ کے موقع پر ان گنت ہلاکتوں کا نہ صرف یقینی خدشہ ہوتا ہے بلکہ جہاں ہر سال اس موقع پر بیسیوں انجان ہلاک ہو جاتے ہیں وہاں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود ’ بسنت میلہ‘ پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی بلکہ المیہ یہ ہے کہ گزشتہ سال پتنگ بازی پر پابندی تو عائد کی گئی مگر عین بسنت کے موقع پر پورے ایک ماہ کے لئے یہ پابندی اٹھا لی گئی پھر جب بسنت اپنے یقینی نقصانات اور بے شمار ہلاکتوں کے ساتھ روانہ ہوگئی تو دوبارہ اس پر پابندی عائد کردی گئی۔
    اسی طرح واپڈا / لیسکو کا جو نقصان پتنگ بازی میں دھاتی تار کے استعمال سے ہوتا ہے وہ ایک الگ داستان ہے۔ علاوہ ازیں پتنگ بازی کے کھیل میں جو باہمی لڑائیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ اس پر مستزاد ہیں۔مذکورہ بالا نقصانات کے پیش نظر اس کھیل کی کسی طور اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
    پتنگ بازی کے حامی بعض افراد یہاں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ان نقصانات کاکوئی اور حل نکالنا چاہئینہ کہ پتنگ بازی کی تفریح کو بند کر دیا جائے۔
    بظاہر تفریح کا پہلو درست نظر آتا مگر یہاں صورت حال یہ ہے کہ پتنگ بازی سے پیدا ہونے والے مضر اثرات اتنے شدید ہیں کہ جب تک کہ خود پتنگ بازی پر پابندی نہ لگائی جائے ان نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً لاہور شہر کے تمام راستے اور سڑکیں دن رات زیراستعمال رہتی ہیں اور پورا شہر آباد ہے جبکہ لاہور کے کسی بھی علاقے میں خواہ اندرونِ شہر موجود پارک اور کھیلے میدان ہی کیوں نہ ہوں، پتنگ بازی کی وجہ سے کٹنے والی پتنگوں کی ڈوریں لامحالہ ان راستوں اورسڑکوں پر گریں گی جہاں سے موٹر سائیکل سواروں کی جانیں مسلسل خطرے میں رہیں گی۔ اس کا تو آخری حلیہی تجویز کیا جاسکتا ہے کہ سائیکل اور موٹر سائیکل سواری ہی پر پابندی لگا دی جائے!!
    فضول خرچی
    اگر کسی موقع پر غیر ضروری خرچ کیا جائے تو اسے ’اسراف‘ کہتے ہیں یا ایسی جگہ پر خرچ کیا جائے جہاں خرچ ٹھیک نہیں تو اسے ’تبذیر‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن و سنت میں اسراف و تبذیر (یعنی فضول خرچی کی ہر صورت) کی سخت مذمت کی گئی ہے مثلاً قرآنِ مجید میں ہے:
    دوسری جگہ فضول خرچی کی مذمت میں اس سے بھی سخت انداز اختیار کیا گیاہے۔ چنانچہ ارشادہے:
    یہ تو تھا اسراف و تبذیر کے بارے میں قرآنِ حکیم کا حکم، اب ان آیات کی روشنی میں آپ پاکستانی مسلمانوں کی موجودہ روش کا جائزہ لیں جہاں ایک طرف ویلن ٹائن ڈے اور بسنت میلہ کے مسرفانہ تہواروں پر کروڑوں روپے نذر کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف ملکی معیشت کی ابتری کا یہ حال ہے کہ پاکستان کا ہر نومولود عالمی بنکوں کا مقروض بن کر اس سرزمین پر آنکھ کھولتا ہے۔
    اسی طرح پاکستان کا چالیس فیصد طبقہ وہ ہے جو خط ِغربت کے نیچے زندگی بسر کررہاہے۔ لاکھوں کی تعداد میں دو شیزائیں ایسی ہیں جو والدین کی دہلیز پر محض اس لئے بوڑھی ہورہی ہیں کہ ان کے والدین ان کے نکاح کا واجبی خرچہ بھی نہیں رکھتے۔ اسی طرح ہزاروں ماں باپ ایسے ہیں جو وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی اولاد کو تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں۔ ان گنت افراد ایسے ہیں جن کے پاس روز گار کے مواقع نہیں اور بے شمار گھرانے ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی میسرنہیں۔ غربت و جہالت، بے روز گاری اور دیگر معاشرتی پریشانیوں سے اہل پاکستان کو آگاہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، اس لئے ان کے تذکرہ سے مقصود صرف یہ ہے کہ بسنت میلہ پر روپیہ ضائع کرنے والے اس طرف توجہ دیں اور اپنی رقم کو وہاں خرچ کریں جہاں اس کے خرچ کی اشد ضرورت ہے اور یہی خرچ دنیا میں باعث برکت اور آخرت میں باعث اجر و ثواب بھی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں