1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بغیر رخصتی کے طلاق کی صورت میں رجوع کیلئے حلالہ کی ضرورت

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ادب دوست, ‏ستمبر 02، 2016۔

  1. ‏ستمبر 02، 2016 #1
    ادب دوست

    ادب دوست مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2015
    پیغامات:
    30
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے،
    ایک عورت کا نکاح ہوا رخصتی نہیں ہوئی، اور طلاق ہوگئی، اب اگر عورت اِسی مرد سے دوبارہ شادی کرنا چاہئے تو کیا صورت ہوگی؟ آیا اسے کہیں شادی کرنی پڑے گی پھر وہاں سے طلاق یا بیوہ ہونے کے بعد وہ اس مرد سے شادی کرے گی ( وہ حلالہ مراد نہیں جو منصوبہ بنا کر کیا جاتا ہے ) ؟ یا پھر وہ طلاق کے بعد اسی مرد سے دوبارہ شادی کرسکتی ہے؟
     
  2. ‏ستمبر 03، 2016 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,582
    موصول شکریہ جات:
    5,208
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/11690/210/

    بشرط صحت سوال واضح ہو کہ طلاق اللہ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔جیسا کہ حدیث میں ہے:''حلال کاموں میں اللہ کو ناراض کردینے والی چیز طلاق ہے۔''(ابو داؤد حدیث نمبر4178)
    لیکن بعض اوقات ا س قدر مجبوری بن جاتی ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔دین اسلام میں طلاق کا ایک مستقل ضابطہ ہے اگر انسان اس پرعمل پیرا ہوکرطلاق دے تو بعد میں ندامت اور شرمساری نہیں ہوتی واضح رہے کہ شریعت میں طلاق کی دو اقسام ہیں:
    1۔طلاق رجعی۔2۔طلاق بائن
    رجعی طلاق میں خاوند کو حق ہوتا ہے کہ وہ دوران عدت اپنی بیوی سے بلاتجدید نکاح رجوع کرے اس کے برعکس طلاق بائن میں رشتہ ازدواج ٹوٹ جاتا ہے۔طلاق بائن کی پھر دو اقسام ہیں:(بینونت صغریٰ)عدت گزرنے کے بعدرجوع کا خیال آیا تو اس صورت میں نکاح جدید کرنا پڑتاہے۔(بینونت کبریٰ) اس میں طلاق دینے کے بعد نکاح جدید کا حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔بینونت کبریٰ میں صرف ایک صورت نکاح کر باقی رہتی ہے۔کہ وہ عورت آگے کسی آدمی کے ساتھ اپنا گھر بسانے کی نیت سے نکاح کرے اگر وہ طلاق دےدے یا فوت ہوجائے۔تو عدت گزرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتاہے لیکن اس کا نکاح کا بدنام زمانہ حلالہ جیسے سازشی نکاح سے کوئی تعلق نہ ہو۔ کیونکہ اس کی شریعت میں سخت ممانعت ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ خاوند نے رخصتی سے پہلے طلاق دے دی ہے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق ایسی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:'' اے ایمان والو! جب تم اہل ایمان خواتین سے نکاح کرو پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے۔جس کے پورے ہونے کا تم ان سے مطالبہ کرو۔''(33/الاحزاب :49)
    ایسی عورت کو طلاق کے فورا بعد نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے اندریں حالات اگر خاوند کا اس مطلقہ سے رجوع کاارادہ ہوتو تجدید نکاح سے یہ ممکن ہے کیوں کہ پہلا نکاح ختم ہوچکا ہے چونکہ یہ بینونت صغریٰ ہے اس لئے نئے نکاح کی گنجائش ہے لیکن اس کے لئے چار شرائط ہیں۔
    1۔عورت رضا مند ہو
    2۔سرپرسست کی اجازت ہو۔
    3۔حق مہر کی تعین ہو۔
    4۔گواہ موجود ہوں۔
    فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا ضروری نہیں ہے۔بلکہ اس کے بغیر ہی پہلے خاوند سے نکاح ہوسکے گا۔لہذا صورت مسئولہ میں نئے حق مہر کے ساتھ ازسر نواس خاوند سے نکاح کیا جاسکتا ہے (واللہ اعلم)

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج1ص364


    محدث فتویٰ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 03، 2016 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,290
    موصول شکریہ جات:
    7,985
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    جی اگرچہ یہ طلاق بائن شمار ہوگی ، لیکن بغیر کسی اور سے نکاح کیے ، وہ دوبارہ آپس میں شادی کرسکتے ہیں ، انہیں شرائط کا خیال کرتے ہوئے جو اوپر یوسف ثانی صاحب کے مراسلہ میں ذکر ہوئی ہیں ۔
    مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کرلیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 03، 2016 #4
    ادب دوست

    ادب دوست مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 23، 2015
    پیغامات:
    30
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    جناب یوسفِ ثانی اور جناب خضر حیاب صاحبان کا بے حد شکرگزار ہوں۔ بہت نوازش
     
  5. ‏مئی 10، 2017 #5
    رانا محمد عاشق

    رانا محمد عاشق مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2017
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    دوسرے خاوند سے نکاح کرنے کی شرط صر ف اس عورت کے لئے ہے جو طلاق کو مال دے کر خریدتی ہے۔البقرہ آیات نمبر 229 اور 230۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں