1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بغیر عذر کے موزے یا جراب پہ مسح کرنا

'وضو' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جنوری 04، 2016۔

  1. ‏جنوری 04، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,218
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    بغیر عذر کے موزه یا جراب پہ مسح کرنا
    مقبول احمد سلفی

    اسلام دین رحمت ہے اس میں بندوں کی طاقت اور زمانے وحالات کی نزاکت کی رعایت بھی پائی جاتی ہے ۔ ٹھنڈے موسم میں موزوں پر مسح کی اجازت ہمارے لئے باعث رحمت ہے ۔نبی رحمتﷺ سے موزہ اور جراب دونوں پہ مسح کرنا ثابت ہے ۔ عمرو بن امیہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں:
    رأيتُ النبيَّ صلَّى الله عليه وسلَّمَ يمسح على عمامته و خفَّيه .(صحیح مسلم:205)
    ترجمہ : میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے (وضو میں) اپنی پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
    مسلم شریف کی یہ حدیث موزہ پر مسح کرنے کی دلیل ہے اور جراب (اونی یا سوتی موزے) پر مسح کرنے کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
    توضَّأَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ومسحَ على الجَورَبينِ والنَّعلينِ(صحیح الترمذی:99، صحیح ابن ماجہ :460)
    ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا۔
    مذکورہ دونوں احادیث سے ہر قسم کے موزوں (چمڑے، اونی، سوتی) پر مسح کرنے کی واضح دلیل مل گئی ، ساتھ ہی مسح سے متعلق دیگر تمام نصوص کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ احادیث میں موزہ یا جراب پہ مسح کا حکم عام ہے ،اس کی کوئی علت نہیں بیان کی گئی ہے کہ صرف مجبوری میں یا ٹھنڈ کی وجہ سے یا مرض کی وجہ سے مسح کرسکتے ہیں ۔ اس وجہ سے آدمی بیمار ہو یا تندرست، مقیم ہویا مسافر، معذور ہو یا غیر معذور موزے پہ مسح کرسکتا ہے خواہ گرمی کا موسم ہو یا سردی کا اور چاہےگرم پانی موجود ہویا پھر سردی کم ہو یعنی بلاکسی عذر اور بغیر کسی مجبوری کے کسی بھی موسم میں اور کہیں بھی موزہ اور جراب پر مسح کرسکتے ہیں ۔
    میرے اس موقف کی تائید میں چند احادیث پیش ہیں جن کی روشنی میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ بلاکسی عذر کے بھی موزہ / جراب پر مسح کرنا جائز ہے ۔
    پہلی دلیل : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں :
    كنتُ معَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في سفَرٍ ، فأهوَيتُ لأنزِعَ خُفَّيهِ، فقال : دَعْهما، فإني أَدخَلتُهما طاهِرَتَينِ . فمسَح عليهما .(صحيح البخاري:23193)
    ترجمہ: میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ (وضو کے وقت) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے موزوں نکالنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انہیں مت نکالو کیوں کہ میں نے انھیں باوضو ہوکر پہنا ہے ،پھر آپ نے ان پر مسح کیا۔
    دوسری دلیل : زر بن حبیش کے متعلق وارد ہے :سألتُ صفوانَ بنَ عسَّالٍ عنِ المسحِ علَى الخفَّينِ ؟ فقالَ : كانَ رسولُ اللَّهِ يأمرنا إذا كنَّا مسافرينَ ، أن نمسحَ علَى خفافنا ، ولا ننزعَها ثلاثةَ أيَّامٍ من غائطٍ وبولٍ ونومٍ إلَّا من جنابةٍ(صحيح النسائي:127)
    ترجمہ: (زر بن حبیش) نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے موزے پہ مسح کے متعلق پوچھا توانہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ ہم حالت سفر میں اپنے موزوں پہ مسح کریں۔اور اسے تین دن، تین رات تک پیشاب،پاخانہ اور نیند سے نہ اتاریں الایہ کہ جنابت کی حالت(درپیش) ہو۔
    تیسری دلیل: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے :لو كانَ الدِّينُ بالرَّأيِ لَكانَ أسفَلُ الخفِّ أولى بالمسحِ مِن أعلاهُ، وقد رأيتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يمسَحُ على ظاهرِ خُفَّيهِ . (صحيح أبي داود:162)
    ترجمہ: اگر دین کا دارو مدار عقل پر ہوتا تو موزوں کے ظاہری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا کہ باطنی حصہ پر مسح کیا جاتا، میں نے رسول اللہ ﷺ موزے کے طاہری حصے پہ مسح کرتے دیکھا۔
    یہ سارے نصوص بتلاتے ہیں کہ بغیر کسی عذر کے بھی موزه اور جراب پہ مسح کرسکتے ہیں ۔مسافر کے لئے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات مسح کرنے کی اجازت ہے ۔ مسافر ومقیم کے درمیان مسح کی مدت کے اس فرق کو دھیان میں رکھنا چاہئے ۔اب یہاں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مسح کرنا افضل ہے یا پاؤں دھونا افضل ہے ؟
    اس سلسلے میں شیخ الاسلام ؒ اور ان کے شاگرد ابن القیم ؒ نے بہترین بات لکھی ہے کہ افضل صورت انسان کے لئے وہ ہے جو اس کے قدم کے موافق ہے یعنی اگر وہ موزہ پہنے ہوا ہے تو مسح کرنا افضل ہے اور اگر قدم کھلا ہوا ہے تو دھونا افضل ہے اور موزہ اس لئے نہ پہنے کہ اس پہ مسح کرنا ہے۔ (الإنصاف:1/378و زاد المعاد:1/199)
    یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ موزوں پر مسح کيلئے چار شرطيں پائی جانی چاہئے :
    (1) دونوں موزے/جراب وضو کرکے پہنے گئے ہوں ۔
    (2) موزے/جراب پاک ہوں ۔
    (3) مسح حدث اصغر یعنی پیشاب و پاخانہ سے کیا جائے ،حدث اکبریعنی غسل سے نہیں۔
    (4) مسح مدت کے اندر کيا جائے ۔

     
    Last edited: ‏نومبر 23، 2017
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 16، 2018 #2
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    25


    جرابوں ہر مسح اور اہل حدیث علما

    ۱۔ شیخ الکل فی الکل نذیر حسین دہلوی لکھتےہیں :
    اَلْمَسْحُ عَلَی الْجَوْرَبَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ لَیْسَ بِجَائِزٍ لِاَنَّہُ لَمْ یَقُمْ عَلیٰ جَوَازِہ دَلِیْلٌ وَکُلٌّ مَّا تَمَسَّکَ بِہِ الْمُجَوِّزُوْنَ فَفِیْہِ خَدْشَۃً ظَاہِرَۃً۔
    (فتاویٰ نذیریہ ج ۱ ص ۳۲۷)
    ترجمہ : مذکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے اور ان پر مسح کو جائز قرار دینے والوں نے جن سے استدلال کیا ہے اس میں خدشات کا ہوناظاہر ہے۔

    ۲۔ شیخ الاسلام مولانا ثنا اللہ امرتسری لکھتے ہیں۔
    جرابوں پر مسح جائز نہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ۱ ص ۴۴۳)

    ۳۔ شہرہ آفاق کتاب رحیق المختوم کے مصنف مولوی عبدالرحمٰن مبارکپوری لکھتے ہیں :
    وَالْحَاصِلُ اَنَّہُ لَیْسَ فِیْ بَابِ الْمَسْحِ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ حَدِیْثٌ مَّرْفُوْعٌ صَحِیْحٌ خَالٍ عَنِ الْکَلَاْمِ۔ (تحفۃ الاحوذی ج ۱ ص ۳۴۹)
    ترجمہ: اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں کوئی حدیث مرفوع صحیح ایسی نہیں جو کلام سے خالی ہو یعنی جس پر محدثین رحمہم اللہ نے ضعف کا حکم نہ لگایا ہو۔

    ۴۔ اہلحدیث عالم مولوی ابو سعید شرف الدین دہلوی لکھتے ہیں
    یہ بعض ائمہ امام شافعی وغیرہ کا مسلک ہے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بھی یہی مسلک ہے مگر یہ مسلک صحیح نہیں اس لیے کہ دلیل صحیح نہیں ہے …….. یہ جرابوں پر مسح والا مسئلہ نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث مرفوع صحیح سے نہ اجماع نہ قیاس سے لہٰذا خف چرمی جس پر مسح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کے سوا جورب پر مسح ثابت نہیں ہوا۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ۱ ص ۴۴۱)

    ۵۔ جورابوں پر مسح کرنا حدیث صحیح سے ثابت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ کے مسح کرنے سے جوربین پر یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مطلق جوربین پر مسح جائز ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ وہ جوربین چمڑے کی تھین یا اور چیز کی ہاں اگر کوئی قولی حدیث ایسی ہے جس میں حکم ہو کہ اِمْسَحْ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ پھر تو مطلق جرابوں پر مسح اس سے ثابت ہوجائے گا وَاِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ ہاں اگر جوربین اون اور سوت کی ایسی سخت ہوں کہ سختی میں چمڑے کی بربری کریں پس وہ چمڑے کا حکم رکھتی ہیں اور ان پر مسح جائز ہے۔ (مجموعہ فتاویٰ مولوی عبدالجبار ص ۱۰۲)

    ۶۔ اہلحدیث عالم ابو البرکات احمد لکھتے ہیں : موزوں پر مسح کرنے والی بہت زیادہ احادیث ہیں لیکن جرابوں پر مسح کرنے کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ہے (فتاویٰ برکاتیہ ص ۱۸)

    ۷۔ اہلحدیث عالم محمد یونس لکھتے ہیں :جرابوں پر مسح کرنا درست ہے جب کہ وہ خف بنی ہوئی ہوں معمولی اور پتلی جرابوں پر مسح کرنا؛ ناجائز ہے۔ مسح جراب کی اکثر حدیثیں ضعیف ہیں امام ابو داؤد نے اپنی کتاب میں ضعیف کہا ہے۔
    )دستور المتقی فی احکام النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص ۷۸ اسلامک پبلشنگ ہاؤس لاہور)
    وما علینا الالبلاغ

    -ابوحنظلہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں